وہ طیارہ جو کبھی بھی زمین پر اڑایا نہیں جائے گا!

  • مارک پیسنگ
  • بی بی سی فیوچر

41 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہNasa/JPL

گذشتہ برس 19 اپریل کو انجینیوٹی نامی ایک چھوٹے سے تجرباتی ہیلی کاپٹر نے مریخ کی سطح سے اڑان بھر کر خود کو تاریخ کی کتابوں میں محفوظ کر لیا تھا۔

اس خودکار مشین نے مریخ کی کثیف فضا میں اڑنے کے لیے اپنے روٹرز کو انتہائی تیزی سے گھما کر ایک منزلہ عمارت کے برابر اونچائی تک پرواز کی۔

انجینوٹی تھوڑی دیر تک فضا میں رہنے کے بعد بحفاظت مریخ کی سطح پر واپس اتر گیا۔ یہ زمین کے بعد کسی دوسرے سیارے پر انسان کے کنٹرول میں چلنے والی پہلی اڑان تھی۔

انجینوٹی نے مریخ کی جس سطح پر لینڈ کیا اسے ہوا بازی کے پیشرو، رائٹ برادرز کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

ڈریگن فلائی نامی روٹر کرافٹ سنہ 2030 کی دہائی میں اگلا مرحلہ طے کرے گا جب وہ زحل کے سب سے بڑے چاند، ٹائٹن پر سب سے پہلا انسانی مشن شروع کرے گا۔

ڈریگن فلائی ایک گھنٹے میں مریخ پر اڑنے والے روور سے زیادہ اڑان کا ریکارڈ کرے گا۔ متعدد روٹرز والی ڈرون نما اڑن طشتری ٹائٹن کی سطح پر ایک ٹائٹن روز (زمین کے سولہ دنوں کے برابر) لینڈ کر کے وہاں تجربات کر کے اپنی اگلی منزل پر روانہ ہو جائے گی۔

ابھی تک کوئی لینڈر زہرہ کی ہموار مگر ٹوٹی ہوئی سطح پر 127 منٹ سے زیادہ ٹھہر نہیں سکا ہے۔ البتہ سائنسدان زہرہ پر دو جہاز بھیجنے کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔

Ingenuity

،تصویر کا ذریعہDevromb/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

انجینیوئٹی (دائیں) جیسا چھوٹا ہیلی کاپٹر دیگر سیاروں کے ماحول کا جائزہ لینے کا زیادہ آسان طریقہ ہے

ایک فضا میں گلائیڈ کرنے والا جہاز جو شمسی توانائی سے چلتا ہو اور جو ہمیشہ سیارے کے بالائی ماحول میں پرواز کرے جو قدرے سازگار ہے، اور دوسرا پروں والا ایسا جہاز جو زہرہ کے سخت اور ناموافق ماحول میں پرواز کر سکے۔

پلینٹری سائنس انسٹیٹیوٹ کیلیفورنیا سے تعلق والے سینئر سائنسدان ڈاکٹر ایلڈر نوے ڈوبریا جو زہرہ کے مشن کے عمومی تصور کی تیاری کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی جو زہرہ پر لینڈ کر سکے اسے تیار کرنا بہت مشکل ہے۔

روبوٹ ٹیکنالوجسٹ ٹیڈی زینیٹوس اس ایریئل موبلٹی گروپ کا حصہ تھے جس نے مریخ پر اڑان بھرنے والی انجینوٹی کو تیار کیا، وہ اب مریخ پر اگلی جنریشن کے ہیلی کاپٹر کے ڈیزائن پر کام کر رہے ہیں۔

ٹیڈی زینیٹوس کا کہنا ہے: ’ہمیں معلوم ہے کہ زمین پر رائٹس برادر کی پہلی اڑان نے انسانیت کے لیے کیا کیا ہے اور ہم اسی ماڈل کو دوسرے سیاروں کے لیے بھی استعمال کریں گے۔‘

جانز ہاپکنز اپلائیڈ فزکس لیبارٹری کی پرنسپل انویسٹی گیٹر الزبتھ ’زبی‘ ٹرٹل کا کہنا ہے کہ ’میں نے کبھی موازنے کا نہیں سوچا تھا لیکن ڈریگن فلائی انجینوٹی کی پہلی فلائٹ کا اگلا مرحلہ ہے۔‘

