ممتاز علی بھٹو: ذوالفقار علی بھٹو کے ’ٹیلنٹڈ کزن‘ مگر موجودہ پیپلز پارٹی کے مخالف رہنما وفات پا گئے

  • فاروق عادل
  • مصنف، کالم نگار

3 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہFacebook/MumtazBhutto

‘ہم لوگ باقرانی روڈ سے نکلے اور رائل چوک تک پہنچے۔ سامنے پرانی وضع کی حویلی تھی جس کے صدر دروازے کی زنجیر چوکاٹھ کے عین ماتھے پر لگے کنڈے میں پھنسی تھی جس میں سیاہ رنگ کا لگ بھگ سو برس پرانا تالا جھول رہا تھا۔

‘یہ ہوئی ممتاز بھٹو صاحب کی حویلی’، میئر بلدیہ لاڑکانہ قربان عباسی نے مجھے بتایا تو میں چونکا اور پوچھا کہ وہ ممتاز بھٹو جن سے ایک زمانہ خوف کھاتا ہے؟

سوال سن کر قربان عباسی چلتے چلتے رک گئے، ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، کہنے لگے کہ اس ‘خوف ناک’ آدمی کی بھی خوب رہی،

‘بس سمجھ لیجیے۔۔۔۔’

یہ کہہ کر وہ لحظہ خاموش ہوئے پھر کہا:

‘یہ شخص تو ایسا نکلا جیسے اخروٹ، باہر سے سخت چھلکے کی طرح اور اندر سے لذیذ اور مقوی مغز’.

وہ پھر خاموش ہوئے اور کہا:

‘کچھ ایسے ہی ہیں، ممتاز علی بھٹو’.

قربان عباسی نے بات ختم کر دی اور میری یاداشت کا کبوتر اڑ کر سندھ اسمبلی جا پہنچا۔ یہ نوے کی دہائی کی بات ہے جب ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتی تھی یا نہیں ہوتی تھی۔

گذشتہ روز پاکستان کے معروف سیاستدان اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے کزن ممتاز علی بھٹو 88 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔

ان کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کو تصدیق کی ہے کہ اتوار کی شب ان کی وفات کراچی میں اپنی رہائش گاہ میں ہوئی جہاں وہ کچھ عرصے سے بیمار تھے۔

وزیر اعظم عمران خان سمیت حکمراں جماعت تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں نے ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

خیر ان دنوں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، وفاق میں بھی اور مرکز میں بھی۔ وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے، سائیں قائم علی شاہ۔ سردار ممتاز علی بھٹو ان دنوں سندھ اسمبلی کے رکن تھے، ان دنوں وہ بادامی رنگ کا بوسکی کا کرتا زیب تن کرتے، ہر اجلاس میں پہنچتے اور عام طور پر خاموش رہتے۔ شاید وہ کوئی بجٹ سیشن تھا یا کوئی اور موقع، مالیاتی ایوارڈ اور سندھ کے لیے پانی کے حصے پر بحث شروع ہوئی جو گرما گرمی کا شکار ہو گئی۔

دوران بحث ایک وقت ایسا آیا جب ممتاز بھٹو پوائنٹ آف آرڈر پر اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ جیسے ہی کھڑے ہوئے جو کھڑے تھے بیٹھ گئے اور سب سے زیادہ شور مچانے والے یعنی پیپلز پارٹی کے ارکان خاموش ہو گئے اور ممتاز بھٹو صاحب نے شدھ سندھی میں تقریر شروع کر دی۔

دوران تقریر انھوں نے جانے کیا کہہ دیا کہ اس پر پہلے ایم کیو ایم کے بینچوں سے کچھ احتجاج بھری آوازیں بلند ہوئیں، اس کے بعد چند لوگوں نے کھڑے ہو کر بیک وقت بولنا شروع کر دیا۔ ممتاز بھٹو نے پلٹ کر ایک نظر بولنے والوں کی طرف دیکھا اور بات جاری رکھنے کے بجائے اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔

ان دنوں سندھ اسمبلی کے سپیکر تو جانے کون ہوا کرتے تھے لیکن ڈپٹی سپیکر شازیہ مری کے والد عطا محمد مری تھے، فوراً ہی ان کی آواز گونجی اور انھوں نے بڑی مہارت سے ایوان کو خاموش کرا کے ممتاز بھٹو صاحب سے درخواست کی:

