پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا تیسرا ٹیسٹ میچ: آسٹریلین فاسٹ بولرز کی تباہ کن بولنگ، پاکستانی بیٹنگ ڈھیر

23 مار چ 2022، 18:34 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 46 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

بابر اعظم 67 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے

لاہور میں کھیلے جا رہے تیرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن آسٹریلیا کے فاسٹ بولروں نے میچ کے آخری گھنٹے میں انتہائی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے صرف دس اوروں میں سات وکٹیں حاصل کر کے میچ پر آسٹریلیا کی گرفت مضبوط کر لی ہے۔

آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں 391 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں 268 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ لاہور ٹیسٹ سے پہلے پاکستان اور آسٹریلیا کی درمیان راولپنڈی اور کراچی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ برابر ہوگئے تھے۔

پاکستان نے تیسرے دن کا کھیل 90 رنز کے سکور پر ایک کھلاڑی آؤٹ پر شروع کیا اور دونوں ناٹ آؤٹ بیٹسمینوں اظہر علی اور عبداللہ شفیق محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کے سکور میں اضافہ کرتے رہے۔

نوجوان کھلاڑی عبداللہ شفیق 81 رنز بنا کر سپنر نیتھن لائن کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ اظہر علی اور عبداللہ شفیق کی شراکت میں 150 رنز بنے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان آسٹریلیا کے 391 رنز کے جواب میں بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہو گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

عبداللہ شفیق کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان بابر اعظم نے اظہر علی کے ساتھ مل کر ٹیم کے سکور کو آگے بڑھانا شروع کیا۔

اظہر علی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

اظہر علی نے 78 رنز سکور کیے

جب فاسٹ بولر پیٹ کمنز نے اپنی ہی گیند پر اظہر علی کا ایک انتہائی شاندار کیچ کر کے میچ میں اپنی دوسری وکٹ حاصل کی، تو پاکستان کی ٹیم کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔

فواد عالم کے وکٹ پر آنے کے بعد آسٹریلیا کی بولنگ اچانک انتہائی موثر لگنے لگی۔ فواد عالم کو آسٹریلین بولروں کو کھیلنے میں سخت مشکلات پیش آ رہی تھیں۔

عبداللہ شفیق

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

عبداللہ شفیق نے پہلی اننگز میں سب سے زیادہ 81 رنز بنائے

فواد عالم جب 13 رنز بنا کر مچل سٹارک کی گیند پر بولڈ ہوئے تو اس کے بعد پاکستان کی وکٹیں خزاں کے پتوں کی طرح جھڑنے لگیں اور صرف دس اوروں میں سات وکٹیں گر گئیں۔

جب تک بابر اعظم وکٹ پر رہے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان آسٹریلیا کے سکور کے قریب پہنچ جائے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ایک اینڈ سے مسلسل وکٹیں گرتی رہیں۔ بابر اعظم 67 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

فواد عالم

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

فواد عالم مشکل میں نظر آئے اور صرف 13 رنز بنا سکے

پاکستانی بیٹسمین آسٹریلین فاسٹ بولروں کی ریورس سوئنگ کا مقابلہ نہ کر سکے۔ فاسٹ بولر مچل سٹارک نے جنھوں نے پاکستان کی اننگز کی تباہی کا آغاز کیا، چار اور کپتان پیٹ کمنز نے پانچ وکٹیں لے کر ٹیم کی پوزیشن کو انتہائی مضبوط بنا دیا ہے۔

تیسرے دن کے اختتام پر آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز میں بغیر کسی نقصان کے 11 رنز بنائے اور آسٹریلیا کی مجموعی برتری 134 رنز کی ہو چکی ہے۔

رضوان اس گیند کا کچھ نہیں کر سکتے تھے

سٹارک نے رضوان کو ایک انتہائی عمدہ گیند پر بولڈ کیا جسے تجزیہ کاروں کی جانب سے اور سوشل میڈیا پر بھی خوب سراہا جا رہا ہے اور اس کے کلپس شیئر کیے جا رہے ہیں۔ رضوان صرف ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔

کرکٹ تجزیہ کار عامر ملک نے لکھا کہ رضوان ’اس کا کچھ نہیں کر سکتے تھے‘۔

عاطف نواز نے آسٹریلوی بولرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کی وکٹوں میں سے سب سے عمدہ سٹارک کی رضوان کو کی گئی وہ گیند تھی جس پر وہ آؤٹ ہوئے۔

رضوان سے پہلے فواد عالم کریز پر مشکل میں نظر آئے اور صرف 13 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ ان کا نام پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ دوسری جانب میچ کے دوران فواد عالم کے کریز میں کھڑے ہونے کے انداز پر ایک مرتبہ پھر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ فواد کے کھڑے ہونے اور بلا پکڑنے کے غیر روایتی انداز پر اکثر تبصرے کیے جاتے ہیں۔

احمر راجہ نے لکھا کہ ’فواد نے اس سیریز میں کوالٹی بولنگ کے سامنے مایوس کیا ہے۔‘

ہادیل عبید نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا ہم کبھی ان کے انداز پر تبصرہ کرنے سے تھکیں گے۔ ’سال ہے 2030۔ کمنٹیٹر آج بھی فواد عالم کے سٹانس پر بات کر رہے ہیں۔‘

فرید خان نے لکھا کہ ’فواد عالم نے اس سے زیادہ مشکل کنڈیشنز میں کھیلا ہے اور وہ زیادہ مضبوطی سے واپس آئیں گے۔ یہ کھیل کے بہترین کھلاڑئوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

حماد نامی صارف نے ایک میم شیئر کی جس میں فواد عالم کے آؤٹ ہونے اور اس کے بعد رضوان کے کریز پر آنے سے متعلق جذبات کی عکاسی کے لیے بطور میزبان پی ایس ایل میں خدمات سرانجام دینے والی ایرن ہالینڈ کے تاثرات کا استعمال کیا گیا ہے۔



Source link