فیلیسیٹی ایس: دنیا کی مہنگی ترین گاڑیوں سے لدا مال بردار بحری جہاز سمندر میں ڈوب گیا

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

’فلیسیٹی ایس‘ نامی مال بردار بحری جہاز میں بھڑکتی آگ دیکھی جا سکتی ہے

’فلیسیٹی ایس‘ نامی مال بردار بحری جہاز شمالی بحر اوقیانوس کے ٹھنڈے پانیوں میں جب آہستہ آہستہ ڈوب رہا تھا تو جہاز پر سوار کپتان سمیت عملے کے 22 خوش قسمت افراد کی جان بچائی جا چکی تھی۔

لیکن اس جہاز پر لدا مال اتنا خوش قسمت نہیں رہا۔ اور یہ کوئی عام مال نہیں بلکہ دنیا کی مہنگی ترین چار ہزار گاڑیاں تھیں جن کی مالیت تقریبا 27 ارب روپے تھی۔

جی ہاں۔ آپ نے درست پڑھا۔ 27 ارب پاکستانی روپے جو تقریبا 155 ملین امریکی ڈالر بنتے ہیں۔

ان چار ہزار گاڑیوں میں زیادہ تر لگژری کارز تھیں۔ ان میں پورشے اور بینٹلے جیسی مہنگی ترین گاڑیاں بھی شامل تھیں جن کی انفرادی قیمت ہی 70 ہزار برطانوی پاؤنڈ تک ہوتی ہے۔

آگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

جہاز کے ڈوبنے سے قبل کی تصویر

لگژری کاریں بنانے والی بینٹلے کمپنی کے مطابق جہاز پر اُن کی 189 نئی نویلی گاڑیاں موجود تھیں جبکہ پورشے کمپنی نے کہا ہے کہ ڈوبنے والے جہاز پر ان کی 1100 گاڑیاں لدی ہوئی تھیں۔

یہ گاڑیاں جرمنی سے امریکہ کے ’روڈ آئی لینڈ‘ پہنچائی جانی تھیں جہاں اُن کو صارفین کے حوالے کر دیا جاتا مگر دوران سفر ہی بحری جہاز آہستہ آہستہ پانی میں غرق ہونے لگا۔

یہ خبر ملتے ہی ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ اس جہاز پر تو میری گاڑی بھی آ رہی تھی۔

آگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیکن خوش قسمتی سے یہ تمام گاڑیاں ہی انشورڈ تھیں اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق والکس ویگن کمپنی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان گاڑیوں کی انشورنس کی مالیت 116 ملین برطانوی پاؤنڈ بنے گی۔

ایک اور صارف، جن کو اس جہاز کے ڈوبنے سے دھچکا لگا تھا، نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ میری گاڑی تو دوبارہ آرڈر کی جا چکی ہے۔

جہاز کیسے ڈوبا؟

یہ مال بردار جہاز اپنے قیمتی سامان سے لدا جرمنی کے پورٹ ایمڈین سے امریکہ جا رہا تھا جب 16 فروری کو دوران سفر اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

اس حادثے کے فوری بعد تمام عملے کو امدادی کشتیوں کی مدد سے بحفاظت جہاز سے نکال لیا گیا۔

لیکن فیلیسیٹی ایس شمالی بحر اوقیانوس کی گہرائی میں ڈوبتا چلا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ جہاز اس وقت تقریباً 3500 میٹر گہرائی میں موجود ہے۔

جاوا مینڈیس، جو فیال جزیرے کے پورٹ کے کپتان ہیں، جس کے قریب ہی جہاز غرق آب ہوا، نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اب تک تیل لیک کی کوئی اطلاع نہیں ملی لیکن خدشہ ہے کہ جہاز کے فیول ٹینکس خراب ہوئے۔

اس واقعے کے بعد پرتگال کی بحریہ کے مطابق جہاز کے عملے کو چار مرچنٹ جہازوں اور پرتگالی فضائی عملے کی مدد سے نکال کر قریبی ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔



Source link