کابل کی میک اپ آرٹسٹ: ’ہر لمحے ایسا لگتا ہے طالبان مجھے ڈھونڈتے ہوئے آ جائیں گے‘

  • شودابہ حیدر اور میگا موہن
  • بی بی سی ورلڈ سروس

9 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جس دن طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر غلبہ حاصل کیا، بیوٹی پارلروں کے باہر لگے خواتین کے عروسی ملبوسات کے اشتہارات پر رنگ پھیر دیا گیا اور شہر بھر میں سیلون بند کر دیے گئے۔

کئی مالکان کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اپنا کاروبار کھول لیں گی لیکن بعض کو مستقبل کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہیں۔

افسوں (فرضی نام) ایک میک اپ آرٹسٹ بتاتی ہیں کہ افغان خواتین کے لیے بیوٹی کی صنعت کس قدر اہم ہے۔

دری زبان میں ‘تکان جوردم’ لفظ کا کسی اور زبان میں ترجمہ کرنا مشکل ہے۔

اس کا مطلب کوئی ایسا انوکھا واقعہ ہو سکتا ہے جو آپ کی زندگی کو ہلا کر رکھ دے اور جس کی وجہ سے آپ ہمیشہ کے لیے بدل جائیں، جیسے کسی عزیز ترین شخص کی موت جو آپ کی زندگی کا محور ہو۔

افسوں کو زندگی میں تکان جوردم کا پہلی مرتبہ تجربہ 15 اگست سنہ 2021 کو ہوا۔

اس دن اتوار تھا اور جب وہ صبح دس بجے سو کر اٹھیں تو انھوں نے بیوٹی سیلون میں اپنے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون سے بات کی۔

افسوں وہاں پر بہت خوش تھیں، شیمپو اور نیل پالش کی خوشبو میں معطر ماحول میں ‘ہیر ڈرائر’ کے شور میں خوش گپیوں میں مصروف۔

فون کرنے پر افسوں کو جواب ملا ’آج کام پر مت آئیں، آج سے ہم کام بند کر رہے ہیں، سب کچھ ختم ہو گیا۔‘

افسوں نے اپنے بستر پر بیٹھے بیٹھے اپنا موبائل فون دیکھا۔ وہ انگوٹھے سے اپنی سکرین پر آنے والے پیغامات کو اوپر نیچے کرتی رہیں جہاں ان کو دوستوں اور رشتہ داروں کی طرف سے سینکڑوں پیغامات بھیجے گئے تھے اور اس کے علاوہ سوشل میڈیا ویب سائٹ پر بھی ان گنت پیغامات موجود تھے۔

خوف اور حیرت کے ملے جلے شدید احساس نے انھیں جکڑ لیا اور ان کا جسم سرد پڑ گیا اور ان کی طبیعت خراب ہونے لگی۔

سارے پیغامات ایک جیسے تھے۔ طالبان کابل میں داخل ہو گئے ہیں۔ مغربی فوجی اور سفارت کار 16 دن میں ملک سے نکل جائیں گے۔

انھوں نے اپنے آپ سے کہا کہ ‘سب کچھ ختم ہو گیا۔ یہ وقت چھپے رہنے کا ہے۔‘

افسوں کی عمر 20 برس سے کچھ زیادہ ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک ‘ماڈرن’ افغان عورت تصور کرتی ہیں۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھیں سوشل میڈیا پسند ہے، فلموں کی دلدادہ ہیں، گاڑی چلا سکتی ہیں اور زندگی میں بہت کچھ کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔

افسوں سنہ 1990 کی دہائی یاد کرتی ہیں جب وہ پیدا ہوئی تھیں تب طالبان نے پہلی مرتبہ ملک میں بیوٹی سیلون بند کر دیے تھے۔

لیکن انھوں نے ایک ایسے افغانستان میں پرورش پائی جہاں پر بیوٹی پارلر زندگی کا اہم حصہ تھے۔

افغانستان پر سنہ 2001 میں طالبان کا اقتدار ختم ہونے کے اگلے 20 سال میں کابل میں 200 بیوٹی پارلر کھولے گئے اور سینکڑوں ملک کے دوسرے شہروں میں کھلے۔

اپنے بچپن اور نوجوانی کے دنوں میں جب وہ اپنے خاندان کی خواتین کے ساتھ بیوٹی پارلروں میں جاتی تھیں تو وہاں پڑے فیشن میگزین کو بڑے شوق سے دیکھتی تھیں اور اس کے علاوہ وہ سوشل میڈیا سے بھی فیشن کے بارے میں معلومات حاصل کرتی رہتی تھیں۔

وہ دنیا کی ہر چیز میں دلچسپی رکھتی تھیں۔

افسوں نے ایک کامیاب میک اپ آرٹسٹ بن کر اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کر لی۔ وہ اور کچھ نہیں چاہتی تھیں۔

