پشاور میں کوچہ رسالدار کی مسجد میں دھماکہ: ’لاشوں کو غسل دینے کے لیے جگہ کم پڑ گئی تھی‘

  • محمد زبیر خان
  • صحافی

45 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پشاور میں کوچہ رسالدار کی مسجد میں دھماکے میں علی حیدر کے سات قریبی رشتہ دار مارے گئے ہیں، جن میں ان کے کزن، چچا اور ماموں شامل تھے اور انھوں نے اپنے پیچھے مائیں، بیوائیں اور کم عمر بچے چھوڑے ہیں۔

علی حیدر کہتے ہیں کہ ہر گھر میں ایک دکھ کی کہانی ہے، ایک ایسی کہانی جس کے اثرات آنے والے کئی سال تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

علی حیدر کے مطابق سات تو وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ ان کی رشتہ داری تھی مگر باقی سب لوگوں کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات تھے۔

علی حیدر کہنے لگے ہم کبھی ایک گھر جاتے ہیں اور کبھی دوسرے گھر جاتے ہیں۔

’آج تیسرا دن ہے ہم لوگوں کے گھروں میں تعزیت کے لیے جانا چاہتے ہیں مگر ابھی تک ہم سب لوگوں کے گھروں میں نہیں جا سکے ہیں۔‘

یہ کہانی صرف علی حیدر ہی کی نہیں بلکہ بتایا جا رہا ہے کہ پشاور میں کم از کم چار ایسے خاندان ہیں، جن کے ایک سے زیادہ سگے رشتہ دار اس واقعے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار کی گلی کوچہ رسالدار میں نمازِ جمعہ کے وقت خود کش دھماکے میں 62 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

پشاور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حیدریہ ٹرسٹ پشاور نے واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کو تیار کفن فراہم کیے ہیں۔

حیدریہ ٹرسٹ پشاور کے حیات علی میر کہتے ہیں کہ ’ہم ایک گھر میں کفن دینے گئے تو ہمیں کہا گیا کہ ایک کیوں ہمیں مزید دو کفن چاہیے۔‘

’تین جنازے پڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح ہم لوگوں نے کوئی چار گھروں میں ایک سے زائد کفن دیے ہیں۔‘

اخونزادہ خاندان کے تین لوگ

اس واقعہ کے متاثرین میں پشاورکا مشہور اخونزادہ خاندان بھی شامل ہے۔ اس خاندان کے تین لوگ اخونزادہ مجاہد علی اکبر، اخونزادہ علی حسن اور اخونزادہ مظہر علی بھی ہلاک ہوئے ہیں، جو تینوں آپس میں چچا زاد بھائی تھے۔

حیدریہ ٹرسٹ پشاور کے نعلین عباس کہتے ہیں کہ اخونزادہ مجاہد علی اکبر اور اخونزادہ مظہر علی بلند پایا ذاکر اور نعت خوان تھے۔

’رمضان سے پہلے کے اسلامی مہینوں رجب اور شعبان میں ہماری مذہبی مجالس ہوتی ہیں۔ اخونزادہ مجاہد علی اکبر اور اخونزادہ مظہر علی مختلف مجالس منعقد کر رہے تھے۔ اخونزادہ مجاہد علی اکبر نے واقعے سے ایک روز پہلے بھی مجلس منعقد کی تھی۔ جس میں انھوں نے ظلم پر ڈٹ جانے کا درس دیا تھا۔‘

اخونزادہ خاندان

،تصویر کا ذریعہ Hayat Ali Mir

ان کا کہنا تھا کہ اخونزادہ مجاہد علی اکبر اور اخونزادہ مظہر علی پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی شعبان میں مجالس منعقد کیا کرتے تھے۔

’ان کی مجالس کی تاریخیں وقت سے پہلے طے ہو جایا کرتی تھیں۔ ان کو سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے۔‘

نعلین عباس کہتے ہیں کہ ’اخونزادہ مجاہد علی اکبر اور اخونزادہ مظہر علی اب مجالس منعقد نہیں کر سکیں گے اور ہم لوگ ان کی آواز کو ترسیں گے اور ان کو یاد کریں گے۔‘

اخوانزادہ مجاہد علی اکبر

،تصویر کا ذریعہCourtesy: Hayat Ali Mir

،تصویر کا کیپشن

اخوانزادہ مجاہد علی اکبر

دو کزن جن کی دوستی پورے پشاور میں ضرب المثال تھی

پشاور واقعے میں ’زمانہ شاہ جی ٹی سٹور‘ جو پورے ملک میں چائے کی پتی فراہم کرنے کے لیے مشہور ہیں، کے خاندان کے تین لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں اس سٹور کے مالک سید انیق حسین رضوی ان کے کزن اور بینک آفسیر سید افضال شاہ اور ان کے قریبی رشتہ دار سید انیس حسین رضوی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

