وہ حکمتِ عملی جو جزیرہ نما جنوبی انڈیا کے ساحل کی تشکیلِ نو کر سکتی ہے

45 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

واسودیوان کے ذہن میں سنہ 2010 کے جولائی کے گرم مہینے کا تاثر ہمیشہ کے لیے ایک گہری مگر تلخ یاد کے طور پر گھڑ چکا ہے۔ وہ جنوبی انڈیا کے شہر پوڈوچیری کے قریب اورووائیل ساحل پر مقیم ایک سابق ماہی گیر ہے۔

اُنھیں یاد ہے کہ جب خلیج بنگال سے بلند ہونے والی طوفانی سمندری لہروں نے صرف ان کے گھر ہی کو نہیں نگل لیا تھا بلکہ وہ زمین بھی جہاں وہ کھڑے تھے۔

کئی برسوں سے واسودیوان نے اپنے خاندان سے باہر ایک معمولی گیسٹ ہاؤس چلایا، جو کہ ڈیڑھ کلومیٹر (ایک میل) کے ساحل پر پھیلا ہوا تھا۔ یہاں وہ اپنے مہمانوں کو سمندر کی نغمگی لہروں کے پاس ٹھراتے جن کے صوتی اثر سے وہاں ٹھہرنے والا مہمان ایک پرمسرت نیند کے مزے لیتا۔

جب طوفان کے بعد سمندر کا پانی ساحل کو نگل گیا تو نقصان اٹھانے والوں میں وہ تنہا شخص نہیں تھے۔ کمیونیٹی رپورٹس کے مطابق، اس ساحلی پٹی کے ساتھ کم از کم 200 ایکڑ (80 ہیکٹر) اراضی مکمل طور پر بہہ گئی تھی، جس میں کم از کم سات ہزار خاندان بے گھر ہو گئے تھے۔

واسودیوان کا کہنا ہے کہ طوفان اتنا شدید نہیں تھا اور اس سے اتنا زیادہ نقصان نہیں ہونا چاہیے تھا۔

چنامودالیار چاوڈی کے وسودیوان کا ماہی گیری کا گاؤں تباہی کا نشانہ بنا تھا۔ واسودیوان کا کہنا ہے کہ سنہ 2004 کی سونامی میں یہ گاؤں پہلے ہی بری طرح متاثر ہوا تھا، لیکن کم از کم تب، جب پانی کم ہو گیا تو وہ اپنی زندگی کو دوبارہ تعمیر کرنے کے قابل ہو گئے تھے۔

’ہمارے پاس (سونامی کے اترنے کے بعد) بھی اپنی زمین تھی اور ہم اُسے پھر سے بحال کر سکتے تھے۔ لیکن اس بار سمندر نے سب کچھ اپنے قبضہ میں کر لیا تھا۔‘

بڑے پیمانے پر زمینی کٹاؤ کی ابتدا 20 سال سے زیادہ عرصہ سے ہو رہی ہے، جو کہ نئی بندرگاہ کی تکمیل سے شروع ہوتی ہے۔ پوڈوچیری کی مقامی حکومت نے قصبے کی معمولی سمندری بندرگاہ تیار کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اس منصوبے میں اس جگہ پر ایک نئی بندرگاہ تعمیر کرنا بھی شامل تھا جہاں دریائے اریانکپم مقامی پلوڈری قصبے کے جنوبی سرے میں خلیج بنگال میں بہتا ہے۔

لیکن اس قصبے کو پھر سے بحال کرنے سے نئی بندرگاہ کی تعمیر کرنے کے بھی بہت دوررس نتائج برآمد ہوئے جو پوڈوچیری کے ساحل کی شکل کو دوبارہ سے ایک نئی شکل دیں گے۔

ساحل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

جزیرہ نما انڈیا کا زیادہ تر ساحلی علاقہ زمین کے کٹاؤ کے خطرے سے دو چار ہے جو ساحلی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر سے مزید خطرے کا شکار ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے ریت کی قدرتی منتقلی متاثر ہوتی ہے

