نواب نوروز خان اور سات بلوچ ’باغی‘: جب ایک ہی روز میں سات افراد کو تختہ دار پر چڑھایا گیا

  • محمد کاظم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

50 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہNawabzada Mir Shoaib Zehri

،تصویر کا کیپشن

نواب نوروز خان زرکزئی (سفید داڑھی والے)

آج سے لگ بھگ 60 برس قبل جولائی کے مہینے میں پاکستان کی ایک فوجی عدالت سے بغاوت اور غداری کے الزامات کے تحت سنائی جانے والی سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا تھا۔ سزائے موت پانے والے سات افراد میں سے ایک نوجوان شخص کی میت جب اس کے بوڑھے والد کے پاس آخری دیدار کے لیے لائی گئی تو باپ نے بیٹے کی ڈھلکی ہوئی مونچھوں کو اپنی انگلیوں سے تاؤ دے کر اُوپر کر دیا۔

پھانسی چڑھائے جانے والے نوجوان کے یہ بوڑھے والد بھی جیل میں بغاوت اور غداری کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد سابق فوجی صدر ایوب خان کے دور میں ایک ہی دن میں سات افراد کو پھانسی دینے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

ان میں سے چار افراد کو حیدرآباد جیل جبکہ تین کو سکھر جیل میں تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔

مجموعی طور پر آٹھ افراد کو ایک فوجی عدالت سے بغاوت اور ملک سے غداری کی سزا ہوئی تھی لیکن چونکہ ان میں سے ایک شخص (بوڑھا والد) کی عمر سزا سُنائے جانے کے وقت 85 سال سے زائد تھی اس لیے اُن کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دانشور اور ادیب پروفیسر ڈاکٹر شاہ محمد مری کا کہنا ہے کہ ’(پھانسی چڑھائے جانے والے) وہ لوگ تھے جن کو مذاکرات کے لیے پہاڑوں سے اُتارا گیا اور بعدازاں گرفتار کر کے پھانسی دے دی گئی۔‘

پروفیسر ڈاکٹر شاہ محمد مری کے مطابق اس بزرگ شخص نے پھانسی پانے والے افراد کی لاشوں کو جیل کے مرکزی دروازے سے حوالے کرتے وقت کہا تھا ’لوگوں کو بتا دیں وہ ان کی موت پر ماتم نہ کریں بلکہ ایسی خوشی کا اظہار کریں کہ جیسے ان کی شادی ہوئی ہو۔‘

پھانسی پانے والے یہ تمام افراد ایک ایسے شخص کی قیادت میں ‘جدوجہد’ کر رہے تھے جو انتہائی ضعیف تھے۔

پھانسی پانے والے افراد کون تھے اس کی تفصیلات آگے چل کر بیان کی جائیں گی، پہلے ایک نظر مسلح کارروائیوں کی قیادت کرنے والے ضعیف بلوچ رہنما کے حالات زندگی پر ڈالتے ہیں۔

مسلح کارروائیوں کی قیادت کرنے والے یہ ضعیف العمر شخص کون تھے؟

نوروز

،تصویر کا ذریعہNawabzada Mir Shoaib Zehri

،تصویر کا کیپشن

نواب نوروز خان زرکزئی

اُن کا نام نواب نوروز خان زرکزئی تھا، جنھیں بلوچ عوام احترام کے باعث ’بابو نوروز‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

وہ سنہ 1875 میں ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں سردار پسند خان زرکزئی کے ہاں پیدا ہوئے۔ زرکزئی بلوچستان کے ایک معروف اور بڑے قبیلے زہری کی شاخ ہے۔

کتاب ’نواب نوروز اور اُن کے ساتھی‘ میں مصنف کامریڈ فقیر لکھتے ہیں کہ نواب نوروز ایک منکسر المزاج اور سادہ طبعیت کے انسان تھے لیکن بعض معاملات میں سخت گیر اور اصول پسند تھے۔ وہ سنہ 1908 سے سنہ 1910 تک سرکاری ملازم رہے لیکن جب ان کے بھائی نواب محمد خان نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کر کے مسلح جدوجہد شروع کی تو انھوں نے ملازمت سے استعفی دے دیا تھا۔

