ڈس مینٹلنگ گلوبل ہندوتوا کانفرنس: کیا ہندوتوا کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس کا مقصد انڈیا اور ہندوازم کا تاثر خراب کرنا تھا؟

  • دلنواز پاشا
  • نامہ نگار بی بی سی

32 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہMUJEEB FARUQUI/HINDUSTAN TIMES VIA GETTY IMAGES

امریکہ میں ’ہندو توا‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والی ایک ورچوئل کانفرنس تنازعات کا شکار ہونے کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ اس کانفرنس کے انعقاد کی حمایت اور اِس کے خلاف ہونے والے احتجاج کے درمیان ’ڈس مینلِنگ گلوبل ہندوتوا‘ نامی اس کانفرنس میں ہندوتوا کو نفرت سے متاثر ایک نظریہ قرار دیا گیا اور اس پر سوالات اٹھائے گئے۔

کانفرنس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کی مخالفت کرنے والوں نے اُن کی ’آواز کو دبانے‘ اور پینل میں شامل افراد کو دھمکانے کی کوشش کی ہے۔

ساتھ ہی اس کانفرنس کی مخالفت کرنے والے افراد اور گروہوں کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس سیاسی مفادات پر مبنی تھی اور اس کا مقصد عالمی سطح پر ’انڈیا اور ہندوازم کا تاثر خراب کرنا تھا۔‘

ڈس مینٹلِنگ گلوبل ہندتوا کانفرنس کیا تھی؟

10 سے 12 ستمبر کے درمیان ہونے والی اس آن لائن کانفرنس کی امریکہ، برطانیہ اور یورپ کی 53 یونیورسٹیوں کے 70 سے زائد مراکز، اداروں، پروگرامز اور شعبوں نے حمایت کی تھی۔

اس کانفرنس کو ہاورڈ، سٹینفورڈ، پرنسٹن، کولمبیا، برکلے، یونیورسٹی آف شکاگو، دی یونیورسٹی آف پنسلوینیا اور امریکہ میں رٹجرز جیسی معروف جامعات کی حمایت حاصل تھی۔

منتظمین کا دعویٰ ہے کہ دس ہزار سے زائد افراد نے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کروائی۔

کانفرنس کے منتظمین میں سے ایک پرنسٹن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر گیان پرکاش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ڈس مینٹلِنگ گلوبل ہندوتوا‘ کانفرنس کا مقصد ہندوتوا اور انڈیا پر اس کے اثرات کا تجزیہ کرنا تھا۔ انڈیا میں مختلف مذاہب اور اقلیتیں ہیں۔۔۔ کانفرنس کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا کہ اِن پر ہندوتوا کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔‘

گیان پرکاش کہتے ہیں ’آج جب ہندوتوا کا عالمی سطح پر پراپیگنڈہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو ہم نے اس کانفرنس کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ اس کا عالمی سطح پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔‘

منتظمین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا کے مسئلے پر امریکہ میں مختلف امریکی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے اشتراک سے منعقد ہونے والی یہ اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہے جس میں بڑی تعداد میں علمی و تعلیمی محققین اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔

اس تین روزہ کانفرنس میں کل نو سیشن منعقد ہوئے جس میں 30 سے زائد مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کانفرنس

،تصویر کا ذریعہDGH

،تصویر کا کیپشن

اس آن لائن کانفرنس کی امریکہ، برطانیہ اور یورپ کی 53 یونیورسٹیوں کے 70 سے زائد مراکز، اداروں اور شعبہ جات نے حمایت کی تھی

ان سیشنز میں گلوبل ہندوتوا کیا ہے، ہندوتوا کی سیاست، ذات پات، صنفی اور جنس پر مبنی سیاست، ہندوتوا کا پراپیگنڈا اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پروفیسر گیان پرکاش کہتے ہیں ‘پروفیسر کرسٹوفر جیفرو نے اپنے مقالے میں وضاحت کی کہ سنہ 1995 کے بعد عالمی سطح پر ہندوتوا میں کیسے اور کیوں اضافہ ہوا۔ ہم نے اس پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ کیسے ہندوتوا سائنس کے خلاف ایجنڈا چلا رہا ہے۔‘

اس کانفرنس کی مخالفت کیوں کی گئی؟

سوشل میڈیا پر اس کانفرنس کی شدید مخالفت کی گئی ہے۔ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ کانفرنس کے خلاف آن لائن مہموں نے کانفرنس میں شامل یونیورسٹیوں کے سرورز تک کو متاثر کر دیا تھا۔

بی بی سی کو بھیجے گئے ایک بیان میں منتظمین نے دعویٰ کیا کہ کانفرنس کے خلاف تقریباً دس لاکھ ای میلز کانفرنس میں شامل یونیورسٹیوں کے صدور، پرووسٹس اور دیگر حکام کو بھیجی گئیں۔

منتظمین کا دعویٰ ہے کہ ڈریو یونیورسٹی کے سرورز کو چند منٹ میں ہی تیس ہزار ای میلز بھیج دی گئیں۔ اس آن لائن حملے کی وجہ سے یونیورسٹیوں کو کانفرنس کے نام والی تمام ای میلز کو بلاک کرنا پڑا۔

منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانفرنس کے خلاف وسیع مہم کے باوجود کوئی بھی یونیورسٹی اس سے الگ نہیں ہوئی۔ اگرچہ کانفرنس کی ویب سائٹ دو دن تک بند رہی اور اس کا فیس بک پیج بھی بند کر دیا گیا تھا۔

گیان پرکاش

،تصویر کا ذریعہGYAN PRAKASH

،تصویر کا کیپشن

پرنسٹن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر گیان پرکاش اس کانفرنس کے منتظمین میں شامل ہیں

کنونشن کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم

انڈیا کے ہندو گروپوں اور کارکنوں کے علاوہ امریکہ میں رہنے والے ہندو گروپوں نے بھی اس کانفرنس کی سخت مخالفت کی۔ ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے اس کنونشن کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کی تھی۔

احتجاج کی وجہ بتاتے ہوئے ایچ اے ایف کی بانی سہاگ شکلای نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں ہندوؤں کے تاثر کی فکر نہیں ہے۔ یہ کارکن دہائیوں سے ہندوؤں کے خلاف اپنا نفرت انگیز ایجنڈا چلا رہے ہیں۔‘

’ہمیں تشویش اس بات پر ہے کہ جب پروفیسرز تعلیمی آزادی کے نام پر تقسیم اور نفرت انگیز تقاریر کریں گے اور اس میں سیاست کا رنگ شامل ہو جائے گا تو اس کا تعلیمی نظام پر کیا اثر پڑے گا۔‘

سہاگ کا کہنا ہے کہ ’تعلیم کا مقصد طلبا کو متنوع خیالات کو سمجھنا اور مختلف نقطہ نظر کو عقل اور احترام کے ساتھ دیکھنا سکھانا ہے۔ ہمیں اس بات کی بھی فکر ہے کہ جب ہندوؤں کو سرعام بے عزت کیا جائے گا اور انھیں ظالم بتایا جاتا ہے تو اس کے ہندو طلبا اور اساتذہ پر کیا اثرات پڑیں گے۔‘

‘کئی لوگوں کو دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں

کانفرنس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انھیں یہ تو توقع تھی کہ اس کانفرنس کی مخالفت ہو گی لیکن انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ احتجاج اتنے وسیع پیمانے پر ہو گا۔

گیان پرکاش کہتے ہیں ’ہمیں خدشہ تھا کہ اس کانفرنس کی کچھ مخالفت ہو گی لیکن ہم نے یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ لوگ کسی تعلیمی کانفرنس سے اتنے خوفزدہ ہوں گے۔ ہمارے پینل کے بہت سے لوگوں کو دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں۔‘

’انھیں ٹوئٹر، فون اور ای میل پر دھمکیاں دی گئی ہیں، اُن کے ساتھ گندی زبان استعمال کی گئی ہے۔ خاص طور پر خواتین کو بہت گندے اور دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ کانفرنس میں شریک کچھ ماہرین تعلیم نے دھمکیوں کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔ یہ لوگ انڈیا میں رہتے ہیں اور ہم ان کی حفاظت کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔‘

کانفرنس

،تصویر کا ذریعہSUHAG SHUKLA

،تصویر کا کیپشن

اس کانفرنس کے خلاف بڑی مہم چلائی گئی

ساتھ ہی مخالف نظریات کے ماہرین تعلیم کو شامل نہ کرنے کے سوال پر گیان پرکاش کہتے ہیں ’ہماری کانفرنس کا مقصد واضح تھا کہ ہم ہندوتوا پر بحث کریں گے اور لوگوں میں اس کے بارے میں آگاہی پیدا کریں گے۔ ہم ہندوتوا کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ کوئی بحث نہیں ہے۔ یہ کوئی مقابلہ نہیں تھا کہ تمام فریق اس میں شامل ہوتے۔ بلکہ یہ ہندوتوا کے مسئلے پر ایک علمی بحث تھی۔ ہم نے مخالف نظریے کے لوگوں کو شامل نہیں کیا کیونکہ ہم ان کا ایجنڈا پہلے سے ہی جانتے ہیں۔‘

کانفرنس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں ہندو مذہب کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔

پروفیسر گیان پرکاش اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم ہندوازم اور ہندوتوا کو ایک نہیں سمجھتے۔ یہ دونوں مختلف ہیں۔ ہندوتوا ایک سیاسی تحریک ہے جبکہ ہندو ازم اس سے بالکل مختلف ہے۔ ہندوتوا کے حامی ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ہندوتوا کے خطرے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے تشدد کے واقعات بھی ہوئے ہیں اور گزشتہ کچھ برسوں سے وہ یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہندوتوا ہی ہندو مذہب ہے۔‘

پروفیسر گیان پرکاش کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے وجے پٹیل کہتے ہیں کہ ’یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف کچھ جرائم کی وجہ سے پورے ہندو سماج کو ایک رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں لیکن اس طرح کے جرائم ہندوؤں کے خلاف بھی ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کچھ غیر منظم جرائم کی وجہ سے پورے ہندو سماج کو بدنام نہیں کیا جا سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ایجنڈے والی کانفرنس سے انڈیا کی شبیہہ خراب ہوئی ہے۔