یہ پہلی ایسی ہوائی گاڑی ہو گی جو تمام سائنسی سامان کو جگہ جگہ لے کر جائے گی۔‘

قطبی ہوابازی متعارف کروانے والوں کی طرح ناسا کے انجینیئرز کو بھی یہ بات سمجھ آ گئی کہ خلا میں اڑنے والی مشینیں کائنات کے ان دیکھے حصوں کی تلاش میں اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ مریخ پر اترنے والی مشہور مشینیں جیسے وائکنگ اور کیوریوسٹی اور اس کے مدار میں موجود ٹائٹن کی کاسینی اس تلاش میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی جہاں ماحول سازگار ہے لیکن اس حوالے سے دیگر آپشن بھی ہیں۔

روبوٹ اور کنٹرول کیے جانے والے ہیلی کاپٹرز، ڈرونز اور دیگر ایسے طیارے جن میں ہوا بھری جا سکے (یہ تمام ناسا کے سائنسدانوں کی تجاویز ہیں) اور وہ تیزی سے سیارے کے زیادہ تر حصے کے بارے میں اعداد و شمار اکھٹے کر سکیں، خطرناک سطحوں سے خود کو بچا سکیں، مدار یا روور سے جو فوٹیج حاصل نہیں کی جا سکتی وہ حاصل کر سکیں اور مشن کے اہداف کو زاویوں سے پرکھنے کی قابلیت رکھے۔ اڑنے والی ایسی گاڑیاں وہاں بھی جا سکتی ہیں جہاں روورز نہیں جا سکتے، یعنی پہاڑ، چوٹیاں اور یہاں تک کہ زہرہ کی مشکل سطح پر بھی۔

ناسا کے انجینیئرز کے لیے مشکل یہ ہے کہ ہر سیارے پر مختلف ماحول دیکھنے کو ملتا ہے اور اس سے طیارے کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس کے پے لوڈ اور صلاحیتوں پر۔ انجینیئروں کے پاس موجود ٹیکنالوجی سے متعلق لاحق خدشات بھی اپنی جگہ ہیں۔

سیٹرن V راکٹ ڈیزائنر ورنر وون براؤن نے ہائپرسونک گلائیڈر میں مریخ پر اترنے کا تصور کیا۔ سائنس فکشن کے مصنف فلپ کے ڈک نے ہیلی کاپٹروں میں مریخ پر انسانی نوآبادیات کا تصور کیا۔ ناسا کے انجینئرز نے 1970 کی دہائی میں وائکنگ لینڈرز کے بعد مریخ کے ہوائی جہاز کے تصورات کو دیکھنا شروع کیا، جس کی کچھ چیزیں امریکی فوج کے زیر استعمال آج کے پریڈیٹر ڈرون میں نظر آتی ہیں۔

مریخ پر، ماحول زمین کے مقابلے میں ایک فیصد سے کم کثیف ہے، جس کی وجہ سے ہوائی جہاز کے لیے لفٹ پیدا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریخ کا ہیلی کاپٹر بہت ہلکا ہونا چاہیئے، لیکن پھر بھی وہ اپنی لیتھیم۔آئن بیٹریاں، سینسرز اور کیمروں کو اٹھانے کے قابل ہوں، اور اس کے ساتھ ساتھ مریخ کی سرد راتوں میں ہیٹنگ اور انسولیشن بھی ہو تاکہ اسے زندہ رکھا جا سکے۔ زینیٹوس کہتے ہیں ’اگر آپ ان تمام چیلنجز کو حل کر سکتے ہیں اور ایک ایسا طیارہ بنا سکتے ہیں جس کا وزن 1.8 کلوگرام سے کم ہو تو آپ کے پاس خود کی انجینویٹی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے چیف انجینیئر اور ٹیم کے اراکین نے پہلے 1990 کی دہائی میں مریخ کے ہیلی کاپٹر کے متعلق سوچنا شروع کر دیا تھا، لیکن اس وقت ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ سنہ 2010 کی دہائی میں فاسٹ فارورڈ کریں تو ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنے والے کے لیے موجود تھی۔‘

