ٹیلی میڈیسن: پاکستان میں شادی شدہ خواتین ڈاکٹروں کا گھر بیٹھے روزگار کمانے کا ذریعہ

  • سوامی ناتھن نتاراجن
  • بی بی سی ورلڈ سروس

4 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہDr Anum Ahmed

،تصویر کا کیپشن

ڈاکٹر انعم کووڈ کے ایسے مریضوں کا علاج کرتی ہیں جو ذیابیطس کے مرض میں بھی مبتلا ہیں

صحت کے شعبے میں ٹیلی میڈیسن کی سہولت کئی برسوں سے مہیا تھی لیکن کووڈ کی وبا کے دوران اس کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ٹیلی میڈیسن پاکستان میں بے روزگار خواتین ڈاکٹروں کو واپس کام پر لانے کا سبب بن رہی ہے۔

ایک حاملہ ڈاکٹر جو کووڈ کے مریضوں کا علاج کر رہی تھیں وہ بچے کی پیدائش کے صرف 24 گھنٹوں بعد کام پر واپس آ چکی تھی کیونکہ وہ اس گھڑی مریضوں کی مدد کرنا چاہتی تھی۔

ڈاکٹر سارہ سعید خرم بتاتی ہیں کہ آن لائن پلیٹ فارم نے ایسا ممکن بنا دیا۔

ڈاکٹر سارہ سعید ’صحت کہانی‘ ڈیجیٹل ہیلتھ سروس کی شریک بانی ہیں، جو مریضوں کو ویڈیو کے ذریعے خواتین ڈاکٹروں سے ملا رہا ہے۔

ڈاکٹر سارہ بتاتی ہیں کہ پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں طالبات کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے لیکن پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں میں خواتین کی شرح صرف 23 فیصد ہے۔

اس فرق کی وجہ ڈاکٹروں کے سخت اوقات کار اور وہ سماجی رویے ہیں۔ کئی عورتیں شادی کے بعد کئی وجوہات کی وجہ سے اپنے کیریئر کو خیرباد کہہ دیتی ہیں لیکن ٹیلی میڈیسن اب اس فرق کو کم کر رہی ہے اور ڈاکٹروں کو گھر سے کام کرنے کی سہولت مہیا کر رہی ہے۔

ڈاکٹر انعم

،تصویر کا ذریعہDr Anum Ahmed

وبا کے دوران دور سے صحت کی سہولیات کی مانگ بہت اضافہ دیکھنے میں آیا۔ کئی کمپنیوں نے ایسی خواتین ڈاکٹروں کو بھرتی کرنا شروع کر دیا جو کسی وجہ سےکام چھوڑ کر گھر میں بیٹھ چکی تھیں۔

ڈاکٹر سارہ بتاتی ہیں کہ گذشتہ ایک سال میں ہمارے پول میں خواتین ڈاکٹروں کی تعداد 1500 سے بڑھ کر 5000 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

اہم انتخاب

ڈاکٹر انعم احمد کا شمار ایسی ڈاکٹروں میں ہوتا ہے جو ٹیلی میڈیسن کے باعث واپس اپنے پیشے میں آ رہی ہیں۔

ڈاکٹر انعم 2016 میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ اور انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں کام کر رہی تھیں۔ لیکن مارچ 2020 میں کراچی کی اس ڈاکٹر کی زندگی میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی۔

ڈاکٹر انعم نے بی بی سی کو بتایا کہ میں تو گھر میں بچے کی دیکھ بھال کے علاوہ کچھ خاص نہیں کر رہی تھی۔

ڈاکٹر انعم جانتی ہیں کہ ان کی کئی دوستوں نے شوہروں کے دباؤ میں ہسپتال کی نوکری کو چھوڑ دیا تھا۔ کچھ کو تو گھر سے بھی کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

