پی ایس ایل 7 میں اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ پشاور زلمی: اعظم خان کا مشن ادھورا، پشاور زلمی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 10 رن سے ہرا دیا

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
18 فروری 2022، 00:09 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 2 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہPCB

کسی ٹیم کو یہ پتا ہو کہ اس کی حریف ٹیم آل راؤنڈر کپتان، جارحانہ مزاج کے اوپنر اور تجربہ کار فاسٹ بولر کے بغیر میدان میں اترنے والی ہے تو اس کے حوصلے پہلی گیند سے قبل ہی آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔

یہی کچھ جمعرات کی شب پشاور زلمی کے ساتھ بھی ہوا جسے یہ معلوم تھا کہ اسلام آباد کی ٹیم شیٹ میں شاداب خان، الیکس ہیلز اور حسن علی کے نام موجود نہیں اور اسی لیے اس نے ابتدا ہی سے ایسا وار کیا جس نے اسلام آباد یونائٹڈ کو حواس باختہ کر دیا۔

پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 8 وکٹوں پر 206 رنز بنائے۔

اسلام آباد یونائٹڈ کی پیش قدمی اعظم خان کی شاندار اننگز ختم ہونے پر ڈگمگا گئی اور اسے 10 رن کی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

یہ پشاور زلمی کی نویں میچ میں پانچویں جیت ہے جبکہ یونائیٹڈ آٹھویں میچ میں چوتھی بار ہاری ہے۔

اسی ٹورنامنٹ میں اسلام آباد نے زلمی ہی کے خلاف کراچی میں 169 رنز کا ہدف عبور کیا تھا لیکن دو میچ ایسے بھی ہیں جن میں وہ 219 اور 175 کے ہدف عبور کرنے میں ناکام رہی تھی اور اب وہ 207 رنز کے ہدف کو عبور نہ کر سکی۔

حارث کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آ گیا

پشاور زلمی نے بیٹنگ شروع کی تو ہر کوئی حضرت اللہ ززئی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ یونائیٹڈ کی بولنگ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہیں لیکن یہ محمد حارث تھے جن کا ٹیلنٹ کھل کر سامنے آیا اور انھوں نے ُپراعتماد بیٹنگ کر کے شاداب خان کی جگہ کپتانی کرنے والے آصف علی کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔

حارث نے اپنی مرضی سے جہاں دل چاہا وہاں سٹروکس کھیلے۔ میچ کے دوسرے اوور میں جو محمد موسٰی نے کرایا حارث نے 22 رنز بنا ڈالے جن میں ایک چھکا اور چار چوکے شامل تھے۔

حارث خان

،تصویر کا ذریعہPCB

یہی وہ موقع تھا جس کے بعد یونایئٹڈ کی بولنگ اور فیلڈنگ بکھرتی چلی گئی۔ حارث نے اپنی نصف سنچری صرف 18 گیندوں پر پانچ چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے مکمل کی۔

اس دوران اگرچہ حضرت اللہ ززئی دو چوکوں کی مدد سے 13 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے لیکن حارث کی جارحانہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

ان کے ساتھ بیٹنگ کرنے والے نوجوان یاسر خان کو دو مواقع ملے، جس کے بعد وہ بھی اپنے ساتھی بیٹسمین کے انداز میں ڈھل گئے اور انھوں نے افغانستان کے لیفٹ آرم سپنر ظہیر خان کے پہلے ہی اوور میں دو چھکے اور ایک چوکا لگایا۔

یہ دونوں سکور کو 73 سے 113 تک لے گئے۔ اس مرحلے پر اسلام آباد یونائیٹڈ کی جان میں جان آئی جب وقاص مقصود، محمد حارث کی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جنھوں نے صرف 32 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 70 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں سات چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔

یاسر خان کی دو چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے بنی 35 رنز کی اہم اننگز ظہیر خان نے ختم کی لیکن چھکوں کی برسات تھمی نہیں۔

