لاہور کے شاپنگ سینٹر پیس میں آتشزدگی: ’ہم تو عرش سے فرش پر آ گئے‘

  • عمر دراز ننگیانہ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام

3 گھنٹے قبل

،تصویر کا کیپشن

آگ سے عمارت پوری طرح تباہ ہو گئئ ہے

ابھی وہ کچھ دیر پہلے کام ختم کر کے واپس پہنچے ہی تھے کہ انھیں اطلاع موصول ہوئی کہ پلازہ میں آگ لگ گئی ہے۔ سلمان خالد فوراً لاہور کے معروف اور مصروف شاپنگ سنٹر پیس پہنچے۔ یہاں ان کی گارمنٹس کی دکان تھی۔

سلمان نے ابتدائی طور پر رضاکارانہ طور پر آگ پر قابو پانے کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ مل کر کوشش بھی کی تاہم آگ نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کے پھیلنے میں عمارت میں موجود لکڑی، پلاسٹک، ربڑ اور کپڑے کے ذخیرے نے ایندھن کا کام کیا۔

ریسکیو اہلکار جلد ہی موقع پر پہنچ گئے تھے اور انھوں نے آگ بجھانے کا کام شروع کر دیا لیکن آگ کو پھیلنے سے نہ روکا جا سکا۔ سلمان کی رات جاگتے ہوئے گزری۔ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی دکان کو جلتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔

‘میرے حواس بالکل جواب دے گئے ہیں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کہاں ہوں اور کیا بول رہا ہوں۔ ہم بالکل عرش سے فرش پر آ گئے ہیں۔’

ریسکیئو
،تصویر کا کیپشن

ریسکیئو اہلکار موقع پر پہنچ گئے تھے

ریسکیوں اہلکاروں کو آگ پر مکمل طور پر قابو پانے میں لگ بھگ چھ گھنٹے کا وقت لگا۔ چار منزلہ شاپنگ سینٹر کی عمارت اس طرح بنی تھی کہ اس کے اندرونی حصوں تک فائر فائٹروں کے لیے رسائی آسان نہیں تھی۔

پیر کے روز دن ڈھلنے تک فائر فائٹر عمارت کو ٹھنڈا کرنے کی کارروائیوں میں مصروف تھے جبکہ اس کے عقبی حصے سے مسلسل دھواں اٹھ رہا تھا۔

سلمان خالد کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کی گارمنٹس کی ایک بڑی دکان میں واقع تھی۔ وہ اب مکمل طور پر جل کر ختم ہو گئی تھی۔ سلمان خالد کے لیے یہ ایک مشکل لمحہ تھا۔ انھیں نہیں معلوم تھا کہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار کھڑا کر پائیں گے۔

‘میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو پائے گا۔ آجکل چھوٹے موٹے کاروبار کو نئے سرے سے شروع کرنے کے لیے آپ کو کم از کم پچاس لاکھ روپے تک کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ میرے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ میں نئے سرے سے کاروبار شروع کر سکوں۔’

تباہ شدہ عمارت
،تصویر کا کیپشن

مارت میں موجود لکڑی، پلاسٹک، ربڑ اور کپڑے کے ذخیرے نے ایندھن کا کام کیا

سلمان خالد خود کو روکے ہوئے تھے تاہم کئی ایسے تاجر دھواں اٹھتی پیس کی عمارت کے سامنے کھڑے آنسوؤں سے رو رہے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا تمام تر سرمایہ جل کر راکھ ہو گیا تھا۔

‘اس سے پہلے کورونا کی وجہ سے ہمارا کاروبار پہلے ہی بہت بری طرح متاثر ہو چکا تھا اور ہم مالی مشکلات کا شکار تھے۔ اور اب یہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اس کو ہم کیا کہیں۔’

‘دوسری مرتبہ ایک ہی پلازہ میں دکانیں جل گئیں’

عظیم الرحمان کی جل جانے والے شاپنگ سینٹر میں تین دکانیں تھیں۔ وہ بھی مکمل طور پر جل چکی ہیں۔ وہ اس کاروباری مرکز کے پرانے تاجر ہیں اور اس وقت سے یہاں کاروبار کر رہے ہیں جب پیس کو لاہور کی مہنگی ترین مارکیٹوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

