پاکستان کرکٹ ٹیم: ’ناگہانیوں‘ میں گِھرا پاکستان کرکٹ بورڈ

  • سمیع چوہدری
  • کرکٹ تجزیہ کار

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ناگہانیاں کبھی بھی پاکستان کرکٹ کے لیے اجنبی نہیں رہیں۔ یہاں فیصلہ سازی کا رجحان ہی کچھ ایسا رہا ہے کہ استحکام، تسلسل اور مستقل مزاجی اجنبی سے لفظ محسوس ہوتے ہیں۔

پچھلے چند روز پاکستان کرکٹ کے لیے خاصے عجیب و غریب سے رہے ہیں۔ احسان مانی کی ’ناگہانی‘ رخصتی، رمیز راجہ کے تقرر کی ’بوالعجبی‘ اور چیف سلیکٹر محمد وسیم کا ناقابلِ فہم ورلڈ ٹی ٹونٹی سکواڈ ابھی ہوش اڑائے لیے جاتے تھے کہ مصباح الحق اور وقار یونس نے بھی اس ہنگامہ خیزی میں اپنا حصہ ڈال دیا۔

ورلڈ کپ سے 40 روز پہلے جانے کے فیصلے کی واحد خوبی یہ ہو سکتی ہے کہ کم از کم یہی اعلان ان دونوں حضرات کو ورلڈ کپ کے چالیس دن بعد نہیں کرنا پڑے گا جو کہ ایسی سکواڈ سلیکشن اور حالیہ فارم کے بعد ناگزیر ہی ٹھہرتا۔

رمیز راجہ نے عمران خان سے ملاقات بارے بتلایا تھا کہ انھوں نے ورلڈ کپ فاتح کپتان کے سامنے اپنا یہ ’مقالہ’ پیش کیا کہ کسی بھی فارمیٹ میں پاکستان ٹاپ فور کی دوڑ میں شامل ہونے کے لائق نہیں۔ بات تو سچ ہے مگر یہ سچ تو ان کے کہے بنا بھی سبھی کے علم میں ہی تھا۔

مگر ان کے اس ’مقالے‘ نے بہرحال انھیں پی سی بی کی سربراہی ضرور دلوا دی ہے۔

رمیز راجہ کا بطور چئیرمین تقرر پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم ’سنگِ میل‘ ہو گا اور فی الوقت دعا یہی ہے کہ کل کلاں یہ سنگِ میل کسی ’نازک موڑ‘ میں نہ بدل جائے۔ مگر یہ طے ہے کہ رمیز راجہ کے آنے پہ مصباح الحق اور وقار یونس کو جانا ہی تھا۔ معاملہ بس اتنا تھا کہ بقول میر

جی کا جانا ٹھہر رہا ہے، صبح گیا یا شام گیا

مصباح الحق

،تصویر کا ذریعہAFP

بطور مبصر رمیز راجہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے ہیں اور بہت سے گھاٹ ایسے ہیں جہاں رمیز، مصباح اور وقار نے اکٹھے بھی پانی پیا ہے مگر مکی آرتھر اور سرفراز احمد کی جوڑی کے مشتاق رمیز راجہ کبھی بھی مصباح اور وقار کی جوڑی کے ’فین‘ نہیں رہے۔

اگرچہ مصباح اور وقار کی جوڑی نے دو سال میں پاکستان کرکٹ کو کسی بامِ عروج تک نہیں پہنچایا اور نتائج بھی ملے جلے رہے مگر خوش آئند پہلو یہ تھا کہ محمد عامر اور وہاب ریاض کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیسٹ ٹیم کا نیا بولنگ اٹیک تیار کیا، فواد عالم کو واپس لا کر مڈل آرڈر مضبوط کیا اور محمد رضوان اور فہیم اشرف جیسے کھلاڑی تیار کر کے ٹیسٹ ٹیم کی ایک مثبت شکل نکالی۔

ٹی ٹونٹی میں بھی نتائج بہت متاثر کن نہیں رہے مگر دورۂ انگلینڈ سے پہلے چھ ماہ کے نتائج بتدریج بہتری کی طرف جا رہے تھے اور شاید تھوڑا صبر کسی مستقل علاج کی طرف لے جاتا مگر اب بات پھر ٹونوں ٹوٹکوں کی طرف جاتی نظر آ رہی ہے۔

کیونکہ جس طرح کا سکواڈ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے لیے چنا گیا ہے، اسے دیکھ کر کئی سوال ابھرتے ہیں کہ کون سی ٹیم ہو گی جو فخر زمان کو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ نہیں کھلانا چاہے گی اور اعظم خان کو کھلانا چاہے گی؟ جن سپن کنڈیشنز کا شور مچا کر فیصلے کیے جا رہے ہیں، کیا ویسی ہی سپن ورلڈ کپ کی وکٹوں میں دیکھنے کو ملے گی؟

اور اگر واقعی وکٹیں اتنی سست ثابت ہوئیں جتنا محمد وسیم توقع کر رہے ہیں تو کہیں پاکستانی مڈل آرڈر کو شعیب ملک کی کمی تو محسوس نہیں ہو گی؟ کیونکہ حالیہ سکواڈ میں صرف محمد حفیظ ہی ہیں جو مڈل آرڈر میں سپن کے خلاف مزاحم ثابت ہو سکتے ہیں۔

اعظم خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ثقلین مشتاق اور عبدالرزاق کا بطور عبوری کوچ تقرر ایک ایسا ’جز وقتی‘ حل دکھائی دیتا ہے جو سکروٹنی سے ماورا ہو گا کہ ٹیم کو ورلڈ کپ میں بھی انہی کوچز کے ساتھ جانا ہو گا اور یہ ہمہ قسمی نتائج و عواقب سے بری الذمہ ہوں گے۔ کیا برا تھا اگر رمیز راجہ ورلڈ کپ تک ہی اپنے وسیع و عریض اختیارات پہ ضبط کر لیتے؟

یہ تو طے نہیں کہ مصباح اور وقار پاکستان کو ورلڈ کپ جتوا دیتے مگر ایسے اہم موقع پہ ان دونوں کو گنوانا پاکستان کرکٹ کے لیے صدمے کی سی صورت حال ہے۔ بعینہٖ لازم نہیں تھا کہ احسان مانی پی سی بی سٹرکچر کو آسٹریلیا انگلینڈ کے لیول پہ لے آتے مگر اس غیر متوقع تبدیلی نے پی سی بی میں ہوتی کئی مثبت پیش رفتوں کی قسمت کو خلا میں معلق کر چھوڑا ہے۔

ناگہانیوں میں گھرے پی سی بی کی کشتی کی پتوار اب رمیز راجہ کے ہاتھ ہے اور بات محمد رفیع کے اس گیت کی سی ہے،

اے میرے یار! اے حسن والے! دل کیا میں نے تیرے حوالے

تیری مرضی پہ اب بات ٹھہری، جینے دے چاہے، تُو مار ڈالے



Source link

Leave a Reply