پی ایس ایل: لاہور قلندرز 206 رنز بنا کر بھی ہار گئے، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی کراچی کنگز کے خلاف زبردست جیت

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
29 جنوری 2022، 19:07 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 2 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہPCB

پاکستان سپر لیگ کی کشش ویک اینڈ پر بھی شائقین کو نیشنل سٹیڈیم نہ لاسکی لیکن جس نے بھی ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کا میچ دیکھا وہ خود کو خوش قسمت سمجھے گا کہ اسے بیٹنگ کے چند دلکش نظارے دیکھنے کو ملے اور سب سے بڑھ کر آخری اوور میں میچ کا دلچسپ اختتام ہوا۔

دوسرا میچ اس کے بالکل برعکس یکطرفہ رہا جس میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے کراچی کنگز کو آٹھ وکٹوں سے شکست دیدی۔

ہدف عبور کرنے کا نیا ریکارڈ

ملتان سلطانز کا 207 رنز کا ہدف عبور کرنا پی ایس ایل کا نیا ریکارڈ ہے۔

لاہور قلندرز 206 رنز بنا کر بھی اس بڑے سکور کا دفاع نہ کر سکی حالانکہ اس کا بولنگ اٹیک عالمی شہرت کے حامل شاہین شاہ آفریدی، راشد خان اور حارث رؤف کے علاوہ ڈیوڈ ویزے اور سمت پاٹل پر مشتمل تھا۔

لاہور قلندرز کی ٹیم پاکستان سپر لیگ میں تیسری مرتبہ 200 سے زائد رنز کر کے میچ ہاری ہے۔

شاہین اور رضوان حریف کے روپ میں

کرکٹر آف دی ائر شاہین شاہ آفریدی اور بہترین ٹی ٹوئنٹی کرکٹر محمد رضوان ہفتے کے روز نیشنل سٹیڈیم میں آمنے سامنے آئے تو دیکھنے والوں کو اس منظر کا کئی روز سے انتظار تھا کہ ایک ساتھ رہ کر حریف ٹیموں کے ہوش ٹھکانے لگانے والے یہ دونوں آئی سی سی ایوارڈ یافتہ کرکٹرز جب ایک دوسرے کے مقابل آئیں تو پھر کون کس پر حاوی ہوتا ہے؟

ملتان سلطانز اور لاہور قلندر کے اس میچ میں ان دونوں کھلاڑیوں کے دلچسپ مقابلے کے آغاز میں محمد رضوان حاوی نظر آئے اور انھوں نے شاہین شاہ آفریدی کے پہلے دو اوورز میں بننے والے بیس رنز میں ذاتی طور پر بارہ رنز بنائے جس میں ایک چوکا اور ایک چھکا شامل تھا۔

دونوں کے درمیان راؤنڈ ٹو شاہین شاہ آفریدی کے نام رہا جن کے تیسرے اوور میں اگرچہ 19 رنز بنے جن میں محمد رضوان کا ایک چھکا بھی شامل تھا لیکن وہ رضوان کی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگئے۔

شاہنواز دھانی

،تصویر کا ذریعہPCB

رضوان اور شان مسعود کی شان

محمد رضوان نے جس طرح جارحانہ انداز اختیار کیا ایک بڑے ہدف کو دیکھتے ہوئے اس کی ضرورت بھی تھی۔

ملتان سلطانز کے دوسرے اوپنر شان مسعود کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی جو ایک مستحکم آغاز کے لیے رضوان کے شانہ بشانہ رہے بلکہ ان سے پہلے ہی اپنی نصف سنچری صرف اٹھائیس گیندوں پر نو چوکوں کی مدد سے مکمل کی۔

رضوان کی نصف سنچری بھی اٹھائیس گیندوں پر بنی، جس میں پانچ چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

ان دونوں نے شاہین شاہ آفریدی کی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان لینے میں کوئی رعایت نہیں کی جو پہلی بار لاہور قلندرز کے کپتان بنے ہیں۔ پاور پلے میں چھیاسٹھ رنز بنانے کے بعد ان دونوں نے ٹیم کی سنچری صرف باون گیندوں پر مکمل کر ڈالی۔

شاہین آفریدی سمیت چھ بولرز کے لیے رضوان اور شان کو دفاع پر مجبور کرنا آسان نہ رہا یہاں تک کہ راشد خان جیسے ورلڈ کلاس بولر کے پہلے اوور میں بھی بارہ رنز بنے تاہم رنز کی رفتار روکنے میں سب سے زیادہ ناکام زمان خان رہے جنھوں نے اپنے چار اوورز میں 41 رنز دیے۔

شان مسعود پاکستان سپر لیگ میں اپنا بہترین انفرادی سکور 83 کرکے راشد خان کی گیند پر بولڈ ہوئے تو ملتان سلطانز کا سکور 150 رنز تک جا پہنچا تھا اور اس مرحلے پر اسے جیت کے لیے 34گیندوں پر 57 رنز درکار تھے۔

رضوان اپنے ساتھی اوپنر کے آؤٹ ہونے کے بعد میچ کو ادھورا چھوڑ کر جانے کے موڈ میں نہیں تھے لیکن شاہین آفریدی نے انھیں 69 رنز پر بولڈ کردیا۔

اس اننگز میں انھوں نے پی ایس ایل میں اپنے ایک ہزار رنز بھی مکمل کر لیے۔ شاہین آفریدی نے اپنے آخری اوورمیں ٹم ڈیوڈ کی وکٹ بھی حاصل کی اور اپنے چار اوورز کا اختتام دو وکٹوں کے عوض 46 رنز پر کیا۔

