ویگنر: کرائے کے روسی جنگجو گروپ کے لیبیا کی خانہ جنگی میں شمولیت کے شواہد

11 اگست 2021، 17:58 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 7 گھنٹے قبل

بی بی سی کی ایک تازہ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لیبیا کی خانہ جنگی میں روسی کرائے کا ایک مشکوک لڑاکا گروہ بڑے پیمانے پر سرگرم تھا۔ تفتیش کے مطابق یہ گروپ جنگی جرائم میں ملوث تھا اور اس کے علاوہ روسی فوج سے رابطے میں تھا۔

ویگنر گروپ کے ایک لڑاکا نے سام سنگ کا جو ٹیبلٹ چھوڑا تھا اس سے اس گروہ کے اہم کردار کی تفصیل سامنے آئی ہے اور ساتھ ایسے کوڈ والے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کا پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ وہ درحقیقت کون ہیں۔

اور بی بی سی کے پاس جدید ترین فوجی سازوسامان کی ‘شاپنگ لسٹ’ بھی ہے جس کے بارے میں ماہرین کی رائے ہے کہ یہ صرف روسی فوج کی سامان کی فراہمی سے خریدا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب روس نے ویگنر سے کسی قسم کے روابط سے انکار کیا ہے۔

اس گروہ کی پہلی بار سنہ 2014 میں اس وقت شناخت ہوئی تھی جب وہ مشرقی یوکرین کے تنازعے میں روس نواز علیحدگی پسندوں کا ساتھ دے رہا تھا۔ اس کے بعد سے یہ گروہ شام، موزمبیق، سوڈان اور وسط افریقی جمہوریہ سمیت کئی علاقوں میں سرگرم رہا ہے۔

ویگنر جنگجو اپریل سنہ 2019 میں لیبیا میں اس وقت نمودار ہوئے جب انھوں نے دارالحکومت طرابلس میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت پر حملہ کرنے والے ایک باغی جنرل خلیفہ حفتر کی افواج میں شمولیت اختیار کی۔ یہ لڑائی اکتوبر سنہ 2020 میں جنگ بندی کے معاہدے پر ختم ہو گئی۔

یہ گروپ رازداری برتنے کے لیے مشہور ہے لیکن بی بی سی نے دو سابق جنگجوؤں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ کس قسم کے لوگ ویگنر میں شامل ہوتے ہیں – اور یہ کہ وہاں کسی قسم کے ضابطے کو نہیں اپنایا جاتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ قیدیوں کو قتل کرتے ہیں اور اس کا اعتراف ایک سابق جنگجو نے کھلے طور پر کیا کہ ‘کوئی بھی اضافی منہ کھانا کھلانے کے لیے نہیں چاہتا۔’

دیگر انکشافات میں شہریوں کے دانستہ قتل کے ساتھ مشتبہ جنگی جرائم کے شواہد شامل ہیں۔

لیبیا کے ایک گاؤں کے ایک شخص نے بتایا اپنے رشتہ داروں کو قتل ہوتا دیکھ کر انھوں نے کس طرح خود کو مردہ بنا لیا۔ ان کی گواہی نے بی بی سی کی ٹیم کو ایک مشتبہ قاتل کی شناخت میں مدد دی۔

ایک اور ممکنہ جنگی جرم کے بارے میں بیان کرتے ہوئے لیبیا کے ایک سپاہی نے بتایا کہ کس طرح ان کے ایک دوست نے ویگنر کے جنگجوؤں کے سامنے ہتھیار ڈالے لیکن انھوں نے اس پیٹ میں دو بار گولی ماری۔ انھوں نے اس کے بعد اسے اپنے دوست کو نہیں دیکھا ہے اور نہ ہی تین دوسرے دوستوں کا ہی انھیں علم ہے جنھیں ویگنر پکڑ کر لے گئے تھے۔

سام سنگ کمپیوٹر ٹیبلٹ سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ یہ کرائے کے جنگجو کس طرح شہری علاقوں میں بارودی سرنگ بچھانے اور جال بچھانے (بوبی ٹریپنگ) کا کام کرتے تھے۔

