پولیس انفارمرز: پولیس کے لیے مخبری کرنے والے کون لوگ ہوتے ہیں اور یہ نظام کیسے چلتا ہے؟

  • شاہد اسلم
  • صحافی، لاہور

33 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

14 اگست 1995 کو گرو نانک چوک کراچی سے ایدھی فاؤنڈیشن کو بیگ میں لپٹی ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی۔ بیگ کے اندر سے ایک پرچی بھی ملی جس پر اُردو زبان میں ہاتھ سے یہ تحریر لکھی ہوئی تھی ’وزیر داخلہ جنرل نصیر اﷲ بابر کے لیے تحفہ! اور ایک انفامر (مخبر) کی تقدیر۔‘

یہ کوئی پہلی یا آخری بار نہیں تھا کہ پاکستان میں کسی پولیس انفارمر کا تذکرہ سامنے آیا ہو یا کسی شخص کو جرائم پیشہ افراد کی جانب سے اِس شک کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا ہو کہ وہ پولیس کا مخبر ہے۔

گذشتہ ماہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی اور پہاڑی علاقوں میں بدنام زمانہ لادی گینگ نے ایک شخص کے بازو، ناک اور کان کاٹ کو اسے بیدردی سے صرف اس لیے قتل کر دیا تھا کیونکہ انھیں شک تھا کہ وہ شخص پولیس کا مخبر ہے اور اُن کی معلومات پولیس تک پہنچاتا ہے۔

گینگ کی جانب سے اس واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ کر کے سوشل میڈیا پر بھی جاری کی گئی تھی۔

ابھی چند روز قبل پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر نشر ہوئی کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ کورال کی حدود میں ایک شخص کو ہلاک کیا گیا جس کی ایف آئی آر اس کے بھائی کی مدعیت میں درج کی گئی۔

مقتول کے بھائی نے ایف آئی آر میں لکھوایا کہ اُن کا بھائی گذشتہ چھ، سات برسوں سے مختلف پولیس اہلکاروں کے لیے بطور مخبر کام کر رہا تھا اور اسی وجہ سے وہ گذشتہ کافی عرصے سے تھانہ کورال کے اندر ہی رہائش پزیر بھی تھا۔

دہائیوں پرانا پولیس انفارمرز کا یہ نظام کس طرح کام کرتا ہے اور ان مخبروں کا محکمہ پولیس میں کیا کردار ہے، یہ جاننے کے لیے ہم نے مختلف پولیس افسران سے بات کی ہے۔

شرفا سے لے کر جرائم پیشہ افراد تک پھیلا پولیس کا جاسوسی نیٹ ورک

انفارمر سسٹم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سینیئر پولیس افسر اور ڈی آئی جی ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق پولیس انفارمرز تین سے چار قسم کے ہوتے ہیں جہاں سے پولیس کو معلومات موصول ہو رہی ہوتی ہیں۔

’ایک ہیں معاشرے کے عام افراد جو اچھی نیت سے پولیس کے پاس آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ برائی ہے اسے ختم کرنا ہے۔ یہ شریف لوگوں کی کیٹیگری ہے اور اِن میں علاقے کے عام عوام، نمبردار یا وڈیرے شامل ہیں۔‘

ڈاکٹر عثمان بتاتے ہیں کہ دوسری کیٹیگری وہ ہے کہ جب کوئی مجرم پکڑا جاتا ہے تو دوران تفتیش وہ خود سے دباؤ کم کرنے کے لیے اور اپنی جان چھڑانے کے لیے وہ پولیس کو اپنے دوست یا ساتھیوں وغیرہ کا بتا کر وہ خود پولیس انفارمر بن جاتا ہے۔

’پولیس ایسے ملزمان میں سے کسی ایک کو اپنا انفارمر بنا کر چھوڑ دیتی ہے، کسی خاص مدت تک یا کسی خاص مقصد کے حصول تک۔‘

