نور مقدم قتل کیس: نور کی رسم قل، پارک میں شمعیں روشن اور انصاف کا مطالبہ

  • سارہ عتیق اور حمیرا کنول
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایک گھنٹہ قبل

آج نور کی رسمِ قل ہے۔ گھر پر دعا ہے اور سب ملنے والے آئے ہیں۔ نور کی والدہ ہر آنے والے سے لپک کر ملتی ہیں اور پھر رو کر بس نور کا ہی نام لے رہی ہیں۔ ان کے بہتے آنسو پونچھنے والے انھیں ایک ہی دعا دے رہے ہیں اللہ آپ کو صبر دے۔

اس گھر سے ذرا سے فاصلے پر نور ’وادی رحمت‘ نامی قبرستان میں ابدی نیند سو رہی ہیں۔ ان کی قبر پر رکھے سرخ و سفید گلاب کے پھول خشک ہو چکے ہیں۔

لیکن یہاں اسلام آباد کے ایف سیون پارک میں ملزم ظاہر کے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر نور کے دوست ایک دوسرے سے گلے مل کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں۔ کچھ گم سم کھڑے ہیں اور کچھ بیٹھے ہیں اور کچھ ہاتھوں میں پھول لیے پارک میں داخل ہو رہے ہیں۔

ایک لمحے کے لیے ایسا لگتا ہے آپ کسی سکول کالج یا یونیورسٹی میں کھڑے ہیں اور وہ سب نوجوان ایک سانحے کا شکار ہوئے ہیں اور اسے برداشت کرنے کے لیے ایک دوسرے کو سہارا دے رہے ہیں۔

نور مقدم کو ان کے دوست ظاہر جعفر نے 20 جولائی کی شام اپنے گھر پر قتل کیا تھا۔ ظاہر اور ان کے والدین اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں۔

یہاں نور کی یاد میں دعا کی گئی اور پھر شمعیں روشن کی جا رہی ہیں۔

noor

یہاں ایک جگہ مختص ہے جہاں ہنستی مسکراتی نور کی زندگی کے سفر کی تصاویر ہیں۔ پوسٹرز ہیں جو ان کے دوستوں بنائے ہیں۔

ایک پوسٹر پر لکھا تھا ’ظلم ہو تو برداشت کرو، ظالم ہو تو اسے معاف کرو، نو نو ، نو نو، ہمیں انصاف چاہیے۔‘

’انصاف میں دیر ناانصافی ہے۔‘

نور کی ایک دوست کے سفید پھولوں کا ایک گل دستہ نور کے تصویر کے سامنے رکھا جہاں بہت سی شمعیں روشن تھیں۔ کچھ دیراس کی تصویر کو دیکھا چوما اور مجمعے سے کچھ دور جا کر بیٹھ گئیں۔ آنکھوں میں آنسووں لیے ان کا کہنا تھا کہ نور بہت معصوم تھی اورآپ اس کی معصومیت کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ وہ ایسے ظالم انسان کو پہچان نہ سکی۔

اس میں شرکت کرنے والے ہر ایک شخص کا کہنا تھا کہ انھوں پہلے کبھی اسلام آباد میں کسی کی یاد میں شمعیں روشن کرنے پر لوگوں کو اتنی بڑی تعداد میں شرکت کرتے نہیں دیکھا۔ بلاشبہ ایسا ہی ہے اس شاہراہ پر تاحد نگاہ گاڑیاں ہی گاڑیاں ہیں اور پارک میں لوگ ہی لوگ نوجوان اور بوڑھے سبھی۔

اس موقع پر بہت سے ایسے لوگ بھی موجود تھے جو نور کے ساتھ ساتھ اس کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو بھی جانتے تھے۔

ڈاکٹر مستنسن تنولی بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ مستنسن کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ دو چار بار ظاہر جعفر کو ملے لیکن ان کے لیے یہ واقع ایک حیران کن چیز تھی۔

