پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہاتھا پائی، اسد قیصر کا تحقیقات کا اعلان

15 جون 2021، 23:10 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہSocial Media

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصد نے بدھ کو قومی اسمبلی میں پیش آنے والے واقعات کو مایوس کُن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں گی۔

انھوں نے کہا ہے کہ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کو بدھ کو ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں منگل کو ہونے والا اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان باہم دست و گریباں نظر آئے۔

یاد رہے کہ پیر کو بھی اجلاس کے دوران شور شرابہ دیکھنے میں آیا تھا لیکن منگل کو ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصد نے اپنی ایک ٹویٹ میں اسمبلی میں ہونے والے واقعات کو مایوس کُن قرار دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں گی اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کو بدھ کو ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

قومی اسمبلی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@AsadQaiserPTI

اسمبلی میں کیا ہوا

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے تقریر شروع کی تو حکومتی ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی اور جلد ہی صورتحال ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ شہباز شریف نے اپنے خطاب میں حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنے دور میں کیے گئے اقدامات گنواتے رہے۔

حکومتی ارکان کی جانب سے مسلسل شور شرابہ کیا جاتا رہا جس کے بعد اپوزیشن کے ارکان نے شہباز شریف کے گرد گھیرا بنا لیا۔

مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریکِ انصاف کے ممبر اسمبلی ایک دوسرے پر بجٹ کی بھاری بھرکم کاپیاں پھینکتے ہوئے بھی دکھائی دیے اور پی ٹی آئی کے علی نواز اعوان اور مسلم لیگ (ن) کے شیخ روحیل اصغر کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا۔

علی نواز اعوان کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں وہ ناقابلِ اشاعت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے نظر آئے۔

یہاں تک کہ قومی اسمبلی میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے ذمہ دار اہلکار سارجنٹ ایٹ آرمز بھی اس ہاتھا پائی کو روکنے کی کوشش میں زخمی ہوئے۔

سیاسی رہنماؤں کے الزامات

اس معاملے پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے متفقہ طور پر یہی ردِعمل سامنے آیا ہے کہ منگل کو اسمبلی میں جو کچھ ہوا، وہ ٹھیک نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔

منگل کی شام وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اپوزیشن کے رویے نے پارلیمان کو اکھاڑا بنا کر رکھ دیا ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ صرف اُن کی تقریریں سنی جائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے اپوزیشن کو تجویز دی تھی کہ وہ وزیرِ اعظم اور حکومتی ارکان کو تقریر کرنے دیں اور حکومتی ارکان اُن کی تقریر سنیں، لیکن اُن کے مطابق ایسا نہیں ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما علی نواز اعوان نے جو زبان استعمال کی وہ ردعمل میں کی گئی اور اس تاثر کو رد کیا کہ اس کا آغاز اُن کی طرف سے ہوا تھا۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ایوان چلانا دونوں فریقین کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ ایوان نہیں چلانا چاہتے تو یہ ان کا اپنا نقصان ہے۔

اسی ٹی وی پروگرام میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جب ماضی میں مفتاح اسماعیل بجٹ پیش کر رہے تھے تو پی ٹی آئی کی رکنِ اسمبلی شیریں مزاری نے اُن کے مائیک کے بالکل قریب آ کر نعرے بازی کی تھی۔

اُنھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ارکان کی جانب سے یہ ہنگامہ آرائی وزیرِ اعظم عمران خان کے حکم پر ہو رہی ہے۔

احسن اقبال نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نہیں چاہتے کہ شہباز شریف کی جانب سے ’بجٹ کی سچائی‘ عوام تک پہنچے۔

اُنھوں نے فواد چوہدری کے اس مؤقف کو بھی رد کیا کہ اپوزیشن یہ ہنگامہ آرائی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیئر نائب صدر مریم نواز شریف کی شہہ پر کر رہی ہے۔

فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں ن لیگ کے اراکین اسمبلی پر تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون رکن اسمبلی ملیکہ بخاری کی آنکھ پر بجٹ کی کاپی لگنے سے ان کی آنکھ زخمی ہوگئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی سینیئر نائب صدر مریم نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ حکومتی ارکان کی جانب سے شور شرابہ اور ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنا ‘ذہنی طور پر اُن کی شکست کا اعتراف ہے۔’

قومی اسمبلی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MaryamNSharif

سوشل میڈیا ردعمل

صحافی و اینکر پرسن انیقہ نثار نے لکھا کہ ’قومی اسمبلی آج قوم کے لیے باعثِ شرم بن گئی ہے جہاں ارکانِ پارلیمنٹ نے بجٹ کو پڑھنے اور اس پر منطقی بحث کرنے کے بجائے اس کی کاپیوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔‘

قومی اسمبلی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Aniqanisar

فیضان اعظم نامی صارف نے ہنگامہ آرائی کی ویڈیو کے ساتھ سوال کیا کہ ’کیا وہ پاکستان کی نئی اور آنے واکی نسل کے لیے یہ مثال قائم کرنا چاہتے ہیں؟

ایک صارف محمد عثمان نے لکھا کہ ’جو لوگ آج ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے ہونے والی ہنگامہ آرائی پر لعن طعن اور شرمندگی کا اظہار کر رہے ہیں، ان سے سوال ہے کہ ان ‘تماشہ بینوں’ کو یہاں تک پہنچایا کس نے۔ اگر اس کے ذمہ دار عوام نہیں تو پھر کون ہے؟‘

قومی اسمبلی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@usmanyaseenbaga

خدیجہ رضوی نے لکھا کہ ’آج قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں فیصلے اپنے مفادات کے لیے ہوتے ہیں، عوام کے فائدے کے لیے نہیں۔‘

قومی اسمبلی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@K_DJ_1



Source link

Leave a Reply