اس دور میں بھی اس پلازے میں آگ لگ گئی تھی۔ یہ سنہ 2001 واقعہ تھا۔ عظیم الرحمان کا ان دنوں پیس میں ایک بڑے پیمانے کا کاروبار تھا۔ اس واقعے میں بھی ان کی دکان جل گئی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ‘ان کی ایک ہی پلازے میں دوسری مرتبہ دکانیں جل گئیں۔’ وہ کہتے ہیں کہ پہلی مرتبہ آگے لگنے کے اس واقعے میں بھی تاجروں کا لاکھوں روپوں کا نقصان ہوا تھا۔ تاہم اس وقت کی انتظامیہ نے تاجروں کا نقصان پورا کرنے میں ہاتھ بٹایا تھا۔

‘اس وقت سلمان تاثیر (سابق گورنر پنجاب) تھے تو انھوں نے اچھا کام یہ کیا تھا کہ سب سے پہلے پتہ کروایا تھا کہ انشورنس ہے۔ اس کے بعد انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک سال کے اندر متاثرہ عمارت کی تعمیر کروائیں گے اور انھوں نے وعدہ پورا کیا تھا۔’

تباہ شدہ عمارت
،تصویر کا کیپشن

اس آگ میں تاجروں کا شدید مالی نقصان ہوا ہے

جلنے والی عمارت میں نقصان کا تخمینہ کیا تھا؟

عظیم الرحمان کی حالیہ واقعے میں تین دکانیں جلی ہیں تاہم وہ اس سے قبل اپنے گارمنٹس کے کاروبار کو پھیلا چکے تھے اور ان کا کاروبار اب ایک برینڈ بن چکا ہے۔ ان کی دکانیں لاہور کے اندر اور باہر بھی کئی مالز اور کاروباری مراکز میں موجود ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بہت سے تاجروں کا سامان جو ان دکانوں میں جل کر ختم ہوا اس کی مالیت پانچ لاکھ سے لے کر 30 لاکھ روپے کے درمیان ہو سکتی ہے لیکن دکانوں کی مالیت کروڑوں روپے میں تھی۔

‘آپ یوں سمجھ لیں کہ اس کاروباری مرکز میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ عمارت کی چار منزلوں میں ہر منزل پر اربوں روپے مالیت کی دکانیں اور کاروبار تھے۔’ ان کے اندازے کے مطابق عمارت میں لگھ بھگ چار سو کے قریب دکانیں تھیں۔

ایسے لوگوں کی تعداد کا صحیح اندازہ موجود نہیں جو دکانوں کے باہر چھوٹے چھوٹے کاؤنٹرز لگا کر کام کرتے تھے۔

آگ لگنے کی وجہ کیا ہو سکتی تھی؟

پیس کے حالیہ واقعے میں متاثر ہونے والے تاجر عظیم الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ جب عمارت میں آگ لگی تو اس کی اطلاع بھی پلازے کی انتظامیہ کی جانب سے نہیں دی گئی بلکہ راہگیر نے ریسکیو کو اطلاع کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے انھیں بتایا کہ عمارت میں آگ بجلی کا شارٹ سرکٹ ہونے کی وجہ بھڑکی تھی اور پھر اس نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

تاہم عظیم الرجمان سمجھتے ہیں کہ عمارت کے اندر آگ جیسے واقعات سے بچنے یا ان سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔

تباہ شدہ عمارت
،تصویر کا کیپشن

خیال کیا جا رہا ہے کہ عمارت میں آگ بجلی کا شارٹ سرکٹ ہونے کی وجہ بھڑکی تھی

‘ریسکیو اہلکاروں نے ہمیں بتایا ہے کہ ان کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق عمارت کے اندر آگ لگنے کی صورت میں ہنگامی راستے بند تھے، سموک ڈیٹیکٹرز کام نہیں کر رہے تھے اور آگ بجھانے کے لیے پانی کا نظام بھی کام نہیں کر رہا تھا۔’

تاہم باضابطہ طور پر پنجاب ریسکیو کے حکام کی جانب سے ایسی کوئی رپورٹ تاحال جاری نہیں کی گئی۔ پنجاب کے وزیرِاعلٰی عثمان بزدار نے ضلعی انتظامیہ کو واقعے کی مکمل چھان بین کرنے کے بعد تفصیلی روپرٹ جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔

