ملتان سلطانز کی جیت کا سفر جاری، پی ایس ایل میں محمد رضوان کا تیسرا صفر

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

4 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہPCB

ذرا سوچیے ملتان سلطانز کے ڈگ آؤٹ میں بیٹھے کھلاڑیوں اور ہیڈ کوچ اینڈی فلاور کی کیا کیفیت ہوگی جب انھوں نے اپنے بہترین بیٹسمین محمد رضوان کو میچ کے دوسرے ہی اوور میں آؤٹ ہوکر واپس آتے دیکھا۔ تاہم ملتان سلطانز اس صدمے سے سنبھلنے کے بعد نہ صرف چار وکٹوں پر 174 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی بلکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 168 رنز پر آؤٹ کرکے صرف 6 رنز سے سنسنی خیز انداز میں میچ جیتا۔

اس جیت کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملتان سلطانز نے پی ایس ایل 7 میں ٹاس ہارکر پہلے بیٹنگ کرکے میچ ہارنے کا جمود بھی توڑ ڈالا ہے۔ ملتان سلطانز کی یہ اس لیگ میں مسلسل تیسری جیت ہے جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اپنے تیسرے میچ میں یہ دوسرا میچ ہاری ہے۔

شان مسعود مجموعی رنز میں آگے

دو وکٹ کیپر کپتانوں کے ٹاس میں جیت سرفراز احمد کی ہوئی جنھوں نے پہلے بولنگ کے فیصلے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔ سہیل تنویر کے پہلے اوور میں شان مسعود نے سات رنز بناکر پراعتماد ابتدا کی لیکن اگلے ہی اوور میں محمد رضوان حسنین کی گیند کو ُپل کرنے کی کوشش میں بین ڈکٹ کے ہاتھوں صفر پر آؤٹ ہوگئے۔ پی ایس ایل میں یہ محمد رضوان کا تیسرا صفر ہے۔

ایک جانب شان مسعود کے سٹروکس قابل دید تھے اور دوسری جانب صہیب مقصود کا جارحانہ انداز ملتان سلطانز کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے کافی تھا لیکن یہ جارحیت سے بھری بیٹنگ زیادہ دیر نہ چل سکی۔ نویں اوور کی پہلی گیند پر وِل سمیڈ کے مڈوکٹ باؤنڈری پر لیے گئے کیچ نے جیمز فاکنر کو صہیب کی وکٹ دلادی جن کے 21 رنز میں دو چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔

شان مسعود نے پچھلے میچ جیسی شان دکھائی اور 38 گیندوں پر ایک چھکے اور پانچ چوکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کرنے میں کامیاب ہوگئے جو ان کی پی ایس ایل میں پانچویں نصف سنچری تھی۔

رائلے روسو 21 رنز بناکر رن آؤٹ ہوئے لیکن افتخار احمد کے ُاسی اوور شان مسعود نے دو چھکے لگادیے۔ان کی 88 رنز کی یہ اننگز محمد حسنین کی گیندپر افتخار احمد کے ہاتھوں ختم ہوئی۔ انہوں نے اٹھاون گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے چار چھکے اور چھ چوکے لگائے۔

شان مسعود تین میچوں میں 197 رنز بناچکے ہیں جو ابھی تک اس لیگ میں کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ مجموعی رنز ہیں۔ ٹم ڈیوڈ اور خوشدل شاہ کی شراکت میں بننے والے 24 رنز نے مجموعی اسکور کو مزید تقویت پہنچائی۔

محمد حسنین ستائیس رنز کے عوض دو وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بولر رہے لیکن سہیل تنویر ۔نسیم شاہ اور افتخار احمد رنز کے بہاؤ کے آگے بند نہ باندھ سکے۔ کپتان سرفراز احمد کی ساتھی کھلاڑیوں کی غلطیوں پر فرسٹریشن کو ایک بار پھر واضح طور دیکھا گیا۔

رضوان

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشن

ملتان سلطانز

خوشدل شاہ بولر بھی خوب نکلے

175 رنز کے ہدف تک پہنچنے کے لیے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی بڑی امیدیں اوپنرز احسان علی اور ِول اسمیڈ سے وابستہ تھیں جنہوں نے پچھلے دو میچوں میں 155 رنز اور76 کی بڑی شراکتیں قائم کی تھیں لیکن اس مرتبہ یہ شراکت ملتان سلطانز کے لیے خطرہ نہ بن سکی اور خوشدل شاہ اپنے دوسرے ہی اوور میں ِول اسمیڈ کو صرف تین رنز پر اپنی ہی گیند پر خوبصورتی سے کیچ کرلیا۔

