مینارِ پاکستان کیس: پنجاب پولیس کے سربراہ کی طرف سے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہSocial Media

پنجاب پولیس کے سربراہ کی طرف سے 14 اگست کو گریٹر اقبال پارک میں ٹک ٹاکر خاتون کو سرِ عام جنسی طور پر ہراساں اور تشدد کرنے کے واقعہ سے متعلق ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں اب تک اس مقدمے میں کی جانے والی تفتیش کا ذکر ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک92 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ پنجاب پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نایاب حیدر کے مطابق اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد 126ہو گئی ہے۔ نایاب حیدر کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش مختلف مراحل میں ہو رہی ہے اور یہ تفتیش پولیس کی متعدد ٹیمیں کر رہی ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ ٹک ٹاکر لڑکی نے جب اس واقعہ سے متعلق متعقلہ تھانے میں رپورٹ درج کروائی تو اس شام چھ بجے سے لیکر شام سات بجکر چالیس مٹنٹ تک اس علاقے میں 28 ہزار کے قریب موبائل فون کالیں کی گئیں جن میں سے730 کالوں کو مشکوک جانتے ہوئے الگ کر لیا گیا تھا۔

مینارِ پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کے علاوہ اس مقدمے کی تفتیش کے دوران407 افراد کے انٹرویو کیے گئے، جن میں سے 92 افراد کو شارٹ کیا گیا اور پھر انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے 30ویڈیو اور60 تصاویریں ملی ہیں جسے نادرا کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ لوگوں کی شناخت میں مدد مل سکے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نادرا نے ابھی تک 9 افراد کو شناحت کیا ہے جو کرائم سین پر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیئے

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ایک ٹیم میں شامل پنجاب پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سیف سٹی منصوبے کے تحت لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمرے سے جو ریکارڈ ملا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ متاثرہ لڑکی 14 اگست کو شام ساڑھے پانچ بجے کے بعد اقبال پارک میں داخل ہوئی اور اس کے ساتھ دو لڑکے بھی ان کیمروں میں دکھائی دے رہے ہیں۔

اس وقوعے کا مقدمہ تین روز کے بعد یعنی17 اگست کو درج کیا گیا اور اس میں متاثرہ لڑکی نے بیان میں کہا ہے کہ وہ چھ بجے کے قریب اقبال پارک میں داخل ہوئی اور جب وہ مینار پاکستان کے قریب یوٹیوب چینل کے لیے ویڈیو بنا رہے تھے تو اس عرصے کے دوران تین سو سے لے کر چار سو کے قریب افراد وہاں آگئے اور ان پر اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کر دیا۔ اس ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملہ آور انھیں ہوا میں اچھالتے رہے اور ان کے ساتھ کھینچا تانی بھی کرتے رہے جس سے ان کے کپڑے پھٹ گئے۔

تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار کے مطابق وہاں پر موجود سکیورٹی گارڈوں کے مطابق ملزمان نے سورج غروب ہونے کے بعد حملہ کیا اور یہ وقوعہ بیس منٹ سے لے کر پچیس منٹ تک جاری رہا جس کے بعد سکیورٹی کے عملے نے ان کو وہاں سے ریسکیو کیا۔

سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو پولیس اہلکاروں نے ہجوم کے چنگل سے چھڑایا تھا جبکہ سوشل میڈیا پر متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پولیس نے اس ضمن میں ان کی کوئی مدد نہیں کی تھی بلکہ وہاں پر موجود دیگر افراد نے انھیں ان حملہ آوروں سے رہا کروانے میں مدد کی تھی۔

تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق پولیس اس معاملے پر بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ متاثرہ لڑکی نے وقوعہ کے تین روز کے بعد اس واقعہ کی رپورٹ کیوں درج کروائی۔

اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد کا بیان بھی میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے جس میں انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو بھی گرفتار کیا جائے ۔

پولیس اہلکار کے مطابق ابھی تک اس مقدمے میں دس کے قریب افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور یہ وہ افراد ہیں جنھوں نے اپنی انکھوں سے یہ واقعہ دیکھا ہے۔

اہلکار کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش اور ملزموں کی شناخت پریڈ کے مرحلوں کو مکمل کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ اہلکار کے مطابق متاثرہ لڑکی کو اگلے ایک دو روز میں جیل لے جایا جائے گا جہاں پر حراست میں لیے جانے والے افراد کی شناخت پریڈ کروائی جائے گی۔



Source link

Leave a Reply