Dragonfly

،تصویر کا ذریعہ Nasa/Johns Hopkins APL

،تصویر کا کیپشن

ڈریگن فلائی جیسے روٹر کرافٹ کو ایک چھوٹا جوہری ری ایکٹر توانائی فراہم کر سکتا ہے

ٹیم نے فکسڈ ونگ والے ہوائی جہاز کے متعلق بھی سوچا، لیکن مریخ پر روٹر کرافٹ زیادہ بہتر نظر آتا تھا کیونکہ اس نے کسی ایئر فیلڈ کے بغیر کام کرنا ہے۔

ناسا کے پاس نو مختلف ٹیکنالوجی ریڈی نیس لیولز (ٹی آر ایل) ہیں جو ٹی آر ایل 1، جہاں ’بنیادی اصولوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور رپورٹ کی جاتی ہے، سے لے کر‘ ٹی آر ایل 9 تک ہیں جس کا مطلب ہے مشن آپریشنز کے ذریعے ’فلائٹ ثابت‘ ہو چکی ہے۔

1990 کی دہائی میں انجینویٹی کو طاقت دینے کے لیے جس قسم کی بیٹریوں کی ضرورت تھی وہ حال ہی میں تیار کی گئی ہیں اور بہت کم لوگوں کو کاربن فائبر جیسے مواد کی صلاحیت کا اندازہ تھا۔ اسی طرح، مشین کو اڑانے کے لیے سینسرز اتنے اچھے نہیں تھے۔ اور نہ ہی ان کو بنانے اور اڑانے کا انسانی ہنر تھا۔

20 سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد اب یہ مختلف معاملہ ہے۔ آج کل زمین پر ڈرونز پارسل اور ویکسین فراہم کرتے ہیں اور فصلوں اور آثار قدیمہ کے مقامات کے سروے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ زینیٹوس کہتے ہیں کہ ’یہ واقعی ان تمام ٹیکنالوجیز کا صحیح وقت پر سنگم تھا جس نے انجینیوٹی کو قابل بنایا۔‘

انجینیوٹی نے اپنی آزمائشی پروازیں مکمل کیں اور اب بھی اڑ رہی ہے۔ زینیٹوس کہتے ہیں کہ ’اصل مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ہم مریخ پر اڑ سکتے ہیں، اور ہم نے 30 سے ​​زیادہ پروازوں میں یہ کیا ہے۔ مستقبل پر ہم جو سب سے بڑا اثر ڈال سکتے ہیں وہ ہے انجینیوٹی کی پروازیں جاری رکھیں۔

’ہم جو بھی پرواز کامیابی کے ساتھ مکمل کرتے ہیں وہ ہمیں انجینئرنگ ڈیٹا کا ایک خزانہ فراہم کرتی ہے، جو آنے والی نسلوں کے استعمال کے لیے بہت اہم ہوگا۔‘

Dragonfly

،تصویر کا ذریعہNasa/Johns Hopkins APL

،تصویر کا کیپشن

ڈریگن فلائی ٹائٹن کے اپنے نقشے بنانے کے قابل ہو گی

زینیٹوس کہتے ہیں کہ ٹیم ایسے ڈیزائنز پر بھی کام کر رہی ہے جو زیادہ لمبے فاصلوں کے لیے زیادہ وزن اٹھا سکتے ہیں۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ جب ناسا سوال پوچھے تو ہمارے پاس جواب ہوں۔‘

ٹائٹن مریخ سے بالکل مختلف ہے۔ زحل کے سیارے کے سائز کے چاند کی اوپری سطح برف سے ڈھکی ہوئی ہے، جس کے نیچے ایک سمندر ہے جو پورے سیارے پر محیط ہے۔ یہ بہت زیادہ سرد ہے اور وہاں میتھین کی بارش ہوتی ہے۔ یہ تجویز کیا گیا ہے کہ کشتیوں کے ذریعے چاند کی سطح پر تحقیق کی جا سکتی ہے، آبدوزوں کے ذریعے سمندر کے نیچے کی سطح کی، اور ہوائی جہازوں کے ذریعے فضا کی۔

