وہ غلطیاں جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لے گئیں

  • زاریہ گورویٹ
  • بی بی سی فیوچر
7 مار چ 2022

اپ ڈیٹ کی گئی ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

180 امریکی بحری جہاز، آبدوزیں، فوجی اور فضائیہ کو مکمل الرٹ پر رکھا گیا۔

25 جنوری 1995 کو روس کے ریڈار آپریٹرز نے دیکھا کہ ناروے کے ساحلی علاقے سے ایک راکٹ فائر کیا گیا ہے۔ ان کے بے چین ذہنوں میں سوال تھے کہ راکٹ کا رخ کس طرف ہے اور کیا اس کا نشانہ روس تو نہیں؟

بات یہاں تک پہنچ گئی کہ اس وقت کے روسی صدر بورس یالسن نے جوابی حملے کے بارے میں اپنے مشیروں سے مشورہ شروع کر دیا۔۔۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کوئی ایٹمی میزائل نہیں بلکہ ایک سائنسی تجربہ تھا۔

جنگی امور پر نظر رکھنے وال ماہرین کے مطابق جوہری طاقتوں کے حامل ایسے ممالک جن کے درمیان اکثر صورتحال کشیدہ رہتی ہو، ایسی ہی ’غلط فہمیاں‘ ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

تین روز قبل ایشیا کے دو بڑے جوہری ممالک میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے تجزیہ نگاروں کے ایسے ہی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

بدھ 9 مارچ 2022 کی صبح پاکستان کے ضلع خانیوال کے قصبے میاں چنوں میں ایک غیرمتوقع واقعہ پیش آیا جس میں ایک انتہائی تیز رفتار شے اڑتی ہوئی پاکستانی علاقے میں آ گری۔

اگلے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر بابر افتخار نے ذرائع ابلاغ کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ انڈیا کی طرف سے بدھ کی رات ‘اُڑتی ہوئی ایک تیز رفتار چیز’ ضلع خانیوال کے علاقے میاں چنوں میں گری ہے جو غالباً ایک میزائل ہے لیکن یقینی طور یہ ‘ان آرمڈ’ (جو بارود یا دھماکہ خیز مواد سے مسلح نہ ہو) تھا۔

گذشتہ روز انڈیا کی وزارت دفاع نے اعتراف کیا کہ نو مارچ کو پاکستان کی حدود (میاں چنوں) میں گرنے والا میزائل ایک ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث ’حادثاتی طور پر انڈیا سے فائر ہوا تھا۔‘

اگرچہ انڈیا کے مطابق یہ ایک تکنیکی غلطی تھی تاہم اس میزائل کے آبادی یا کسی طیارے سے ٹکرانے کی صورت میں انسانی جانیں بھی جا سکتی تھیں جس کے نتیجے میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا تھا اور یہی نقطہ خطے کی سکیورٹی پر نظر رکھنے والے مبصرین کے خدشات میں اضافہ کر رہا ہے۔

موجودہ صورتحال میں اور سرد جنگ کے ماحول میں بہرحال بہت فرق ہے اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے تاحال خاصی سمجھداری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

اس تناظر میں ہم آپ کو ماضی میں ہونے والی ان 22 غلطیوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لے گئی تھیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان واقعات کی تفصیلات کیا تھیں۔

line

یہ 25 اکتوبر 1962 کو آدھی رات کا وقت تھا۔ امریکہ کے شہر وسکونسن میں ایک ٹرک تیزی سے ایک رن وے پر چلا جا رہا تھا، یہ ٹرک ایک طیارے کو روکنے کے لیے سرپٹ دوڑ رہا تھا جو کہ تھوڑی دیر میں پرواز بھرنے والا تھا۔

اس سے چند منٹ قبل ہی ’دولتھ سیکٹر ڈائریکشن سینٹر‘ میں ایک محافظ نے عمارت کی باڑ پر ایک سایہ دیکھا تھا۔ محافظ نے اس سائے کو نشانہ بنایا اور اس خوف سے الرٹ جاری کر دیا کہ یہ سوویت حملے کا حصہ ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس علاقے کی ہر ایئربیس میں انتباہی سائرن بجنے لگے۔