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق تیسری کیٹیگری پولیس ٹاؤٹس کی ہے جو پولیس نے جگہ جگہ چھوڑے ہیں جو معلومات اکھٹی کرتے ہیں اور پولیس کو دیتے ہیں، پولیس کو زیادہ تر معلومات اس کیٹیگری سے حاصل ہوتی ہے۔

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق پولیس ٹاؤٹس کے علاوہ باقی کیٹیگریز پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے، قانونی یا اخلاقی دونوں طرح سے۔

’سب سے اچھی معلومات (پولیس ٹاؤٹس) دیتے ہیں اور اُن کے بغیر پولیس کا کام ایک دن بھی نہیں چلے گا۔‘

پولیس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سابق ایڈیشنل آئی جی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ کے مطابق انفارمیشن کے بغیر پولیس کیا خفیہ ایجنسیوں سمیت سب تحقیقاتی اداروں کا کام نہیں چلتا۔ ’میں سارے صوبوں میں نوکری کر چکا ہوں، انفارمیشن کے بغیر پولیس کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔‘

ان کے بقول معلومات اکٹھی کرنا بڑا پروفیشنل کام ہے اورانفارمیشن لینے کا ہر ایک پولیس افسر یا اہلکار کا اپنا ایک طریقہ کار ہے۔

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق چاہے ہمیں یہ لوگ یا ان کے کام کرنے کے طریقہ کار پر اعتراض ہو بھی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ 90 فیصد تک معلومات پولیس کو پولیس ٹاؤٹس سے ہی آ رہی ہوتی ہیں۔

’یہ زیادہ سے زیادہ معلومات کے لیے لوگوں کا اور معاشرے کا نقصان بھی کرتے ہیں کیونکہ لوگوں کو غیر قانونی کاموں پر بھی یہی لگواتے ہیں۔ لیکن المیہ یہی ہے کہ بغیر ان ٹاؤٹس کی مدد کے یہ محکمہ نہیں چل سکتا، ایک دن بھی نہیں چل سکتا۔‘

دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ساجد کیانی کہتے ہیں کہ انفارمرز کے بغیر بھی پولیس کا محکمہ کام کر سکتا ہے کیونکہ اب جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اب تفتیش کاروں کو فرانزک، سی سی ٹی وی، سی ڈی آر، جیو فینسگ، نادرا اور دیگر تیکنیکی ذرائع کی مدد حاصل ہوتی ہے، اس لیے اب انفارمرز پر انحصار بہت کم ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق پولیس ٹاؤٹس کی کیٹیگری میں وہ لوگ بھی ہیں جو چوری شدہ زیورات یا قیمتی اشیا ڈاکوؤں سے خریدتے ہیں اور پھر ان کی مخبری کر کے انھیں پکڑواتے ہیں۔ ایسے افراد کو کامیاب آپریشنز کے عوض پیسے بھی دیے جاتے ہیں۔

دوسری طرف عبد الرزاق چیمہ کہتے ہیں کہ وہ کبھی بھی ٹاؤٹس والی کیٹیگری سے انفارمیشن لینے کے حق میں نہیں رہے۔ ’یہ جو پیسے لے کر معلومات دیتے ہیں، اُن کی معلومات کبھی کبھار صحیح اور کبھی غلط بھی نکلتی ہیں، اور میں ہمیشہ اس کے خلاف رہا ہوں۔ میرا تو یہ طریقہ کار ہے کہ جہاں انفارمر کی انفارمیشن غلط نکلیں وہیں اس کی چھٹی کروا دیتا تھا۔‘

ان کے مطابق ٹاؤٹس کو ذاتی فائدے کے لیے بھی رکھا جاتا ہے۔

میں پولیس کا جاسوس کیسے بنا؟

انفارمر سسٹم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گذشتہ 20 سال سے پولیس کے لیے بطور مخبر کام کرنے والے عبدالغنی (فرضی نام) بتاتے ہیں کہ کس طرح وہ پولیس انفارمر بنے۔

