ڈیپ لِسننگ: کیا آپ دوسروں کو ٹوکے بغیر ان کی پوری بات سنتے ہیں؟

  • ایملی کیسریئل
  • ایڈیٹر، بی بی سی کراسنگ ڈیوائڈز

31 منٹ قبل

،تصویر کا کیپشن

مائدہ (دائیں) اور حورا۔ حورا نے بھی اس پراجیکٹ میں حصہ لیا جو لوگوں پر زور دیتا ہے کہ وہ متصادم نظریات و خیالات کے لوگوں کی بات کو سننے کی عادت اپنائیں

حورا ابراہیم غندور کہتی ہیں کہ ’اگر ایک مسلمان عورت جو کہ یہ فیصلہ کر لے کہ اب میں نے پردہ نہیں کرنا تو میں اسے اچھی عورت نہیں سمجھتی تھی اور اسے اپنی دوست بنانے کے قابل بھی نہیں سمجھتی تھی، میں اگر اس سے ملتی تو میں اسے برا بھلا کہتی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے یہ نظریات ایک مذہبی گھرانے میں پرورش پاتے ہوئے بنے۔

وہ بتاتی ہیں کہ میرے والد چاہتے تھے کہ میں ایسے لوگوں سے دوستی کو ترجیح دوں جو میرے جیسے ہیں۔ حورا ان ہی اقدار کو آگے لے کر اپنی بلوغت کو پہنچیں اور پھر ان کے ساتھ ایک سیکنڈری سکول میں انگلش کی ٹیچر بنیں۔

حورا ان 150 لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے برٹش کاؤنسل اور بی بی سی کے ساتھ شراکت داری میں ’ڈیپ لِسننگ پراجیکٹ‘ میں حصہ لیا۔ اس پراجیکٹ کا مقصد ہمدردی یا کسی کی ذہنی صورتحال کو سمجھنے، خاموشی اور کسی حوالے سے اپنے خیالات اور فیصلوں کو ملتوی کرنے کی عادت اپنانا تھا۔

حورا بتاتی ہیں کہ کیسے اس پراجیکٹ کا حصہ بننے کے بعد انھیں اپنا ذہن کھولنے میں مدد ملی۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے سننے کی عادت اپنانا سیکھی، لوگوں کے بارے میں رائے قائم کرنے کے بجائے انھیں سمجھنے اور مزید وقت دینے کے بارے میں سوچا تاکہ جو وہ بتانا چاہتے ہیں وہ بتا پائیں۔ اور پھر میں اپنا ردعمل دیتی ہوں تاکہ میں یہ دیکھ سکوں کہ کیا واقعی میں نے وہی سمجھا ہے جو وہ مجھے بتانا چاہ رہے تھے۔‘

اب وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے سابقہ تجربات اور عدم برداشت نے ہر اس شخص کو متاثر کیا تھا جو ان سے مختلف تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ میں لبنان میں شامی پناہ گزینوں کے خلاف تھی۔

’میں سوچتی تھی کہ یہاں موجود شامی یہاں اپنی صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھتے اور لبنانیوں کی جیسی زندگی نہیں گزار رہے۔‘

Hawraa with pupils at the school for Syrian refugees where she works
،تصویر کا کیپشن

حورا اب ہفتے میں ایک بار شامی پناہ گزینوں کے سکول میں جاتی ہیں۔

بہرحال اب وہ اپنے خاندان کو اس فیصلے پر حیرت ہونے کے باوجود ہر منگل کی سہ پہر شامی پناہ گزینوں کے سکول میں کام کرتی ہیں۔

ہر صبح حورا شام سے آنے والی پناہ گزین نرس مائدہ سے ملتی ہیں اور ان کی بنائی کافی پیتی ہیں۔ ان کی پہلی ملاقات تب ہوئی تھی جب مائدہ ان کی امی کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور اب یہ دونوں خواتین اکثر ایک دوسرے کے گھر آتی ہیں۔

حورا کہتی ہیں کہ ان نئے تعلقات سے انھیں اپنے اندر مزید برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد کی۔

’میں نے ماضی میں شاید ان لوگوں کے ساتھ مؤثر انداز میں بات چیت نہیں کی، یا شاید میں بس میڈیا کو سنتی تھی جس نے لوگوں کو بدنام کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اگر ہم ایک دوسرے کو سنیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم میں بہت کچھ یکساں ہے، احساسات جو ہم سب کے پاس ہیں۔ ‘