ریت کی قدرتی نقل و حرکت

پوڈوچیری جسے پہلے پونڈے چیری کے نام سے جانا جاتا تھا، ایک ساحلی شہر ہے اور ماضی میں ایک فرانسیسی کالونی تھا، جس میں اب قریباً دس لاکھ افراد آباد ہیں۔ اس کا سیٹیلائیٹ ٹاؤن، اورووائیل، کو مقامی لوگ ’شہرِ طلوعِ سحر‘ (سٹی آف ڈان) کہتے ہیں۔

ساحل کی پٹی کی یہ لکیر 40 کلومیٹر (25 میل) لمبی ہے، جو سات حصوں میں منقسم ہے، یہ ساحل انڈیا کے چند انتہائی خوبصورت ساحلوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن پچھلی دہائی میں، یہ ساحل غائب ہونا شروع ہو گئے۔

’چیلنجڈ کوسٹ آف انڈیا‘ (یعنی تباہی کے خطرے سے دوچار انڈیا کے ساحل) نامی رپورٹ کے ایک حصے کے طور پر، ایک ماحولیاتی ایڈووکیسی گروپ، پونڈی چیری سٹیزن ایکشن نیٹ ورک (پانڈی کین) نامی ایک ماحولیاتی گروپ نے تیار کی تھی۔

اس کو دستاویزی شکل میں سنہ 2012 میں شائع کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ نے ریاستی سرکاری ایجنسیوں میں کام کرنے کی تحریک پیدا کی۔

جنوبی انڈیا کی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چِنائے میں واقع انڈیا کی مرکزی حکومت کی ارتھ سائنسز کی وزارت کے ایک حصے، نیشنل سینٹر فار کوسٹل ریسرچ (این سی سی آر) کے ڈائریکٹر ایم وی رمنا مورتھی کا کہنا ہے کہ ’ہم سنہ 2013 سے اس علاقے کا مطالعہ کر رہے ہیں، یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ساحلی کٹاؤ اتنا شدید کیوں تھا۔ بہت سارے عوامل تھے جن کا مطالعہ ہماری تحقیق کے دوران کیا گیا۔ بہت سے میٹھے پانی کی ندیوں پر بند بنانے کی وجہ سے سمندر میں پہنچنے والے پانی کی مقدار کم ہوئی۔ موسمیاتی تبدیلی سمندر کی سطح میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ لیکن اس کی فوری وجہ ریت کی قدرتی نقل و حرکت کا رک جانا تھا۔‘

این سی سی آر کے سائنسدانوں نے جزیرہ نما انڈیا کے ساتھ ساحل کی چھ ہزار کلومیٹر (3،700 میل) کی پٹی کے جائزے کے لیے مصنوعی سیارے سے تصویریں حاصل کی گئیں، اور معلوم ہوا کہ سنہ 1990 سے سنہ 2016 کے درمیان، اس ساحل کا 34 فیصد سے 40 فیصد حصہ شدید کٹاؤ کا سامنا کر رہا تھا اور 28 فیصد حصہ زمین کے اکھڑنے کے عمل سے گزر رہا تھا (جہاں ریت کا ڈھیر لگا ہوا تھا)۔

ساحل کا صرف 34 فیصد علاقہ عارضی طور پر مستحکم تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کو انسانوں کے بنائے ہوئے انفراسٹرکچر سے اُسے مضبوط کیا گیا تھا۔

پوڈوچیری میں اور اس کے علاوہ جنوبی انڈیا کے ساحل کے ساتھ ساتھ، کٹاؤ کے خلاف ایک فوری درستگی کے اقدام کے طور پر طغیانی سے بچنے کے لیے پشتے لگائے گئے اور سمندری پانی کی دیواروں کی تشکیل کی گئی۔

