نواز شریف اور غلام اسحاق خان کی سیاسی محاذ آرائی: ’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ سے استعفے تک

  • عمر فاروق
  • دفاعی تجزیہ کار

42 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

26 مئی 1993 کا دن اگرچہ غیرمعمولی طور پر گرم تھا لیکن سپریم کورٹ کی نوتعمیر شدہ عمارت کے اندر درجہ حرات قابل برداشت تھا جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ نئی تعمیر ہونے والی عمارت کی دیواریں ابھی گیلی تھیں اور تعمیراتی ضرورت کی بنا پر اُن پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے اندر 11 رکنی بینچ کی سربراہی اُس وقت کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کر رہے تھے۔ گراونڈ فلور پر نئے تعمیر شدہ اس کمرہ عدالت میں جلدی جلدی تیاریاں کی گئیں تھیں تاکہ معزول وزیراعظم نواز شریف درخواست کی سماعت ممکن ہو سکے۔

نواز شریف نے یہ درخواست 58 (2) بی کے صدارتی حکم نامے کے ذریعے قومی اسمبلی کی تحلیل کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔

اس بینچ میں شامل جج صاحبان اس تاریخی مقدمے کی سماعت مکمل ہونے پر اپنے چیمبرز میں واپس جا چکے تھے۔ سماعت کے دوران صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے اسمبلی اور کابینہ کی تحلیل کے صدارتی فرمان کے خلاف اور حق میں دلائل دیے گئے۔

سپریم کورٹ کی سکیورٹی نے کمرہ عدالت کی طرف آنے والے تمام راستے بند کر دیے تھے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں کا ہجوم کمرہ عدالت کے باہر جمع ہوگیا تھا اور عدالت کے سکیورٹی عملے کو خدشہ تھا کہ کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ نہ ہو جائے جس سے عدالت کا تقدس مجروح ہو۔

سکیورٹی پر مامور عملے نے دونوں جانب کے وکلا، درخواست گزاروں اور مدعا علیہان (رسپانڈنٹس) کے نمائندوں سے کہا کہ وہ اس وقت تک کمرہ عدالت میں ہی رہیں جب تک مقدمے کا فیصلہ نہیں سُنا دیا جاتا۔

اس وقت میں ایک مقامی اخبار کا رپورٹر تھا اور گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے اس مقدمے کی مسلسل کوریج کر رہا تھا۔ الیکڑانک میڈیا کا انقلاب ابھی دس سال کے فاصلے پر تھا اور ’ٹکرز جرنل ازم‘ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی لہذا عدالتی رپورٹرز کی ایک مختصر جماعت بڑی جانفشانی سے ہر وکیل کے دلائل اور اُن پر منصفوں کے جملوں کو بڑی احتیاط سے لکھنے میں مشغول تھے۔

اُس روز جب صبح ساڑھے گیارہ بجے عدالتی معمول کے مطابق جج صاحبان کی چائے کا وقفہ ہوا تو میں نے بھی چائے پینے کی نیت سے کمرہ عدالت سے بار کی کینٹین کی طرف رُخ کیا۔

اسحاق

،تصویر کا ذریعہBOOK: THE GOVERNMENT OF AGENCIES

مجھے یہ علم نہیں تھا کہ کمرہ عدالت کی طرف آنے والا ہر راستہ میری واپسی پر بند ملے گا۔ میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا میں اس مقدمے کا فیصلہ سُن پاؤں گا؟ جس کی تمام سماعت نہ صرف میں دیکھ چکا تھا بلکہ دلائل اور ہر نکتہ رپورٹ بھی کر چکا تھا۔ میں چیف سکیورٹی افسر کے پاس گیا تو انھوں نے مجھے کہا کہ ’میرے لیے دروازے کھولنا ممکن نہیں، ہر طرف سیاسی کارکن ہیں۔‘

میں رجسٹرار سپریم کورٹ کے دفتر پہنچا۔ بزرگ عمر ایم اے لطیف (رجسٹرار) بھی کمرہ عدالت کے اندر موجود تھے اور ان تک رسائی ممکن نہ تھی۔ میں نے اُن کے اردلی سے کہا کہ کمرہ عدالت کے اندر موجودہ رجسٹرار تک میری تحریر کی ہوئی پرچی پہنچا دیں جس پر میں نے اپنی بپتا لکھ ڈالی تھی۔

