پشاور میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو سکھ تاجر ہلاک

37 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہrescue 1122

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پشاور کے علاقے تھانہ سربند کی حدود بٹہ خیل بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے دو تاجر ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں 42 برس کے کلجیت سنگھ اور 38 سال کے رنجیت سنگھ ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان دونوں افراد کا تعلق ڈبگری گارڈن کے علاقے سے ہے اور مقتولین کی بٹہ تل بازار میں مصالحے کی دکانیں ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سید شعیب منصور کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس نگرانی میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور اطراف کے علاقوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کو چیک کیا جا رہا ہے اور ہیومن انٹیلیجنس سے بھی استفادہ حاصل کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور عنقریب اس واقعے میں ملوث ملزمان کو بے نقاب کر لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں خیبر پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس سلسلے کے چند واقعات میں پشاور میں پادری کا قتل، ضلع ہنگو میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں کا قتل، ڈیرہ اسماعیل خان میں تین شیعہ افراد کا قتل اور کوہاٹ اور بنوں میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔

حکیم سردار ستنام سنگھ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Sahib Singh

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ برس پشاور میں نامعلوم افراد نے معروف سکھ حکیم سردار ستنام سنگھ کو ان کے دواخانے میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ سردار ستنام ماہر طبیب تھے اور انھوں نے طب کی تعلیم میں گولڈ میڈل حاصل کر رکھا تھا

رواں برس فروری میں نوشہرہ میں سب انسپکٹر فیاض اور کانسٹیبل سجاد دورانِ ڈیوٹی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

حالیہ برسوں کے دوران خیبرپختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران سکھوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

پاکستان میں سکھوں کی سب بڑی تعداد پہلے قبائلی علاقوں میں آباد تھی تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں وہاں سے بیشتر سکھ اب خیبر پختونخوا کے علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔

پشاور میں بڑی تعداد میں سکھ رہائش پذیر ہیں جن میں رجسٹرڈ ووٹرز بھی شامل ہیں۔ پشاور کا محلہ جوگان شاہ سکھوں کا علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں قیام پاکستان سے سکھ برادری کے اراکین رہائش پزیر ہیں۔ یہاں سکھوں کا ایک تاریخی گرودوارہ بھی واقع ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے حالیہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انسپیکٹر جنرل پولیس کو قتل میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کے لیے ضروری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اس بہیمانہ قتل میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے کسی صورت بچ نہیں سکتے اور واقعے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

محمود خان کا مزید کہنا ہے کہ یہ واقعہ شہر کے پر امن ماحول اور بین المذاہب ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش ہے اور صوبائی حکومت ایسی کوششوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں اور سکھ برادری کے غم میں برابر کی شریک ہے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا۔



Source link