چھ سال تک وہ اپنے بھائی کے شانہ بشانہ قومی آزادی کی جنگ لڑتے رہے اور بعد میں ’انھوں نے قلات اسمبلی میں بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی مخالفت کی اور اس پر آخر دم تک قائم رہے۔‘

نواب نوروز کی زندگی کا بیشتر حصہ ’بغاوت کی تحریکوں‘ میں گزرا۔ ’وہ سنہ 1914 سے سنہ 1932 کے دوران مختلف مقامات اور اوقات میں انگریز کے خلاف تحریکوں کی رہنمائی کرتے رہے جن کے دوران انھیں متعدد بار افغانستان کی سرحد عبور کرنی پڑی۔ انھوں نے مجموعی طور پر نو برس تک پونا، سکھر، کوئٹہ، مچھ ، حیدرآباد ، کوہلو اور سکھر میں قید کاٹی۔

سکھر جیل سے فرار کی کہانی

مذکورہ کتاب کے مطابق وہ پہلی بار سنہ 1922 میں گرفتار ہوئے اور انھیں عمر قید کی سزا ہوئی۔ سزا کے طور پر انھیں کالا پانی (جزائر انڈیمان) بھی بھیج دیا گیا تاہم بعد میں انھیں سکھر جیل منتقل کیا گیا۔

’سکھر جیل میں ان کی ملا مہر نامی ایک سندھی کے ساتھ دوستی ہوگئی جو کہ جیل میں دھوبی تھے۔اس کے علاوہ دو مزید قیدیوں سے بھی ان کی دوستی ہوئی۔ملا مہر نامی شخص نواب نوروز خان کی شخصیت سے بہت متاثر تھے۔‘

تین سال جیل میں رہنے کے بعد جب نواب نوروز اُکتا گئے تو انھوں نے ملا مہر سے کہا کہ وہ جیل سے فرار ہونے میں ان کی مدد کریں ۔انھوں نے اس مقصد کے لیے چند گز مضبوط کپڑے کی درخواست کی۔

’ملا مہر نے انتہائی احتیاط سے ان کو تیس گز کپڑا لا کر دیا جس کے ٹکڑے کر کے نواب نے ان سے رسی اور تھیلے تیار کیے۔ان تھیلوں کو مٹی سے بھر دیا اور رسیوں سے مضبوط باندھ کر جیل کے اندرونی دیوار کے قریب پھینک دیا۔نواب کے اس منصوبے کا صرف نواب ملا مہر اور دو قیدیوں کو علم تھا۔‘

پھانسی

،تصویر کا ذریعہNawabzada Mir Shoaib Zehri

،تصویر کا کیپشن

پھانسی پانے والوں کا نواب نوروز کے ہمراہ خاکہ

دھوبی کا کمرہ جیل کے اندرونی دیوار کے قریب تھا جس پر چڑھ کر رسی کے ذریعے مٹی سے بھرے تھیلے دیوار سے باہر پھینک دیے اور نواب نوروز نے اپنے دو ساتھیوں سمیت فرار ہونے کی کوشش کی۔

’اس کوشش کے دوران جیل کے ایک گارڈ نے اُن کو دیکھا اور فائر کھول دیا لیکن نواب اور ان کا ایک ساتھی دیوار پھلانگنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ ایک ساتھی کامیاب نہ ہو سکا۔‘

جیل کے قریب گھنے جنگل تھے جن سے وہ رات کی تاریکی میں نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور وہ وہاں سے جیکب آباد پہنچ گئے اور بعد میں اونٹوں پر سفر کر کے اپنے آبائی ضلع خضدار کے علاقے مولہ پہنچ گئے۔

فرار کے بعد انگریزوں کی جانب سے مفاہمت کی پیشکش

’نواب نوروز اور اُن کے ساتھی‘ کے مطابق انگریز نواب کے جیل سے فرار ہونے اور ان کی سرگرمیوں سے خائف تھے، انھیں اس بات کا بھی خدشہ تھا کہ کہیں وہ ان کے لیے نیا محاذ نہ کھول دیں۔ ان خدشات کے پیش نظر انگریز نے نواب سے مفاہمت اور صلح کا راستہ اختیار کیا۔