ڈریگن فلائی مشن کی نائب پرنسپل انویسٹیگیٹر میلیسا جی ٹرینر کہتی ہیں کہ ’ٹائٹن کا ماحول ہوا سے زیادہ بھاری جہاز کے ساتھ تحقیق کرنے کے لیے واقعی موزوں ہے۔‘ اس کی کشش ثقل کم ہے اور اس کی فضا بھاری ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر کا سائز بڑا ہو سکتا ہے، وہ زیادہ بھاری بوجھ اٹھا سکتے ہیں، اور مریخ جیسے سیارے کی نسبت وہ یہاں زیادہ صلاحیتوں کے حامل ہیں۔

ٹائٹن کے ماحول کا مطلب یہ ہے کہ ڈریگن فلائی جیسا روٹر کرافٹ ناسا کی طاقتور جوہری بیٹری کو اٹھا کے لے جا سکتا ہے، جو مشن کے سائنسی اہداف اور تجربات اور کمپیوٹنگ ہارڈویئر کے لیے ضروری ہے۔

موجودہ نقشوں میں زیادہ تفصیل نہیں ہے، لیکن روٹر کرافٹ ممکنہ لینڈنگ سائٹ پر پرواز کرے گا اور اگر لینڈنگ محفوظ نہ ہوئی تو وہاں نہیں اترے گا۔ ٹرینر کہتی ہیں کہ ’ڈریگن فلائی ٹائٹن پر اڑتے ہوئے اپنے نقشے بنائے گی۔ یہ لیپ فراگ حکمت عملی سب سے کم خطرناک آپشن ہے۔‘

تاہم مریخ کو ٹائٹن پر ایک حوالے سے برتری حاصل ہے۔ ٹرٹل کہتے ہیں کہ ’مریخ کے گرد مداروں کا پورا مجموعہ جو وہاں کئی دہائیوں سے موجود ہے، انجینویٹی کے لیے سکاؤٹنگ اور ڈاک کی چوکی کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ ڈریگن فلائی کو خود ہی براہ راست زمینی مواصلات اور مقامی سکاؤٹنگ کرنا ہے۔‘

مریخ سے زمین تک ڈیٹا پہنچنے، تجزیہ کرنے، اور انجینیوٹی کو اسے واپس بھیجنے کا کہنے کے لیے ایک دن سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ ٹائٹن پر، اس سے بہت زیادہ وقت لگے گا۔

robust tank-like rovers

،تصویر کا ذریعہNasa/Johns Hopkins APL

،تصویر کا کیپشن

ٹینک جیسے سادہ اور لچکدار روورز نظامِ شمسی میں سخت ترین ماحول والے سیاروں اور سیارچوں کے مطالعے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

اگلی فضائی مہم شاید زمین کے قریبی سیارے زہرہ (وینس) تک ہو۔ اس سیارے کا کرّہ ہوائی زمین کے کرّہ ہوائی سے 90 گنا زیادہ کثیف ہے۔ اس کا درجہ حرارت 475 ڈگری سینٹی گریڈ (900 ڈگری فارن ہائیٹ) اور یہاں پر دباؤ 93 بار (1350 پی ایس آئی) ہے جو کہ سمندر کے نیچے ایک میل کی گہرائی کے برابر ہے۔

ڈوبریا کہتے ہیں کہ ’وینس کی آب و ہوا خوفناک ہے مگر زبردست بھی ہے۔ یہاں بادلوں کی 20 کلومیٹر چوڑی تہہ ہے جو سطح سے 50 کلومیٹر اوپر شروع ہوتی ہے اور 70 کلومیٹر کی بلندی تک جاتی ہے۔ یہ زمین کے کرّہ ہوائی سے زیادہ کثیف ہے اور یہاں سے پرواز کر کے گزرنا آسان ہے۔ اس بلندی پر شمسی توانائی سے چلنے والا کوئی طیارہ تقریباً لامحدود وقت کے لیے اڑانا ممکن ہونا چاہیے اور موجودہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسا ممکن ہے۔‘

مگر ایک اور آپشن بھی ہے، یعنی غبارے۔

اُن کا دوسرا تصوراتی طیارہ سطح کے قریب پرواز کرے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت بڑا چیلنج ہے‘ کیونکہ یہاں بے حد گرمی ہو گی، شمسی توانائی کے لیے ناکافی روشنی ہو گی، جبکہ زبردست ماحولیاتی دباؤ ہو گا۔