‘میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ظاہر ایسا بھی کر سکتا ہے۔ میں اس سے جب بھی پاڑٹیز میں ملا تو وہ بہت اچھے سے ملتا ہے۔ لیکن اب بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اس کے قریبی دوست اس کے اس مزاج سے اچھی طرح واقف تھے۔’

نور کے دوستوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پولیس نے ملزمان کو گرفتار تو کر لیا لیکن وہ اسے سزا دینے میں تاخیر کر رہے ہیں۔

‘اس روز روز کے ریمانڈ سے کیا ہو گا؟ جب تمام شواہد موجود ہیں تو اس کے خلاف مقدمہ چلائیں تاکہ اسے جلد سے جلد سزا ہو۔’

نور کی تصاویر کے پاس روشن شمعوں سے کچھ دور ایک خاتون آنکھوں میں آنسو لیے اپنی دوستوں کو بتا رہیں تھیں کہ نور ان کی بیٹی کی دوست تھی اور ان کے گھر اس کا آنا جانا تھا۔ جس پر دوسری خاتون نے کہا کہ اب تو اپنے بچوں کو ان کے دوستوں کے گھر بھیجتے ڈر لگتا ہے۔

اسلام آباد پریس کلب میں بھی نور کے لیے انصاف مانگنے سول سوسائٹی کے لوگ اکھٹے ہوئے۔

ہاتھوں میں پلے کارڈ اور آنکھوں میں آنسو لیے نور کی دوست اسی جگہ اپنی دوست کو انصاف دلانے کے لیے کھڑی تھی جہاں آج سے کچھ ماہ قبل 12 ستمبر 2020 کو نور ایک پلے کارڈ لیے کھڑی تھی اور چاہتی تھی کہ ملک میں خواتین کے خلاف تشدد کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔

وہ کہنے لگیں’نور میری دوست تھی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا ہوگا۔ کل کو یہ میں اور آپ بھی ہو سکتے ہیں۔’

noor

خواتین کے اس مجمع میں غم افسوس اور غصے کے علاوہ ایک احساس ‘خوف’ کا بھی تھا جو کچھ کے چہروں اور کچھ کے سوالوں سے عیاں تھا۔ اپنی دو چھوٹی بہنوں کے ساتھ آئی تسنیم کا کہنا تھا کہ انھیں گھر سے مظاہرے میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں ملے لیکن وہ پھر بھی چھپ کر آئیں ہیں۔

اب تو مجھے یہ لگتا ہے کہ پاکستان میں ہر عورت بس اس وقت تک زندہ ہے جب تک اس کے گرد موجود مرد کو غصہ نہیں آتا۔’

تسنیم کی ساتھ کھڑی اس کی چھوٹی بہن نے سوال کیا کہ آخر ایسا بھی کیا غصہ کہ آپ چھری سے اس کا گلا ہی کاٹ دیں؟

مظاہرے کے منتظمین کی جانب سے جب نور مقدم ، قرۃ العین اور صائمہ کے ساتھ ہونے والے جان لیوا تشدد کا ذکر کیا گیا تو آنکھیں بھر آئیں۔

noor

ردا اپنے دو بچوں کے ساتھ مظاہرے میں موجود تھیں ان کا کہنا ہے تھا کہ وہ آج اس لیے یہاں آئیں ہیں تا کہ کل کو ان کی بیٹی کےساتھ ایسا نہ ہو۔

نور کے ساتھ ہونے والے اندھوناک واقعے کی مذمت میں آنے والوں میں فقط نور کے اپنے دوست اور نور اور ملزم ظاہر کے مشترکہ دوست ہی نہیں تھے بلکہ ان میں ظاہر کے دوست بھی موجود تھے۔

نور مقدم

اپنے بہتے آنسوؤں اور رندھی آواز کو قابو کرتے ہمایوں نے مجھے کہا ’بدقسمتی سے میں ظاہر کا دوست ہوں۔ میرے علاوہ کچھ اور بھی دوست یہاں آئے ہیں۔ اور پھر وہ روتے ہوئے کہنے لگے آئی ایم سوری۔ مجھے اب دوستوں کے انتخاب میں اپنی چوائس پر شک ہے‘



Source link

Leave a Reply