نواب نے حکمت عملی کے تحت صلح پر آمادگی کا اظہار کیا جس کے بعد انگریز نے ان کی ضبط شدہ جائیدادوں کو واپس کر دیا۔

انگریزوں نے انھیں ان کے بھائی رسول بخش کی جگہ زہری قبیلے کی سرداری کی پیشکش کی جسے مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سے ان کے درمیان ایک نئی خانہ جنگی کی ابتدا ہو گی۔

’دو سال تک نواب خاموش رہے لیکن جب انگریزوں نے سردار رسول بخش کو گرفتار کیا تو انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے دوست علی دوست بلوچ کے ہمراہ انگریزوں کے خلاف بغاوت کی۔انھوں نے انگریزی حکومت کو مراسلہ لکھا کہ اگر رسول بخش کو سات دن کے اندر رہا نہیں کیا گیا تو وہ حکومت کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔‘

انگریزوں نے سردار رسول بخش کو رہا کیا لیکن ساتھ میں ان سے وعدہ لیا کہ وہ نواب نوروزخان کو کوئٹہ لائیں۔ سردار رسول بخش جب نواب نوروز کو کوئٹہ لے جانے کی تیاری کرنے لگے تو انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے کوئٹہ جانے سے انکار کر دیا۔ انکار کے بعد انگریزوں نے نواب نوروز خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور ایک مرتبہ پھر چھاپہ مار کاروائیاں شروع کیں۔

قیام پاکستان کے بعد بھی بغاوت کا سلسلہ جاری رہا

نوروز

،تصویر کا ذریعہNawabzada Mir Shoaib Zehri

قیام پاکستان سے قبل بلوچستان دو حصوں پر مشتمل تھا۔ کوئٹہ، چاغی، بولان، سبی اور نصیر آباد کے علاوہ ڈیورنڈ لائن تک براہ راست انگریزوں کی عملداری میں تھے جو کہ ’برٹش بلوچستان‘ کہلاتے تھے۔

ان علاقوں کو انگریزوں نے خان آف قلات سے لیز پر حاصل کیا تھا جبکہ باقی علاقے ریاست قلات کا حصہ تھے اور خان آف قلات کی عملداری میں تھے۔

کتاب کے مطابق نواب نوروز خان اپنی جدوجہد اور کردار کی وجہ سے علاقے کے قابل احترام شخصیات میں شامل تھے جس پر ان کو ریاست قلات میں ایوان بالا ( دارالامرا) کا رکن منتخب کیا گیا جہاں انھوں نے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی مخالفت کی۔

اسکندر مرزا کے دور میں انھیں خان قلات میر احمد یار خان نے طلب کیا تو قلات کے لیے وہ ایک بڑے لشکر کے ہمراہ نکلے تھے۔ نواب نوروز خان قلات سے ملاقات کے بعد جب واپس اپنے علاقے کی جانب روانہ ہوئے تو خان آف قلات کو گرفتار کیا گیا۔

خان آف قلات کی گرفتاری کے بعد نواب نوروز خان کی ایک اور بغاوت

پروفیسر ڈاکٹر شاہ محمد مری کے مطابق ون یونٹ کے خلاف پہلے ہی بلوچستان میں بے چینی تھی اور اس کے بعد جب خان آف قلات کو گرفتار کیا گیا تو یہ بے چینی بڑھ گئی۔ خان آف قلات کے خاندان نے تین، چار سو سال سے زائد عرصہ تک تک بلوچستان میں حکمرانی کی تھی۔ لوگ ان کو اپنا بادشاہ مانتے تھے۔

پروفیسر مری کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے بعد خان آف قلات کو لاہور منتقل کیا گیا۔

’اس وقت آمدورفت کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے جس کی وجہ سے لاہور اتنا دور لگتا تھا جیسا کہ آج کل یہاں سے لندن۔‘

انھوں نے بتایا کہ خان آف قلات کے بعد مسلح بغاوت شروع ہوئی، ایک طرف یہ جھالاوان میں تھی جبکہ دوسری جانب مشرقی بلوچستان میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی تک پھیل گئی۔