اس کے بعد صورتحال بہت تیزی سے خراب ہوتی گئی۔ قریب ہی موجود ووک فیلڈ نامی ایک دوسرے فضائی اڈے پر کسی نے غلط سوئچ دبا دیا جس کی وجہ سے وہاں موجود پائلٹس کو عام سکیورٹی وارننگ کے بجائے سنگین صورتحال والے سائرن سُنائی دیے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ جلدی سے پرواز کے لیے تیار ہو جائیں۔

پائلٹس انتہائی پھرتی سے ایسے طیاروں پر سوار ہونے کے لیے تیار ہو گئے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس تھے۔

یہ وہ وقت تھا جب کیوبن میزائل بحران اپنے عروج پر تھا اور ہر کوئی جیسے تیار ہی بیٹھا تھا۔ 11 روز قبل ہی ایک امریکی جاسوس طیارے نے کیوبا میں موجود خفیہ لانچرز، میزائلوں اور ٹرکوں کی تصاویر کھینچی تھیں جن سے یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ سوویت یونین امریکہ میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔

دنیا کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ ایک بڑی اور غیر متوقع جنگ کے آغاز کے لیے دونوں میں سے کسی ایک ملک کی جانب سے صرف ایک میزائل داغنا ہی کافی ہے۔

اس موقع پر کشیدگی پیدا کرنے کا ذمہ دار کم از کم کوئی انسان نہیں تھا۔ فوجی بیس کی حفاظتی باڑ کے پاس گارڈ کو جو ہیولا نظر آیا تھا وہ کوئی انسان نہیں بلکہ ایک بڑا سیاہ ریچھ تھا اور یہ سب ایک غلط فہمی کے نتیجے میں ہوا تھا۔

ووک فیلڈ ایئر بیس

،تصویر کا ذریعہAlamy

ادھر ووک فیلڈ میں سکواڈرن اس حقیقت سے بے خبر تھے۔ انھیں کہا جا چکا تھا کہ کوئی ڈرل نہیں ہو گی اس لیے جب وہ اپنے طیاروں میں سوار ہوئے تو وہ پوری طرح تیار تھے کہ ’تیسری عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے۔‘

آخر میں بیس کمانڈر نے یہ معلوم کر لیا کہ اصل میں ہوا کیا تھا۔ ان پائلٹس کو ایک حاضر دماغ اہلکار نے فوراً ہی روک لیا۔ یہ اہلکار ایک ٹرک پر تیزی سے رن وے پر پہنچ گئے جہاں پائلٹس اپنے طیاروں کے انجن سٹارٹ کر چکے تھے۔

آج کی دنیا ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق وہ بے چینی بھول چکی ہے جو ساٹھ کی دہائی میں موجود تھی۔ ایٹمی جنگ سے محفوظ رہنے کی پناہ گاہیں اب کچھ انتہائی امیر لوگوں تک محدود ہیں۔

اپنے وجود کی بقا سے متعلق پریشانی اب آب و ہوا میں تبدیلی جیسے دوسرے خطرات کے بارے میں ہے۔

یہ بھول جانا آسان ہے کہ اب بھی دنیا میں تقریباً 14 ہزار ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جن کی مجموعی طاقت چند لمحات میں تین ارب انسانوں کو ہلاک کر سکتی ہے۔ ایٹمی جنگ کے نتیجے میں ’نیوکلیئر ونٹر‘ بھی پیدا ہو سکتا ہے یعنی انتہائی سرد موسم جو انسانوں کا مکمل صفایا کر دے گا۔