‘سئیں، گالہیوں’ یعنی جناب آپ اپنی بات جاری رکھیے۔

ممتاز بھٹو

،تصویر کا ذریعہFacebook/MumtazAliBhutto

،تصویر کا کیپشن

انھوں نے اپنی جماعت سندھ نیشنل فرنٹ ایک بار مسلم لیگ ن اور دوسری بار تحریک انصاف میں ضم کی

اس پر بھٹو صاحب دوبارہ اٹھے اور اپنی بات وہیں سے شروع کر دی جہاں سے چھوڑی تھی۔

میں نے ان دنوں اسمبلی کی رپورٹنگ تازہ تازہ شروع کی تھی، ایسا منظر اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ لیاری سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی لال بخش بھٹو سے میری بات چیت کچھ زیادہ تھی۔ اجلاس ختم ہوا تو میں نے اس واقعے کے بارے میں ان سے پوچھا تو کہنے لگے:

‘یک بیک چھا جانے والی خاموشی کا سبب احترام کی وہ روایت تھی جو ممتاز بھٹو جیسی شخصیت کے لیے خاص ہے اور کسی بحث میں الجھے بغیر ان کا بیٹھ جانا اس قبائلی انا کی غمازی کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر ایک کے منھ نہیں لگتے۔’

اپنے شخصی احترام اور قد آور شخصیت کے باوجود وہ سندھ میں ایک متنازع شخصیت تھے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں جب وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ بنے تو انھوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ سندھ یک لسانی نہیں دو لسانی صوبہ ہے، انھوں نے سندھی زبان کے سرکاری زبان بنائے جانے کا بل صوبائی اسمبلی سے منظور کروا دیا۔

اس بل کی منظوری سے سندھ کی اردو بولنے والی آبادی یعنی شہری سندھ میں بے چینی پیدا ہو گئی جو پر تشدد فسادات پر منتج ہوئی ان فسادات میں بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصانات ہوئے جب کہ اندرون سندھ کے شہروں اور قصبوں میں آباد اردو بولنے والوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ اس طرح سندھ میں مستقل طور پر لسانی کشیدگی پیدا ہو گئی جس کا نکتہ عروج اسی اور نوے کی دہائی میں ایم کیو ایم کے قیام اور اس کے عروج کی صورت میں سامنے آیا۔

ممتاز علی بھٹو اس زمانے میں اگرچہ پیپلز پارٹی جیسی ملک گیر اور قومی جماعت کا حصہ تھے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی لسانی یا نسلی امتیاز پر مبنی سوچ کے اظہار سے کبھی نہ چوکے۔

بعد کے برسوں میں یعنی ذوالفقار علی بھٹو کا زمانہ گزر جانے کے بعد وہ اپنے ان خیالات میں مزید پختہ ہوئے اور انھوں نے سندھ نیشنل فرنٹ کے پلیٹ فارم سے ان ہی خیالات کا پرچار شروع کیا جن کے لیے ماضی میں انھیں ہدف تنقید بنایا جاتا تھا۔ واضح رہے کہ اس جماعت کے بانی وہ خود تھے۔

‘یہ تاثر اتنا قوی کیوں تھا کہ ممتاز بھٹو کی شخصیت میں ایک سخت مزاج وڈیرے اور بے رحم سردار ہمہ وقت اپنی مونچھوں کو تاؤ دیے بیٹھا رہتا ہے؟’

ان کے حلقہ احباب، حلقہ انتخاب اور انھیں جاننے والوں سے اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ملتا، سوائے اس کے کہ یہ سندھ کے قبائلی مزاج کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔

آج ٹی وی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے بتایا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران ان کے حلقے میں پروگرام کے لیے پہنچے۔ پروگرام کا فارمیٹ یہ تھا کہ ووٹر سردار ممتاز بھٹو سے سوالات کریں گے جن کا جواب ریکارڈ کر لیا جائے گا۔ ریکارڈنگ شروع ہونے سے قبل ممتاز بھٹو نے گاؤں کے لوگوں سے سندھی میں مخاطب ہو کر کہا:

‘جو دل چاہے پوچھ لینا لیکن یہ بھی خیال رکھنا کہ تم نے اور ہم نے اکٹھے رہنا ہے۔’