خوشدل شاہ کا اگلا اوور بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پر بجلی بن کر گرا جس میں انہوں نے احسان علی کو بولڈ کردیا۔ احسان علی نے 24 رنز اسکور کیے جس میں تین چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ خوشدل شاہ نے گذشتہ میچ میں حارث رؤف کی چار گیندوں پر تین چوکے اور ایک چھکا لگاکر اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کیا تھا اس مرتبہ ان کی لیفٹ آرم اسپن نے ابتدائی اوورز میں ملتان سلطانز کو دو بڑی کامیابیاں دلائیں ۔

بین ڈکٹ اور کپتان سرفراز احمد کی 68 رنز کی شراکت اسکور کو 97 تک لے گئی لیکن اس مرحلے پر عمران طاہر نے لگاتار گیندوں پر بین ڈکٹ اور عاشر قریشی کو آؤٹ کردیا۔ بین ڈکٹ ریورس سوئپ کرتے ہوئے بولڈ ہوئے اور اگلی گیند پر عاشرقریشی ایل بی ڈبلیو ہونے سے نہ بچ سکے۔

تجربہ کار افتخار اور نواز کی موجود گی میں عاشرقریشی کو بیٹنگ کے لیے بھیجنا حیران کن فیصلہ تھا۔

عمران طاہر کا ان دو وکٹوں پر گراؤنڈ میں جشن منانے کا انداز ایک بار پھر دیکھنے والوں کو بھاگیا لیکن دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مایوسی مزید بڑھ گئی جب خوشدل شاہ نے سرفراز احمد کو 21 رنز پر ڈیپ اسکوائر لیگ پر ٹم ڈیوڈ کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔

کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہPCB

یہ بھی پڑھیے

خوشدل شاہ نے اپنے چار اوورز کا اختتام صرف 16 رنز دے کر3 وکٹوں کی شاندار کارکردگی پر کیا۔ عمران طاہر اپنے اگلے اوور میں ایک رن بنانے والے محمد نواز کو بھی پویلین کی راہ دکھانے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی بھی یہ تیسری وکٹ تھی۔

یہ وہ موقع تھا جب ہر کوئی ملتان سلطانز کی ممکنہ جیت کی بات کررہا تھا لیکن افتخار احمد بازی پلٹنے کے موڈ میں دکھائی دیے انہوں نے صرف تیرہ گیندوں پر 30رنز بنائے جس میں تین چھکے اور ایک چوکا شامل تھا۔ ان30 میں سے24 رنز انہوں نے عمران خان سینئر کے ایک اوور میں اسکور کیے لیکن ڈیوڈ ولی کی گیند پر رضوان کے کیچ نے انہیں ڈگ آؤٹ میں واپسی کرادی۔

سہیل تنویر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی آخری امید تھے جن کے ایک چھکے اور ایک چوکے کے سبب کوئٹہ کو آخری اوور میں صرف آٹھ رنز بنانے تھے۔

ڈیوڈ ولی کی پہلی دو گیندوں پر نسیم شاہ کوئی رن نہ بناسکے تیسری گیند پر وہ ایک رن لینے میں کامیاب ہوئے چوتھی گیند پر سہیل تنویر رائلے روسو کے ہاتھوں کیچ ہوئے اور اگلی ہی گیند پر ٹم ڈیوڈ کے باؤنڈری پر ڈرامائی کیچ نے میچ کا اختتام بھی ڈرامائی انداز میں کردیا۔

اس میچ میں محمد رضوان کی کپتانی متاثرکن رہی انہوں نے اپنے بولرز کا استعمال خوبصورتی سے کیا اور فیلڈ میں اپنے ہم منصب کپتان کے مقابلے میں بہت زیادہ پرسکون نظر آئے۔ذرا سوچیے ملتان سلطانز کے ڈگ آؤٹ میں بیٹھے کھلاڑیوں اور ہیڈ کوچ اینڈی فلاور کی کیا کیفیت ہوگی جب انہوں نے اپنے بہترین بیٹسمین محمد رضوان کو میچ کے دوسرے ہی اوور میں آؤٹ ہوکر واپس آتے دیکھا تاہم ملتان سلطانز اس صدمے سے سنبھلنے کے بعد نہ صرف چار وکٹوں پر 174 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی بلکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو رنز پر آؤٹ کرکے صرف 6رنز سے سنسنی خیز انداز میں میچ جیتا۔



Source link