شرفین ردرفرڈ نے ڈاؤسن کو لگاتار دو چھکے رسید کیے تو شعیب ملک نے بھی ڈی لانگے کو چھکا مار کر خاموشی توڑی۔

ردر فرڈ، فہیم اشرف کی گیند پر آؤٹ ہو کر شعیب ملک کا ساتھ چھوڑ گئے تو ان کی جگہ لینے والے لیونگ سٹون نے بھی وقاص مقصود کی گیند کو باؤنڈری کے پار پہنچایا۔

فہیم اشرف نے اپنے آخری اوور میں لیونگ سٹون اور شعیب ملک کی اہم وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔ شعیب ملک آہستہ آہستہ بڑے سکور کی طرف بڑھ رہے تھے تاہم 38 رنز پر یہ سلسلہ آ کر رک گیا۔

وقاص مقصود نے بھی رنز کے طوفان کو روکتے ہوئے اپنے آخری اوور میں اپنی دوسری وکٹ بین کٹنگ کو صفر پر آؤٹ کر کے حاصل کی۔ کپتان وہاب ریاض کا سکورنگ اکاؤنٹ بھی نہ کھل سکا۔

پشاور زلمی کی اننگز میں پندرہ چوکے اور بارہ چھکے شامل تھے لیکن آخری اوورز میں رنز بنانے کی رفتار میں کمی اور وکٹیں گرنے کی رفتار میں تیزی نظر آئی۔

آخری دس اوورز میں 90 رن بنے جبکہ آخری پانچ اوورز میں صرف 41 رن بن پائے۔

اعظم خان

،تصویر کا ذریعہPCB

اعظم خان کے چھکے یاد رہیں گے

اسلام آباد یونائیٹڈ کو پال سٹرلنگ اور الیکس ہیلز کی جارحانہ بیٹنگ سے ابتدا کرنے کی عادت ہو گئی تھی۔ دونوں کی غیرموجودگی میں یہ کمی افغانستان کے رحمن اللہ گرباز نے انہی کے انداز میں کھیلتے ہوئے پوری کرنے کی کوشش کی لیکن لیونگ سٹون نے ملنے والے دوسرے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھیں واپسی کا راستہ دکھادیا۔

گرباز نے صرف 19 گیندوں پر46 رنز بنائے۔ اس اننگز میں تین چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔

وہ بولنگ پر کس حد تک حاوی تھے اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب وہ آؤٹ ہوئے تو اس وقت مجموعی سکور 54 رنز تھا۔

لیونگ سٹون اس سے قبل عثمان قادر کی گیند پر گرباز کا کیچ لینے میں ناکام رہے تھے اور وہ چھکا ہو گیا تھا۔ اس اوور میں گرباز نے 22 رنز بنا ڈالے تھے جن میں تین چھکے اور ایک چوکا شامل تھا۔

دانش عزیز کا صفر وہاب ریاض کی وکٹوں کی سنچری مکمل کر گیا۔ بائیں ہاتھ کے بیٹسمین کو وکٹ کیپر حارث کے ہاتھوں کیچ کرا کر وہاب ریاض پاکستان سپر لیگ میں سو وکٹیں مکمل کرنے والے پہلے بولر بن گئے ۔ یہ ان کا 75 واں میچ ہے۔

تیز رنز بنانے کا دباؤ مبصر خان کو ڈگ آؤٹ میں واپس لے گیا۔ لیئم ڈاؤسن بھی اسی کوشش میں وکٹ گنوا گئے لیکن اعظم خان کے ارادے کچھ اور ہی تھے اور انھوں نے صرف 27 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی۔

یہ طوفان رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ عثمان قادر ان کے رڈار میں آ گئے جن کے دوسرے اوور میں انھوں نے تین چھکے مارے۔ اس کے بعد انھوں نے بین کٹنگ کے تیسرے اوور میں گیند کو دو مرتبہ باؤنڈری کے باہر پہنچایا۔