علی حیدر کہتے ہیں کہ سید افضال شاہ اور سید انیق شاہ آپس میں کزن تھے اور ایک دوسرے کے بہنوئی بھی تھے۔

’ان دونوں کی دوستی پورے پشاور میں ضرب المثال تھی۔ ان کی دوستی کا یہ عالم تھا کہ یہ روزانہ ایک دوسرے سے لازمی ملتے تھے۔ واقعے والے روز بھی دونوں اکھٹے نماز پڑھنے گئے تھے۔‘

علی حیدر کہتے ہیں کہ سید افضال شاہ نے سوگواروں میں تین بچے چھوڑے ہیں۔ سید انیق شاہ کی اولاد نہیں تھی لیکن وہ اپنے بھانجوں ہی کو اپنی اولاد سمجھتے تھے۔

سید افضال شاہ اور سید انیق شاہ

،تصویر کا ذریعہ Hayat Ali Mir

،تصویر کا کیپشن

سید افضال شاہ اور سید انیق شاہ آپس میں کزن تھے اور ایک دوسرے کے بہنوئی بھی تھے

ان کا کہنا تھا کہ سید افضال بینک میں ملازمت کرتے تھے اور حال ہی میں ان کی ترقی ہوئی تھی۔

’وہ اپنی ترقی پر بہت خوش تھے۔ واقعے سے ایک روز پہلے جمعرات کو ان کو مبارکباد کا فون کیا تھا۔ طے ہوا تھا کہ میں جلد ہی ان سے ملنے جاوں گا مگر اب کس سے ملنے جاؤں؟‘

’ایک نہیں پانچ لاشیں اٹھائی ہیں‘

ڈاکٹر علی رضا پشاور میں اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں اور پاکستان یوتھ پارلیمنٹ کے جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس واقعے کے وقت وہ ہسپتال میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

’مجھے والدہ نے کوچہ رسالدار مسجد میں دھماکے کا بتایا تو میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی تھی۔ والدہ کا فون سن کر مسجد پہنچا تو میرے سامنے وہ وہ منظر تھا جس کو دیکھ کر ڈاکٹر ہونے کے باوجود میں چند لمحوں کے لیے ڈر گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے والد میر ناصر علی کا شمار مسجد کے خدمت گاروں میں ہوتا تھا۔ وہ امامیہ جرگہ کے جنرل سیکرٹری بھی تھے۔ اس کے علاوہ میرے تمام رشتہ دار بھی اس ہی مسجد میں نماز پڑھتے تھے۔‘

ڈاکٹر علی رضا کہتے ہیں کہ وہ مسجد کے بعد ہسپتال پہنچے تو وہاں پر اپنے والد اور رشتہ داروں کی لاشیں تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور کافی دیر کی جدوجہد کے بعد وہ اپنے والد اور عزیزوں کی لاشیں لے کر گھر پہنچے۔

میر ناصر علی

،تصویر کا ذریعہHayat Ali Mir

،تصویر کا کیپشن

میر ناصر علی امامیہ جرگہ کے جنرل سیکرٹری بھی تھے

ڈاکٹر علی رضا کہتے ہیں کہ اس واقعہ میں جہاں وہ اپنے والد سے محروم ہوئے، وہیں ان کے چار قریبی رشتہ دار اور عزیز بھی مارے گئے ہیں۔ ’میں پانچ لاشیں اٹھا کر لایا ہوں اور ان کو دفن کیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان کے والد پشاور ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں مشہور تھے۔ ’وہ ریٹائرڈ بینکر تھے۔ انھوں نے ساری زندگی اپنی تمام جمع پونجھی ہم بہن بھائیوں کی تعلیم وتربیت پر خرچ کی۔ یہی وجہ ہے کہ میں، میرا بھائی اور بہن ڈاکٹر ہیں۔ میرا ایک بھائی انجینئیر اور ایک بینکر ہے۔‘

لاشوں کو غسل دینے کے لیے جگہ کم پڑ گئی تھی

حیدریہ ٹرسٹ پشاور کے حیات علی میر کہتے ہیں کہ حالیہ واقعہ سانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔

’اس واقعہ میں پشاور کی ہر گلی سے جنازہ نکلا۔ صورتحال ایسی بن گئی تھی کہ لاشوں کو غسل دینے کے لیے جگہ کم پڑ گئی تھی۔ قیامت کا ایک منظر اور قیامت کی صورتحال تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کوچہ رسالدار کے رہائشی واقعہ میں سب سے زیادہ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس کے بعد کوہاٹی گیٹ میں کوچہ رسالدار سے پندرہ جنازے پہنچے تھے۔ پارہ چنار میں گیارہ، ہنگو میں دس اور گلگت بلتستان میں بھی ایک لاش گئی ہے۔



Source link