وہ کہتے ہیں کہ 20 سال قبل وہ ایک چوری چکاری کے ایک چھوٹے سے مقدمے میں لاہور میں گرفتار ہوئے تو متعلقہ تھانے میں تعینات ایس ایچ او نے انھیں وارننگ دے کر چھوڑ دیا اور تب سے وہ اس پولیس افسر کے ساتھ رابطے میں ہیں، جو اب ڈی ایس پی بن چکے ہیں۔

عبد الغنی کے مطابق انھوں نے اب تک چوری، قتل اور ڈکیٹی کی وارداتوں میں ملوث متعدد ملزمان کو گرفتار کروایا ہے۔

’مجھے کبھی بھی کوئی ماہانہ فکس تنخواہ وغیرہ نہیں ملتی، بلکہ جب بھی کوئی ریڈ ہو یا کوئی ریکوری ہوئی ہو تو اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور مل جاتا ہے جس سے میرے روز مرہ کے معاملات چل رہے ہیں۔‘

ایک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایک مرتبہ منشیات فروشوں کے ایک گروہ کو پکڑوانے کے لیے انھیں ایک افسر نے منشیات فروشوں کے گروہ میں بھجوا دیا تھا، جس کے بعد وہ ان کی معلومات پولیس کو پہنچاتے رہے اور جب وہ سب لوگ پکڑے گئے تو اس وقت انھیں بھی باقی ملزمان کے ساتھ موقع سے گرفتار کیا گیا، لیکن بعد میں ان کی ضمانت کروا دی گئی۔

عبد الغنی بتاتے ہیں کہ منشیات کی اس ریکوری میں انھیں بھی انعام کے طور پر برآمد شدہ منشیات میں سے تھوڑی سی منشیات دی گئی، جسے فروخت کر کے انھوں نے کچھ پیسے بنا لیے۔

پولیس اپنے انفارمرز کو ادائیگیاں کس مد سے کرتی ہے؟

ایک سوال کے جواب میں عبد الرزاق چیمہ کہتے ہیں کہ ضروری نہیں تمام انفارمرز معلومات دینے کے پیسے لیتے ہوں۔ ’بعض (مخبر) پیسے نہیں لیتے۔ اگر انفارمر کو عزت چاہیے تو عزت دیتے ہیں اور اگر پیسے تو پیسے بھی دیے جاتے ہیں۔‘

عبد الرزاق چیمہ کے بقول انفارمرز کو پیسے دینے کے لیے پولیس کے پاس سیکرٹ فنڈ میں پیسے ہوتے ہیں۔ ’بعض کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے، گھر میں شادی بیاہ ہو تو اس پر کوئی مدد کر دی جاتی ہے، یہ بتائے بغیر کہ وہ پیسے اس کے کام کی قیمت ہیں۔ ان کی عزت نفس کا بھرپور خیال رکھا جاتا ہے۔‘

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ساجد کیانی کے مطابق پوری دنیا میں انفارمیشن خریدی جاتی ہے اور ہر انفارمیشن کے پیسے بھی اتنے ہی ادا کیے جاتے ہیں جتنی اہم انفارمیشن ہو اور اس مقصد کے لیے ہمارے پاس پیسے سیکرٹ فنڈ کی مد میں ہوتے ہیں۔

’امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں (سکیورٹی اہلکاروں) قانونی طور پر گینگ کے ساتھ انڈر کور کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا کوئی قانون موجود نہیں۔‘

