پشاور کی کوچہ رسالدار مسجد میں خود کش حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک، خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کا دعوی

55 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہEPA

خیبر پختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے دعوی کیا ہے کہ پشاور کے معروف قصہ خوانی بازار کی گلی کوچہ رسالدار میں شیعہ مسلک کی مرکزی جامع مسجد میں تین مارچ کو ہونے والے خود کش حملے کے ماسٹر مائنڈ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پشاور میں کوچہ رسالدار گلی میں ہونے والے خود کش حملے میں 66 افراد ہلاک اور 130 زخمی ہوئے تھے۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 14 اپریل کی صبح محکمہ انسداد دہشت گردی اور حساس اداروں کو ’مصدقہ اطلاع ملی کہ تھانہ پشتخرہ کے علاقے میں دہشت گرد خود کش بمبار کو لا کر ایک اہم ٹارگٹ کے لیے تیار کئے ہوئے ہے۔‘

پریس ریلیز کے مطابق ’جائے وقوعہ پر سی ٹی ڈی ٹیم اور سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک اور تین سے چار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘

سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا نے دعوی کیا ہے کہ ’ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت حسن شاہ کے طور پر ہوئی جو کوچہ رسالدار جا مع مسجد کے خود کش حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔‘

پشاور خود کش حملہ

واضح رہے کہ پشاور کے معروف قصہ خوانی بازار کی گلی کوچہ رسالدار میں شیعہ مسلک کی مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

اس حوالے سے دولتِ اسلامیہ کے خبر رساں ونگ اعماق نے اپنی ویب سائٹ پر ایک پریس ریلیز اور مبینہ حملہ آور کی تصویر بھی جاری کی تھی۔

دوسری جانب تحریکِ طالبان پاکستان نے حملے کے بعد کہا تھا کہ ‘فرقہ وارانہ جنگیں اسلام اور عالمِ اسلام کے مفاد میں نہیں’، اس لیے وہ پشاور میں ہونے والے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔

پشاور

،تصویر کا ذریعہEPA

پشاور کے بم ڈسپوزل یونٹ کے سربراہ رب نواز خان نے اے ایف کو بتایا تھا کہ حملہ آور نے پانچ سے آٹھ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا۔

یہ دھماکہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ کا پہلا دن تھا۔ آسٹریلیا کی ٹیم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر 24 سال سے پاکستان نہیں آئی تھی تاہم حالیہ کچھ برسوں میں سیکورٹی صورتحال کے بہتر ہونے کے بعد کئی بین الاقوامی ٹیمیں اور کھلاڑی پاکستان آ رہے ہیں۔

پشاور

عینی شاہدین نے کیا دیکھا تھا؟

ایس ایس پی آپریشنز ہارون رشید نے واقعے کے بعد بتایا کہ حملہ آور نے پہلے گیٹ پر موجود پولیس کے محافظوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق جس وقت حملہ کیا گیا اس وقت مسجد میں نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ حملہ آور نے دھماکہ کرنے سے قبل فائرنگ بھی کی۔

علی اصغر نامی ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اُنھوں نے ایک شخص کو جمعے کی نماز سے قبل مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جس نے پھر ‘ایک ایک کر کے’ نمازیوں کو گولیاں مارنی شروع کر دی۔ اس کے بعد اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

پشاور

،تصویر کا ذریعہReuters

ایک اور عینی شاہد زاہد خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘میں نے ایک شخص کو مسجد میں داخلے سے قبل دو پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرتے دیکھا۔ کچھ ہی لمحوں بعد میں نے ایک زوردار دھماکہ سنا۔’

اس واقعے کے عینی شاہد علی حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت نمازِ جمعہ کی تیاری جاری تھی اس وقت کم از کم ایک حملہ آور پستول لے کر مسجد میں آیا اور نمازیوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا اور فائرنگ کے بعد حملہ آور نے بم کا دھماکہ کیا۔

صحافی محمد زبیر خان کے مطابق مرکزی مسجد کوچہ رسالدار پشاور میں مرکزی شیعہ مسجد ہے جہاں پر تقریباً پورے پشاور سے لوگ جمعہ کی نماز پڑھنے آتے ہیں۔

کوچہ رسالدار انتہائی تنگ اور پیچیدہ گلیوں والا علاقہ ہے۔

پشاور

،تصویر کا ذریعہEPA

پشاور

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

پشاور حملے کے خلاف کراچی میں مظاہرہ

واقعے کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ تنگ راستوں کے باعث زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں بھی مشکلات کا سامنا رہا کیونکہ جائے حادثہ تک گاڑی نہیں جا سکتی۔

عینی شاہد کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ زخمیوں کو تین سے چار سو میٹر تک ہاتھوں اور چارپائیوں پر اٹھا کر سڑک تک پہنچایا گیا اور وہاں سے پھر ایمبولینس کے ذریعے سے ہسپتال لے جایا گیا۔



Source link