ٹوکیو اولمپکس: میرا بائی چانو کا مقابلہ ادھورا چھوڑنے سے لے کر چیمپیئن بننے تک کا سفر

59 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہVINCENZO PINTO/AFP/Getty Images

انڈین ویٹ لفٹر میرا بائی چانو اولمپکس میں ویٹ لفٹنگ میں چاندی کا تمغہ جیتنے والی پہلی انڈین کھلاڑی ہیں۔

انھوں نے یہ میڈل 49 کلوگرام وزن میں جیتا ہے۔ اس زمرے میں چین کی ہو ژئی نے طلائی اور انڈونیشیا کی ونڈی آساہ نے کانسی کا تمغہ جیتا۔

چانو نے مجموعی طور پر 202 کلوگرام وزن اٹھا کر انڈیا کے لیے چاندی کا تمغہ جیتا۔

انھوں نے سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’میرے نزدیک ایسا ہی ہے جیسے ایک خواب پورا ہو جائے۔ میں یہ تمغہ اپنے ملک کے لیے وقف کرتی ہوں۔ اس سفر میں لاکھوں انڈین شہریوں نے میرے لیے دعا کی اور میرے ساتھ رہے، میں اس کے لیے شکر گزار ہوں۔‘

سنہ 2016 کے ریو اولمپکس میں ناقص کارکردگی سے ٹوکیو اولمپکس میں میڈل تک

اگر آپ اولمپکس جیسے میچ میں دوسرے کھلاڑیوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں تو یہ ایک الگ بات ہے لیکن اگر آپ اپنا کھیل مکمل نہیں کرسکتے ہیں تو یہ کسی بھی کھلاڑی کا حوصلہ توڑ سکتا ہے۔

ایسا ہی کچھ ویٹ لفٹر میرابائی چانو کے ساتھ سنہ 2016 میں ہوا تھا۔ میرا اولمپکس میں اپنی کلاس کی صرف دوسری ایتھلیٹ تھی، جن کے نام کے سامنے اولمپکس میں لکھا گیا کہ مقابلہ ختم نہیں کیا گیا۔

روزانہ مشق میں میرا جس وزن کو آسانی سے اٹھاتی تھیں، اس دن اولمپکس میں ان کے ہاتھ برف کی طرح جم گئے تھے۔ اس وقت انڈیا میں رات تھی، لہذا بہت ہی کم انڈین شہریوں نے وہ نظارہ دیکھا۔

جب صبح انڈیا کے کھیلوں سے محبت کرنے والوں نے یہ خبر پڑھی تو میرا بائی راتوں رات انڈین شائقین کی نظر میں ولن بن گئیں۔ یہ اس حد تک پہنچا کہ سنہ 2016 کے بعد وہ ڈپریشن میں چلی گئیں اور انھیں ہر ہفتے مشاورت کے سیشن لینے پڑیں۔

میرا بائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس ناکامی کے بعد میرا نے کھیل کو الوداع کرنے کا ذہن بنا لیا تھا لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور بین الاقوامی مقابلوں میں زبردست واپسی کی۔

میرابائی چانو نے سنہ 2018 میں آسٹریلیا میں دولت مشترکہ کھیلوں میں 48 کلوگرام ویٹ لفٹنگ میں طلائی تمغہ جیتا تھا اور اب وہ اولمپک تمغہ حاصل چکی ہیں۔

وزن برقرار رکھنے کے لیے کھانا بھی نہیں کھایا

ویسے 4 فٹ 11 انچ کی میرا بائی چانو کو دیکھ کر یہ اندازہ کرنا بھی مشکل ہے کہ ایک چھوٹی سی میرا بڑے بڑوں کے چھکے چھڑا سکتی ہے۔

میرا نے سنہ 2017 ورلڈ ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں اپنے وزن سے تقریباً چار گنا یعنی 194 کلوگرام وزن اٹھا کر سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

میرا بائی پچھلے 22 برسوں میں ایسا کرنے والی پہلی انڈین خاتون بن گئیں۔

میرا نے 48 کلو وزن برقرار رکھنے کے لیے اس دن کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ اس دن کی تیاری کے لیے میرا بائی نے گذشتہ سال اپنی حقیقی بہن کی شادی میں شرکت بھی نہیں کی تھی۔

انڈیا کے لیے تمغہ جیتنے والی میرا کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس تکلیف کے گواہ تھے جس سے وہ سنہ 2016 سے گزر رہی تھیں۔

بانس کے ساتھ ویٹ لفٹنگ کی مشق

آٹھ اگست 1994 کو پیدا ہونے والی میرا منی پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پلی بڑھیں۔ میرابائی بچپن سے ہی بہت ہنرمند تھیں۔ ان کا گاؤں سہولیات سے محروم امفال سے 200 کلومیٹر دور کا ایک علاقہ تھا۔

انھی دنوں میں منی پور سے تعلق رکھنے والی خاتون ویٹ لفٹر کنجورانی دیوی جو ایک سٹار تھیں، ایتھنز اولمپکس میں کھیلنے گئی تھیں۔

بس یہی منظر چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی میرابائی کے ذہن میں بس گیا اور انھوں نے ویٹ لفٹر بننے کا فیصلہ کیا۔

میرا بائی

،تصویر کا ذریعہDean Mouhtaropoulos/Getty Images

میرا کے اصرار کے سامنے والدین کو بھی ہار ماننا پڑی۔ جب انھوں نے سنہ 2007 میں پریکٹس کرنا شروع کی تھی تو پہلے ان کے پاس لوہے کی بار نہیں تھی لہذا وہ بانس سے مشق کرتی تھیں۔

ان کے گاؤں میں کوئی ٹریننگ سینٹر نہیں تھا تو وہ تربیت کے لیے 50-60 کلومیٹر دور جایا کرتی تھیں۔ غذا میں روزانہ دودھ اور مرغی کی ضرورت ہوتی تھی لیکن ان کے خاندان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا مگر انھوں نے اسے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

11 برسوں میں وہ انڈر 15 چیمپیئن بن گئیں اور 17 برسوں میں وہ جونیئر چیمپیئن بن گئیں۔ کنجورانی کو دیکھ کر میرا کا بھی چیمپیئن بننے کا خواب تھا، میرا نے 192 کلوگرام وزن اٹھا کر انھی کا 12 سال کا قومی ریکارڈ توڑ دیا۔

تاہم اس وقت بھی سفر آسان نہیں تھا کیونکہ میرا کے والدین کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔ وہ اس نہج پر پہنج چکی تھیں کہ اگر وہ ریو اولمپکس کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکیں تو وہ اس کھیل کو خیرباد کہہ دیں گی۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ عالمی چیمپین شپ کے علاوہ میرابائی نے گلاسگو دولت مشترکہ کھیلوں میں چاندی کا تمغہ بھی جیتا ہے۔

ویسے ویٹ لفٹنگ کے علاوہ میرا کو رقص کا بھی شوق ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ ’بعض اوقات تربیت کے بعد میں کمرے کو بند کر کے رقص کرتی ہوں اور مجھے سلمان خان پسند ہیں۔‘



Source link

Leave a Reply