متاثرہ تاجر سلمان خالد رات گئے سے ریسکیو کا آپریشن دیکھتے رہے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ریسکیو کے اہلکاروں نے بہت محنت سے کام کیا تاہم ریسکیو کے آپریشن میں ‘کوارڈینیشن’کا فقدان تھا۔

انھوں نے بہت محنت کی اور آگ بجھانے کی پوری کوشش کرتے رہے۔ یہ اتنی زیادہ گاڑیاں ابھی بھی یہاں کھڑی ہیں لیکن عمارت پر بھی ساری جل گئی۔ میرے خیال میں کوارڈینیشن زیادہ بہتر ہو سکتی تھی۔’

سلمان خالد نے بتایا کہ اس کاروباری مرکز میں آگ نے تاجروں کے ساتھ ساتھ اس طبقے کے ایک بڑے حصے کو بھی متاثر کیا تھا جو ‘محنت مزدوری کرتا تھا یا دیہاڑی پر کام کرتا تھا۔ وہ اپنا روزانہ کا خرچ یہیں سے لے کر جاتے تھے۔ اب ان کو چولہے جلانے کے بھی لالے پڑ جائیں گے۔’

واقعے کی تحقیقات کیا بتاتی ہیں؟

آگ پر قابو پانے کے بعد عمارت کو ضلعی انتظامیہ نے بند کر دیا تھا اور اس کو اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولا جائے گا جب تک اسے ہر اعتبار سے معائنہ کیے جانے کے بعد محفوظ قرار نہیں دے دیا جاتا۔

تباہ شدہ عمارت
،تصویر کا کیپشن

پولیس اور ریسکیو کے اہلکار اندر جا کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ آگ کہاں سے اور کیسے شروع ہوئی

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان یونس نے بتایا کہ ‘اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آگ کیسے لگی۔ ابھی تو عمارت کو ٹھنڈا کیے جانے کام ہو رہا ہے اس کے بعد تحقیقات کرنے والے ادارے اندر جائیں گے۔’

کمشنر لاہور کے مطابق عمارت کے ٹھنڈے کیے جانے کے بعد پولیس اور ریسکیو کے اہلکار اندر جا کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ آگ کہاں سے اور کیسے شروع ہوئی۔’

تحقیقات کے دوران ہی یہ بھی اندازہ لگایا جائے گا کہ عمارت میں کل کتنی دکانوں کو نقصان پہنچا اور اس کی نوعیت کیا تھی۔

کمشنر لاہور عثمان یونس کے مطابق ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں گی۔ اس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ‘کوئی فاؤل پلے تو نہیں ہے۔ اس کے بعد مکمل رپورٹ حکومت کو جمع کروائی جائے گی۔’

تباہ شدہ عمارت
،تصویر کا کیپشن

عمارت میں موجود لکڑی، پلاسٹک، ربڑ اور کپڑے کے ذخیرے نے ایندھن کا کام کیا

ماضی میں ہونے والی تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟

پیس کے بالکل سامنے حفیظ سینٹر کی دوسری عمارت موجود ہے۔ پیس کے برعکس اس کاروباری مرکز میں تقریباً تمام تر دکانیں موبائل فونز، کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرونس وغیرہ کی ہیں۔ لگ بھگ ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ گزرا ہے کہ اس عمارت میں بھی اس نوعیت کی آگ لگی تھی۔

اس واقعے میں بھی لگ بھگ چار سو سے زیادہ دکانیں جل گئی تھیں۔ ان میں سے کئی دکانیں اب بھی مکمل طور پر بحال نہیں کی جا سکیں۔

ماضی میں ہونے والے ایسے واقعات کو دیکھتے ہوئے سلمان خالد اور عظیم الرحمان کو ‘امید نہیں تھی کہ ان کا نقصان پورا کیا جائے گا یا آگ لگنے کی حقیقی وجوہات سامنے آ پائیں گی۔’

ماضی میں پیس ہی میں لگنے والی آگ کے بارے میں بھی تحقیقات میں یہی کہا گیا تھا کہ آگ لگنے کی وجہ بچلی کا شارٹ سرکٹ تھا۔ حال ہی میں لاہور کے حفیظ سینٹر میں لگنے والی آگ کے حوالے سے بھی یہی وجہ ظاہر کی جا رہی ہے۔



Source link