ہمیں معلوم ہے کہ اس بات کا خدشہ انتہائی کم ہے کہ کوئی رہنما ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دے۔ کوئی احمق ہی ہو گا جو ایسا کرے گا۔ لیکن جس بات پر ہم نے غور نہیں کیا وہ یہ ہے کہ ایسا کسی غلطی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب سے ایٹمی ہتھیار ایجاد کیے گئے ہیں اب تک سنگین نوعیت کی 22 ایسی غلطیاں ہو چکی ہیں جو ان ہتھیاروں کے استعمال کا سبب بن سکتی تھیں۔

1949 میں پہلا روسی جوہری تجربہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

1949 میں پہلا روسی جوہری تجربہ

اڑنے والے ہنسوں کا ایک گروپ، چاند، کمپیوٹر کے معمولی مسائل اور خلائی موسم کے غیر معمولی واقعات، کئی بار ہمیں ایٹمی جنگ کے دہانے پر دھکیل چکے ہیں۔

سنہ 1958 میں ایک طیارے سے غلطی سے ایک ایٹم بم ایک گھر کے باغ میں جا گرا۔ معجزانہ طور پر کوئی انسان ہلاک نہیں ہوا صرف مرغیاں ہلاک ہوئیں۔ ساڑھے تین ٹن وزنی اس بم کو سفر کے لیے محفوظ بنایا گیا تھا اس لیے گرنے کے باوجود اس میں سے تابکاری نہیں نکلی ورنہ وہ پورا علاقہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتا اور برسوں تک انسانی رہائش کے قابل نہیں رہتا۔

ایٹمی اسلحے سے متعلق غلطیوں کا سلسلہ زیادہ پرانا نہیں ہے، یہ سنہ 2010 تک ہوتی رہی ہیں جب امریکی ایئر فورس کا 50 ایٹمی میزائلوں سے رابطہ عارضی طور پر منقطع ہو گیا تھا۔ جس کا مطلب تھا کہ اگر یہ میزائل خود بخود چل پڑیں تو یہ پتا لگانے اور روکنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔

جدید جوہری ہتھیاروں کی حیرت انگیز لاگت اور تکنیکی نفاست کے باوجود امریکہ سنہ 2019 سے 2028 کے درمیان اپنی ایٹمی صلاحیتوں پر 497 ارب ڈالر خرچ کر سکتا ہے لیکن تاریخی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کسی طرح ایک انسانی غلطی یا کوئی جنگلی جانور ایٹمی ہتھیاروں کے لیے بنائے گئے حفاظتی انتظامات کو تہہ و بالا کر سکتے ہیں۔

25 جنوری 1995 کو اس وقت کے روسی صدر بورس یالسن تاریخ کے وہ پہلے عالمی رہنما بن گئے جنھوں نے ’ایٹمی بریف کیس‘ کو فعال کیا تھا۔ یہ ایک ایک ایسا بریف کیس ہوتا ہے جس میں ایٹم بموں کے استعمال سے متعلق ہدایات اور ٹیکنالوجی موجود ہوتی ہے۔

اس وقت روس کے ریڈار آپریٹرز نے دیکھا کہ ناروے کے ساحلی علاقے سے ایک راکٹ فائر کیا گیا ہے۔ انھوں نے اس راکٹ کو فضا میں بلند ہوتے دیکھا۔ ان کے بے چین ذہنوں میں سوال تھے کہ راکٹ کا رخ کس طرف ہے اور کیا اس کا نشانہ روس تو نہیں؟

روسی جوہری پاور سٹیشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

روسی جوہری پاور سٹیشن

اپنے ہاتھ میں نیوکلیئر بریف کیس لیے انتہائی مضطرب بورس یالسن نے جوابی حملے کے بارے میں اپنے مشیروں سے مشورہ کیا۔ ان کے پاس فیصلے کے لیے چند منٹ تھے لیکن اس دوران انھیں معلوم ہو گیا کہ اس راکٹ کا رُخ سمندر کی جانب ہے اس لیے اس سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کوئی ایٹمی میزائل نہیں تھا بلکہ ایک سائنسی تجربہ تھا اور راکٹ کو ’ناردرن لائٹس‘ کے بارے میں تحقیق کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ناروے کے حکام کو اس لیے روسی ردعمل پر حیرت ہوئی کیونکہ اس تجربے کے بارے میں کم از کم ایک مہینے پہلے عوامی سطح ہر اعلان کر دیا گیا تھا۔