ان کی شخصیت اور رعب داب کے کئی واقعات زبان زد عام ہیں۔ ان کے کسی عزیز کا انتقال ہوا تو ان کے حلقہ انتخاب اور گاؤں دیہات کے لوگ ان کے ہاں تعزیت کے لیے پہنچے لیکن وہاں آنے کے باوجود کسی میں ہمت نہ تھی کہ وہ ان سے کہہ سکے کہ سردار صاحب، فاتحہ خوانی کر لی جائے۔ کچھ دیر کے بعد کچھ صحافی اور دیگر لوگ اسی محفل میں شریک ہوئے تو تعزیت کے لیے آنے والے وہ لوگ بھی فاتحہ خوانی میں شریک ہو گئے۔

جہاں تک ممتاز بھٹو صاحب کے مزاج کا تعلق ہے، ان کی طویل زندگی کے مختلف واقعات کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے مزاج کی تشکیل میں دو عوامل کا کردار بنیادی ہے، اول ضد اور دوم تواضع۔

تواضع کا تعلق ایک روایت سے ہے، روایت یہ ہے کہ رتو ڈیرو میں ان کے اوطاق پر جو کوئی بھی پہنچتا ہے، اس کی تواضع ایک مقامی ہندو حلوائی کی بنائی ہوئی مٹھائی ‘توشہ’ (عرف عام میں بالو شاہی) اور نمک پاروں سے ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی ان کے ہاں گئے تو ان کی تواضع بھی اسی مٹھائی سے کی گئی۔ رتو ڈیرو میں یہ مشہور ہے کہ اس حلوائی کا کاروبار ممتاز بھٹو کے اوطاق ہی کے دم سے ہے۔

ان کی ضد کی مثالیں بھی کم نہیں لیکن کراچی کے ایک ممتاز صحافی رفعت سعید کا ایک واقعہ بڑا دلچسپ ہے۔ رفعت نے ان کے بارے میں مقامی ہفت روزے میں ایک رپورٹ شائع کر دی جس میں ان پر کچھ الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ممتاز بھٹو نے ان الزامات کو پانچ کروڑ روپے کے ہرجانے کے مطالبے کے ساتھ عدالت میں چیلنج کر دیا۔ دوران مقدمہ ایسی صورت پیدا ہو گئی جس میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ ہفت روزے سے دو لاکھ روپے ہرجانہ وصول کر کے مقدمہ نمٹا دیا جائے۔ ممتاز بھٹو ڈٹ گئے اور کہا کہ یہ مقدمہ معافی مانگنے تک ختم نہیں ہو گا۔

ممتاز بھٹو

،تصویر کا ذریعہFacebook/Sindh-National-Front

ایک طرف اپنے مؤقف پر اتنی شدت سے اصرار تھا اور دوسری طرف وہ مدعا علیہ کے وکیل خواجہ نوید کے ساتھ سندھ کلب میں بیٹھ کر دوپہر کا کھانا بھی کھایا کرتے تھے۔

مدعا علیہ رفعت سعید، عین ان دنوں جب یہ مقدمہ چل رہا تھا کسی دوسرے میڈیا گروپ کے ساتھ وابستہ ہو گئے اور اس کی طرف سے انٹرویو کے لیے ان کے پاس پہنچے تو ممتاز بھٹو خوش دلی کے ساتھ ان سے ملے، تواضع کی، انٹرویو بھی دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ انھیں وہ سب پرانی باتیں یاد ہیں اور یہ کہ وہ مقدمہ کبھی واپس نہیں لیں گے۔ مقدمے پر قائم رہنا ان کے نزدیک ایک اصولی معاملہ تھا کیونکہ ہفت روزے میں رپورٹ کی اشاعت سے ان کے مقام اور مرتبے کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

ممتاز بھٹو نے قانون کی تعلیم برطانیہ کے معروف تعلیمی ادارے لنکنز ان سے حاصل کی تھی لیکن عملی طور پر پریکٹس انھوں نے کبھی نہیں کی لیکن اس ساتھ ہی یہ حقیقت بھی بڑی دلچسپ بہت کہ مقامی عدالت سے لے کر اعلی ترین عدالتوں تک، ان کاسابقہ جس مقدمے سے بھی پڑا، وہ ہمیشہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔

ان کے مزاج اور شخصیت سے واقف لوگ بتاتے ہیں کہ ان کے ہاں قانون کے احترام کی روایت بہت پختہ تھی۔