یہ طیارہ سٹرلنگ انجن کے جیسا انجن استعمال کرتے ہوئے سطح کے قریب موجود شدید گرمی کو توانائی میں تبدیل کرے گا جس کے ذریعے یہ طیارہ بلندی پر نسبتاً ٹھنڈے ماحول میں پرواز کر سکے گا۔

مگر غبارے بھی شاید اس کام میں مدد دے سکیں۔ کسی دوسرے سیارے پر انسانوں کی پہلی پرواز ایک غبارے کے ذریعے ہی کی گئی تھی۔ جون 1985 میں سوویت یونین اور یورپ کے مشترکہ مشن ویگا نے وینس کی فضا میں دو گول غباروں کو چھوڑا جن کے آلات ان غباروں کے نیچے لگی ایک کشتی میں تھے۔

غباروں کی ٹریکنگ کرنے والے امریکی پراجیکٹ کے سربراہ رابرٹ پریسٹن کہتے ہیں کہ ’ہم جانتے تھے کہ دونوں غبارے چھوڑ دیے گئے ہیں مگر ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ اب بھی کام کر رہے ہیں یا نہیں۔ ہمیں اپنی اوسیلوسکوپ پر صرف شور سنائی دے رہا تھا، اور کچھ نہیں۔ مگر پھر ایک باریک سا سگنل موصول ہوا۔

’مجھے یاد ہے کہ میں کنٹرول روم سے نکلا اور باہر صبح کے آسمان پر وینس کو چمکتے ہوئے دیکھا اور سوچا: ’میں وہاں ہوں۔‘

ویگا غبارے 54 کلومیٹر کی بلندی پر اڑتے رہے اور 46 گھنٹوں تک کرّہ ہوائی کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔

خلائی مؤرخ اور کتاب ایمبیسیڈرز فرام ارتھ کے مصنف جے گیلنٹائن کہتے ہیں کہ ’جب ویگا غباروں کی کامیابی کو مدِ نظر رکھا جائے تو درست جواب یہ ہے کہ وہ ’بے انتہا‘ کامیاب تھے۔‘

زانیٹوس کہتے ہیں کہ ’میں جانتا ہوں کہ مستقبل میں ہم دوبارہ مریخ پر طیارہ بھیجیں گے اور انجینیوئٹی کے ساتھ ہم اپنے پاس ایک نئی صلاحیت کا اضافہ کر رہے ہیں۔ ہم نے جو کچھ سیکھا ہے وہ آنے والی نسلوں کو نہ صرف مریخ بلکہ نظامِ شمسی میں دیگر سیاروں کو سمجھنے میں بھی مدد دے گی۔‘

مگر ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کے ٹیکنالوجی انفیوژن گروپ کے سائنسدان جوناتھ ساؤڈر کہتے ہیں کہ یہ بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔

’اگر آپ ہمارے نظامِ شمسی سے باہر سیاروں کو دیکھنا شروع کریں تو یہ بہت حیران کن ہو جاتا ہے۔ کچھ سیارے ہیں جو برف سے بنے ہیں یا کچھ کے کرہ ہوائی میں دھاتیں ہیں۔ کچھ ایسے سیارے ہیں جہاں ہماری بھیجی گئی کوئی چیز تباہی سے محفوظ نہیں رہے گی مگر کچھ سیارے زمین جیسے بھی ہیں۔‘

Harv rover

،تصویر کا ذریعہNasa/Johns Hopkins APL

،تصویر کا کیپشن

ہار وی روور میں سادہ مگر مضبوط الیکٹرانکس استعمال کی جائیں گی جو زہرہ سیارے کے انتہائی بلند درجہ حرارت اور دباؤ کو سہہ سکیں

مگر ماحول چاہے جیسا بھی ہو، فزکس تو ہر جگہ ایک ہی جیسی ہے۔ زانیٹوس کہتے ہیں کہ ’ہم نے نظامِ شمسی میں دیگر سیاروں پر طیارے اڑا کر جو سبق سیکھیں ہیں وہ مستقبل میں انسانیت کی ہوابازی کی بنیادیں ہیں۔‘