ناروے کے حکام کو اس لیے روسی ردعمل پر حیرت ہوئی کیونکہ اس تجربے کے بارے میں کم از کم ایک مہینے پہلے عوامی سطح ہر اعلان کر دیا گیا تھا۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایٹمی حملہ اصل میں کیا گیا ہو یا کسی غلطی کا نتیجہ ہو، ایک مرتبہ اگر یہ حملہ کر دیا جائے تو یہ ناقابلِ واپسی ہوتا ہے۔

سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ میں وزیرِ دفاع ولیم پیری کہتے ہیں کہ ’کسی غلط فہمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر صدر کا ردعمل غلطی سے ایٹمی جنگ شروع کر سکتا ہے۔‘

’بعد میں وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ داغے جانے والے میزائلوں کو واپس بلایا جا سکتا ہے نہ تباہ کیا جا سکتا ہے۔‘

تو ماضی میں اتنی خوفناک غلطیاں کیسے ہوئیں اور ہم مستقبل میں ایسے کسی واقعے کو رونما ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں؟

نیوکلیئر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سابق صدور کی طرح موجودہ صدر جو بائیڈن بھی جہاں جاتے ہیں ان کے ساتھ ایک مشیر ہوتا ہے جس کے پاس وہ بریف کیس (نیوکلیئر فوٹبال) ہوتا ہے جس میں ایٹمی حملے کے کوڈ ہوتے ہیں

ایٹمی حملوں میں کیا ہوتا ہے؟

ممکنہ غلطیوں کے خدشات کی بڑی وجہ وہ تنبیہی نظام (وارننگ سسٹم) ہیں جو کسی ایٹمی حملے کے بارے میں پہلے سے خبردار کرتے ہیں۔ یہ نظام سرد جنگ کے زمانے میں قائم کیے گئے تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ایٹمی حملے کی صورت میں فوری جواب دینا ہوتا ہے اس بات کا انتظار کرنے کی بجائے کہ میزائل اپنے اہداف کو نشانہ بنائیں۔ کیونکہ جوہری میزائل لانچ کرنا ہی جوابی حملے کا جواز بن جاتا ہے۔

اس نظام کے ذریعے ان میزائلوں کی فوری نشاندہی کی جاتی ہے تاکہ اپنے ہتھیاروں کی تباہی سے قبل ہی جوابی حملے کی تیاری کی جا سکے۔

تاہم اس کے لیے اعداد و شمار کی ضرورت ہوتی ہے۔

اکثر عام امریکی ناواقف ہیں کہ اس وقت امریکہ کی کئی سیٹلائٹ دنیا بھر کے ایٹمی اسلحے پر خاموشی سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ان میں سے چار سیٹیلائٹ ایسی ہیں جو زمین سے 22 ہزار میل اوپر ’جیوسنکرونس مدار‘ میں ہیں۔ یہ سیٹلائٹ ایک ایسی جگہ پر ہیں جہاں وہ زمین کے لحاظ سے اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرتیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ کسی مخصوص علاقے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یعنی وہاں 24 گھنٹے میں کسی بھی وقت کسی بھی ایٹمی حملے کے بارے میں انھیں فوراً معلوم ہو جائے گا۔

لیکن سیٹلائٹ داغے جانے والے میزائل کا پیچھا نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے امریکہ نے سینکڑوں ریڈار سٹیشن بنائے ہیں جو ان میزائلوں کی پوزیشن اور رفتار کے بارے میں بتا سکتے ہیں اور یہ بھی حساب کتاب لگا سکتے ہیں کہ یہ کتنے فاصلے پر اور کہاں گرے گا۔