کابل میں تمام بیوٹی پارلروں کی طرح افسوں جس پارلر میں کام کرتی تھیں اس کی کھڑکیوں کے باہر بھی خوبصورت خواتین کی جدید ترین میک اپ میں اشتہاری تصاویر لگی ہوئی تھیں۔

ان اشتہاری پوسٹروں کا ایک اور مقصد یہ تھا کہ باہر سے گزرنے والے مرد حضرات سیلون کے اندر بنتی سنورتی خواتین کو نہ دیکھ سکیں۔

ہر وقت سیلون میں درجنوں خواتین کا رش رہتا تھا جن میں سیلون میں کام کرنے والیوں کے علاوہ گاہک بھی ہوتی تھیں۔ ان میں ڈاکٹر اور صحافی، گلوکار اور ٹی وی آرٹسٹ، دلہنیں اور اپنی ماؤں اور بہنوں کے ہمراہ آنے والی کم عمر بچیاں بھی شامل ہوتی تھیں۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہNILAB ADILYAR

سیلون میں ہمیشہ ہی رش رہتا تھا چاہے یہ شادیوں کا موسم ہو یا عام دن۔ عید کے قریب تو سیلون میں اس قدر رش ہوتا تھا کہ باقاعدہ پہلے سے وقت لینا پڑتا تھا۔

افسوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسی جگہ چاہتی ہیں جہاں عورتیں آزاد ہوں اور ترقی کر سکیں۔

لیکن 15 اگست کو جب طالبان نے کابل کے صدارتی محل پر قبضہ کیا تو ان کی کئی برس کی محنت ایک لمحہ میں اکارت ہو گئی۔

کابل میں آدھی رات ہو چکی تھی اور افسوں نے سرگوشی میں اپنے فون پر ہم سے بات کی۔ وہ ڈری ہوئی لگ رہی تھیں۔ انھوں نے اسی اتوار کو اپنا گھر چھوڑ دیا اور ایک محفوظ جگہ پر منتقل ہو گئیں۔

انھوں نے کہا کہ بیوٹی کی صنعت میں خواتین خاص طور پر ان جیسے لوگ جو اپنے کام کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں وہ ان کا ہدف ہیں۔

فون پر اپنی ساتھی کے ساتھ بات کرنے کے بعد جنھوں نے انھیں کام پر آنے سے منع کیا تھا، افسوں کو پتا چلا کہ شہر میں جن اشتہاروں پر خواتین کی تصاویر تھیں انھیں کابل کے خوف زدہ شہری رنگ کر رہے ہیں۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افسوں کے ایک دوست نے خود کچھ اشتہارات پر رنگ کیا تاکہ طالبان کے جبر سے بچا جا سکے۔

انھوں نے کہا ’وہ بے پردہ خواتین کی تصاویر اور ان کے اشتہار کبھی برداشت نہیں کریں گے۔‘ وہ اپنے عقائد واضح کرتے آئے ہیں کہ خواتین کو مردوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’افغانستان میں یہ فیشن کی صنعت کی موت ہے۔‘

افسوں کے پاس کوئی دعوت نامہ نہیں اور نہ ہی دیگر سفری دستاویزات ہیں کہ وہ ملک سے باہر جانے والے جہازوں پر جگہ حاصل کر سکیں۔ ان کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتیں۔ آگے کیا ہو گا، انھیں کچھ پتا نہیں۔ انھوں نے اس بارے میں نہیں سوچا ہے کہ جب بھی انھیں گھر سے باہر نکلنا پڑے گا تو وہ کیا پہن کر باہر جائیں گی۔

فی الوقت انھیں اپنے مستقبل کے بارے میں جو رنگ نظر آتا ہے وہ گہرا سیاہ رنگ ہے جو اشتہارات پر کر دیا گیا۔ وہ فی الحال صدمے کی حالت میں ہیں اور اس سے وہ کب نکل پائیں گی اس کا کچھ پتہ نہیں۔

انھوں نے کہا کہ سردست انھیں اپنی جان کی فکر ہے۔ ‘مجھے زندہ رہنے کی فکر ہے مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا لیکن اس طرح نہیں لاچار اور خوف زدہ۔’

وہ کہتی ہیں ’زندہ رہنا صرف ایک چیز ہے جس کے بارے میں، میں سوچ سکتی ہوں۔ میں مرنے سے نہیں ڈرتی ۔ لیکن اس طرح خوفزدہ اور ناامید نہیں رہنا چاہتی۔‘

’ہر لمحے ایسا لگتا ہے طالبان مجھے ڈھونڈتے ہوئے آ جائیں گے۔‘



Source link

Leave a Reply