ڈاکٹر انعم

،تصویر کا ذریعہDr Anum Ahmed

ڈاکٹر انعم کو اپنے شوہر سے کسی ایسے دباؤ کا سامنا نہیں تھا لیکن وہ خود اپنے پیشے اور گھر کی ذمہ داریوں میں توازن نہیں رکھ پا رہی تھیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے کام کا بوجھ بہت زیادہ تھا اور کئی بار تو ان کی شفٹ 36 سے 48 گھنٹے تک بھی چلتی تھی۔

ڈاکٹر انعم کہتی ہیں ’مجھے اپنی دو قیمتی چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ ظاہر ہے میری بیٹی میرے کیریئر سے زیادہ اہم ہے۔‘

ڈاکٹر انعم کہتی ہیں کہ ’ہم ڈاکٹر ماؤں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کم از کم چھ ماہ تک بچے کو اپنا دودھ پلائیں جبکہ ہمیں میٹرنٹی چھٹی صرف تین ماہ کی ملتی ہے۔‘

ڈاکٹر انعم نے تین سال کا کیریئر بریک لینے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن جب کووڈ کی وبا پھیلی تو انھیں محسوس ہوا کہ وہ اپنے پیشے سے دور نہیں رہ سکتیں۔

انھوں نے ٹیلی میڈیسن کے بارے میں اپنی بہن سے سنا جو خود بھی ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر انعم نے چھ ماہ کی میٹرنٹی چھٹی کے بعد گھر سے مریضوں کا علاج شروع کر دیا۔

ڈاکٹر انعم

،تصویر کا ذریعہDr Anum Ahmed

،تصویر کا کیپشن

ڈاکٹر انعم اب گھر سے کام کرتی ہیں اور اپنی بیٹی اور کام دونوں کو وقت دے سکتی ہیں

ٹیلی میڈیسن نہ صرف ان کے لیے نئی تھی بلکہ ان کے مریضوں کے لیے بھی نئی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے مریضوں کو چھو نہیں سکتی، میں ان کی نبض چیک نہیں کر سکتی۔‘

’کچھ مریض کیمرے سے شرماتے ہیں۔ وہ اپنے دوستوں سے ویڈیو پر بات کر سکتے ہیں ڈاکٹر کو کہیں گے کہ میں اپنے چہرے نہیں دکھاؤں گی۔‘

وہ کووڈ کے ایسے مریضوں کے علاج پر توجہ دے رہی ہیں جنھیں ذیابیطس کا مرض بھی لاحق ہے۔

ڈاکٹر انعم بتاتی ہیں کہ شروع میں اگر کسی میں کووڈ کی نرم علامات بھی تھیں تب بھی انھیں ہسپتال میں داخل کیا جا رہا تھا جب کہ ایسے مریض جن کی علامات شدید تھیں وہ بغیر علاج کے ہی فوت ہو رہے تھے۔

’جب ہم نے کووڈ کی نرم علامات والے مریضوں کا علاج شروع کیا تو ہسپتالوں پر بوجھ کم ہونا شروع ہو گیا۔‘

انھوں نے حال ہی ایک ایسے مریض کو دیکھا جس کے جسم میں آکسیجن کا لیول کم ہو رہا تھا۔ انھوں نے خاندان کو کہا کہ اسے فوراً ہسپتال منتقل کریں لیکن خاندان نے ان کے مشورے پر عمل نہیں کیا اور مریض رات کو فوت ہو گیا۔

ڈاکٹر انعم

،تصویر کا ذریعہDr Anum Ahmed

،تصویر کا کیپشن

سماجی رویے اور کام کا بوجھ کئی پاکستانی خواتین ڈاکٹروں کو اپنا کیئریر چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں

ڈاکٹر انعم بتاتی ہیں کہ ’پھر اسی خاندان میں ماں کو بھی کووڈ ہو گیا، ان کے بیٹے نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ڈاکٹر آپ جیسا کہیں گیں میں ایسا ہی کروں گا۔‘

ان کی دوائیوں کی وجہ سے مریض کی حالت سنبھل گئی اور وہ بالآخر صحت یاب ہو گئیں۔

ابھی تک آن لائن مریضوں کی اکثریت خواتین مریضوں کی ہے جو اپنے علاج کے علاوہ اپنے زندگی کے دوسرے معاملات کو زیربحث لاتی ہیں۔ .

