وائرل ویڈیو میں ہندو لڑکے سے زبردستی اللہ اکبر اور بھگوان کو برا بھلا کہلوانے والا شخص گرفتار

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو، کراچی

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سندھ کا صحرائے تھر کا علاقے ہے جہاں ایک شخص ایک تیرہ چودہ سالہ لڑکے کو گلے سے پکڑے ہوئے ہے اور اس کہہ رہا ہے ’بولو اللہ اکبر۔۔۔‘۔

دونوں ہاتھ جوڑے یہ بچہ اللہ اکبر کہتا ہے اس کے بعد یہ شخص بچے کو کہتا ہے کہ ’اپنے بھگوان‘ کو برا بھلا کہو۔

اس کے بعد وہ شخص اس بچے کو گالی دیتا ہوا مزید برا بھلا کہتا ہے۔ پھر ویڈیو میں اس شخص کی شکل نظر آتی ہے جس کے پس منظر میں سفید رنگ کی ویگو گاڑی بھی نظر آ رہی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک کے ساتھ یہ ویڈیو واٹس ایپ گروپس میں بھی شیئر کی گئی اور سندھ کے پارلیمینٹیرین گروپس میں اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا، جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ کے انسانی حقوق کے بارے میں معاون ویرجی کولھی نے کہا کہ ایس ایس پی سے بات ہوگئی ہے انہیں ایکشن لینے کے لیے کہا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے انسانی حقوق کے بارے میں معاون ویرجی کولھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم ایک کمپنی میں ڈرائیور ہے اور تین روز سے وہاں موجود نہیں ہے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر قانون مرتضیٰ وہاب نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ ملزم کو ضلع بدین سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

14 سالہ بچے کے پڑوسی نے بی بی سی کو بتایا کہ بچے کے والد ٹریکٹر ڈرائیور ہیں، اس واقعے سے لاعلم ہیں کہ سوشل میڈیا پر کس طرح یہ احتجاج جاری ہے۔

دوسری جانب سندھ کے مشیر قانون مرتضیٰ وہاب

،تصویر کا ذریعہSocial media

،تصویر کا کیپشن

دوسری جانب سندھ کے مشیر قانون مرتضیٰ وہاب نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ ملزم کو ضلع بدین سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ہمسائے نے بتایا کہ یہ تقریباً ایک ماہ پہلے کا واقعہ ہے اور یہ کہ 14 سالہ لڑکے نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سڑک پر موٹر سائیکل پر جا رہا تھا تو ملزم نے، جو ویگو میں سوار تھا پیچھے سے آکر زوردار ہارن دیا۔

ہمسائے نے بتایا کہ ملزم نے گاڑی سے اتر کر لڑکے کو گلے سے پکڑ کر کلمہ پکڑنے کو کہا ’اس وقت دوپہر کے تین بجے تھے، وہ گاڑی میں اکیلا تھا، اس نے ویڈیو بھی خود ہی بنائی۔‘

ہمسائے کا کہنا ہے کہ لڑکا موٹر سائیکل پر چپس اور دیگر چیزیں سپلائی کرتا ہے اور وہ موٹر سائیکل بھی دکاندار کا ہے۔ ان کے مطابق ’یہ غریب لوگ ہیں، خوفزدہ ہوگئے تھے اس لیے کسی سے بات نہیں کی‘۔

حالیہ مردم شماری کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر کی آبادی ساڑہ سولہ لاکھ کے قریب ہے جس میں ہندو اور مسلمان آبادی تقریباً نصف نصف ہے۔



Source link

Leave a Reply