نادیہ مسعود، مسعود احمد: ایک ہی دن پی ایچ ڈی کی ڈگری پانے والے پشاور کے باپ بیٹی کی کہانی

  • عزیز اللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

3 گھنٹے قبل

‘وہ ہمارے لیے انتہائی یادگار لمحہ تھا جب یونیورسٹی کی ایک ہی کانووکیشن میں ہم ایک بیٹی اور باپ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر رہے تھے۔ یقیناً ہمیں اپنی محنت کا پھل تو مل گیا لیکن ساتھ میں ہم نے ایک تاریخ بھی رقم کی ہے۔‘

ڈاکٹر مسعود احمد اور ڈاکٹر نادیہ مسعود خان نے یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور سے ایک ہی دن پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر نادیہ مسعود خان نے اپنے والد ڈاکٹر مسعود احمد کے ساتھ مل کر یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی پروگرام میں ایک ساتھ داخلہ لیا تھا، پھر ایک ساتھ پڑھائی شروع کی اور ایک ہی ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔

باپ بیٹی ایک ساتھ کیسے؟

مسعود احمد نے بتایا کہ نادیہ مسعود خان ان کی تیسری بیٹی ہیں اور ان کی تینوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں۔ انھیں متعدد مواقع ملے کہ وہ اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرتے لیکن وہ گھریلو حالات کی وجہ سے اس طرف توجہ نہیں دے سکے۔ انھیں امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے سکالرشپس بھی مل رہی تھیں لیکن انھوں نے وہ قبول نہیں کیں۔

‘میری ذمہ داریاں میری اہلیہ نے سنبھالیں۔ میری پہلی دو بیٹیاں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔‘

ڈاکٹر محمد مسعود نے بتایا کہ دراصل ان پر ان کی والدہ اور بہن بھائیوں کی ذمہ داری تھی اور وہ انھیں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ پی ایچ ڈی وقت پر نہیں کر سکے تھے۔

ڈاکٹر مسعود خان نے بتایا کہ اب بھی اگر انھوں نے یہ کامیابی حاصل کی ہے تو اس کے پیچھے ان کی اہلیہ کا ہاتھ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس یونیورسٹی میں نوکری کے علاوہ ایک چھوٹا سا کاروبار بھی ہے اور اس پی ایچ ڈی کے لیے ان کی اہلیہ نے ان کے ساتھ یہ ذمہ داری سنبھالنے میں مدد کی۔ ‘میری اہلیہ میری بیمار والدہ کی دیکھ بھال کے علاوہ میرے بہن بھائیوں کا خیال رکھتی تھیں اور میرے لیے سہولیات فراہم کرتی تھیں تاکہ میں اپنی تحقیق کی طرف توجہ دے سکوں۔‘

نادیہ مسعود والد سے متاثر

نادیہ مسعود خان نے الیکٹریکل انجینیئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور انھوں نے انجینیئرنگ کا شعبہ اپنے والد ہی سے متاثر ہو کر منتخب کیا تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ 2016 میں انھوں نے ماسٹرز ڈگری مکمل کی تھی اور ‘ان دنوں بابا بھی وقت دے سکتے تھے اور یہ اتفاق تھا کہ بابا اور میں نے 2016-17 میں اپنی اپنی فیلڈ میں داخلہ لے لیا تھا۔‘

نادیہ مسعود نے بتایا کہ ‘ہم نے خوب محنت کی اور ہم ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے اور دونوں نے 2021 میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی ہے اور 2022 کے یونیورسٹی کانووکیشن میں ہمیں ڈگریاں مل گئیں۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹی ایک ساتھ پی ایچ ڈی مکمل کریں لیکن ان کے ساتھ یہ سب اتفاق سے ہوا ہے انھوں نے کوئی پہلے سے منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔

پی ایچ ڈی

‘یہ ایک یادگار دن تھا کیونکہ ہم نے جو محنت کی تھی ہمیں اس کا پھل مل گیا ہے اور یہ موقع میرے لیے، میرے بابا اور میری امی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ ایسا ہم نے کہیں نہیں سنا کہ باپ اور بیٹی نے ایک ساتھ پی ایچ ڈی مکمل کی ہو۔‘

‘ہم اپنی پڑھائی مشترکہ طور پر کرتے تھے، ریسرچ کے عمل میں ہم ساتھ ساتھ ہوتے تھے لیکن ہمارے شعبے الگ الگ تھے۔‘

مسعود احمد نے بتایا کہ وہ مکینیکل ڈیپارٹمنٹ میں ٹیچر ہیں جبکہ اُن کی بیٹی الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ میں تھیں۔ ‘میں نے میکاٹرونکس میں پی ایچ ڈی کی ہے جبکہ میری بیٹی الیکٹریکل انجینیئرنگ میں ڈاکٹر بنی ہے۔‘

مسعود احمد کی پی ایچ ڈی میں تاخیر کی وجہ

معسود احمد نے بتایا کہ وہ 1988 میں یونیورسٹی میں ٹیچر تعینات ہوئے اور 1988 میں ہی شادی کر لی تھی، جبکہ 1989 میں اُن کے والد کی وفات ہو گئی تھی جس کے بعد والدہ اور بہن بھائیوں کو میں نے سنبھالنا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک سکالر شپ 1991 میں اُنھیں ملی لیکن اُنھوں نے وہ قبول نہیں کی تھی۔ ‘اس کے بعد 1996 میں اساتذہ کے ہنر میں بہتری کے لیے امریکہ کی سکالرشپ ملی وہ بھی قبول نہیں کی۔ اس کے بعد کامن ویلتھ اور بنکاک کے مختلف اداروں کے سکالرشپ بھی گھریلو مصروفیات کی وجہ سے قبول نہیں کر سکا۔‘

مسعود احمد نے بتایا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ پی ایچ ڈی مکمل کریں اور 2016 میں یہ سوچا کہ اب پی ایچ ڈی کر لوں کیونکہ یہ ایسا وقت تھا کہ وہ اپنی تحقیق کی طرف توجہ دے سکتے تھے۔ اُن کی بیٹی نے بھی 2016 میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی، اس لیے دونوں نے ایک ساتھ داخلہ لے لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیٹی کو اگر کہیں مشکل پیش آتی یا اسے کوئی مدد کی ضرورت ہوتی تو ‘میں اس کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا پی ایچ ڈی ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جو آپ کا منصوبہ یا پلان یا سوچ ہوتی ہے، ضروری نہیں ہوتا کہ اس کے نتائج بھی بالکل ویسے آئیں گے اور اس میں کم سے کم چار سال کا عرصہ لگتا ہے اور اس دوران انسان کے لیے مشکل مرحلے بھی آتے ہیں لیکن ہم دونوں نے ان کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔‘



Source link