ڈاکٹر انعم کہتی ہیں کہ ٹیلی میڈیسن نہ صرف مجھے اپنے کیریئر میں واپس لے آئی بلکہ مجھے بچے کی ولادت کے بعد ڈیپریشن سے بھی بچایا۔

’اب میں خود کو بہت کارآمد سمجھتی ہوں اور میرے بہت سے مریض ہیں۔‘

ڈاکٹر انعم اپنی آمدن میں سے آن لائن پیلٹ فارم کو ان کا حصہ دینے کے بعد ہر ماہ تقریباً 200 ڈالر کما لیتی ہیں۔

یہ کمائی میٹرنٹی چھٹی پر جانے سے پہلے ان کی تنخواہ کا صرف 30 فیصد ہے۔ وہ اس آمدن سے اسلام آباد میں ایک سٹوڈیو فلیٹ کا کرایے پر لینے کے قابل ہیں جہاں وہ رہتی ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

،ویڈیو کیپشن

پاکستانی میڈیکل کالجوں کے طالبعلموں میں 70 فیصد خواتین ہونے کے باوجود ملک میں خواتین ڈاکٹروں کی کمی ہے

‏‏چمکتا ہوا کاروبار

ٹیلی میڈیسن کے پھیلتے ہوئے کاروبار کی وجہ سے پاکستان میں کئی ایسی کمپنیاں قائم ہو چکی ہیں جن میں ’ڈاک ہرز‘، ’عہد‘، ’دوائی‘، ‘شفافاریو‘، ’ڈاکٹر آن لائن‘، ’اولا ڈاک‘، ‘رنگ اے ڈاکٹر‘ اور ’صحت یاب‘ شامل ہیں۔

کچھ کمپنیاں کمرشل ماڈل کے تحت چلتی ہیں جنھیں ڈونر سے فنڈنگ ملتی ہے۔

ایسا ہی ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ای ڈاکٹر ہے جس نے بیرون ملک مقیم پاکستانی نژاد خواتین ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرنا شروع کی ہیں۔

عبداللہ بٹ کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 35 ہزار پاکستانی خواتین ڈاکٹر جو ملک کے اندر اور بیرون ملک مقیم ہیں وہ اپنے پیشے سے منسلک نہیں ہیں۔

ڈاکٹر ریحانہ بھی انھی میں سے ایک ہیں۔

ڈاکٹر ریحانہ

،تصویر کا ذریعہRehana Din Mohammed

،تصویر کا کیپشن

ڈاکٹر ریحانہ نے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے بااعتبار آیا نہ ملنے پر خود کام چھوڑ دیا تھا

ڈاکٹر ریحانہ پاکستان میں جنرل پریکٹیشنر کے طور پر کام کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ منتقل گئیں جہاں انہوں نے سعودی عرب اور بحرین میں کام کیا۔

ایک اومانی آئل انجنیئر سے شادی کے بعد ڈاکٹر ریحانہ کا 13 سالہ کیریئر اس وقت ختم ہو گیا تھا۔

ڈاکٹر ریحانہ بتاتی ہیں ’میرے تین بچے ہیں۔ میری شوہر دو ہفتے کام اور دو ہفتے چھٹی والے روٹا شیڈول پر کام کرتے ہیں۔ میں نے ایک بااعتبار آیا ڈھونڈنے میں ناکامی کے بعد خود کام کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔‘

پھر انھیں ٹیلی میڈیسن کے ایک موقع ملا۔ وہ پاکستانی یونیورسٹی سے آن لائن ریفریشر کورس کر کے پھر اپنے کیریئر میں لوٹ آئی ہیں۔

