پی ایس ایل 7 فائنل میں لاہور قلندرز بمقابلہ ملتان سلطانز: پروفیسر کی عمدہ آلراؤنڈ کارکردگی کی بدولت لاہور نے پہلی مرتبہ پی ایس ایل جیت لیا

17 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہPCB

’لاہور کی جیت کا نظارہ چاہتی ہوں، میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتی ہوں۔‘

اس عبارت کے ساتھ ایک پوسٹر تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے قذافی سٹیڈیم میں لہرا رہا تھا اور لاہور قلندرز کے بولرز ملتان سلطانز کی ایک کے بعد ایک وکٹ حاصل کرتے جا رہے تھے۔

لاہور قلندرز کا چھ سال کا انتظار آخرکار ختم ہو گیا ہے اور انھوں نے ملتان سلطانز کو 42 رنز سے باآسانی شکست دے کر پہلی مرتبہ پاکستان سپر لیگ کی ٹرافی اپنے نام کر لی ہے۔

لاہور کے نئے کپتان اور سال 2021 کے کرکٹر آف دی ایئر شاہین شاہ آفریدی کی قیادت کی جتنی تعریف کی جائے اتنی کم ہے، لیکن اس مرتبہ لاہور کی بولنگ کے ساتھ ساتھ بیٹنگ بھی بہترین رہی اور تمام ہی شعبوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا۔

لاہور کو آغاز میں تین نقصان

لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو اس کی جانب سے ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی۔ وکٹ کیپر فل سالٹ کی جگہ ذیشان اشرف کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔

تاہم اس ٹورنامنٹ میں لاہور کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فخر زمان صرف تین رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد کچھ ہی وقفے سے ذیشان اشرف اور عبداللہ شفیق بھی پویلین لوٹے تو ایسا لگا کہ یہ لاہور کا ہمیشہ کی طرح ایک اور بیٹنگ ناکامی کا آغاز ہے۔

ملتان کی جانب سے آصف آفریدی سے بولنگ کا آغاز کروانے کا پلان کامیاب رہا اور جب ڈیوڈ ولی نے بھی وکٹ حاصل کر لی تو لاہور کے لیے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔

ملتان سلطانز

،تصویر کا ذریعہPCB

لیکن لاہور قلندرز نے ایسے ہی موقعوں سے بازی پلٹ کر اپنی کارکردگی کو اس سیزن میں منفرد بنایا ہے اور محمد حفیظ کی سربراہی میں آج لاہور کے مڈل آرڈر نے ایسا ہی کیا۔

حفیظ نے دباؤ میں آئے بغیر ذمہ داری کے ساتھ لاہور کی بحران میں مبتلا بیٹنگ کو کنارے لگانے کا کام شروع کیا۔ انھوں نے نو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے عمدہ 69 رنز بنائے اور اس بات کی یقینی بنایا کہ لاہور کم ہدف بنا کر آؤٹ نہ ہو جائے۔

ہیری بروکس اور ڈیوڈ ویزا کی جارحانہ بیٹنگ

جہاں حفیظ نے لاہور کے لوئر آرڈر کے جارحانہ کھلاڑیوں کے لیے بنیاد بنا دی تھی، وہیں ہیری بروکس اور ڈیوڈ ویزا نے لاہور کے مداحوں کو مایوس نہیں ہونے دیا۔

پہلے بروکس نے 22 گیندوں پر 41 رنز بنائے جس میں تین چھکے اور دو چوکے شامل تھے اور اس کے بعد ڈیوڈ ویزا نے صرف آٹھ گیندوں پر تین چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 28 رنز بنا کر لاہور کو ایک بہترین ہدف یعنی 180 رنز تک پہنچا دیا۔

یوں لاہور نے دھواں دار بلے بازی کی بدولت آخری پانچ اوورز میں 77 رنز بنائے اور بازی پلٹ دی اور ملتان پر فائنل میں بڑے ہدف کا تعاقب کرنے کا دباؤ ڈال دیا۔

ملتان کی جانب سے آصف آفریدی نے تین، جبکہ ڈیوڈ ولی اور شہنواز ڈھانی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

رضوان

،تصویر کا ذریعہPCB

محمد حفیظ کی عمدہ بولنگ

جب ملتان نے اپنی بیٹنگ شروع کی تو محمد رضوان اور شان مسعود نے بہترین آغاز فراہم کرتے ہوئے لاہور کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔

شاہین شاہ آفریدی جو عام طور پر اپنے پہلے دو اوورز میں وکٹیں حاصل کرنے کا خاصا رکھتے ہیں آج آغاز میں خاصے مہنگے رہے۔ تاہم محمد حفیظ نے آج صرف بیٹنگ ہی نہیں بلکہ بولنگ میں بھی لاہور کی قسمت بدلنے کا عہد کر رکھا تھا۔

انھوں نے سنہ 2021 کے ٹی ٹوئنٹی کرکٹر آف دی ایئر اور پورے ٹورنامنٹ میں عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرنے والے محمد رضوان کو بولڈ کر کے ملتان کو ایسا دھچکا دیا کہ وہ آخر تک نہیں پائی۔

اس ٹورنامنٹ میں لاہور کی فیلڈنگ بھی بہترین رہی ہے اور اس کا مظاہرہ آج فخر زمان اور عبداللہ شفیق کی فیلڈنگ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

فخر زمان نے پہلے ان فارم شان مسعود کو رن آؤٹ کیا اور پھر عظمت کا عمدہ کیچ پکڑا جبکہ عبداللہ شفیق نے رائلی روسو کا انتہائی اہم کیچ پکڑ کر میچ میں لاہور کی گرفت مضبوط کر دی۔

ملتان کی وکٹیں ایک ایک کر کے گرتی رہیں اور قذافی سٹیڈیم میں لاہوریوں کا شور بڑھتا گیا۔

خوشدل شاہ اور ٹم ڈیوڈ نے کچھ دیر مزاحمت کی کوشش کی، لیکن ان کی یہ کوشش لاہور کے فاسٹ بولرز نے ناکام بنا دی۔

لاہور کی جانب سے شاہین آفریدی کی تین، زمان خان اور محمد حفیظ کی دو، دو اور حارث رؤف اور ڈیوڈ ویزا کی ایک ایک وکٹ کی بدولت ملتان کو آل آؤٹ کر دیا اور یوں لاہور نے پی ایس ایل ٹرافی اپنے نام کر لی۔



Source link