لابھ سنگھ اگوکے: انڈیا کی پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں چرن جیت سنگھ چنی کو شکست دینے والے نومنتحب سیاستدان

30 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہFaceboook

،تصویر کا کیپشن

عام آدمی پارٹی کے لابھ سنگھ اگوکے نے پنجاب کے موجودہ وزیرِ اعلیٰ چرن جیت سنگھ چنی کو شکست دی ہے

عام آدمی پارٹی نے انڈیا میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں بھاری فتح حاصل کر لی ہے اور اب وہ پنجاب میں حکومت بنانے جا رہی ہے۔

انڈین پنجاب کی اسمبلی میں انتخابی نتائج ایک سیاسی سونامی سے کم نہیں ہیں۔ پنجاب کی پرکاش سنگھ، کیپٹن امریندر سنگھ، چرن جیت سنگھ چنی اور نوجوت سنگھ جیسی بڑی سیاسی شخصیات کو عام آدمی پارٹی کے عام سے امیدواروں نے شکست سے دوچار کیا ہے۔

عام آدمی پارٹی کے دو نئے چہرے کون سے ہیں جنھوں نے پنجاب میں بڑے بڑے سیاسی برج الٹ دیے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں۔

لابھ سنگھ اگوکے – بدھوڑ

لابھ سنگھ اگوکے نے پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ چرن جیت سنگھ کو بدھوڑ کی نشسن پر شکست دی ہے۔ پینتیس سالہ لابھ سنگھ اگوکے بدھوڑ سے عام آدمی پارٹی کے امیدوار تھے۔

لابھ سنگھ بدھوڑ کے علاقے اگوکے گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ایک موبائل فون شاپ پر کام کرتے ہیں۔ لابھ سنگھ کے والد کھیتوں میں مزدوری کرتے ہیں اور ان کی والدہ گاؤں کے سرکاری سکول میں صفائی کا کام کرتی ہیں۔

اگوکے نے 2013 میں عام آدمی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

لابھ سنگھ اگوکے نے 2017 کے انتخابات میں پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے امیدوار پرمل سنگھ خالصہ کی انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا۔

پرمل سنگھ خالصہ پہلے کھیرا دھڑے میں شامل ہوئے اور پھر کانگریس میں شامل ہو گئے۔

اب کی بار عام آدمی پارٹی نے لابھ سنگھ اگوکے کو پارٹی کا ٹکٹ دیا اور انھوں نے چرن جیت سنگھ کو بھاری مارجن سے ہرا دیا ہے۔

ڈاکٹر چرن سنگھ – چمکور صاحب

ڈاکٹر چرن جیت سنگھ

،تصویر کا ذریعہDR. CHARANJIT SINGH/FACEBOOK

،تصویر کا کیپشن

ڈاکٹر چرن جیت سنگھ علاقے میں اپنے سماجی کاموں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

وزیراعلیٰ چرن جیت سنگھ کو چمکور صاحب کی نشت سے بھی شکست ہوئی ہے۔ چرن جیت سنگھ چنی کو شکست دینے والے کا نام بھی چرن جیت سنگھ ہی ہے اور وہ پیشے سے آنکھوں کے ڈاکٹر ہیں۔

ڈاکٹر چرن جیت سنگھ اپنے علاقے میں سماجی کاموں کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر چرن جیت سنگھ نے اوفتھیلمولوجی میں ایم ایس کر رکھا ہے اور چندی گڑھ میں پریکٹس کرتے ہیں۔

وہ ہمیشہ لوگوں کو درپیش مسائل کے حل لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ انھوں نے چرن جیت سنگھ چنی کے مقابلے میں الیکشن لڑا۔

پیڈ وومن کی سدھو کو شکست

عام آدمی پارٹی نے امرتسر مشرقی سے جیون جوت کور کو ٹکٹ دیا تھا۔ اُنھوں نے یہاں سے پنجاب کی سیاست کے دو بڑے چہروں نوجوت سنگھ سدھو (کانگریس) اور وکرم سنگھ مجیٹھیا (شرومنی اکالی دل) کو شکست دی ہے۔

جیون جوت کور کے مطابق وہ گذشتہ 20 سے 25 برس سے فلاحی کام کر رہی ہیں۔

بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ ’اُنھوں نے کبھی سیاست میں شامل ہونے کا نہیں سوچا تھا مگر وہ کہتی ہیں کہ سکول کے دنوں سے ہی اُن کی شخصیت ایسی ہوتی تھی کہ وہ پرنسپل کے دفتر کے باہر دکھائی دیتیں تو سب سمجھ جاتے کہ کوئی مسئلہ ہے۔‘

عام آدمی پارٹی

اسی لیے جیون جوت کور اب الیکشن کے میدان میں نظر آئیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اپنے خاندان کی حمایت کے بغیر کسی خاتون کا یہاں تک پہنچنا ممکن نہیں ہے اور اُنھیں شادی کے بعد بھی یہ حمایت ملتی رہی ہے۔

سنہ 1992 میں جب شری ہیمکنت ایجوکیشن سوسائٹی کا قیام ہوا تو جیون جوت کور نے بھی اس سکول میں بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔

اُنھیں پنجاب کی پیڈ وومن بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دوبارہ قابلِ استعمال سینیٹری پیڈز کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔

کیجری وال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے پنجاب میں پارٹی کی شاندار کامیابی کے بعد تقریر کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی میں بڑی طاقت ہے اور جس دن عام آدمی کھڑا ہو گیا اس دن بڑے بڑے انقلاب آ جائیں گے۔

’آج میں اپنے دیس کے لوگوں کو کہتا ہوں کہ اپنی طاقت کو پہچانو، کھڑے ہو جاؤ، انقلاب لانا دیس کے اندر۔‘

اروند کیجریوال نے کہا کہ پہلے ہی دیس کے ستر برس ضائع کر دیے گئے ہیں اور اب مزید وقت ضائع نہیں کرنا ہے۔



Source link