وہ صوبہ سندھ میں کووڈ کے ایسے مریضوں کی نگرانی کرتی ہیں جن کا گھر میں علاج کیا جا رہا ہے۔

جنگ زدہ علاقوں میں مریضوں کا علاج

صحت کی ریموٹ سہولیات اب پاکستان سے باہر جنگ زدہ علاقوں میں پہنچنا شروع ہو چکی ہیں۔

عبداللہ بٹ جو پچیس مختلف مقامات پر 1000 ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ ’ہم ڈاکٹروں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ جنگ زدہ علاقوں میں بھی کام کریں جس سے انھیں دلی تسکین حاصل ہو گی۔‘

ڈاکٹر ریحانہ جو عربی زبان بھی روانی سے بولتی ہیں انھوں نے جنگ زدہ یمن میں بچوں اور عورتوں کا علاج شروع کیا ہے۔

ڈاکٹر ریحانہ

،تصویر کا ذریعہedoctors

،تصویر کا کیپشن

ڈاکٹر ریحانہ یمنی عورتوں کا علاج مفت کرتی ہیں

مریض ایسے کمیونٹی سینٹروں میں جاتے ہیں جنھیں نرسیں چلا رہی ہیں۔ وہاں میڈیکل آلات موجود ہے اور وہاں سے ان کو ڈاکٹر سے ملا دیا جاتا ہے۔ یہ سب مفت ہے۔

ڈاکٹر ریحانہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس ڈیجیٹل سٹیتھوسکوپ ہے، میں اس کی ریڈنگ دیکھ سکتی ہوں۔ ہمارے پاس آٹوسکوپ بھی ہے، کانوں کو چیک کرنے کے لیے۔‘

ڈآکٹر ریحانہ کہتی ہیں کہ ’مریضوں کی اکثریت ان پڑھ اور غریب ہیں۔ کئی عورتوں کو گندے پانی کی وجہ سے جلد کے مسائل ہیں۔ بچے خوراک کی کمی کی وجہ سے لاغر ہیں۔‘

ان کے یمن میں مختلف مقامات پر تین ٹیلی کلینک کام کر رہے ہیں اور تین مزید ایسے ٹیلی کلینک قائم کا منصوبہ ہے۔

وہ مستقبل قریب میں غزہ میں بھی ٹیلی کلینک کھولنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر ریحانہ کہتی ہیں کہ جب میرے بچے بڑے ہو جائیں تو وہ واپس ہسپتال میں جا کر کام کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ تب بھی جنگ زدہ علاقوں میں مریضوں کی مدد کرنا چاہیں گیں۔ وہ یمنی مریضوں سے فیس نہیں لیتیں۔

خواتین ڈاکٹر

،تصویر کا ذریعہSehat Kahani

،تصویر کا کیپشن

پاکستان میں ایسی خواتین ڈاکٹر جو کیریئر چھوڑ چکی تھیں وہ اب ٹیلی میڈیسن کی وجہ سے اپنے کیریئر میں واپس آ رہی ہیں

ڈاکٹر سے آن لائن مشاورت سے مریض کا وقت اور پیسے کی بچت ہوتی ہے۔

پاکستان کی بیس کروڑ آبادی میں صرف آدھی آبادی کو کوالیفائیڈ ڈاکٹروں تک رسائی حاصل ہے۔ اب دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ سپیشلٹ ڈاکٹروں سے مشورہ کر سکتے ہیں اور اس کے لیے انھیں صرف ایک موبائل فون کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر سارہ سعید کہتی ہیں کہ مریضوں کا ٹیلی میڈیسن پر اعتبار بڑھتا جا رہا ہے۔

’ٹیلی میڈیسن خواتین ڈاکٹروں کو اپنی تہذیب اور سماجی رکاوٹوں کے اندر رہ کر کام کرنے کا موقع دی رہی ہے۔ اس سے ڈاکٹروں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوا ہے۔‘



Source link

Leave a Reply