جب واضح معلومات حاصل ہو جائیں کہ حملہ ہو چکا ہے تو صدر کو مطلع کر دیا جاتا ہے۔ پیری کہتے ہیں ’حملے کے پانچ سے دس منٹ کے بعد صدر کو بتا دیا جاتا ہے اور پھر انھیں جوابی حملے کے بارے میں ایک انتہائی مشکل فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔‘

ولیم پیری کہتے ہیں کہ ’یہ ایک پیچیدہ نظام ہے جو ہر وقت چل رہا ہوتا ہے۔ ’ہم یہاں ایک ایسی صورتحال کی بات کر رہے ہیں جس کا امکان بہت کم اور نتائج بہت بڑے ہیں۔ اس کے استعمال کی نوبت ایک ہی مرتبہ آئے گی۔‘

ٹیکنالوجی کی غلطیاں

دو غلطیاں ایسی ہیں جو ایٹمی حملے کی غلط اطلاع دے سکتی ہیں۔ ایک کا تعلق ٹیکنالوجی سے ہے جبکہ دوسری انسانی غلطی ہو سکتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی غلطی کی ایک بڑی مثال سنہ 1980 کا واقعہ ہے جب ولیم پیری صدر جمی کارٹر کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

پیری بتاتے ہیں کہ ’وہ ایک بڑا دھچکہ تھا۔ اس کا آغاز صبح تین بجے ایک ٹیلی فون کال سے ہوا۔ یہ کال امریکہ کے ایئر ڈیفنس کمانڈ آفس سے تھی جس میں بتایا گیا کہ نگرانی کرنے والے کمپیوٹرز نے 200 ایسے میزائلوں کے بارے میں پتا لگایا ہے جو براہ راست سوویت یونین سے امریکہ کی طرف داغے گئے ہیں۔‘

’اس وقت تک انھیں خود ہی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کوئی اصلی حملہ نہیں تھا اور کمپیوٹروں سے غلطی ہوئی تھی۔‘

پیری کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ مجھے فون کرنے سے پہلے وائٹ ہاؤس میں صدر کو فون کر چکے تھے۔ یہ کال صدر سے پہلے ان کے قومی سلامتی کے مشیر کو گئی۔ خوش قسمتی سے انھوں نے صدر کو جگانے سے پہلے کچھ منٹ کی تاخیر کی۔‘

’اس دوران انھیں یہ اطلاع دے دی گئی کہ یہ سب ایک غلطی کا نتیجہ تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن اگر انھوں نے انتظار نہ کیا ہوتا اور فوراً ہی صدر کارٹر کو جگا دیا ہوتا تو شاید آج دنیا کی صورتحال مختلف ہوتی۔ اگر صدر کو یہ کال براہ راست موصول ہوتی تو ان کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے لگ بھگ پانچ منٹ ہوتے کہ جوابی حملہ کیا جائے یا نہیں۔ وہ عین رات کا وقت تھا، کسی سے مشورہ کرنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔‘

فرانس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فرانس میں سنہ 1971 میں کیے جانے والے جوہری تجربے کا منظر

اس موقع کے بعد سے انھوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے ’غلطی سے استعمال‘ کو کبھی ایک مفروضے کے طور پر نہیں لیا۔ بلکہ ایک اصلی اور خطرناک حد تک حقیقی معاملہ سمجھا۔ پیری کے مطابق ’میں کہوں گا کہ ہم بہت قریب پہنچ گئے تھے۔‘

اس موقع پر معلوم ہوا کہ مسئلہ کمپیوٹر کی ایک خراب چِپ کا تھا جو وارننگ سسٹم کو چلا رہا تھا۔ اس چِپ کو تبدیل کر دیا گیا جس کی قیمت ایک ڈالر سے بھی کم تھی۔