بغیر نشاندہی کے بارودی سرنگیں بچھانا جنگی جرائم میں شامل ہے۔

فون پر تصاویر
،تصویر کا کیپشن

لیبا کے ایک دیہاتی نے اپنے رشتہ داروں کے قتل کی تصاویر دکھائیں

انکشاف کرنے والا سام سنگ ٹیبلٹ

گروپ کے جنگجوؤں نے سنہ 2020 کے موسم بہار میں طرابلس کے جنوبی علاقوں سے پیچھے ہٹنا شروع کردیا تھا جہاں ایک نامعلوم ویگنر لڑاکا کا ٹیبلٹ چھوٹ گیا تھا۔

اس کے مشمولات میں جنگی محاذ کے روسی زبان میں نقشے شامل ہیں جس سے کہ وہاں ویگنر گروہ کی نمایاں موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے اور گروپ کی کارروائیوں کی تفاصیل ملتی ہیں جو اس سے پہلے دستیاب نہیں تھیں۔

اس میں ڈرون فوٹیج اور ویگنر جنگجوؤں کے کوڈ نام ہیں، جن میں سے بی بی سی کے خیال میں اس نے کم از کم ایک کی شناخت کر لی ہے۔ ٹیبلٹ اب ایک محفوظ مقام پر ہے۔

‘خریداری کی فہرست’

لیبیا کی انٹیلی جنس میں شامل ایک شخص نے 19 جنوری سنہ 2020 کو بی بی سی کو ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی دس صفحات پر مشتمل ایک جامع فہرست دی جو کہ شاید ویگنر کے ایک ٹھکانے سے برآمد ہوئی تھی۔

دستاویز سے پتا چلتا ہے کہ آپریشن کی کون فنڈنگ اور پشت پناہی کر رہا ہے۔ اس میں ‘فوجی مقاصد کی تکمیل’ کے لیے درکار مواد کی فہرست ہے، جس میں چار ٹینک، سینکڑوں کلاشنکوف رائفلیں اور ایک جدید ترین راڈار سسٹم شامل ہیں۔

ایک فوجی تجزیہ کار نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی صرف روسی فوج سے دستیاب ہو سکتی ہے۔ ویگنر گروپ پر نظر رکھنے والے ایک اور ماہرنے کہا کہ فہرست میں دمتری اتکن کی شمولیت کا عندیہ ملتا ہے۔

ٹیبلٹ سے ملنے والے فوجی نقشے
،تصویر کا کیپشن

سام سنگ کمپنی کے بنے ٹیبلٹ سے ملنے والے فوجی نقشے

اتکن کا تعلق سابق روسی ملٹری انٹیلی جنس سےہے جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ انھوں نے ویگنر کی بنیاد رکھی اور اسے اس کا نام دیا (ان کا اپنا سابقہ کال سائن والا نام)۔ بی بی سی نے دمتری اتکن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن،ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔

اور ‘شاپنگ لسٹ’ اور ایک دوسری دستاویز کی بنیاد پر اس ماہر کا کہنا ہے کہ ’ایورو پولس‘ اور ’جنرل ڈائریکٹر‘ کے الفاظ سے صدر ولادیمیر پوتن کے قریبی مالدار بزنس مین ییوجینی پرائيگوزین کی شمولیت کا اشارہ ملتا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے 2018 میں ایورو پولس پر پابندی لگا دی تھی اور کہا تھا کہ یہ روسی کمپنی ہے جو کہ شام کے آئل فیلڈز کی ‘حفاظت’ کے لیے کام کرتی اور یہ مسٹر پرائیگوزین کی ‘ملکیت یا کنٹرول’ میں ہیں۔

مغربی صحافیوں کی تحقیقات نے مسٹر پرائیگوزین کو ویگنر سے جوڑا ہے۔ لیکن انھوں نے ہمیشہ ایورو پولیس یا ویگنر سے کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے۔

ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ییوجینی پرائیگوزین کا ایورو پولیس یا ویگنر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسٹر پرائیگوزین نے تبصرہ کیا کہ انھوں نے لیبیا میں روسیوں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کچھ نہیں سنا: ‘مجھے یقین ہے کہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔’

روس کی وزارت خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ‘جنگ بندی اور لیبیا کے بحران کے سیاسی حل کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہے۔’

وزارت نے مزید کہا کہ لیبیا میں ویگنر کے بارے میں تفصیلات زیادہ تر ‘مسخ شدہ ڈیٹا’ پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد لیبیا میں روس کی پالیسی کو بدنام کرنا’ ہے۔

ویگنر کیا ہے؟ اس کے سابق جنگجوؤں کا بیان

سرکاری طور پر کہیں تو اس کا وجود نہیں۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ سنہ 2014 تک مشرقی یوکرین میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے ساتھ لڑائی میں اس کے سامنے سے لے کر اب تک دس ہزار افراد نے ویگنر کے ساتھ کم از کم ایک معاہدہ کیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار ویگنروں نے سنہ 2019 سے 2020 کے درمیان لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کی جانب سے لڑائی میں شرکت کی ہے۔

روس میں بی بی سی نے سابق جنگجوؤں میں سے ایک سے ویگنر کے بارے میں وضاحت کرنے کو کہا تو انھوں نے جواب دیا: ‘یہ ایک ڈھانچہ ہے، جس کا مقصد ہمارے ملک کی سرحدوں سے باہر ریاست کے مفادات کو فروغ دینا ہے۔’

جہاں تک اس گروپ کے جنگجوؤں کا تعلق ہے اس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ یا تو ‘جنگ کے پیشہ ور’ ہیں، یا نوکری کی تلاش کرنے والے ہیں یا ایسے رومانوی خیال کے حاملین ہیں جو اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

دوسرے سابق لڑاکا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس گروپ کا کوئی واضح ضابطۂ یا اصول نہیں ہے۔ اگر کسی قیدی کے پاس فراہم کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہے وہ ‘غلام’ کے طور پر کام نہیں کر سکتا تھا تو پھر اس کا انجام واضح ہے۔’

روس کے انٹرنیشنل کونسل کے ساتھ کام کرنے والے ایک ماہر آندرے چوپریگن نے کہا کہ روسی حکومت کا موقف یہ ہے کہ ‘انھیں اس چیز میں شامل ہونے دیں، اور ہم دیکھیں گے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ اگر یہ چل نکلتا ہے ہم اس کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں گے۔ اور اگر برا ثابت ہوتا ہے تو ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔’

لیبیا

لیبیا – شورش کی ایک دہائی

سنہ 2011 قذافی کا زوال: کرنل معمر قذافی کی چار دہائیوں سے زائد حکمرانی کا دور بہار عرب کی تحریک کے نتیجے میں ختم ہو گیا۔ انھوں نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن پکڑ کر مار ڈالے گئے

ملک ٹوٹتا ہے: سنہ 2014 کے بعد مشرق اور مغرب میں بڑے متحارب دھڑے ابھرتے ہیں

اپریل 2019 میں طرابلس پر پیش قدمی: مشرقی افواج کے سربراہ جنرل حفتر نے طرابلس اور وہاں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت پر حملہ کیا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ہتھیاروں کی پابندی کے باوجود دونوں فریقین کو مختلف علاقائی طاقتوں کی عسکری اور سفارتی مدد حاصل رہی۔

اکتوبر 2020 میں جنگ بندی: پھر سنہ 2021 کے اوائل میں ایک نئے اتحاد کی حکومت کا انتخاب کیا گیا اور حلف برداری ہوئی تاکہ دسمبر میں انتخابات کرایا جا سکے۔ غیر ملکی جنگجوؤں اور کرائے کے فوجیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وہاں سے چلے گئے۔ لیکن ہزاروں اب بھی وہاں ہیں۔



Source link

Leave a Reply