کچھ دیر بعد مجھے رجسٹرار کی طرف سے جوابی پرچی موصول ہوئی جس پر تحریر تھا کہ ’صرف ایک ہی دروازہ کھلا رہتا ہے اور وہ کمرہ عدالت میں جج صاحبان کے آنے جانے کے لیے مخصوص راستہ ہے، آپ اس راستے کے قریب پہنچیں، میں آپ کو بتاتا ہوں۔‘

27 سال گزرنے کے بعد بھی ججوں کے کمرہ عدالت میں داخل ہونے والے راستے کے قریب پہنچنا مجھے آج بھی اپنی صحافتی زندگی کا سب سے بڑا ’ایڈونچر‘ (مہم جوئی) محسوس ہوتا ہے۔

’یہ عدالت صدارتی حکم کو خلاف قانون قرار دیتی ہے۔‘ چیف جسٹس نسیم حسن شاہ فیصلہ پڑھ کر سُنا رہے تھے جب میں کمرہ عدالت کے اندر پہنچا۔

اس موقع پر کمرہ عدالت میں بیٹھے لوگوں کا جوش وخروش دیدنی تھا۔ عدالتی فیصلہ سُن کر حیرت سے نشستوں پر براجمان لوگ اچھل پڑے۔ ہال میں دبی دبی آوازوں کاایک شور سا بلند ہوا جو بتدریج سکوت میں بدلتا گیا اور پھر یہ سکوت اس وقت تک طاری رہا جب تک جسٹس نسیم حسن شاہ نے تمام فیصلہ پڑھ کر سُنا نہیں دیا۔

صدر غلام اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت کو کرپشن (بدعنوانی)، اقربا پروری، مخالفین کو ڈرانے دھمکانے، آئین کی خلاف ورزی اور مسلح افواج کی اتھارٹی کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگا کر چلتا کر دیا تھا۔ قومی اسمبلی تحلیل کر دی گئی اور 14 جولائی 1993 کو ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔

نوازشریف اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے تھے۔ عدالت عظمی نے اگرچہ قومی اسمبلی اور نوازشریف کی کابینہ بحال کرنے کا غیرمعمولی قدم اٹھایا لیکن اس فیصلے کے ڈیڑھ ماہ کے اندر ہی دونوں نوازشریف اور صدر اسحاق خان کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

یہ دونوں فریقین کے درمیان تصادم اور محاذ آرائی کے انتہا پر پہنچ جانے والا ڈرامے کا ڈراپ سین تھا جو سپریم کورٹ کے فیصلے بعد ایک نئے ڈھنگ سے شروع ہوا تھا جس کے پس پردہ محلاتی سازشیں اور ایوان اقتدار کا جوڑ توڑ کارفرما تھا۔

فوج، صدر اور نوازشریف: یہ سب کھیل کیسے شروع ہوا؟

نواز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جہاں تک فوج کے اندر کی سرگرمیوں کا تعلق ہے تو نوازشریف کا پہلا دور حکومت اس معاملے میں بڑا ہی رنگین تھا۔ خبروں کے ساتھ ساتھ افواہیں بھی گردش میں تھیں کہ نوازشریف اپنی دولت کے بل بوتے پر فوج کے تنظیمی ڈھانچے میں دخل اندازی کر رہے ہیں اور درون خانہ اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں مصروف ہیں۔

اسی دوران چیف آف آرمی سٹاف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک وفات ہو گئی۔ اس واقعے پر افواہوں کا ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔

’ملٹری، سٹیٹ اینڈ سوسائٹی اِن پاکستان‘ نامی کتاب کے مصنف حسن عسکری لکھتے ہیں کہ ’صدر مملکت اور فوجی قیادت کی بھرپور آشیرباد سے نومبر 1990 کے پہلے ہفتے میں نوازشریف وزیراعظم بن گئے۔ ضیا الحق کے مارشل لا میں منظرعام پر آنے والے نوازشریف کو سینیئر فوجی کمانڈروں کی پزیرائی اورحمایت میسر آئی جس کی وجہ بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف ان کا جارحانہ اور باغیانہ کردار تھا۔‘

’وزیراعظم کے طور پر فوج کے پیشہ ورانہ اور کاروباری مفادات کے معاملے میں ان کا رویہ حد درجہ محتاط تھا، انھوں نے سینیئر کمانڈرز کے ساتھ ایک خوشگوار تعلق استوار رکھا۔‘

مارچ کے مہینے کی ابتدا میں صدر مملکت غلام اسحاق خان اور نوازشریف کے درمیان صدر کے اختیارات کے معاملے پر کھلی محاذ آرائی شروع ہوگئی۔ حکومت نے کمیٹی قائم کی جس کا مقصد آئین میں تبدیلیوں کے لیے تجاویز دینا تھا۔