منتظمین کا ہندوتوا کے بارے میں کیا خیال ہے؟

پروفیسر گیان پرکاش کہتے ہیں ’ہندوتوا انڈیا کے مسلمانوں کے خلاف، دلتوں کے خلاف اور انڈین خواتین کے خلاف ہے۔ ہم ہندوتوا پر تنقید کر رہے ہیں انڈیا پر نہیں۔ بہت سے لوگ ہندوتوا کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ عالم ہندتوا کے بارے میں جانتے ہیں لیکن عام لوگ نہیں۔‘

‘ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عام لوگوں کو بھی اس نظریہ کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ ہندوتوا اب یورپ اور امریکہ میں بھی پھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمیں یہاں بھی لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

تمام تر مخالفت کے باوجود یہ کانفرنس ہوئی اور اس میں ہندوتوا کے نظریے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کانفرنس اتنی اہم کیوں تھی کہ بڑی مخالفت کے بعد بھی اس کا اہتمام کیا گیا؟

اس سوال پر گیان پرکاش کہتے ہیں ’اگر ہم نے اس کانفرنس کو روک دیا ہوتا تو یہ ان لوگوں کی فتح ہوتی۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ہندوتوا کو قبول کریں۔ وہ جو دلیل دیں ہم اسے قبول کر لیں اور اس کے خلاف کچھ نہ بولیں کوئی بحث نہ کریں۔ انھوں نے اس کانفرنس کو روکنے کی بہت کوشش کی ہمارے پینل کے بہت سے لوگوں کو دھمکیاں بھی ملیں۔ اگر ہم نے اس کانفرنس کو روک دیا تو یہ تعلیمی آزادی کی منافی ہوتا ۔کیا ہم ان کے خوف سے بات کرنا بھی بند کر دیں۔‘

سہاگ شکلا

،تصویر کا ذریعہSUHAG SHUKLA

،تصویر کا کیپشن

ہندو امریکن فاؤنڈیشن کی سربراہ سہاگ شکلا

پرکاش کہتے ہیں ’یہ لوگ ہماری یونیورسٹی کیمپس میں جڑیں قائم کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ یہ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ انڈیا کا مطلب ہندو اور ہندو کا مطلب ہندوتوا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوتوا کوئی مذہب نہیں بلکہ ایک سیاسی مہم ہے۔ ایک نظریہ ہے جس میں کچھ مخصوص چیزیں ہیں۔ یہ نظریہ ذات پات پر چلتا ہے، یہ برہمنوں کو سب سے اعلیٰ سمجھتے ہیں۔‘

‘یہ لوگ گاندھی اور امبیڈکر کو اپنے طریقے سے اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ دونوں ذات پرستی کے خلاف تھے۔ ہم اپنے طلبا کو گاندھی اور امبیڈکر کے بارے میں پڑھاتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے طالبِ علم یہ پڑھیں کہ گاندھی اور امبیڈکر ہندوتوا کے نظریے کے حامی تھے۔‘

دوسری طرف سہاگ شکلا نے دلیل دی کہ ان کا احتجاج کانفرنس کی منسوخی کے لیے نہیں تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’ہم نے کبھی کانفرنس کو منسوخ کرنے کی کوشش نہیں کی اس لیے ہمیں اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ یہ کانفرنس ہو گی۔ کانفرنس کے منتظمین نے جان بوجھ کر یہ جھوٹ پھیلایا کہ ہم نے اسے منسوخ کرنے کی کوشش کی۔‘

یونیورسٹیاں اور ادارے ہندوؤں سے معافی مانگیں

اس کانفرنس کو امریکہ، یورپ اور برطانیہ کی مشہور یونیورسٹیوں نے سپانسر کیا۔ اب ہندوتوا کے کارکن چاہتے ہیں کہ یہ ادارے ہندوؤں سے معافی مانگیں۔

سہاگ شکلا کہتی ہیں ’اب جب کہ یہ کانفرنس ختم ہو چکی ہے ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں۔ زیادہ تر منتظمین یا تو ان کے ملازم ہیں یا فیکلٹی کے لوگ ہیں۔ کانفرنس کے مندرجات سب کے سامنے ہیں ہمیں امید ہے کہ یونیورسٹی اس پر غور کرے گی تاکہ وہ جان سکیں کہ کانفرنس میں شامل لوگوں میں ہندوؤں سے کتنی نفرت تھی جس کے ساتھ ان کی ساکھ وابستہ ہے۔‘

ہر قسم کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے گیان پرکاش کہتے ہیں کہ ’اگر آپ یہ بحث سنیں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ ایک علمی بحث تھی۔ ہندوتوا سے وابستہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان پر کوئی بحث نہ ہو، انڈیا ایک متنوع ثقافت والا ملک ہے جبکہ ہندوتوا ایک بنیاد پرست سیاسی نظریہ ہے۔ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم مستقبل میں بھی ایسی کانفرنسز جاری رکھیں گے۔‘



Source link

Leave a Reply