آصف علی سے کیپٹن اننگز کی توقع پوری نہ ہو سکی اور وہ صرف 11 رن بنا کر سلمان ارشاد کی گیند پر حسین طلعت کو کیچ دے گئے۔

آخری چار اوورز میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو 44 رنز درکار تھے۔ سترہویں اوور میں بننے والے 14 رنز کے نتیجے میں یہ فرق 18 گیندوں پر 30 رنز رہ گیا۔

یونائیٹڈ نے اٹھارہویں اوور کی آخری گیند پر فہیم اشرف کی وکٹ گنوائی جس کا مطلب یہ تھا کہ اسے جیت کے لیے اب بھی 25 رنز درکار تھے لیکن اس میچ کا سب سے ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب اعظم خان کی جیت کی طرف بڑھتی ہوئی اننگز کو وہاب ریاض نے اپنے انجام پر پہنچا دیا۔

اعظم خان نے صرف 45 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 85 رن سکور کیے۔ یہ اننگز چھ چوکوں اور سات چھکوں کی وجہ سے مدتوں یاد رہے گی۔

وہ آؤٹ ہو کر اپنے ساتھ جیت کی امید بھی لے گئے کیونکہ موسی اور ڈی لانگے کے لیے آخری اوور میں 22 رنز بنانا مشکل ہو گیا تھا۔

سوشل میڈیا صارفین کا ردِ عمل

آج اسلام آباد یونائیٹڈ میں متعدد اہم کھلاڑی موجود نہیں تھے تاہم اس کے باوجود ان کی جانب سے جس مقابلے کا مظاہرہ کیا گیا وہ قابلِ ستائش تھا۔

تاہم میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے وکٹ کیپر بیٹسمینوں کی جانب سے بہترین بلے بازی کی تعریف کی جا رہی ہے۔ پشاور کی جانب سے حارث اور اسلام آباد کی جانب سے اعظم خان کی بیٹنگ کی تعریف تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر شہریار آفریدی نے بھی کی۔

انھوں نے پشاور زلمی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’دونوں نے بہترین اننگز کھیلی اور دونوں مستقبل کے سٹارز ہیں۔ ان کی بیٹنگ کی کوالٹی لاجواب تھی، پی ایس ایل کی شناخت بہترین کرکٹ بن چکی ہے۔‘

شہریار

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShehryarAfridi1

سابق کرکٹر یاسر حمید نے مشکل موقع پر اچھا کھیلنے پر اسلام آباد کے کھلاڑیوں کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ ’اتنے سارے کھلاڑیوں کے بغیر بھی اسلام آباد بطور بیٹنگ سائیڈ اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔

’ان کی بولنگ میں شاداب خان کی کمی محسوس ہوئی لیکن بیٹنگ میں خصوصاً اعظم خان نے دباؤ کا عمدہ ردِ عمل دیا۔‘

یاسر

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Yasir_HameedQ

صارف اسامہ نے لکھا کہ ’آپ ان پر اقربا پروری کا الزام لگا سکتے ہیں، ان کے موٹاپے پر بات کر سکتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ اعظم اس سٹیج کے لیے ٹیلنٹ سے بھرپور ہیں۔‘

اعظم خان اسلام آباد یونائیٹڈ کو جتوا تو نہ سکے، اور 19ویں اوور میں آؤٹ ہونے کے بعد انھیں خاصا افسردہ دیکھا گیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’اعظم خان پر بہت ترس آ رہا ہے، انھوں نے دباؤ میں بہترین بلے بازی کی اور آخر تک لڑتے رہے۔‘

کے ایچ ساکب

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Crickettalkss

اسلام آباد یونائیٹڈ کے مینیجر ریحان الحق کا کہنا تھا کہ ’اتنی زیادہ کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کے باوجود مجھے اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے دکھائی گئی ہمت پر فخر ہے۔ محمد حارث کو سلام، انھوں نے ایک بہترین اننگز کھیلی، ہمارے حوصلے کم نہیں ہوں گے، ہم اپنا 100 فیصد دیتے رہیں گے۔‘



Source link