وفاقی وزرا نے اپنے بیانات میں آٹھویں ترمیم کو پارلیمانی جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دینا شروع کر دیا اور یہ موقف سامنے آنے لگا کہ وفاق (فیڈریشن) کے تمام انتظامی (ایگزیکٹیو) اختیارات وزیراعظم کے پاس ہونے چاہییں۔

میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا

نوازشریف کی مشکل اس وقت شروع ہوئی جب آٹھ جنوری 1993 کو حرکت قلب بند ہوجانے سے جنرل آصف نواز جنجوعہ کی وفات ہو گئی۔ نواز شریف اور ان کے قریبی ساتھی چاہتے تھے کہ جب تک نئے آرمی چیف کی تعیناتی نہیں ہو جاتی، اس وقت تک کور کمانڈر لاہور جنرل محمد اشرف کو قائم مقام آرمی چیف لگا دیا جائے۔

حسن عسکری نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’اسحاق خان جنرل اشرف سے نوازشریف کے رابطوں سے آگاہ تھے، لہذا انھوں نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے نسبتاً غیر معروف عبدالوحید کاکڑ کو اس عہدے پر تعینات کر دیا۔‘

جنوری کے آخر میں نوازشریف نے یہ اعلان کر کے اپنا ردعمل دیا کہ حکومت آٹھویں ترمیم کے تحت اسحاق خان کو حاصل صوابدیدی اختیارات ختم کر دے گی۔

یہ ان کے اُس پہلے موقف میں تبدیلی تھی جس میں وہ صدر کے صوابدیدی اختیارات کے حامی رہے تھے۔ اب نوازشریف نے فیصلہ کیا کہ وہ صدر کے اختیارات میں کمی کے لیے کام کریں گے اور انھوں نے سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔

بعدازاں حکمران اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) اور مسلم لیگی حلقوں سے یہ اشارے ملنے لگے کہ وہ صدارتی انتخابات میں اسحاق خان کو نامزد کریں گے۔

17 اپریل 1993 کو نوازشریف نے ریڈیو اور ٹی وی پر اسحاق خان کے خلاف ایک سخت تقریر کی جس میں انھوں نے صدر پر انھیں اقتدار سے بیدخل کرنے کی سازش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے یہ مشہور جملہ کہا کہ ’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔‘

نواز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عوام میں اس نوعیت کا طرز عمل کوئی اچھا مشورہ نہیں تھا کیونکہ انھیں پاکستان مسلم لیگ کے اپنے حامیوں کے سوا بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں تھی۔

توقع کے مطابق اسحاق خان نے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے پہلے آرمی چیف کی رضامندی حاصل کی جو انھیں با آسانی پہلے ہی میسر تھی جس کے بعد انھوں نے پی پی پی کی حمایت کے لیے رابطے کیے۔

حمایت دستیاب ہونے کے بعد اسحاق خان نے نوازشریف کی حکومت کرپشن، اقربا پروری، مخالفین کو ڈرانے دھمکانے، آئین کی خلاف ورزی اور مسلح افواج کی اتھارٹی کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگا کر ختم کر دی۔

قومی اسمبلی تحلیل کردی گئی اور 14 جولائی کو ملک میں نئے عام انتخابات کا نظام الاوقات (شیڈول) جاری کر دیا گیا۔ آرمی نے اسلام آباد میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن سمیت اہم عمارتوں کا کنٹرول سنبھال کر حکومت کی برخاستگی کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے میں مدد فراہم کی۔

جب صدر نے حکومت ختم کرنے کا اعلان کیا تو آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی وہاں موجود تھے۔

واقعات کی ترتیب

26 مئی کو سپریم کورٹ کے دس ججوں نے اس صدراتی حکم کے خلاف فیصلہ صادر کیا، ایک جج نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ تھا کہ آئین کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں اور یہ کہ صدر کا فیصلہ کسی قانونی جواز کے بغیر تھا۔

قومی اسمبلی اور نواز شریف کی حکومت کو بحال کر دیا گیا اور اس عدالتی فیصلے سے نوازشریف کی حکومت کو سند جواز مل گئی لیکن سیاسی جواز کے ایک نئے بحران نے سر اٹھا لیا۔

صدر کے ساتھ محاذ آرئی میں کمی نہ آئی، بحال ہونے والی وفاقی حکومت کی اسحاق خان سے نجات پانے کی خواہش طشت ازبام ہو چکی تھی۔ اس کوشش کے نتیجے میں نوازشریف حکومت کے صوبہ سرحد (اب خیبرپختونخوا)، سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسائل شروع ہوگئے جنھوں نے اسحاق خان کے خلاف نوازشریف کی مہم سے خود کو الگ کر لیا تھا۔