تاہم حورا کی مائدہ سے دوستی حورا کو مائدہ کی ثقافت کے حوالے سے ان کے سنجیدہ نوعیت کے تحفظات پر سوچنے سے روکتی نہیں ہے۔

مائدہ کا بیٹا ایک لڑکی سے شادی کرنے والا ہے جو صرف 16 سال کی ہے اور شامی پناہ گزین برادری میں یہ غیر معمولی بات نہیں ہے۔

حورا کہتی ہیں کہ ’میں یہ تسلیم کرتی ہوں کہ یہ ان کی چوائس ہے۔‘

گہری سوچ کے سے انداز میں ان کا کہنا تھا کہ غور سے سننے کے بعد آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شخص آپ کا دشمن نہیں ہے، اگر ان کا انداز مختلف ہے تب بھی۔‘

Presentational grey line
BBC 100 logo

مئی میں بی بی سی کے 100 سال پورے ہو رہے ہیں۔ بی بی سی ورلڈ سروس اور برٹش کاؤنسل 100 ممالک کے 1000 نوجوانوں کے لیے ورچول ڈیپ لسنگ ٹریننگ پروگرام چلائیں گے۔

اگر آپ بھی دنیا بھر کے دیگر لوگوں کے ساتھ سننے کی صلاحیت کو مزید بہتر کرنا چاہتے ہیں سیکھنا چاہتے ہیں تو اس حوالے سے آپ مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

Presentational grey line

محمد کا تعلق لبنان سے ہے اور وہ انسانی امداد سے منسلک ایک ادار ے میں کام کرتے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ وہ ایک بہت اچھے سننے والے نہیں اور اس عمل سے اب انھیں بات چیت مذاکرات کا ایک راستہ ملا ہے جو کہ ان کی نوکری کا ایک مشکل حصہ ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں وہ بندہ تھا جو ہمیشہ دوسروں کو ٹوکتا تھا، ایک ایسا شخص جو ہمیشہ جانتا تھا کہ تم مجھے کیا بتانے کی کوشش کر رہے ہو۔

’میں اپنے مفروضوں کے ساتھ کسی بات میں کود جاتا تھا، اور پھر انھیں جائز قرار دینے کی کوشش کرتا تھا۔ مفروضے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔‘

ٹریننگ کے کچھ ہی عرصے بعد محمد نے عراق کے شہر موصل میں نوکری کی۔ اس میں وہ مقامی حکام، غیر سرکاری تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ شہر چھوڑ جانے والے لوگوں کی امداد کے لیے منصوبے پر کام کرتے تھے۔ اپنے نئے کام میں آگے بڑھنے کے لیے محمد کو مختلف اور متضاد آرا رکھنے والے بہت سے لوگوں کے درمیان اتفاق کروانا پڑتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کیا ہمیں نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو گھر بھیجنا چاہیے؟ کیا ہمیں انھیں اس شہر میں رکھنا چاہیے جہاں وہ ہیں؟ کیا وہ ایک ایسے علاقے میں رہنا چاہیں گے جہاں مختلف قبیلوں کے لوگ رہ رہے ہوں۔‘

A view of the old city of Mosul and buildings destroyed during past fighting with Islamic State militants

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

محمد سننے کی صلاحیت کو موصل کے بے گھر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے استعمال کرتے ہیں

محمد کو تھوڑا تھوڑا یاد ہے جب یہ کام شروع کرنے سے پہلے اُنھیں بریفنگ دی گئی تھی۔ جب ان کی ساتھی نے انھیں ان کے کام کی نوعیت اور ضروریات کے حوالے سے بتایا تو انھیں محسوس ہوا کہ انھیں پس منظر ٹھیک سے نہیں سمجھایا جا رہا تھا حالانکہ اُنھیں اس کی ضرورت ہونی تھی۔

وہ کہتے ہیں ’میرا یقین کیجیے، انسانی امداد کے کام میں مؤثر رابطوں کے لیے آپ کو اس میں شامل ہر شخص کی شخصیت کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کون مددگار ہے، کون خرابی کر رہا ہے اور کون کام میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔‘

اس وقت محمد کو لِسننگ ٹریننگ یاد آئی اور یہ بھی کہ کوئی جب بات ختم کرتا ہے تو اس کے بعد بھی اسے جگہ دینے کی کیا اہمیت ہوتی ہے، یہ دونوں تکریم کی علامت ہیں کہ آپ اسے مزید بات کرنے کی اجازت دیں۔