اس دور میں ایوب خان اپنے آپ کو بہت زیادہ طاقتور سمجھتے تھے اس لیے انھوں نے جوابی کارروائی شروع کی۔ انھوں نے فوج اور فضائیہ کا استعمال کیا۔

پروفیسر مری کے مطابق چونکہ اس وقت فوج کی گوریلا وار فیئر سے نمٹنے کی زیادہ ٹریننگ نہیں تھی اس لیے وہ اس سے جلدی نہیں نمٹ سکی۔

انھوں نے بتایا کہ نواب نوروز کا یہ مطالبہ تھا کہ ون یونٹ ختم کر کے بلوچستان کی حیثیت کو بحال کیا جائے اور خان آف قلات کو رہا کر کے ان کو عزت و مقام دیا جائے۔

ڈاکٹر شاہ محمد نے بتایا کہ اس وقت یہاں جنگی اصول نہیں تھے۔ ایک وحشت طاری تھی لیکن ہر قسم کی طاقت کے استعمال کے باوجود یہ لڑائی ایک سال تک چلتی رہی۔ پھر جب یہ دیکھا گیا کہ طاقت کے استعمال کے باوجود معاملات قابو میں نہیں آ رہے ہیں تو مذاکرات کے نام پر ایک ایسا طریقہ اپنایا گیا جس کو بلوچ نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔

نواب نوروز اور ان کے ساتھیوں کو پہاڑوں سے اتارنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا گیا؟

کتاب ’نواب نوروز خان اور ان کے ساتھی‘ میں لکھا ہے کہ بریگیڈیئر ریاض حسین جو کہ اس وقت آپریشن کے کمانڈر تھے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ حکومت پاکستان کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور سمجھوتے کے نتیجے میں سوراب تا لسبیلہ ایک نئی ریاست تشکیل دے کر اسے نواب نوروز کے ماتحت کیا جائے گا اور ان کی حیثیت ایک بااختیار حاکم ( یعنی نواب آف مکران) کے برابر ہوگی اور مقامی انتظامیہ اور دیگر ریاستی امور ان کے ماتحت ہوں گے۔

’جواب میں نواب نوروز نے لکھا کہ میں بلوچی رسم و رواج اور تشخص کا سودا ہرگز نہیں کروں گا۔ یہ ہماری سرزمین ہے جس کے ٹکڑے کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔‘

نوروز خان نے کہا کہ ’اگر حکومت مذاکرات کی خواہشمند ہے تو پہلے اپنی فوجیں واپس بلا لے، خان آف قلات کو فوری طور پر رہا کرے، حکومت قلات کی حاکمیت بحال کرے اور بلوچستان کے تمام گرفتار شدہ قیدیوں کو رہا کرے۔‘

ہتھیار ڈالنے کے لیے نواب نوروز کی شرط یہ تھی کہ اگر خان قلات خود آ کر کہیں تو پھر وہ ہتھیار ڈالیں گے۔

نوروز
،تصویر کا کیپشن

’شہدائے بلوچستان‘ قبرستان میں پھانسی پانے والوں کی قبریں

کتاب کے مطابق جب مراعات کے پیشکش کے باوجود نواب نوروزخان بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو ایک جرگہ نواب نوروز کے پاس بھیج دیا گیا اور جرگہ کی گود میں قرآن کو بطور ضامن رکھ کر بھیجا گیا کہ وہ اس کی ضمانت پر پہاڑوں سے اتر جائیں۔

کتاب کے مطابق جب مسلح کاروائیاں کرنے والے نیچے آئے تو انھوں نے قرآن کو بوسہ دیا اور کہا کہ ہم اس کا صدقہ اتاریں گے مگر ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ سرکاری وفد ان کو مسلسل قرآن کا واسطہ دے کر یہ یقین دلاتا رہا کہ حکومت اپنے وعدے پر قائم ہے۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کہا کہ ’نواب نوروز اور بلوچوں نے کہا کہ جب قرآن کو ضامن بنا رہے ہیں تو اس سے بڑھ کر کیا ضمانت ہوگی اس لیے جب وہ نیچے آئے تو پھر حکومت اپنے وعدوں سے پھر گئی اور ان کو گرفتار کیا گیا۔‘

