وقاص گورایہ: پاکستانی بلاگر کے قتل کی سازش کے الزام کے مقدمے میں جیوری کا فیصلے پر غور شروع

  • رفاقت علی
  • بی بی سی اردو لندن

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہCOURTESY AHMED WAQAS GORAYA

لندن کی کنگسٹن کراؤن کورٹ نے نیدرلینڈز میں مقیم پاکستان بلاگر احمد وقاص گورایہ کے قتل کے سازش کے مقدمے میں دلائل مکمل کر لیے اور اب جیوری نے فیصلے پر غور شروع کر دیا ہے۔

وکیل صفائی کے جیوری سے آخری خطاب کے بعد جسٹس ہیلرڈ نے جیوری کو آخری ہدایت کی کہ وہ اس مقدمے کا متفقہ فیصلہ کریں۔

جسٹس ہلیرڈ نے گذشتہ روز جیوری کو ہدایات دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فیصلے کرتے وقت کسی قسم کا قیاس نہ کریں اور فیصلہ صرف اسی شہادت کی بنیاد پر کریں جو ان کے سامنے پیش کی گئی ہے۔

جسٹس ہلیرڈ نے جیوری پر واضح کیا تھا کہ مقدمے کا بارِ ثبوت مکمل طور پر استغاثہ پر ہے۔

جسٹس ہلیرڈ نے جیوری سے کہا تھا کہ اس مقدمے میں فیصلے کرتے وقت اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ اس کا ماضی کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

ملزم محمد گوہر خان کے وکیل نے بدھ کے روز اپنے اختتامی دلائل میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس کے موکل نے انتہائی بیوقوفی کا مظاہرہ کیا لیکن وہ قاتل نہیں۔

وکیلِ دفاع نے ایک کہاوت کو استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کا مؤکل اپنا آپ کسی بڑے شیشے میں دیکھ رہا تھا۔

وکیلِ دفاع نے کہا کہ تمام شہادتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ملزم گوہر خان کے بلاگر وقاص گورایہ کو قتل کرنے کی سازش میں شریک ہونے کے کوئی سیاسی اور مذہبی محرکات نہیں تھے۔

وکیل نے کہا کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران اس بات کا ذکر کیا گیا کہ ان کے مؤکل کو اس کے والدین نے تعلیم کی غرض سے پاکستان بھحجوایا تھا۔

وکیل صفائی نے کہا کہ اس کے مؤکل کو جہاں تعلیم کے لیے بھیجا گیا تھا وہ کوئی مذہبی سکول نہیں بلکہ ’سیکولر‘ بورڈنگ سکول تھا۔

ملزم گوہر خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس نے لاہور میں شریف ایجوکیشن کمپلیکس میں تعلیم حاصل کی تھی لیکن وہ اردو زبان سے عدم واقفیت کی وجہ سے کوئی امتحان پاس نہیں کر سکا تھا۔

وکیل صفائی نے جیوری کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو جب مزمل (مڈز) کی جانب سےایک پراجیکٹ کی پیشکش ہوئی تو اس نے مزمل سے کچھ رقم نکلوانے کی نیت سے پراجیکٹ کرنے کی حامی بھر لی تھی۔

وکیل صفائی نے کہا یہ مزمل ہی تھا جس نے اس کے مؤکل کے کارگو کے کامیاب کاروبار کو تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔

وکیل صفائی نے کہا کہ ملزم گوہر خان ایک خاندان والا ہے اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے آئس لینڈ سٹورز اور اوبر ایٹس میں ڈلیوری ڈرائیور کے طور پر کام کر رہا تھا۔

وکیل صفائی نے کہا کہ استغاثہ کا یہ مؤقف ٹھیک نہیں کہ ملزم نے اس لیے کرائے کا قاتل بننے کی حامی بھری کیونکہ وہ انتہائی مقروض تھا۔

وکیل صفائی نے کہا کہ ملزم کی دیوالیہ کی درخواست کی منظوری کے بعد اس پر سے قرضوں کا بوجھ ختم ہو چکا تھا۔

وکیل صفائی نے کہا کہ اگر ملزم گوہر کا کسی کو قتل کرنے کا ارادہ ہوتا تو وہ روٹرڈیم میں اپنے نام پر کرائے کی کار حاصل نہ کرتا اور نہ اپنا ڈرائیونگ لائسنس ظاہر کرتا۔

وکیلِ صفائی کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس کے مؤکل کو کسی کارروائی کا خوف ہوتا تو جب وہ یورو ٹرین کے ذریعے ہالینڈ سے لندن واپس آ رہا تھا تو بات چیت کا تمام ریکارڈ، تصاویر اور ویڈیوز کو اپنے فون سے ڈیلیٹ کر سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

وکیل صفائی نے کہا اس کے مؤکل کے خلاف جو شہادتیں پیش کی گئی ہیں وہ اس کے فون سے حاصل کی گئی ہیں۔

ملزم کی جانب سے روٹرڈیم میں چھری خریدنے کے حوالے سے وکیل صفائی نے کہا کہ اس نے ڈبل روٹی کاٹنے کے ایک ’پیرنگ‘ چھری خریدی تھی اور اگر اُس نے اِس چھری کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہوتا تو وہ اس سے مضبوط چھری خرید سکتا تھا جو اسی سٹور میں دستیاب تھیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ ملزم گوہر خان نے اس چھری خریدنے کے لیے اپنا کریڈٹ کارڈ استعمال کیا۔



Source link