ایک سال قبل پیری کو ایک اور اسی طرح کے واقعے کا تجربہ ہوا جب ایک ٹیکنیشن نے نادانستہ طور پر کمپیوٹر پر ایک ٹریننگ ٹیپ لوڈ کر دی اور غلطی سے اہم وارننگ سینٹروں پر میزائلوں کے ایسے حملوں کے بارے میں معلومات بھیج دیں جو خیالی تھے لیکن انتہائی اصلی دکھائی دیتے تھے۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ایسے عمل میں جہاں اس اسلحے کے استعمال کا معاملہ ہو جو شہر کے شہر تباہ کر سکتا ہے وہاں کند ذہن لوگ کام کر رہے ہیں۔ اور اناڑی ٹیکنیشنز کو تو چھوڑیں ہمیں تو ان لوگوں کے بارے میں فکر مند ہونا پڑے گا جن کے پاس اصل میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا اختیار موجود ہے یعنی عالمی رہنما۔

پیری کہتے ہیں کہ ’امریکی صدر کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا ’مکمل اختیار‘ ہے اور وہ واحد شخص ہیں جو ایسا کر سکتے ہیں۔‘

یہ اختیار صدر ہیری ٹرومین کے زمانے سے ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں یہ اختیار فوج کے کمانڈروں کو دیا گیا تھا لیکن صدر ٹرومین سمجھتے تھے کہ ایٹمی ہتھیار ایک سیاسی حربہ ہیں اس لیے یہ ایک سیاستدان کے اختیار میں ہونے چاہییں۔

سابق صدور کی طرح موجودہ صدر جو بائیڈن بھی جہاں جاتے ہیں ان کے ساتھ ایک مشیر ہوتا ہے جس کے پاس وہ بریف کیس (نیوکلیئر فوٹبال) ہوتا ہے جس میں ایٹمی حملے کے کوڈ ہوتے ہیں۔ صدر کسی پہاڑ پر موجود ہوں، کسی ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے ہوں یا سمندر میں، اُن کے پاس ایٹمی حملے کی یہ صلاحیت موجود رہتی ہے۔

کیوبا امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

امریکہ نے کیوبا میں میزائلوں کی سائٹ کی فضائی تصاویر کو بطور ثبوت پیش کیا

ان کے صرف یہ الفاظ کہنے کی دیر ہے اور حملہ آور یا جس پر حملہ کیا جا رہا ہے وہ اہداف کچھ ہی منٹ میں تباہ ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے متعدد تنظیموں اور ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ ایک ہی شخص کے پاس اتنی زیادہ طاقت بڑا خطرہ ہے۔

پیری کے مطابق ’ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ ایک صدر بہت زیادہ شراب پی رہا ہے یا کوئی دوا کھانے پر مجبور ہو۔ وہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سب ماضی میں ہو چکا ہے۔‘

آپ جتنا اس بارے میں سوچتے ہیں اتنے ہی پریشان کن امکانات سامنے آتے ہیں۔ اگر یہ رات کا وقت ہے تو کیا صدر نیند کی حالت میں یہ فیصلہ کریں گے۔ ان پاس صرف چند ہی منٹ ہوں گے یہ فیصلہ کرنے کے لیے، اور اس دوران نہ تو وہ اپنے ہوش میں ہوں نہ ہی ان کے پاس کافی پی کر ہواس بحال کرنے کا موقع ہو گا، یعنی وہ اپنی بہترین ذہنی کیفیت میں کام نہیں کر رہے ہوں گے۔

اگست سنہ 1974 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن واٹر گیٹ سکینڈل میں پھنسے ہوئے تھے اور مستعفی ہونے والے تھے۔

ان دنوں وہ ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے اور جذباتی طور پر غیر مستحکم تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ تھکے ہوئے دکھائی دیتے تھے، مسلسل شراب پیتے تھے اور ان کا رویہ عجیب سا رہتا تھا۔ خفیہ سروس کے ایک اہلکار نے بظاہر ایک مرتبہ انھیں کتے کا بسکٹ کھاتے دیکھا تھا۔