تاہم مطالعے میں بتایا گیا کہ ان ایڈہاک تدابیر میں کسی طویل مدتی تحفظ کا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا گیا تھا۔ درحقیقت وہ اس مسئلے کو اور خراب کر رہے تھے۔

مورتھی کہتے ہیں کہ اگر اس سب کو ایسے ہونے دیا جاتا تو ہمارے مطالعے کے مطابق، مزید زمین کے کٹ جانے کا شدید خطرہ تھا، اور اس بات کا بھی امکان تھا کہ اس ساحل کی شکل ہی بدل جائے۔

ساحل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پونڈوچیری کے کے کئی ساحلوں کو سمندری پانی کے کٹاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے چٹانوں اور پتھروں پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے

اس نقصان کا سب سے زیادہ شدت سے احساس پوڈوچیری میں ہوا اور خاص طور پر شہر کے ایک ممتاز ساحل، پرومینیڈ پر دکھائی دیا۔ ایک بار جب سنہ 1980 کی دہائی میں قدرتی طور پر نقل و حرکت کرنے والی ریت سے بھرا ہوا ساحلِ سمندر، آج بڑے بڑے پتھروں، پتھریوں اور بجری کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

اس عرصے میں سیاح اس کو ‘راک بیچ’ (چٹانی ساحل) کے نام سے تعبیر کرنے لگے۔

ماحولیاتی کارکن اور پانڈی کین کی شریک بانی سُنینا مینڈین، جو 2007 میں اپنے ساحل کی تحقیقات اور بحالی میں شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ ’ساحلی ماحولیاتی نظام میں ریت کے ذرات آزاد روحوں کی طرح ہیں۔ یہ کبھی بھی ایک جگہ قائم نہیں رہتے ہیں۔ ہمیں شاذ و نادر ہی اس کا احساس ہوتا ہے، لیکن آج کل کسی بھی ساحل سمندر پر ہمارے پیروں کے نیچے ریت بالکل مختلف ہے۔‘

ریت کی نقل و حرکت ایک قدرتی عمل ہے، جیسے ہواؤں اور لہروں کا عمل ہے جو جنوبی انڈیا کے مون سون موسم سے چلتی ہے۔ پونڈی کین کے شریک بانی اوروفیلیو سچیاوینا کہتے ہیں کہ ’فروری سے اکتوبر تک، اندازاً تین لاکھ سے پانچ لاکھ مکعب میٹر ریت کے ذرات جنوب سے شمال کی طرف حرکت کرتے ہیں۔ نومبر سے جنوری تک اس میں سے کچھ، تقریباً ایک لاکھ مکعب میٹر، شمال سے جنوب کی طرف ایک بار واپس شفٹ ہو جاتے ہیں۔‘

تلچھٹ کی اس منتقلی کو ساحلی علاقوں میں حرکت کا نام دیا جاتا ہے۔

سچیاوینا کہتے ہیں کہ ’یہ توازن برقرار رکھنے اور ساحل کے استحکام کو یقینی بنانے کا قدرتی طریقہ ہے۔‘

لیکن سنہ 1989 میں بندرگاہ تعمیر ہونے کے بعد پانی کی لہروں کی شدت کو روکنے والے پشتے، جو طاقتور لہروں سے لنگر انداز کشتیوں کو بچاتے ہیں، اس بندرگاہ کے ایک حصے کے طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔ جس نے طویل ساحل کے بہاؤ میں مداخلت کی۔

سچیاوینا کا کہنا ہے کہ ’ریت بندرگاہ کے جنوب میں ڈھیر کی صورت میں اکٹھی ہونا شروع ہو گئی، اور وہ شمالی علاقے تک نہ پہنچ سکی، جس کی وجہ سے اس میں شدت سے کمی آنا شروع ہو گئی۔ یہ انسانوں کے تعمیر کردہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے ہونے والا کٹاؤ جون سے ستمبر میں ہوتا ہے، جب ساحل کے قدرتی کٹاؤ کا عمل تیز تر ہوتا ہے۔ یہ طوفان کے دوران بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن کٹاؤ اور مکانات کا نقصان ہمیشہ طوفانوں کی وجہ سے نہیں ہوتا ہے اور یہ انسانوں کے بنائے ہوئے انفراسٹرکچر کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے بڑھتا جا رہا ہے۔‘