جب ان کے ساتھ کام کرنے والے بات ختم کر لیتے تھے تو بھی وہ 20 لمحوں تک توقف کرتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان 20 لمحوں میں ان کا اعتماد حاصل کرنے اور ان کے ساتھ ایک تعلق بنانے کے قابل ہو جاتا تھا۔

وہ کہتے ہیں اس عرصے کے بعد ہمارا تعلق کچھ بدل گیا، وہ مجھ سے اپنے حقیقی تجربات بیان کرتی تھی، اور جن لوگوں کے ساتھ میں نے کام کرنا ہوتا تھا ان کے بارے میں اپنی رائے دیتی تھی۔

Presentational grey line

ڈیپ لسننگ کام کیسے کرتی ہے؟

Illustration of the deep listening process
  • بولنے والے کو کہیں کہ وہ اپنے خیالات و نظریات کی وضاحت کریں اور یہ بھی کہ وہ اس بارے میں ایسا کیوں محسوس کرتے ہیں۔ انھیں ٹوکیں نہیں، اور اپنی رائے، دلیل کا جواب اور کسی بھی معاملے کا حل پیش کرنے کے بجائے بولنے والے کو سنیں۔
  • جو بات آپ کو سمجھ آئی وہ مختصراً بیان کریں اور چیک کریں کہ کیا آپ اسے درست طور پر سمجھ پائے بشمول ان کے جذبات اور بیان کی گئی کہانی کی بناوٹ کو سمجھے ہیں جو انھوں نے کہا ہے۔
  • ان سے پوچھیں کیا جو آپ نے خلاصہ بیان کیا وہ اس سے متفق ہیں، اگر نہیں تو آپ ان سے کہیں کہ وہ مزید تفصیل سے بتائیں۔
  • اس عمل کو جاری رکھیں جب تک کہ بولنے والا ’ہاں‘ نہ کہہ دے۔ وہ اس پوائنٹ پر آ جائیں گے جب وہ آپ کی جانب سے کہانی سن سکیں۔
Presentational grey line

محمد کہتے ہیں کہ کچھ اوقات ہوتے ہیں کہ جب میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ کسی کی بات کو سننے کی اپنی نئی صلاحیت کو استعمال نہ کروں۔

وہ کہتے ہیں کہ امداد کے شعبے میں اگر آپ واقعی بہت اچھے ہیں اور ذاتی بات چیت میں ہیں، آپ اپنے آپ کو اتنی گہری جذباتی کیفیت میں لے جاتے ہیں جس کے لیے آپ تیار نہیں ہوتے۔

محمد نے مجھے ایک ٹیکسی ڈرائیور سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں بتایا۔

انھوں نے محمد کو بتایا کہ جب یہ شہر نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ماتحت تھا تو کیسے انھیں ایک عورت کو بنا مرد ساتھی کے اپنی ٹیکسی میں بٹھانے پر 18 دُرّے مارے گئے۔

محمد وضاحت کرتے ہیں کہ ڈیپ لِسننگ کا تاریک پہلو بھی ہے۔

’میں جانتا ہوں کہ اس وقت میرے لیے یہ گفتگو محفوظ نہیں۔ مجھے دوسروں کے تجربات اور تکالیف سے خود کو الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ذاتی طور پر ابھی میں جذبات کو قابو کرنے میں مہارت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘

دوسری جانب حورا کیسے اپنے نئے نظریات کو اپنے والد کی جانب سے پرورش کے دوران ملنے والی اقدار سے ملاتی ہیں؟ ان کے والد کچھ سال پہلے وفات پا چکے ہیں مگر ہر جمعرات کو حورا ان کی قبر پر جاتی ہیں۔

’میں محسوس کرتی ہوں وہ مجھے آسمانوں سے دیکھ سکتے ہیں، اور میں مطمئن ہوں کہ وہ خوش ہیں اور انھیں فخر ہے۔‘

محمد کو یہ سمجھ آئی ہے کہ انسانی ہمدردی میں تمام لوگ برابر ہیں۔ ’ہم جتنا زیادہ لوگوں کو جانتے ہیں ہم ان سے اتنے ہی کم خوفزدہ ہوتے ہیں۔ اور شاید پھر ہم ان کے بارے میں کم تعصب رکھتے ہیں۔‘



Source link