نکسن مبینہ طور پر غصے میں رہنے، شراب پینے اور ادویات لینے کے عادی تھے لیکن یہ اس سے بہت زیادہ سنگین معاملہ تھا۔ اس ذہنی کیفیت کے باوجود ان کے پاس ایٹمی حملہ کرنے کا اختیار موجود رہا۔

ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت پر معمور فوجی اہلکاروں کی نشے کی عادت بھی ایک مسئلہ ہے۔ سنہ 2016 میں امریکہ کے ایک میزائل بیس پر کام کرنے والے فضائی عملے کے کئی ارکان نے کوکین اور ایل ایس ڈی سمیت کئی نشہ آور ادوایات استعمال کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ (ان میں سے چار کو بعد میں سزائیں بھی دی گئی تھیں۔)

سائنسی تجربے کا میزائل

،تصویر کا ذریعہAlamy

ایٹمی سانحے کو کیسے روکا جائے؟

ان سب عناصر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ولیم پیری نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے ’دا بٹن: دا نیو نیوکلیئر آرمز ریس اینڈ پریزیڈینشل پاور فرام ٹرمپ ٹو ٹرمپ۔‘

یہ کتاب انھوں نے ٹام کولینا کے ساتھ مشترکہ طور پر لکھی ہے جو ایٹمی اسلحے کی تخفیف سے متعلق ایک ادارے ’پلفشیئرز فنڈ‘ میں ڈائریکٹر آف پالیسی ہیں۔

اس کتاب میں ہمارے ایٹمی نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ممکنہ حل کے لیے تجاویز بھی دی گئی ہیں۔

سب سے پہلے مصنفین چاہتے ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ایک شخص کے پاس مکمل اختیار ختم ہونا چاہیے تاکہ ان تباہ کن ہتھیاروں کے استعمال کا فیصلہ جمہوری طریقے سے ہو اور فیصلے پر کسی ذہنی مسئلے کے اثر کا خدشہ کم سے کم ہو جائے۔

امریکہ میں یہ تبدیلی کانگریس میں ووٹ کے ذریعے آ سکتی ہے۔

پیری کہتے ہیں کہ اس طرح ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا فیصلہ کرنے میں زیادہ وقت لگے گا۔ ’عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا فیصلہ جوابی حملے کی صلاحیت تباہ ہو جانے سے پہلے کرنا چاہیے لیکن اگر کئی شہر اور زمین پر موجود تمام میزائل تباہ بھی ہو جائیں تو آب دوزوں پر موجود ایٹمی میزائلوں کو پھر بھی داغا جا سکتا ہے۔‘

کتاب کے شریک مصنف ٹام کولینا کہتے ہیں کہ ‘ہمیں کسی الارم کی صورت میں جواب نہیں دینا چاہیے کیونکہ الارم غلط بھی ہو سکتا ہے۔ ایٹمی حملے کی تصدیق کا صرف ایک ہی صحیح معنوں میں درست اور قابلِ اعتماد طریقہ ہے اور وہ یہ کہ ہم میزائلوں کے گرنے کا انتظار کریں۔‘

ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے فیصلے میں زیادہ سوچ بچار اور کم رفتار سے آگے بڑھنے کا مطلب ہے کہ ایٹمی جنگ کے غلطی سے شروع ہونے کا خدشہ واضح طور پر کم ہو جائے گا۔

دوسری بات جس پر پیری اور کولینا نے زور دیا ہے وہ یہ ہے کہ ایٹمی طاقتیں یہ وعدہ کریں کے وہ ان ہتھیاروں کا استعمال صرف جواب میں کریں گی یعنی پہلے استعمال نہیں کریں گی۔

