ورڈل: گرل فرینڈ کے لیے بنائی گئی ایک سادہ سی گیم دنیا پر کیسے چھا گئی؟

  • ہیریئٹ اوریل
  • بی بی سی ورلڈ سروس

51 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہBBC News

حالیہ ہفتوں میں ایک آن لائن ورڈ گیم نے دنیا میں طوفان برپا کر دیا ہے اور اب نیویارک ٹائمز نے اس گیم کو ترتیب دینے والے شخص سے اسے ایک ملین ڈالر سے زیادہ کی ایک ’نامعلوم‘ قیمت پر خرید لیا ہے۔

ورڈل گیم صارفین کو چھ کوششوں میں پانچ حرفی لفظ بوجھنے کا چیلنج دیتی ہے۔ اس گیم کے سادگی اور دن میں ایک بار کھیلنے کی حد کی وجہ سے اس نے مارکیٹ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

اس کے ڈویلپر، نیویارک میں مقیم جوش وارڈل کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ سال اکتوبر میں گیم کے آغاز کے بعد سے اس پر ملنے والے عوامی ردعمل پر بہت حیران ہیں۔

انھوں نے ٹویٹر پر لکھا ‘ورڈل لانچ کرنے کے بعد سے میں ہر اس شخص کے ردعمل پر حیران ہوں جس نے اسے کھیلا ہے۔ یہ گیم اتنی بڑی ہو گئی ہے جتنی میں نے کبھی سوچی نہیں تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ اتنا بڑا کارنامہ نہیں ہے کیونکہ میں نے یہ گیم صرف ایک شخصیت کے لیے بنائی تھی۔‘

جوش وارڈل نے اس گیم کا نام اپنے ہی نام یعنی وارڈل پر رکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ گیم اپنی گرل فرینڈ، پلک شاہ کے لیے بنائی تھی۔ پلک کو کورونا وائرس کی وبا کے دوران وقت گزارنے کے لیے لفظوں کی گیمز کھیلنے کا شوق ہو گیا تھا۔

دوستوں اور احباب کی جانب سے اس میں کچھ دلچسپی کے بعد وارڈل نے صرف تین ماہ قبل یہ گیم عام صارفین کے لیے پیش کی اور اب ایک قلیل مدت میں یہ دنیا بھر میں لاکھوں صارفین میں مقبول ہے۔ لوگ روزانہ پوچھی گئی ایک ہی پہیلی کو مکمل کرنے کے لیے لاگ ان ہوتے ہیں۔

لیکن اس کھیل میں ایسا کیا ہے جو ہر شخص اس کا دیوانہ ہوا نظر آ رہا ہے؟

شیئرنگ

بمبئی میں ایک مصنف اور صحافی انندیتا گھوس کہتی ہیں ‘میں نیویارک میں اپنے بھائی کے ساتھ ناشتے کے وقت اپنا سکور شیئر کرتی ہوں۔ اس نے مجھ سے شکایت کی کہ اسے رات دیر تک جاگنا پڑتا ہے کیونکہ نئی پہیلی آدھی رات کو ہی آتی ہے۔‘

A billboard showing a girl holding out a Wordle game

،تصویر کا ذریعہAnindita Ghose

‘ہم بہن بھائی انتہائی قریب ہیں، لیکن روز کی پہیلی ہمارے رشتے میں مزید قربت کا عنصر لائی ہے۔‘

‘بہت کم لوگ اس میں ناکام ہوتے ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ اسے چھ کوششوں میں حل کر لیتے ہیں، اور آپ کے جیتنے کے لیے کسی کے ہارنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اسی طرح ہانگ کانگ میں رہنے والے ایک برطانوی نژاد استاد سام لیک کا کہنا ہے کہ اُن کے دوستوں میں یہ گیم کافی مقبول ہو چکی ہے۔