جب پوڈوچیری کی نئی بندرگاہ بنائی گئی تھی تو اس مسئلے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ بندرگاہ کے نئے ڈیزائن میں ریت کا ایک نفیس نظام تیار کیا گیا تھا جو جمع شدہ ریت کو کھود سکتا ہے اور اس توازن کو بحال کرتے ہوئے مصنوعی طور پر دوسری طرف پمپ کرسکتا ہے۔

سچیاوینا کا کہنا ہے کہ تاہم اخراجات کی وجہ سے اس کا استعمال سنہ دو ہزار سے لے کر سنہ دو ہزار چار کے ایک مختصر عرصے کے بعد بمشکل ہوا تھا۔ (بندرگاہ کے حکام نے پوچھے جانے کے باوجود ہماری درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔)

ساحل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انڈیا کے ساحلی علاقوں پر ایک غیر متوازن اکھاڑ پچھاڑ اور کٹاؤ کی وجہ سے کئی ساحلی علاقے خطرے سے دوچار ہیں

یہ ایک آہستہ مگر مسلسل ہونے والا نقصان تھا۔

سنینا مینڈین کا کہنا ہے کہ اس زمین سے ظاہری طور پر پیچھے ہٹنے کا عمل کے آعاز سے بہت پہلے ساحلِ سمندر کے زیرِ زمین بنیادوں کا خاتمہ شروع ہوتا ہے۔ اس کی تعمیر کے چار برسوں میں پانی پر تعمیر ہونے والے پشتے کے شمال کا علاقہ اپنے ریتلے ساحل سے محروم ہو گیا تھا۔

سچیاوینا کا کہنا ہے کہ ’کٹاؤ کے اس عمل کے دوران لوگوں کو اپنے گھروں کو کھونے کا خطرہ لاحق رہتا ہے، پودے تباہ ہو جاتے ہیں، میٹھے پانی کے ذخیرے نمکین ہو جاتے ہیں۔ خالص کٹاؤ یا خسارہ اتنا زیادہ نہیں لگتا ہے اور نہ آخر میں اس سے کوئی فرق پڑتا ہے، لیکن انسانی نقصان ہوتا ہے۔‘

اس کٹاؤ کے جواب میں حکومت نے گورائن – جیٹی نما ڈھانچے تعمیر کیے، جو ساحل کی طرف کھڑی حالت میں سمندر میں داخل ہوتے ہیں۔ کٹاؤ کو روکنے کے لیے ایک گورائن کا مقصد زیادہ سے زیادہ ریت کو پکڑنا ہے۔ چنانچہ جب اس ساخت کے ایک طرف ریت کے انبار لگ جاتے ہیں تو ان گورائن کے دوسری جانب جب تک کہ یہ ریت بھر نہیں جاتی ہے سمندر کے لیے کٹاؤ کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔

سنہ 2003 میں حکومت نے شہر کی حفاظت کے ارادے سے بندرگاہ سے شروع ہونے والے پوڈوچیری کے ساحل پر پتھروں سے تعمیر شدہ 7 کلومیٹر (4.3 میل) سمندری دیوار تعمیر کی۔ اس کی لاگت چالیس کروڑ روپے (پچپن لاکھ ڈالر) ہے۔ جو افراد یہ قیمت ادا کر سکتے تھے انھوں نے بھی اس انفراسٹرکچر کی تعمیر شروع کر دی۔