ڈاکٹر مری کے مطابق گرفتاری کے بعد انھیں ان اذیت خانوں میں منتقل کیا گیا جو کہ جاپانیوں کو ٹارچر کرنے کے لیے انگریزوں نے بنائے تھے۔

یہ ٹارچر سیل کہاں تھے؟

ڈاکٹر شاہ محمد مری نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد نواب نوروز خان سمیت بڑی تعداد میں لوگوں کو کوئٹہ کے قلی کیمپ منتقل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ چھوٹی سی جگہ ہے لیکن اس وقت جب نواب نوروز خان کو لایا گیا تو اس میں سات سو افراد کو رکھا گیا تھا۔

کتاب میں دعوی کیا گیا ہے کہ مسلسل آٹھ ماہ تک قلی کیمپ میں ٹارچر کے بعد ان کو سینٹرل جیل مچھ منتقل کیا گیا۔

’اگرچہ انھیں اپیل کا حق تھا۔میر غوث بخش بزنجو نے معروف قانون دان اے کے بروہی کو وکیل کیا لیکن مارشل لا حکام نے عام عدالتوں میں اپیل داخل نہیں ہونی دی۔‘

’اے کے بروہی جب بے بس ہوئے تو انھوں مشورہ دیا کہ سزایافتگان کے ورثا (خواتین) کی جانب سے اپیل دائر کی جائے۔انھوں نے نواب اور ساتھیوں سے مشورہ لیے بغیر مارشل حکام کے نام پر رحم کی اپیل دائر بھی کی لیکن جب نواب کو علم ہوا تو انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم اپنی خواتین کے ذریعے ہرگز رحم کی اپیل نہیں کریں گے۔‘

ملٹری کورٹ سے سزا پانے کے بعد مچھ سے منتقلی

ملٹری کورٹ سے انھیں بڑی عمر کی وجہ سے عمر قید جبکہ بیٹے سمیت سات دیگر ساتھیوں کو سزائے موت دی گئی اور تمام قیدیوں کو سکھر اور حیدرآباد جیل منتقل کیا گیا۔

اپنے بیٹے سمیت سات افراد کے پھانسی کے پانچ سال بعد نواب نوروز 25 دسمبر 1965 کو حیدرآباد جیل ہی میں وفات پا گئے۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری کے مطابق یوں نواب نوروز خان کی موت نے جیل سے آزادی دلائی۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری کہتے ہیں نواب نوروز کو حکام نے اس بات کی اجازت دی تھی کہ وہ لاشوں کے ہمراہ جیل کی گیٹ تک جائیں۔

نوروم

شاہ محمد مری نے ان بلوچ اور پشتون زعما جو لاشوں کو لینے گئے تھے کی یادداشتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’وہ اطمینان، اعتماد اور فخر کے ساتھ جیل سے باہر آئے۔ ان کے چال میں کوئی کمزوری نہیں تھی۔’‘

’نواب نوروز اور ان کے ساتھی‘ میں لکھا ہے کہ جب لاشوں کو باہر قطار میں رکھا گیا تو بلوچ عمائدین کے علاوہ سویلین اور فوجی حکام بھی موجود تھے۔

’جیل سپرینٹنڈنٹ نواب نوروز خان کے پاس تعزیت کرنے آئے اور کہا کہ آپ کے بیٹے اور ساتھیوں کو پھانسی ہوئی ہے تو نواب نوروز خان نے پھانسی پانے والے اپنے بیٹے کے مونچھوں کو اوپر کرتے ہوئے کہا کہ صرف بٹے خان نہیں بلکہ یہ سب میرے بیٹے ہیں۔ یہ مرے نہیں بلکہ ان کی شادی ہے۔ مرے وہ لوگ ہیں جنھوں نے قرآن مجید پر فیصلہ کرنے کے بعد ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔‘

حیدرآباد جیل میں وفات

25 دسمبر 1965 کو حیدر آباد جیل میں وفات پانے کے بعد ان کی لاش کی بھی قلات میں پھانسی پانے والے سات افراد کے ساتھ تدفین کی گئی۔ انھوں نے حیدرآباد جیل میں بھی معافی کی پیشکش کو مسترد کیا۔

نواب نوروز اور ان کے ساتھی نامی کتاب کے صفحہ نمبر 72 پر حیدرآباد جیل کے اس وقت کے سپرینٹنڈنٹ راشد سعید کے تاثرات درج ہیں۔

راشد سعید کے حوالے سے کتاب میں کہا گیا ہے کہ ’آخری دم تک یہ کہا گیا کہ تم معافی مانگ لو ہم نہ صرف تمہاری سرداری اور جاگیرداری بحال کریں گے بلکہ تمہیں اور تمہارے بیٹوں کو آزاد کریں گے۔ مگر وہ بھی دھن کے پکے تھے۔ انھوں نے یہ پیشکش یہ کہہ کر رد کر دی کہ اگر میرے مولا کی طرف سے یہی لکھا ہے تو یہ مجھے منظور ہے۔‘

پھانسی پانے والے سات لوگ کون تھے؟

15 جولائی 1960 کو جن افراد کو پھانسی دی گئی ان میں بٹے خان، بہاول خان، مستی خان، غلام رسول، سبزل خان، جمال خان اور ولی محمد شامل تھے۔ان تمام افراد کا تعلق بلوچوں کے معروف قبیلے زہری سے تھا۔ ان افراد کی تفصیلات بھی ’نواب نوروز خان اور ان کے ساتھی‘ میں درج ہیں۔

بٹے خان زرکزئی سنہ 1935 میں ضلع خضدار کے علاقے زہری میں نواب نوروز خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ انھوں نے صرف چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ وہ شادی شدہ تھے اور ان کا ایک بیٹا تھا۔

بٹے خان جب جوان ہوئے تو وہ اپنے والد کے پہلو میں بیٹھ کر کچہری لگایا کرتے تھے۔

’جیل میں سندھ سے آنے والے بعض ملاقاتیوں نے بٹے خان کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ دو دن بعد آپ کو پھانسی دی جائے گی تو بٹے خان نے کہا کہ ہم خطرات اور موت سے ڈرنے والے نہیں۔ ہمیں اعلیٰ مقصدکے لیے جدوجہد کرنا اور قربانی دینا آتا ہے۔ ہماری تاریخ اس کی گواہ ہے۔‘

پھانسی پانے والے دوسرے شخص بہاول خان موسیانی سنہ 1930 میں ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری میں پیدا ہوئے۔ وہ خان آف قلات قومی ملیشیا میں بھرتی ہوئے جو کہ ان کی پہلی اور آخری ملازمت تھی۔

ان کو 30 برس کی عمر میں پھانسی دی گئی۔

تیسرے شخص مستی خان موسیانی سنہ 1915 میں ضلع خضدار کی تحصیل مناجی میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے علاقے میں زمینداری کرتے تھے۔ وہ شکار کے شوقین تھے جبکہ مکران قومی ملیشیا میں ملازم تھے۔

مستی خان شادی شدہ تھے۔ 45 سال کی عمر میں انھوں نے دیگر لوگوں کی طرح مسلح جدوجہد کے لیے پہاڑوں کا رُخ کیا۔

کتاب میں جھل مگسی کے علاقے گنداوہ میں پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے ’گنداوہ میں چند امریکی پاکستانی حکام کے ساتھ سروے کے لیے آئے تھے۔ مستی خان نے ان کا گھیراﺅ کر کے ان کو پکڑ لیا۔ بعد میں مہمان ہونے ناطے یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ بلوچ غلامی کے خلاف برسر پیکار ہے اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایک بلوچ بھی باقی ہے۔‘

ان کی زندگی کے بارے میں مزید یہ تحریر کیا گیا ہے کہ ’جب پھانسی دینے سے قبل ان کو وزن کرنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا تو وہ ہنس پڑے۔ جیل اہلکار نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو مستی خان نے کہا کہ آج ہماری ہڈیاں اور بوٹی وطن کی عظمت کے لیے تُل رہی ہیں۔‘