وہ کہتے ہیں ‘بہت سارے لوگ یہاں ہر روز اپنے سکور شیئر کرتے ہیں لہٰذا یہ یقینی طور پر بہت مقبول ہے لیکن میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ یہ 100 فیصد انگریزی ورژن ہے جسے زیادہ تر لوگ کھیل رہے ہیں۔‘

سیم متعدد زبانیں بول سکتے ہیں اور انھوں نے ورڈل کے جیسے مختلف زبانوں میں دستیاب ورژن کھیلنے کی کوشش کی ہے جسے دنیا بھر کے ڈویلپرز نے مختلف زبانوں میں بنایا ہے۔

انھوں نے اس گیم کو سویڈش، مینڈارن اور کورین کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی آزمایا ہے مگر وہ ہر زبان میں ایک جیسے کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

‘اگر سویڈش میں نو حروف علت یعنی وول حروف نہ ہوں تو یہ آسان ہو سکتا ہے، اور یہ چینی زبان کے ساتھ بالکل مختلف ہے۔‘

انگریزی ورژن کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ڈویلپرز نے خود ہی اس کے مختلف ورژن بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس مضمون کے لکھے جانے کے وقت اس گیم کی 79 زبانوں میں 222 ورژن دستیاب ہیں۔

Someone playing Wordle on a phone

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چنئی، انڈیا کے ایک سافٹ ویئر آرکیٹیکٹ پی سنکر نے گیم کا ایک تامل ورژن ایجاد کیا جس میں چھ دفعہ حل کا اندازہ لگانے کی حد کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

اس زبان میں 12 حرفِ علت اور 18 حرفِ تلفظ ہیں جن کو ملا کر 200 سے زیادہ مرکب سمبل بنتے ہیں جس سے چھ کوششوں میں صحیح جواب کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

شنکر نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘لوگ مجھے اپنے سکور بھیجتے ہیں اور میں نے کچھ ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو 70 سے 80 کوششوں کے بعد پہیلی حل کرتے ہیں۔‘

‘میں نے شروع میں اسے اپنی نو سالہ بیٹی کے لیے بنایا تھا جو انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے تمل اچھی طرح نہیں بولتی ہے۔‘

‘اس کے بعد سے وہ اپنی ماں اور دادی کے ساتھ نئے تمل الفاظ سیکھنے میں وقت گزار رہی ہے، اس لیے میں اسے اپنے لیے ایک کامیابی کے طور پر دیکھتا ہوں۔‘

سنکر نے سوچا تھا کہ انھیں پانچ یا چھ سے زیادہ کھلاڑی نہیں ملیں گے، لیکن اب وہ روزانہ 1500 سے زیادہ لوگ ان کی گیم کھیلتے ہیں۔

وہ کئی برسوں سے شوقیہ تمل حروفِ تہجی کے کوڈ پر کام کر رہے تھے، لہٰذا جب ورڈل وائرل ہوئی تو وہ اپنا ورژن بنانے کے لیے اچھی طرح سے تیار تھا۔

‘میں اسے تیزی سے تیار کرنے کے قابل تھا کیونکہ جو کوڈ میں نے پہلے ہی بنا رکھا تھا وہ میرے استعمال کے لیے موجود تھا، ورنہ اس میں ہفتوں کا وقفہ وقت لگ جاتا۔‘

‘جب میں نے اسے شروع کیا، تو مقصد کچھ تفریح کرنا تھا، لہٰذا یہ جیسا ہے ویسے ہی رہے گا، اور دوسرے لوگوں نے الفاظ جمع کرانے میں مدد کی ہے لہذا میں اب بھی کھیل سکتا ہوں۔‘

پڑھانے کی خواہش

اسی طرح، ہانگ کانگ کی ایجوکیشن یونیورسٹی میں لسانیات کے اسسٹنٹ پروفیسر لاؤ چاک منگ کے پاس کینٹونیز زبان کا کئی برسوں کا تجربہ تھا جو وہ ورڈل کے جیوٹپنگ ورژن (کینٹونیز میں لکھنے کے لیے رومن حروف تہجی کا استعمال کرتے ہوئے) بنانے سے پہلے سے تیار کر رہے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ‘میں نے پہلی دفعہ ورڈل تقریباً تین ہفتے قبل کھیلی تھی اور مجھے اس کی عادت پڑ گئی ہے۔ میرے پاس پہلے سے ہی اپنے پچھلے پروجیکٹس سے کینٹونیز کے لیے الفاظ کی فہرستیں تھیں، اس لیے یہ بنانا آسان تھا۔‘