سنہ 2007 میں سابق ماہی گیر، واسودیوان نے اپنی جائیداد کے سامنے ایک کنکریٹ سیول تعمیر کی۔ تین سال بعد بھی سمندر اس کی زمین کو نگل گیا۔

سچیاوینا کا کہنا ہے کہ ’گورائنز تنہا نہیں بنتے ہیں، وہ عام طور پر اس کا ایک حصہ ہوتے ہیں جسے ہم گورائن فیلڈ کہتے ہیں۔ سمندری دیواریں ساحل کی لکیر کو احاطہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، جہاں سمندری دیواریں ایک مصنوعی چٹان کا کام کرتی ہے۔ یہ دونوں صرف رکاوٹیں ہیں اور کٹاؤ کو بڑھا سکتی ہیں، خاص طور پر پوڈوچیری اور ہمسایہ ریاست تامل ناڈو اور اور ووائیل جیسے ساحل پر۔‘

ساحل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ساحل پر ریت کے ذرات شاید ہی کبھی ساکت رہتے ہیں، بلکہ یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ اور اس عمل کو ساحلوں پر تبدیلی کہا جاتا ہے

سنہ 2015 کی دستاویزی فلم انڈیا کے غائب ہونے والے ساحلوں میں جائزہ لیا گیا کہ جزیرہ نما انڈیا میں بیشتر ساحل ریت سے بنے ہیں جو دریاؤں کے ذریعہ سمندر میں منتقل ہوتے ہیں اور مجموعی طور پر ہر سال ایک ارب ٹن سے زیادہ تلچھٹ کو ہندوستان کے ساحل کے ساتھ ساتھ سمندر میں خارج کرتے ہیں۔

چونکہ ساحل سمندر کی ریت کبھی بھی مستحکم نہیں ہوتی ہے جیسے ہیوینگ ندی کی ہے، اس مسئلے سے نمٹنے میں اس مطالعے میں شامل تھا کہ بندرگاہ کو برقرار رکھنے کے ساتھ ہی ریت کے منتقل ہونے کے قدرتی عمل کو کس طرح جاری رکھا جائے۔

ساحلی چٹانوں کی حفاظت

جب پوڈوچیری میں گورائنز اور سیولز (زیرِ زمین سمندری نالے) کا کام موثر ثابت نہ ہو سکا تو ایک سمندری ماہر اور وائیکو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر، کیری بلیک، سے مشورہ کیا گیا۔

انھوں نے ماحولیات کے ماہرین، سول سوسائٹیوں اور سرکاری ایجنسیوں سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ ’ہمیں ایک ایسے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے جو ساحل پر بفر کے طور پر کام کرسکے، لہروں کی طاقت کو کم کر سکے اور ساتھ ساتھ ریت کی قدرتی نقل و حرکت بھی جاری رہ سکے۔‘

جس حل پر غور کیا گیا وہ یہ تھا کہ ‘جیوٹیکسٹائل بیگ’ کا استعمال کریں جن میں زیادہ کھینچنے کی طاقت ہوتی ہے اور وہ ریت سے بھرے ہوئے تھے۔ لہروں کے اثر کو کم کرنے کے لیے ان کو اکثر ساحلی پٹیوں پر کھڑا کیا جاتا ہے، لیکن یہ مہنگے ہوتے ہیں اور عام طور پر زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتے ہیں۔

کیرالا سے تعلق رکھنے والے جوزف میتھیوز جنھوں نے بلیک کے ساتھ مل کر کام کیا، کہتے ہیں کہ ’ہم نے انڈیا کے مشرقی اور مغربی ساحل کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا، جس میں مون سون کرنٹس بھی شامل ہیں، یہ مختلف اوقات کے دوران ساحلی پٹی پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔‘

ان کے مشاہدات سے آب و ہوا میں تبدیلی کے لئے ساحلی تحفظ کے لیے رہنما اصول تیار کرنے میں مدد ملی۔

