پی ایس ایل 7: زمان خان، محمد حارث، قاسم اکرم اور ذیشان ضمیر جیسے نوجوان پاکستانی کھلاڑی جو قومی ٹیم پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

30 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہPCB

پاکستان سپر لیگ شائقین کو فراہم کی جانے والی بہترین تفریح ہی نہیں بلکہ نوجوان کرکٹرز کے لیے لانچنگ پیڈ بھی ہےجس نے انھیں اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کا موقع فراہم کیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے ساتویں سیزن میں بھی متعدد نوجوان کرکٹرز نے اپنے ٹیلنٹ کی زبردست جھلک دکھائی ہے اور اب ان کی نظریں انٹرنیشنل کرکٹ پر مرکوز ہیں۔

زمان خان (لاہور قلندرز)

لاہور قلندرز نے 20 سالہ فاسٹ بولر زمان خان کو ایمرجنگ کیٹگری میں شامل کیا ہے۔ انھیں بولنگ کرتا دیکھ کر سری لنکا کے فاسٹ بولر لستھ ملنگا یاد آ جاتے ہیں۔ زمان خان کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہے۔

وہ ابھی تک فرسٹ کلاس اور ون ڈے کرکٹ نہیں کھیلے ہیں لیکن رواں برس پی ایس ایل میں اپنی شاندار بولنگ سے انھوں نے سب کو متاثر کیا ہے۔

زمان خان کا پی ایس ایل میں آغاز غیر متاثرکن رہا تھا۔ ملتان سلطانز کے خلاف وہ چار اوورز میں 41 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہیں کر پائے تھے۔

کراچی کنگز کے خلاف میچ میں بھی انھیں صرف ایک وکٹ 39 رنز کے عوض مل پائی تھی لیکن اس کے بعد ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی گئی۔

زمان

،تصویر کا ذریعہPCB

زمان نے پشاور زلمی کے خلاف میچ میں 32 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کی 29 رنز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کارکردگی پر وہ مین آف دی میچ بھی قرار پائے۔

ملتان سلطانز کی ٹیم پی ایس ایل کے لیگ میچوں میں صرف ایک میچ لاہور قلندرز سے ہاری اور اس شکست میں زمان خان کی شاندار بولنگ کا کردار نمایاں رہا تھا جنھوں نے صرف 21 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔

زمان خان کی سب سے عمدہ کارکردگی کراچی کنگز کے خلاف رہی جس میں انھوں نے صرف 16 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا لیکن لاہور قلندرز بیٹنگ میں مایوس کن کارکردگی دکھاتے ہوئے وہ میچ ہار گئی تھی۔

زمان خان اپنے اس آخری اوور کو ہمیشہ یاد رکھیں گے جو انھوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کیا تھا جب یونائیٹڈ کو جیت کے لیے صرف 12 رنز درکار تھے لیکن زمان خان نے آصف علی کو نہ صرف آؤٹ کیا بلکہ اعظم خان اور فہیم اشرف کو موقع ہی نہیں دیا کہ وہ ہدف تک پہنچ پائیں۔

اس اوور میں انھوں نے صرف تین رنز دیے اور لاہور قلندرز کو آٹھ رنز سے جیت دلا دی۔ اس ایک اوور کی موثر بولنگ نے انھیں مین آف دی میچ بنا دیا۔

زمان خان نے پی ایس ایل کے لیگ میچوں کے اختتام پر 14 وکٹیں حاصل کر رکھی تھیں جو شاہین شاہ آفریدی کی 15 وکٹوں کے بعد لاہور قلندرز کے کسی بھی بولر کی دوسری بہترین کارکردگی ہے۔

محمد حارث (پشاور زلمی)

محمد حارث

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشن

محمد حارث

محمد حارث کی عمر 20 سال ہے اور ان کا تعلق بھی صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔ محمد حارث نے گذشتہ سال پاکستان شاہین کے ساتھ سری لنکا کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی ابتدا کی تھی اور اپنے دوسرے ہی فرسٹ کلاس میچ میں سری لنکا اے کی پہلی اننگز میں وکٹوں کے پیچھے چھ اور دوسری اننگز میں دو کیچز اور ایک سٹمپ آؤٹ کر کے شاندار پرفارمنس دی تھی۔

محمد حارث کو پشاور زلمی نے دو سال قبل ایمرجنگ کیٹگری میں شامل کیا تھا۔ اس پی ایس ایل میں وہ سپلیمنٹری کیٹگری میں شامل ہوئے ہیں اور اپنی جرات مندانہ بیٹنگ کے ساتھ ساتھ وکٹ کیپنگ اور فیلڈنگ میں بھی نمایاں رہے ہیں۔

محمد حارث کو کامران اکمل کی موجودگی میں پی ایس ایل کے پہلے مرحلے میں کھیلنے کا موقع نہ مل سکا۔ انھیں کراچی کنگز کے خلاف قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں ٹیم میں شامل کیا گیا اور اس میچ میں انھوں نے صرف 27 گیندوں پر 49 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی ڈالی جس میں چار چھکے اور تین چوکے شامل تھے۔

