ویکیوم بم: کیا روس نے یوکرین میں تھرموبیرک ہتھیار استعمال کیے؟

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ویکیوم بم کو ٹوس 1 اے جیسے راکٹ لانچر فوجی گاڑیوں کی مدد سے بھی داغا جا سکتا ہے

انسانی حقوق کی تنظیموں اور امریکہ میں یوکرین کے سفیر نے روس پر جنگ کے دوران تھرموبیرک ہتھیار یا ویکیوم بم استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

روس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ پیر کو یوکرین کے علاقے سمی میں تباہ کی جانے والی آئل ریفائنری پر تھرموبیرک ہتھیار یا ویکیوم بم سے دھماکے کیے گئے تھے۔ تاہم اس الزام کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرین جنگ میں کلسٹر بم بھی استعمال کیے گئے، یاد رہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کلسٹر بموں کو ممنوعہ قرار دے چکے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے روس پر شمال مشرقی یوکرین میں ایک سکول پر حملہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

تھرموبیرک ہتھیار یا ویکیوم بم ارد گرد کے ماحول سے آکسیجن ختم کر کے زیادہ درجہ حرارت پر زور دار دھماکہ کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس نوعیت کے ہتھیاروں کے استعمال کی وسیع پیمانے پر مذمت کرتی ہیں۔

لیکن یہ ہتھیار ہے کیا؟ بی بی سی کے نامہ نگار برائے دفاعی اُمور فرینک گارڈنر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ روس کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کے بعد سب سے طاقتور ہتھیار ہے‘۔

مگر ویکیوم بم اتنا خطرناک کیوں ہوتے ہیں؟

ویکیوم بم کام کیسے کرتا ہے؟

ویکیوم بم جنھیں تھرموبیرک دھماکے بھی کہا جاتا ہے دو سطحوں یا حصوں میں کام کرتے ہیں۔

پہلا حصہ دھماکے سے بننے والا وہ بارود کا بادل ہے جو عمارتوں اور ارد گرد کی چیزوں کو اپنے لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ جبکہ اس کے دوسرے حصے میں اس بارود کے بادل میں آگ کے شعلے بھڑکتے ہیں جو ارد گرد کی فضا سے آکسیجن کھینچ لیتے ہیں جس کے بعد ایک انتہائی زور دار دھماکہ ہوتا ہے۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ میں تحقیق کا کام کرنے والے محقق جسٹن برونک کا کہنا ہے کہ ’عام دھماکہ خیز بم میں 30 فیصد تیل یا بارود اور 70 فیصد آکسڈائزر ہوتا ہے جبکہ تھرموبیرک بم میں سب بارود یا تیل ہی ہوتا ہے اور وہ دھماکے کے لیے تکسید کا عمل فضا میں موجود آکسیجن کو کھینچ کر کرتا ہے۔ لہذ یہ بہت زیادہ طاقتور جنگی ہتھیار ہے۔‘

اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں؟

اس بم کے دھماکے کے وقت بننے والے انتہائی درجہ حرارت اور دباؤ کے اثرات بہت سنگین اور خوفناک ہوتے ہیں۔ ابتدائی دھماکے کے زد میں آنے والا کوئی بھی شخص بہت زیادہ درجہ حرارت کے باعث فوری طور پر ہوا میں بھاپ بن کر غائب ہو سکتا ہے (یعنی انسانی وجود مکمل طور پر غائب ہو سکتا ہے)۔ جبکہ دوسرے حصے کے دھماکے سے پیدا ہونے والی آواز کی دھمک اور فضا کے دباؤ سے ارد گرد نشانہ بننے والوں کو شدید اندرونی چوٹیں اور زخم آ سکتے ہیں۔

بورنک کا کہنا ہے کہ ’اس بم سے پیدا ہونے والے انتہائی طاقتور اور زور دار دھماکے کے باعث اس کی زد میں آنے والوں کے جسمانی اعضا خراب ہو جاتے ہیں اور پھیپھڑے پھٹ جاتے ہیں۔‘

اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’دھماکے اور جھٹکے کی یہ لہر تنگ جگہوں پر بہت تیزی اور طاقتور انداز میں پھیلتی ہے اور اس لیے یہ ایسے افراد جو تہہ خانوں، غاروں یا زیر زمین بنکروں میں چھپے ہوتے ہیں ان کے لیے بہت جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ یہ بم ہزاروں سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت بھی بڑھا دیتے ہیں اور خوفناک طریقے سے انسانی جسم کو جھلسانے کا سبب بن سکتے ہیں۔‘

فوجی گاڑی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یوکرین میں اس کے استعمال کیے جانے کے کیا ثبوت ہیں؟

یوکرین میں روس کی جانب سے ویکیوم بم استعمال کرنے کے دعوے، جن کی بی بی سی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے، یوکرینی حکام کی جانب سے سامنے آ رہے ہیں۔

امریکہ میں یوکرین کے سفیر اوکسانا مارخاروا نے امریکی کانگرس کے ارکان سے ملاقات کے بعد رپورٹرز کو بتایا کہ ’روس نے یوکرین میں آج ویکیوم بم استعمال کیے ہیں۔‘

Presentational grey line

روس کا یوکرین پر حملہ: ہماری کوریج

Presentational grey line

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’روس یوکرین پر بہت زیادہ اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

امریکی نشریاتی چینل سی این این کے رپورٹر کی جانب سے یوکرین کی سرحد کے قریب سے بنائی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ TOS-1 کے متعدد راکٹ لانچروں کو روسی شہر بیلگوروڈ کے قریب لے جایا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسی بہت سی غیر تصدیق شدہ ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں TOS-1 کو یوکرین کے دیگر سرحدوں علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، اور ٹوئٹر پر موجود متعدد غیر تصدیق شدہ ویڈیوز میں ویکیوم بم کے دھماکے اور استعمال کے دعوے کیے گئے ہیں۔

ویکیوم بموں کا استعمال پہلے کہاں کیا گیا ہے؟

1960 کی دہائی سے روس اور مغربی ممالک ان ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ نے افغانستان جنگ کے دوران القاعدہ کے جنگجوؤں کے پہاڑوں میں بنے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے اِن ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔

سنہ 2000 میں روس کی جانب سے چیچینیا میں اس بم کو استعمال کرنے کی خبریں آئی تھی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے روس کی جانب سے ویکیوم بم کے استعمال کی مذمت کی تھی۔ حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق روس اور شامی حکومت نے شام میں عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں ان تھرموبیرک ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔

اگر اس نوعیت کے ہتھیاروں کا استعمال یوکرین کے بڑے شہری علاقوں میں کیا جاتا ہے، جیسا کہ چیچینیا میں کیے جانے کی خبریں تھیں تو یوکرین میں بہت شہری ہلاکتوں کا خطرہ ہے۔



Source link