آخر کار انھوں نے ایک حل تلاش کیا جو فلوریڈا، تھائی لینڈ اور کیریبین سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں کام آیا تھا: مصنوعی چٹانیں۔

میتھیوز کا کہنا ہے کہ ’لہریں اس کے سب سے اوپر ٹوٹتی ہیں، شدید موسمی واقعات کے دوران ساحلی پٹی کو محفوظ بناتی ہیں ہیں اور تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ہمارا بنیادی مقصد ساحل کی سالمیت کا تحفظ تھا۔‘

ساحل

،تصویر کا ذریعہNCCR/NIOT

،تصویر کا کیپشن

مصنوعی چٹانیں جن کی شکل پیزا کی ایک تکونی ٹکڑے جیسی ہوتی ہے،اسے سمندر میں لگانے سے قبل ساحل پر تعمیر کیا گیا تھا

اوپر سے ریت کی نقل و حرکت کو قدرتی انداز سے برقرار رکھنے اور لہروں پر تیرنے والوں کے لیے جگہ مہیا کرنے کے لیے، پوڈوچیری میں ایک چٹان کو پیزا کے ایک ٹکڑے کی طرح سہ رخی پچر کی طرح تعمیر کیا گیا تھا۔ جس کا ایک حصہ پانی سے باہر پھسل رہا تھا۔

بلیک کہتے ہیں کہ ’آیا اسے چٹان سے بنایا جائے یا سٹیل سے بنا دیا جائے، اس پر بحث کی گئی تھی، اور سٹیل کا انتخاب نہ صرف لمبی عمر کے لیے کیا گیا تھا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ اسے سمندر کنارے تیار کیا جا سکتا تھا اور پھر اسے پانی میں سِرکایا جا سکتا تھا۔‘

یہ ایک اہم غور طلب بات تھی جب بارشوں کا پانی اور نقل و حمل میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، ساحل پر سمندری راستہ تعمیر کرنا معنی خیز تھا، اور اس کی تعمیر کی قیمت بھی مناسب رہی۔

جب اس کی تعمیر میں پانچ ماہ لگے اس کی لاگت بائیس کروڑ روپے (تیس لاکھ ڈالر) بنی، اور اس کا وزن 900 ٹن تھا، اس کی پانی میں تنصیب میں 2.5 میٹر (8 فٹ) کی گہرائی تک صرف چار گھنٹے لگے۔

میتھیوز کا کہنا ہے کہ ’چٹان کوئی ٹھوس یا چھڑیوں کا استعمال نہیں کرتی ہے۔ یہ کاربن اسٹیل سے بنا ہے اور پتھر کے اڈے پر چڑھایا گیا ہے، اس کے نچلے حصے پر جلد ہی کائی آ گئی اور سمندری حیاتیات نے آپنی نوآبادیاتی بنا لیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ ری سائیکل شدہ ڈھانچہ جلد ہی قدرتی چٹان کی طرح اس جگہ کا مستقل مسکن بن جاتے ہیں، اس کے علاوہ یہ نمکین پانی کی ماہی گیری کا بھی موقع مہیا کرتے ہیں۔ اس کی نگرانی کرنا بھی آسان ہے۔ کسی بھی سنکنرن (کوروژن) کی صورت میں، اسے ہٹانا اور اس کی مرمت کرنا آسان ہے۔‘

ماہی گیروں کے چند دیہاتوں کے ساحل نے، خاص طور پر ان چٹانوں کے شمال میں، پہلے ہی سے اپنی ریت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ خصوصی ضروریات اور ذہنی نشو نما کی مشکلات سے دوچار بچوں کے لیے ایک مقامی سکول، ستیہ سپیشل سکول، کی ڈائریکٹر، چترا شاہ کا کہنا ہے کہ پوڈوچیری کے رہائشی اس ترقی سے خوش ہیں، حالانکہ یہ ایک بہت ہی سست عمل رہا ہے۔