چوتھے شخص سبزل خان زہری خضدار کے علاقے زہری میں سنہ 1928 میں پیدا ہوئے۔ وہ پیشے سے زمیندار تھے۔ بتیس برس کی عمر میں پھانسی سے قبل وہ 14 ماہ تک قلی کیمپ اور سکھر جیل میں قید تنہائی کاٹتے رہے۔

کتاب کے مطابق ’سبزل کو اپنی موت کی پرواہ نہیں تھی کیونکہ ان کو یقین تھا کہ انسان مرسکتا ہے لیکن اس کی یادیں رہتی دنیا تک قائم رہتی ہیں۔‘

قبرستان

پھانسی پانے والوں میں جمال خان زہری بھی تھے جو سوشلسٹ انقلاب سے دو سال پہلے ضلع خضدار کے پسماندہ علاقے ہسوئی مولہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ بھی پیشے سے زمیندار تھے۔ وہ شادی شدہ تھے اور ان کے دو بیٹے تھے۔

انھیں جب حیدرآباد جیل میں تختہ دار پر لٹکایا گیا تو ان کی عمر 45 برس تھی۔

اسی طرح ولی محمد ضلع خضدار کے علاقے گزان زہری میں سنہ 1925 پیدا ہوئے۔ وہ ایک عام کاشتکار تھے اور معمولی آمد ن سے گزارا کرتے تھے۔ ولی محمد کو جب پھانسی دی گئی تو اس وقت ان کی عمر 35 برس تھی۔

پھانسی چڑھنے والے ساتویں شخص غلام رسول نیچاری سنہ 1920میں ضلع قلات کے علاقے محمد تاوہ میں پیدا ہوئے۔ وہ حافظ قرآن تھے اور قلات کے مضافات میں کاشتکاری کرتے تھے۔

ان کی زندگی کے بارے میں مذکورہ کتاب میں مصنف نے لکھا ہے کہ قلات میں فوجی کارروائی کے بعد جب گلی کوچوں میں ہو کا عالم تھا تو ایسے میں غلام رسول نیچاری اپنی پرانی شاٹ گن کو لے کر خضدار کے علاقے زہری گھٹ میں مسلح جدوجہد کرنے والوں سے جا ملے تھے۔

وہ 19 مئی 1958 کو گرفتار ہوئے اور 15 جولائی 1960 کو40 برس کی عمر میں سینٹرل جیل سکھر میں ان کو پھانسی دی گئی۔

پھانسی کے بعد حکومت نے بلوچستان کی بجائے سندھ میں تدفین پر زور کیوں دیا؟

کتاب میں پھانسی پانے والے افراد کے قریبی رشتہ دار گوہر خان زرکزئی کے حوالے کہا گیا ہے انھیں کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کے ڈپٹی کمشنر نے یہ اطلاع دی کہ 15 جولائی کو ان افراد کو پھانسی کی سزا دی جائے گی۔

’ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ آپ لوگ لاشوں کو حیدرآباد میں ہی دفنائیں کیونکہ یہاں ان کو لانے سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گا۔‘ گوہر خان زرکزئی کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے اس اطلاع پر وہ حیدرآباد کے لیے روانہ ہوئے اور دوسرے افراد کے ہمراہ سیدھے جیل گئے۔

’پھانسی کے بعد احتجاج کے خدشے کے پیش نظر لاشوں کو بلوچستان لے جانے کے لیے حوالے نہیں کیا جارہا تھا لیکن تالپور خاندان کے عمائدین کی مداخلت پر لاشوں کو حوالے کیا گیا۔‘

گوہر خان کے مطابق ’پھانسی کے بعد ساتوں افراد کی لاشوں کو لے کر ہم بلوچستان کی جانب روانہ ہوئے تو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔‘

تدفین کے بعد ان افراد کو قلات لایا گیا جہاں شاہی قبرستان میں ان کی تدفین کی گئی۔ ان افراد کی قبروں پر طویل عرصے تک سکیورٹی فورسز کا پہرا رہا۔



Source link

Leave a Reply