کولینا کہتے ہیں کہ ’چین ایک دلچسپ مثال ہے کیونکہ اس کی پہلے ہی یہ پالیسی ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا۔ چین کی اس پالیسی میں سچ بھی دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے میزائلوں سے الگ رکھا ہوا ہے یعنی یہ ہتھیار اور انھیں لے جانے والا نظام الگ الگ ہیں۔‘

line

جوہری ہتھیاروں سے متعلق مزید جانیے

line

اس کا مطلب ہے کہ چین کو ایٹمی حملہ کرنے سے پہلے اپنے ہتھیاروں کو اپنے میزائلوں پر نصب کرنا ہو گا۔ جب چین ایسا کرے گا تو سیٹلائٹ سے نگرانی کرنے والوں کو اس بارے میں معلوم ہو جائے گا۔

دوسری جانب امریکہ اور روس کی ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ وہ ایٹمی حملہ کرنے کا اپنا حق محفوظ رکھتے ہیں اور وہ روایتی ہتھیاروں کے حملے کے جواب میں بھی ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ صدر اوباما کی انتظامیہ نے ایٹمی ہتھیاروں کو ’پہلے استعمال نہ کرنے‘ کی پالیسی پر غور کیا تھا لیکن وہ اس بارے میں کو فیصلہ نہیں کر سکے تھے۔

آخر میں کتاب کے مصنفین کی دلیل ہے کہ یہ تمام ممالک کے لیے فائدہ مند ہو گا کہ وہ زمین پر موجود اپنے بین البراعظمی میزائلوں کو مکمل طور پر تلف کر دیں کیونکہ آنے والے ایٹمی حملے میں یہ سب سے پہلے تباہ ہوں گے۔

یہ وہی ہتھیار ہیں جو کسی بھی مشتبہ ایٹمی حملے کی صورت میں جلدی میں تعینات کر دیے جاتے ہیں۔ اس طرح کسی غلطی کا خدشہ مزید کم ہو جائے گا۔

کولینا کا کہنا ہے کہ ایک اور طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم جوہری میزائلوں کو فعال بنانے کے بعد انھیں فوری طور پر غیر فعال بنانے کے نظام پر بھی کام کریں تاکہ اگر ایسا کسی غلطی کے باعث ہوا ہو تو تباہی سے بچا جا سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب تجربات کیے جاتے ہیں تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔ میزائل لانچ ہونے کے بعد خود بخود تباہ بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسا ہم اصلی میزائلوں میں نہیں کرتے کیونکہ خدشہ یہ ہوتا ہے کہ اگر دشمن کے پاس ان کا کنٹرول آ گیا تو وہ انھیں غیر فعال بنا دے گا۔‘

اس کے علاوہ بھی ایسے طریقے موجود ہیں جن کے ذریعے ایک ملک کی اپنی ہی ٹیکنالوجی کو اس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ ہم جدید کمپیوٹر پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں جس کے باعث یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ وائرسز، ہیکرز یا مصنوعی ذہانت کی مدد سے چلنے والے بوٹس کی مدد سے ایک جوہری جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے۔

کولینا کا کہنا ہے کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ سائبر حملوں میں اضافے کے بعد غلط الارمز کا چانس بڑھ گیا ہے۔‘ مثال کے طور پر ان سائبر حملوں کے ذریعے ایک کنٹرول سسٹم کو یہ سوچنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے کہ میزائل آ رہا ہے جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ صدر کے پاس جوابی حملہ کرنے کا جواب موجود ہو سکتا ہے۔

بڑا مسئلہ یقیناً یہ ہے کہ ممالک چاہتے ہیں کہ ان کے ایٹمی ہتھیار زیادہ موثر، جدید اور استعمال میں آسان ہوں، ایک بٹن دبایا اور چل پڑیں۔ اس وجہ سے ان کے استعمال کو لگام دینا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

اگرچہ سرد جنگ ختم ہو چکی ہے۔ لیکن کولینا کے مطابق دنیا کو اب بھی کسی بھی وقت بلا اشتعال ایٹمی حملے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سب سے بڑا خطرہ تو خود میزائلوں کو داغنے والے وہ نظام ہیں جنھیں ہماری حفاظت کے لیے بنایا گیا ہے۔



Source link