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق یہ کام پوری دنیا میں ہوتا ہے یہاں تک کہ امریکہ میں بھی ہوتا ہے۔ ’چھوٹے منشیات فروش سے بڑے منشیات فروش کی معلومات لی جاتی ہیں۔ انفارمرز کو ریکوریوں میں سے حصہ دیا جاتا ہے اور یہ نیٹ ورک چلانے کے لیے سب کچھ کرنا پڑتا ہے اور یہ ساری دنیا میں ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر عثمان انور کے بقول ’صرف پاکستان کے قومی سطح کے بڑے اور اہم انٹیلیجینس ادارے اپنے انفارمرز کا پورا خیال رکھتے ہیں، باقی کوئی ادارہ چاہے وہ پولیس ہو یا ایف آئی اے اپنے انفارمرز کی کوئی خاص حفاظت یا دیکھ بھال نہیں کرتے، اور نہ ہی ان کے پاس اتنے وسائل ہوتے ہیں۔‘

سابق ایڈیشنل آئی جی پنجاب نسیم الزمان بھی ڈاکٹر عثمان انور کی طرح مانتے ہیں کہ صرف ملک کی قومی سطح کی خفیہ ایجنسیوں کے مستقل انفارمرز ہوتے ہیں، پولیس کے نہیں۔’ایجنسیوں میں باقاعدہ تحریری طور پر ایجنٹ ہوتے ہیں جبکہ پولیس کے پاس اتنے فنڈز نہیں ہوتے کہ وہ اس طرح اپنے ایجنٹس یا انفارمرز رکھ سکیں۔‘

سابق ایڈیشنل آئی جی پنجاب نسیم الزمان کے مطابق جب وہ کوہاٹ میں بطور ایس پی تعینات تھے تب انفامرز خود چل کر ان کے پاس آتے تھے کہ ہم فلاں چیز اور فلاں منشیات پکڑوا دیتے ہیں مگر ہمیں کیا ملے گا، جس پر وہ انھیں کسٹم یا اے این ایف سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔

نسیم الزمان کے مطابق اس وقت انفامرز ان سے 1500 روپے مہینہ کا مطالبہ کرتے تھے جس پر وہ انھیں کہتے کہ وہ کیسے انھیں اتنی رقم دے سکتے ہیں۔

اپنے جاسوس کا تحفظ، پولیس افسر کی ذمہ داری

انفارمر سسٹم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ساجد کیانی کہتے ہیں کہ قانونی طور پر انفارمرز کو کوئی مراعات حاصل نہیں، صرف انھیں قانون شہادت کے تحت یہ تحفظ حاصل ہے کہ انھیں بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا جس سے اُن کی شناخت چھپی رہتی ہے۔ اس قانون کے تحت ہم عدالت کو اپنی انفارمیشن کا سورس (ذریعہ) بتانے کے پابند نہیں۔

عبد الرزاق چیمہ کہتے ہیں کہ ان کے پورے کیریئر کے دوران ان کا انفارمر کبھی بھی کمپرومائز نہیں ہوا لیکن انھوں نے ایسا بہت مرتبہ دیکھا ہے کہ انفارمرز کمپرومائز ہو جاتے ہیں جس سے انفارمرز کی جان تک چلی جاتی ہے۔

دوسری طرف سابق ایڈیشنل آئی جی پنجاب نسیم الزمان بھی سمجھتے ہیں کہ پولیس انفارمرز کی حفاظت بالکل نہیں ہوتی۔ مثال دیتے ہوئے وہ مزید کہتے ہیں کہ نجی ٹی وی چینل جیو ٹی وی کے کراچی کے ایک رپورٹر ولی بابر قتل کیس میں چھ گواہ جو کہ پولیس انفارمرز بھی تھے انھیں بھی قتل کر دیا گیا کیونکہ پولیس انھیں تحفظ فراہم نہیں کر سکی۔

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق پولیس کے سینیئر افسران یا پی ایس پی کیڈر ان معاملات سے عام طور پر تھوڑا دور رہنا ہی پسند کرتے ہیں، اسی لیے ایسے انفارمرز کو کسی تھانیدار کے ساتھ نتھی کروا دیا جاتا ہے، جو اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے اور اس کے بدلے معلومات آتی رہتی ہیں۔