پنجاب حکومت کے معاملے پر اسحاق خان اور نوازشریف میں محاذ آرائی نے اس وقت مزید شدت اختیار کر لی جب نوازشریف نے کسی بھی قیمت پر اور کسی بھی حربے کے ذریعے اسحاق خان کی حامی پنجاب حکومت ختم کرنے کی ٹھان لی۔

معاملے کی انتہا

بے نظیر بھٹو کی جانب سے اسلام آباد کے گھیراؤ (لاک ڈاون) کا اعلان کرنے کے تناظر میں آرمی چیف نے صدر اور وزیراعظم سے کئی ملاقاتیں کیں تاکہ صدر اور وزیراعظم کی باہمی رضامندی سے جاری تنازع حل ہو سکے۔

میں نے انتہائی مشکل سے ان ملاقاتوں کی خبریں اپنے اخبارات کو دیں لیکن ان خبروں میں درون خانہ جاری معاملات کی تمام معلومات شامل نہیں تھی جس سے عام قاری کو پتہ چل سکتا کہ ان ملاقاتوں اور اجلاسوں میں اصل میں کیا کھچڑی پک رہی ہے۔

اُن دنوں جنرل عبدالوحید کاکڑ کی ملاقاتوں میں موجودہ مسلح افواج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے باوردی افسر تعلقات عامہ (پی آر او) کیپٹن (بعدازاں میجر) شاہد کرمانی ہمارا بڑا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔

’سمارٹ‘ پی آر او اطلاعات کی حفاظت بڑی سختی سے کرتے اور لب کشائی نہ کرتے۔ ان ایام کے حالات سے متعلق ترتیب اب بھی تازہ اس لیے ہے کیونکہ اس زمانے میں جو ’نوٹ بُک‘ میرے استعمال میں تھی، وہ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔

اطلاعات (جن کا زیادہ تر حصہ تصدیق شدہ ہے) تھیں کہ آخری ملاقات میں جنرل عبدالوحید کاکڑ کمانڈر 10 کور لیفٹیننٹ جنرل جی ایم ملک کو اپنے ہمراہ ایوان صدر لائے اور جب نوازشریف نے استعفی دینے میں پس وپیش کا مظاہرہ کیا تو بدمزگی ہوئی۔

میری ذاتی نوٹ بُک کے مطابق ان واقعات کی ترتیب یوں ہے:

  • 11 جولائی کو جنرل عبدالوحید کاکڑ نے اسحاق خان سے ملاقات کی
  • 12 جولائی کو اسحاق خان اور نوازشریف دو بار ملے
  • 13 جولائی کو نوازشریف نے اسحاق خان اور جنرل کاکڑ سے الگ الگ ملاقات کی
  • 14 جولائی کو وفاقی حکومت کی درخواست پر اسلام آباد میں فوج طلب کی گئی۔
  • 15 جولائی کو اسحاق خان، نوازشریف اور جنرل وحید کاکڑ نے مشترکہ اور الگ ملاقاتیں کیں۔ اسی روز بے نظیر بھٹو فوجی ہوائی جہاز کے ذریعے لاہور سے اسلام آباد پہنچیں اور جنرل عبدالوحید کاکڑ سے ملاقات کی۔ بے نظیر نے لانگ مارچ منسوخ کر دیا جس سے فوج کی حمایت انھیں میسر آ گئی
  • 16 جولائی کو اسحاق خان، نوازشریف اور جنرل عبدالوحید کاکڑ کی ملاقات ہوئی۔ بے نظیر بھٹو نے اسحاق خان سے ملاقات کی۔ صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) اور پنجاب کے وزرا اعلی کی جنرل عبدالوحید کاکڑ سے ملاقات ہوئی
  • 17 جولائی کو اسحاق خان، نوازشریف اور جنرل عبدالوحید کاکڑ کی کم ازکم دو بار ملاقات ہوئی
  • 18 جولائی کو اسحاق خان، نوازشریف اور جنرل عبدالوحید کاکڑ حتمی سمجھوتے کے لیے ملے۔ اس ملاقات کے نتیجے میں قومی اسمبلی تحلیل کر دی گئی، نوازشریف نے استعفی دے دیا، نگران وزیراعظم کا تقرر ہوا اور اسحاق خان بھی مستعفی ہو گئے



Source link

Leave a Reply