ساؤڈر ایک ایسا لینڈر بنا رہے ہیں جو وینس پر بھی باقی رہ سکتا ہے۔ اُنھوں نے آٹومیٹن روور فار ایکسٹریم انوائرمنٹس نامی جو مکینزم تیار کیا ہے وہ شاید ایک دن عطارد (مرکری)، ہمارے نظامِ شمسی کے گیس سے بنے سیاروں اور زمین کی گہرائیوں کا جائزہ لینے والے روبوٹس میں پایا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب وینس کے لیے لینڈر بنانے کی بات آتی ہے تو بے انتہا سخت ماحول کا مطلب ہے کہ خلائی جہاز پر نصب کیے گئے زیادہ تر روایتی آلات کام نہیں کریں گے۔‘

ماحول کا دباؤ آب و ہوا میں موجود تیزاب کو خلائی جہاز کے آلات میں داخل کر دیتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اُنھیں سٹینلیس سٹیل یا پھر ٹائٹینیئم سے بنایا جانا چاہیے۔ بلند درجہ حرارت برقی آلات اور تاروں کو پگھلا سکتا ہے۔

مگر جوناتھن ساؤڈر کہتے ہیں کہ اُنھیں یقین ہے کہ ایک دن وینس کی سطح پر بھی خلائی گاڑیاں موجود ہوں گی۔

ساؤڈر کے نزدیک یہ کام کیسے ہو گا؟ وہ کہتے ہیں کہ ’آئیں ایک مکمل طور پر مکینیکل روبوٹ، آٹومیٹن یا سٹیم پنک روور بناتے ہیں۔‘

ابتدائی ڈیزائن میں پہیوں کی جگہ ٹانگیں تھیں جو کہ ڈچ آرٹسٹ تھیو جانسین کے اُن مکینیکل مجسموں سے متاثر تھیں جو ہوا پر منحصر تھے۔

اپنے سامنے آنے والی رکاوٹوں کا پتا لگانے اور ان سے بچنے کے لیے یہ لینڈر رولرز اور بمپرز کا استعمال کرتا ہے اور جیسا کہ بچوں کی کھلونا گاڑیوں میں ہوتا ہے، وہ اپنے سامنے رکاوٹ آنے پر رکتی ہیں، پیچھے ہوتی ہیں اور دوسری جانب نکل پڑتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ شاید سب سے مؤثر نہ ہو مگر یہ قابلِ بھروسہ ہے اور مختلف حالات سے مطابقت اختیار کر سکتا ہے، اور یہ اس ماحول میں کام کرے گا۔‘

ناسا

،تصویر کا ذریعہNasa/Johns Hopkins APL

،تصویر کا کیپشن

ناسا کے کچھ تصورات ڈچ آرٹسٹ تھیو جانسین کے اُن مکینیکل مجسموں پر مبنی ہیں جنھیں سٹرینڈبیسٹ کہا جاتا ہے

مگر تمام الیکٹرانکس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہے۔ واقعتاً انتہائی بلند درجہ حرارت میں کام کرنے والے بنیادی برقی آلات ضرور استعمال کیے جائیں گے جو درجہ حرارت، چیزوں کی کیمیائی ساخت اور دیگر ڈیٹا مدار میں گھومنے والے خلائی جہاز کو فراہم کر سکیں۔ اسے ہار وی کا نام دیا گیا ہے۔

اس کے بعد توانائی کا مسئلہ آتا ہے۔ چونکہ وینس پر رات 60 روز کی ہوتی ہے اس پر گہرے بادل چھائے رہتے ہیں اس لیے ناسا کے انجینیئرز روور کے مکینیکل سسٹمز کو چلانے کے لیے براہِ راست ہوا کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ کیمرا اور دیگر سینسرز اب بھی ایک مشکل کام ہیں اور انھیں تیار کیا جانا ہے۔

اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ یہ روور خود وینس پر اترے گا، لیکن اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ جو بھی روور مستقبل میں وینس پر اترے گا، وہ اسی کے ڈیزائن سے متاثر ہو گا۔

ساؤڈر کہتے ہیں کہ ’مجھے یقین ہے کہ ایک دن ہماری خلائی گاڑیاں وینس کی سطح پر اتریں گی اور ہار وی سے سیکھے گئے سبق ان ڈیزائنز پر اثر انداز ہوں گے۔‘

مارک پیسنگ فری لانس ایوی ایشن صحافی ہیں۔



Source link