یہ کارکردگی انھیں مین آف دی میچ ایوارڈ دلانے کا سبب بنی۔ محمد حارث نے ایک اور قابل ذکر اننگز اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کھیلی جس میں انھوں نے پانچ چھکوں اور سات چوکوں کی مدد 70 رنز سکور کیے اور دوسری مرتبہ مین آف دی میچ بنے۔

حارث کا فیلڈر کی حیثیت سے لاہور قلندرز کے خلاف میچ میں کامران غلام کا کیچ غیرمعمولی ذہانت کی عکاسی کرتا ہے جس میں انھوں نے حضرت اللہ ززئی کے ہاتھ سے نکل جانے والی گیند کو زمین پر گرنے سے قبل ہی لپک کر دیکھنے والوں کو حیران کر دیا تھا۔

محمد حارث نے دو سال جنوبی افریقہ میں منعقدہ انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی اور زمبابوے کے خلاف صرف 48 گیندوں پر چار چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 81 رنز بنائے تھے۔

محمد حارث اپنے ساتھی کھلاڑیوں میں گوگل کے نام سے مشہور ہیں۔ انھیں یہ نام ان کی کرکٹ سے متعلق معلومات پر دسترس کی وجہ سے دیا گیا ہے۔

محمد حارث

،تصویر کا ذریعہPCB

محمد حارث کے بڑے بھائی کرکٹ کھیلتے تھے لیکن آگے نہ بڑھ سکے اور جب حارث نے کرکٹ اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی تو وہ اسی سائیکل پر وہاں جانے لگے جو ان کے بڑے بھائی کو والد نے دلائی تھی۔

حارث بہترین کارکردگی دکھانے کی ہر وقت خواہش رکھتے ہیں۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ جب انھوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف 70 رنز سکور کیے تو جیب سے ایک کپڑا نکال کر سب کو دکھایا جس پر ہیش ٹیگ درج تھا ’بی دی بیسٹ۔‘

قاسم اکرم ( کراچی کنگز)

قاسم اکرم

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشن

قاسم اکرم

حارث اور زمان کے علاوہ اس پی ایس ایل میں چند دوسرے کرکٹرز نے بھی اپنے ٹیلنٹ کی جھلک دکھائی ہے اگرچہ وہ بہت زیادہ کامیاب نہیں رہے لیکن مبصرین اور ماہرین کو اندازہ ہو گیا ہے کہ یہ کھلاڑی آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کراچی کنگز کے قاسم اکرم پچھلے دو انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ اس سال ویسٹ انڈیز میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں وہ ٹیم کے کپتان تھے جس میں ان کی سب سے شاندار کارکردگی سری لنکا کے خلاف رہی جس میں انھوں نے سنچری بنانے کے علاوہ پانچ وکٹیں بھی حاصل کیں۔

قاسم اکرم نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف نصف سنچری سکور کی تاہم وہ اپنی ٹیم کو آخری اوور میں جیت سے ہمکنار نہیں کر سکے تھے اور یونائیٹڈ نے صرف ایک رن سے وہ میچ جیتا تھا۔

ذیشان ضمیر (اسلام آباد یونائیٹڈ)

ذیشان ضمیر

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشن

ذیشان ضمیر

19 سالہ فاسٹ بولر ذیشان ضمیر نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی طرف سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی کریئر کا آغاز کیا۔

کراچی کنگز کے خلاف اپنے دوسرے ہی اوور میں انھوں نے بابر اعظم کی وکٹ حاصل کر ڈالی لیکن اسی اوور میں انھیں ان فٹ ہو جانے کی وجہ سے میدان سے باہر جانا پڑ گیا۔ اس طرح ان کی خوشی محض چند لمحات کی رہی۔

ذیشان ضمیر ایک باصلاحیت بولر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ دسمبر میں ایشیا کپ انڈر 19 میں انڈیا کے خلاف میچ میں انھوں نے پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں جس کے بعد سری لنکا کے خلاف بھی وہ چار وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

ایشیا کپ انڈر19 کے بعد ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ میں ذیشان ضمیر کو توقعات کے مطابق کامیابی نہ مل سکی اور وہ پانچ میچوں میں پانچ ہی وکٹیں حاصل کر سکے تھے۔

پشاور زلمی کے 19 سالہ بیٹسمین یاسر خان اگرچہ پی ایس ایل میں کوئی بڑی اننگز نہیں کھیل پائے لیکن ان میں موجود ٹیلنٹ کی سب نے تعریف کی ہے۔

ٹیلنٹ نے جب اسٹار کا روپ دھارا

پاکستان سپر لیگ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو حسن علی، محمد نواز، شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی، سلمان ارشاد، شاہنواز دھانی اور محمد وسیم جونیئر کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اس لیگ کا اہم کردار رہا ہے اور اب دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ اس سال کے باصلاحیت کرکٹرز میں سے کون آنے والے دنوں میں کرکٹ سٹار کا روپ دھارتا ہے۔



Source link