سپر لیگ

،تصویر کا ذریعہPCB

خوشدل شاہ آئے اور چھا گئے

جب ملتان سلطانز کی اننگز کا آخری اوور شروع ہوا تو اسے جیت کے لیے 16 رنز درکار تھے لیکن خوشدل شاہ کی جارحانہ بیٹنگ کے سامنے حارث رؤف ایک عام سے بولر ثابت ہوئے۔ خوشدل شاہ نے ان کی پہلی تین گیندوں پر چوکے لگائے اور پھر چوتھی گیند پرچھکا لگاکر دوگیندیں پہلے ہی پانچ وکٹوں کی جیت ممکن بنا دی۔

اس سے قبل فخر زمان نے لاہور قلندرز کی اننگز میں صرف 35 گیندوں پر متاثر کن 76 رنز اسکور کیے تھے جن میں گیارہ چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔

Quetta Gladiators' Naseem Shah (2R) celebrates after taking wicket of Karachi King's Mohammad Nabi (unseen) during the Pakistan Super League (PSL) Twenty20 cricket match between Karachi Kings and Quetta Gladiators at the National Cricket Stadium in Karachi on January 29, 2022. )

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نسیم شاہ کی پانچ وکٹیں

کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان کھیلے گئے آج کے دوسرے میچ میں پہلے بیٹنگ کرنے والی کراچی کنگز مشکلات میں بری طرح گھر گئی۔ کپتان بابراعظم نے اپنے سامنے چھ وکٹیں گرتے دیکھیں، جس نے میچ کو کراچی کنگز سے دور کر دیا اور جب وہ خود 29 گیندوں پر 32 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو کراچی کنگز کا سکور 7 وکٹوں پر 69 رنز تھا۔

کراچی کنگز کی ٹیم پی ایس ایل میں کسی بھی ٹیم کے سب سے کم سکور 59 رنز کے ریکارڈ اور پھر اپنے ہی سب سے کم اسکور 108 رنز9 کھلاڑی آؤٹ کے ریکارڈ سے خود کو بچالے گئی لیکن اس کے قدم 113 سے آگے نہ بڑھ سکے۔

کراچی کنگز کی اننگز پر کاری ضرب لگانے والے فاسٹ بولر نسیم شاہ تھے جنھوں نے صرف 20 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں جو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی بہترین انفرادی بولنگ ہے۔

سہیل تنویر کا وار بھی کم مہلک نہ تھا، جنھوں نے ایک ہی اوور میں شرجیل خان اور جو کلارک کی اہم وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے جیت کے لیے درکار 114 رنز سولہویں اوور میں دو وکٹوں پر بنا لیے اور مسلسل ناکامیوں کے گرداب سے خود کو نکالنے میں کامیاب ہوئے۔

گذشتہ سال کوئٹہ کی ٹیم دس میں سے نو میچ ہاری تھی اور آخری نمبر پر رہی تھی۔ اس پی ایس ایل کے پہلے میچ میں اسے پشاور زلمی کے ہاتھوں پانچ وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

احسان علی اور ِول اسمیڈ نے ایک بار پھر پراعتماد آغاز کرتے ہوئے 76 رنز کی شراکت قائم کی۔ ول اسمیڈ 30رنز بناکر آؤٹ ہوئے احسان علی 57رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ یہ ان کی مسلسل دوسری نصف سنچری تھی۔

ملتان سلطانز کی اس ٹورنامنٹ میں مسلسل اپنے نام دوسری فتح اور قلندرز کے ہار سے آغاز پر سوشل میڈیا صارفین کیسے چپ بیٹھ سکتے تھے۔

پاکستان کے سابق وکٹ کیپر بیٹسمین راشد لطیف نے اس جیت پر یہ کہہ کر سلطانز کو مبارکباد دی کہ انھوں نے دنیا کے تین بہترین باؤلرز کا سامنا کرتے ہوئے ہدف کا کامیاب تعاقب کیا ہے۔

صارف ایئن پونٹ نے آخری اوور میں 16 رنز کا دفاع نہ کرنے پر لاہور قلندرز پر اپنے انداز میں حیرت کا اظہار کیا۔ عائشہ خان نامی صارف نے لکھا کہ یہ بہت آسان تھا مگر کیا کریں قسمت ہی خراب ہے۔

زینب بسرا کے مطابق کورونا وائرس نے ہر چیز کو بدل کر رکھ دیا ہے مگر اگر کوئی چیز نہیں بدلی تو لاہور قلندرز کی شکست کی ریت نہیں بدلی۔

یہ بھی پڑھیے

عبدالرحمان نامی صارف نے اپنے ٹویٹ میں لاہور قلندرز کے فواد رانا کی دو تصاویر شئیر کی ہیں، پہلی میچ کے دوران کی ہے جب وہ بہت پرجوش نظر آتے ہیں جبکہ دوسری تصویر میچ کے بعد کی ہے جس میں وہ انتہائی افسردہ نظر آ رہے ہیں۔

محمد رضوان کی ففٹی اور سلطانز کی جیت سے بھی بڑھ کر اس وقت صارفین سوشل میڈیا پر لاہور قلندرز کی شکست پر زیادہ تبصرے کرتے ہوئے اور سوالات اٹھاتے نظر آتے ہیں۔

مصطفیٰ زاہد نے لکھا کہ میں نے زندگی میں تقریباً ہر کسی کے حالات بدلتے ہوئے دیکھے ہیں، سوائے لاہور قلندرز کے۔

اسی طرح کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور کراچی کنگز کے درمیان میچ پر بھی شائقین اپنے اپنے انداز میں تبصرے کرتے رہے۔

شیری سید نے لکھا کہ مجھے بارش میں چلنا پسند ہے تاکہ کوئی میرے آنسو نہ دیکھ سکے، مگر آج تو بارش بھی نہیں ہو رہی۔



Source link