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق کیونکہ یہ سارا نظام ذاتی ڈیلنگ کے تحت ہی چل رہا ہوتا ہے اور تحریری طور پر کچھ ہوتا نہیں اور نہ ہی پولیس بطور محکمہ اس میں ملوث ہوتی ہے، اس لیے اگر کسی انفارمر کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو جائے یا وہ مارا جائے تو پولیس افسر (جس کے لیے وہ کام کر رہا ہوتا ہے) اپنی ذاتی حیثیت میں ہی اس کے خاندان کے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہے تو کرتا ہے ورنہ پولیس بطور ادارہ اس کے لیے یا اس کے خاندان والوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔

منشیات کے اڈے، خفیہ معلومات کا خزانہ

پولیس کے لیے منشیات فروشی کے اڈے انفارمیشن کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔

ایک مثال دیتے ہوئے ڈاکٹر عثمان انورنے بتایا کہ جب نوے کی دہائی میں شیعہ اور سنی کالعدم تنظیموں کے درمیان لڑائی چل رہی تھی تو اس وقت لاہور میں ایک شعیہ ڈاکٹر کا قتل ہو گیا۔

ڈاکٹر کے قاتلوں کا سراغ ایک منشیات فروش سے ملا جہاں قاتل منشیات فروشی کے دوران اس قتل پر بات کر رہے تھے کہ وہ ڈاکٹر ناجائز ہی اُن سے مارا گیا۔ جب اس انفارمر سے ملی معلومات پر گرفتاریاں کی گئیں تو قتل کا سارا کیس ہی حل ہو گیا۔

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق پولیس انفارمرز بعض اوقات قتل بھی ہو جاتے ہیں جبکہ انھیں بعض اوقات چالان بھی کیا جاتا ہے اور جیل بھی بھجوایا جاتا ہے مگر بعد میں ضمانت کا بندوبست بھی کیا جاتا ہے تاکہ جنھیں وہ پکڑواتے ہیں انھیں کسی طرح کا شک نہ ہو اور انھیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جا سکے۔

عبد الرزاق چیمہ کے بقول انھوں نے عدالت سمیت اپنے سینیئرز تک کو بھی کبھی اپنے انفارمز کا نام نہیں بتایا کیونکہ انفارمر کی پہلی اور آخری لیئر سیکریسی ہی ہوتی ہے۔ ’یہ بڑی ذمہ داری والی بات ہے۔ جیسے ایک گواہ کی حفاظت کرنی ہوتی ہے ویسے ہی ایک انفارمر کی بھی کرنی پڑتی ہے۔‘

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق پولیس اہلکاروں نے اپنے بندے مختلف گینگز میں بھی چھوڑے ہوتے ہیں اور مخصوص گینگز کو ریلیف بھی دیتے ہیں۔ ’کیچ اے تھیف فارمولے پر چلتے ہیں۔ جیسے ایک منشیات فروش کو کام کی اجازت دیں گے لیکن دوسرے کو روکیں گے۔ ایک جواری کے اڈے کو چلنے دیں گے، دوسرے کا نہیں۔‘

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ساجد کیانی کہتے ہیں کہ پولیس حکام اسی فارمولے کے تحت چلتے ہیں کہ ایک گروہ کو سپورٹ کرتے ہیں تاکہ باقی لوگوں کو پکڑ سکیں اور جب سب پکڑے جاتے ہیں تب اسے بھی دھر لیا جاتا ہے جسے پہلے سپورٹ دی جا رہی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب ہمارے کچھ افسران ڈاکوؤں کے ساتھ بھی یہ کام کرنے لگ پڑتے ہیں اور بڑے ڈاکوؤں کی معلومات لینے یا انھیں پکڑے کے لیے چھوٹے موٹے ڈاکوؤں کی اجازت بھی دے دیتے ہیں۔

’سب سے اہم چیز یہ ہے کہ انفارمرز کے اس نظام میں پولیس ہمیشہ ایک ملزم کو دوسرے ملزم کو پکڑنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔‘



Source link

Leave a Reply