انھوں نے اپنی گیم جنوری کے آخر میں شروع کی اور اب تک اسے 100,000 سے زیادہ بار کھیلا جا چکا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ‘جیوٹپنگ کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ مقامی کینٹونیز بولنے والوں کو نہیں سکھایا جاتا ہے، اس لیے ہانگ کانگ والوں کو گیم کھیلنے کے لیے ایک نیا نظام سیکھنے کی ضرورت ہو گی۔‘

‘میرے خیال میں یہ ایک نادر قسم کی ورڈل ہے جہاں لوگ گیم سے کچھ سیکھیں گے۔‘

Wordle on a phone

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لاؤ اور سنکر کی تعلیمی گیم کی یہ خواہش دنیا بھر میں متعدد ورژنوں میں واضح ہے۔

ویلز میں ایک والد اپنے بچوں کو ویلش سیکھنے میں مدد کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے ایک گیم تیار کی، جبکہ برٹش کولمبیا، کینیڈا میں ایک سافٹ ویئر ڈویلپر نے مقامی زبان کے لیے ڈکشنری ایپ تیار کرنے کے لیے یونیورسٹی کے ساتھ اپنے کام کے ساتھ جٹسان ورژن بنایا۔

لیکن اصل انگلش ڈویلپر کی طرح، برازیل میں پیدا ہونے والے فرنینڈو سربونسنی کو خالصتاً اس کے لطف میں دلچسپی تھی۔

سربونسنی کہتے ہیں کہ ‘میں اسے عوام کے لیے ریلیز کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا لیکن اسے چند دوستوں کو بھیج دیا اور ایک گھنٹے میں دس ہزار لوگ کھیل رہے تھے۔‘

‘میرا اس پر کوئی کنٹرول نہیں تھا، دن کے اختتام تک ایک لاکھ سے زیادہ کھیل چکے تھے۔‘

ان کے ورژن کا نام ٹرمو ہے اور اب روزانہ کم از کم 400,000 کھلاڑی اسے کھیلتے ہیں، جس کا مطلب ہے بڑے سرورز پر اپ گریڈ کرنا اور گیم کو چلانے کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

،ویڈیو کیپشن

بسمہ کا شمار پاکستان کی پہلی چند خاتون گیم ڈیویلپرز میں ہوتا ہے

فرنینڈو کا کہنا ہے کہ ‘میں بہت خوش ہوں کہ لوگ اسے کھیل رہے ہیں اور فی الحال میں اسے بہتر بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘

لیکن ورڈل اور اس کے بہت سے سپن آف ورژن اتنی جلدی کیوں کامیاب ہو گئے ہیں؟

فارمیٹ نیا نہیں ہے، کیونکہ یہ 1970 کی دہائی میں بنائی گئی بورڈ گیم ’ماسٹر مائنڈ‘ سے ملتا جلتا ہے۔

اور الفاظ پر مبنی دیگر گیمز برسوں سے کامیاب ہو رہی ہیں جس میں سکریبل پر مبنی مقبول ایپ، ورڈز ود فرینڈز شامل ہیں۔

فرنینڈو کے مطابق ‘یہ ورڈل کی فطرت ہے۔ یہ ایک سادہ سائٹ ہے اور کچھ بھی عجیب کرنے کی کوشش نہیں کرتی ہے۔‘

‘یہ آپ کی توجہ کے صرف پانچ منٹ مانگتا ہے، آپ کو تھوڑی تفریح ​​دیتا ہے اور پھر آپ کو جانے دیتا ہے۔‘



Source link