سندھ کے وڈیروں اور سرداروں کے ہاں قانون شکن عناصر کی سرپرستی اور اپنے گفتنی و نا گفتنی مقاصد کے لیے ایسے لوگوں کو اپنے ہاں جمع رکھنے کی روایت پرانی ہے لیکن ممتاز علی بھٹو کی دبنگ اور بھاری بھرکم شخصیت کے باوجود ان کا کوئی بڑے سے بڑا مخالف بھی ان پر یہ الزام عائد نہیں کر سکتا کہ انھوں نے کبھی ایسے لوگ پالے ہوں یا ان کے سر پر ہاتھ رکھا ہو اور یہ اس کے باوجود تھا کہ علاقے میں اراضی کے معاملات اور سیاسی تنازعات کی وجہ سے ارد گرد کے بہت سے قبائل کے ساتھ ان کی دشمنی تھی۔

سندھ میں ایسے ہی اختلافات اور دشمنیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے بڑے زمیندار اور وڈیرے محافظوں کے بڑے بڑے لشکروں کے ساتھ حرکت میں آتے ہیں لیکن دشمنی کے ان دیرینہ سلسلوں کے باوجود ممتاز بھٹو نے کبھی اپنے ساتھ کوئی محافظ نہیں رکھا۔ انھیں جہاں کہیں بھی جانا ہوتا، اپنے ڈرائیور کے ساتھ پہنچ جاتے۔

‘حالیہ دنوں میں وہ کچھ علیل تھے اور فزیو تھراپی کے لیے انھیں کلینک جانا پڑتا تھا، وہ ہر روز اپنے ڈرائیور کے ساتھ گھر سے نکلتے اور کلینک پہنچ جاتے، نہ کوئی تاہم جھام اور نہ ہٹو بچو کی صدائیں اور نہ کوئی مسلح محافظ’۔

لاڑکانہ کے نوجوان صحافی طارق درانی نے مجھے بتایا۔

سیاست ممتاز بھٹو کے خاندان کی قدیم روایت ہے۔ ان کے والد اور چچا صوبہ بمبئی کی قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے۔

وہ خود 1965ء میں قومی اسمبلی کے پہلی بار رکن منتخب ہوئے۔ ان کے کزن ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی بنائی تو وہ اس میں شامل ہو گئے اور اپنے کزن کے زوال تک اسی پارٹی کا حصہ رہے۔

سنہ 1977 کے مارشل لا کے نفاذ کے وقت ذوالفقار علی بھٹو کی طرح انھیں بھی حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحب زادی اور ان کی سیاسی جانشین بے نظیر بھٹو کے لیے کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کی وہ پہلی شخصیت تھیں جنھوں نے سیاست میں عملیت پسندی کے رجحان کی پیروی کی لیکن جہاں تک ممتاز بھٹو کا معاملہ ہے، اس معاملے میں ان کا نام بے نظیر بھٹو سے بھی پہلے لیا جاتا ہے۔

ممتاز بھٹو کی یہی عملیت پسندی ہی تھی جس کی وجہ پیپلز پارٹی سے ممتاز بھٹو کی راہیں مستقل طور پر جدا ہو گئیں اور وہ 1977 سے اب تک پیپلز پارٹی کے ایک بڑے حریف کے طور پر ابھرے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار میں آتے وقت اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے کسی فرد کو کوئی منصب نہیں دیں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انھوں نے ممتاز بھٹو کو گورنر، وزیر اعلیٰ اور وفاقی وزیر بنایا تو اس پر اعتراض ہوا جس پر بھٹو صاحب نے کہا:

‘ممتاز ایک ٹیلنٹڈ کزن ہے’

ایک زمانے میں ٹیلنٹڈ کزن کی عرفیت ممتاز بھٹو کے نام مستقل حصہ تھی، دوست ان کی اہمیت واضح کرنے کے لیے اور مخالفین بطور طنز انھیں ٹیلنٹڈ کزن کے نام سے پکارا کرتے تھے۔

یہ ٹیلنٹڈ کزن تب بھی اور اب بھی اپنے مزاج کا واحد اور روایت میں پختہ تھا، مثلاً سیلولر انقلاب کے بعد سیل فون سیاست کا حصہ بن گئے لیکن ممتاز بھٹو نے اس ایجاد سے کبھی استفادہ نہیں کیا، پرانے وقتوں کی طرح لوگ انھیں فون کرتے، آپریٹر سن کر پیغام نوٹ کرتا اور پھر فون کرنے والے کو جوابی فون آتا۔

ممتاز بھٹو کی رحلت کے بعد شاید یہ وضع دارانہ روایت بھی دم توڑ جائے۔



Source link

Leave a Reply