وہ ساحل سمندر کی قدرتی بحالی کو مقامی کمیونیٹیز کے لیے ایک بہتر پیش رفت قرار دیتی ہیں۔

’اس حقیقت کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہ ہمارے ساحل کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے، یہ ان بچوں کے لیے سیکھنے، بات چیت اور کھیلنے کی خصوصی ضرورتوں کے لیے بھی ایک اہم جگہ ہے۔ ہندوستان میں ایسی عوامی جگہیں بہت کم ہیں جو ایسے بچوں کی رسائی میں ہیں۔’

تاہم شچیاوینا کا کہنا ہے کہ ڈوبی ہوئی چٹانیں خود سے اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہیں۔ ‘جب آپ کے پاس کافی کھانا نہیں ہوتا ہے تو آپ کھانا کھاتے وقت زیادہ کھاتے ہیں۔ اسی طرح ساحل سمندر ریت کے لیے کافی عرصے سے بھوکے ہیں۔ ہمیں اس کی پرورش کے لیے مزید تلچھٹ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ نئی ریت کو ہمیشہ کے لیے ضائع ہونے سے بچاتا ہے۔‘

اب تک ساحل سمندر پر ایک لاکھ مکعب میٹر ریت شامل کی جا چکی ہے، امید ہے کہ یہ چٹان اسے وہاں رکھنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ اور جب تک مزید ریت مہیا نہیں ہوتی ہے، چٹان کے مکمل فوائد محسوس نہیں کیے جائیں گے۔

یہ مصنوعی چٹان کا ڈھانچہ ساحل سے باہر نکالا گیا تھا۔ تب سے اس نے سمندر میں ساحل کے کٹاؤ کے عمل کو سُست کیا ہے

،تصویر کا ذریعہNCCR/NIOT

یہ حل اب ساحل کے دوسرے علاقوں میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔ پوڈوچیری انڈیا کا واحد علاقہ نہیں ہے جو اس مسئلے سے دوچار رہا ہے، انڈیا کی چار ساحلی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر کٹاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے: شمال مشرق میں مغربی بنگال، جنوب میں پوڈوچیری، کیرل اور تمل ناڈو۔ آج ساحلی کرناٹک کے چار علاقوں میں بھی مصنوعی سٹیل ریفس (لوہے کی مصنوعی چٹانیں) لگائے گئے ہیں۔

مورتھی کہتے ہیں کہ ’ہم ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر ان ساحلوں کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

بحری تحفظ کے شعبے میں کام کرنے والی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے ایک محقق، تنوی ویدیاناتھن کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ کامیاب ہیں، کٹاؤ کے لیے تکنیکی فکسس کام نہیں کرتے ہیں اور پہلے ہی کٹاؤ کا سبب بننے والے دباؤ یا سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ساحلی کٹاؤ کو روکنے کے لیے مصنوعی چٹانوں کی کامیابی کا تعین ایک معاملے سے دوسرے معاملے کی بنیاد پر مختلف ہوتا ہے اور اس میں ‘جیومورفولوجی’ (زمین کا مطالعہ) اور استعمال ہونے والے میٹیریل کی اقسام، تعمیر کی لاگت، چٹانوں کے رقبے کے ساتھ ساتھ مقامی حالات کی مکمل معلومات درکار ہوتی ہے۔‘

واسودیوان اور بہت سے دوسرے لوگوں کے لئے نئی مصنوعی چٹانوں کی تعمیر ان کے گھروں کو بچانے تھوڑی دیر بسے آئیں۔ وہ پوچھتا ہے کہ ’میں اپنے نقصان کی تلافی کے معاوضے کے لیے کس سے رجوع کروں؟ ماہی گیر سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا ہے کہ سمندر ایک دولت ہے۔‘

لیکن اگر مصنوعی چٹانوں کی حکمت عملی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو، یہ کم از کم دوسروں کو سمندر کی لاتعداد لہروں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔



Source link

Leave a Reply