کانپور میں سرعام مسلمان رکشے ڈرائیور کی پٹائی کی وائرل ویڈیو، تین ملزمان گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا

  • سمیر آتمج مشر
  • بی بی سی ہندی

24 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہSamiratmaj Mishra/BBC

،تصویر کا کیپشن

کانپور میں ایک مسلمان شخص کو سرعام پیٹا گیا۔

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے شہر کانپور میں ایک مسلمان رکشہ ڈرائیور کی پٹائی اور اس سے زبردستی ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگوانے کے مقدمے میں گرفتار تین افراد کو ضمانت پر رہائی مل گئی ہے۔

دو روز قبل سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں چند افراد ایک رکشہ چلانے والے کی پٹائی کر رہے ہیں اور اس کی تقریباً سات سالہ بیٹی پریشان نظر آرہی ہے۔ اس دوران بعض افراد اسرار احمد نامی مسلمان رکشہ ڈرائیور سے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔

کانپور پولیس نے جمعرات کی شام کو تینوں ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ تینوں ملزمان کی گرفتاری کے خلاف ہندو پسند تنظیم نے جمعرات کی شب ڈپٹی کمشنر پولیس کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا تھا۔

کانپور کے پولیس کمشنر اسیم اروڑا نے میڈیا کو بتایا، ’کانپور نگر کے تھانہ بررا میں مسلمان رکشہ ڈرائیور اسرار احمد کو مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔ اس مقدمے میں تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ ديگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ یہاں حالات نارمل ہیں۔‘

یہ معاملہ کیا ہے؟

कानपुर

،تصویر کا ذریعہSamiratmaj Mishra/BBC

،تصویر کا کیپشن

ویڈیو میں بعض افرار رکشتہ والے سے جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہ رہے ہیں

وائرل ویڈیو میں اسرار احمد کی سات سالہ بیٹی اپنے والد کو چھوڑنے کی التجا کرتی نظر آرہی ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مار پیٹ کیے جانے کے بعد چند پولیس اہلکار اسرار احمد کو اپنی جیپ میں لے جارہے ہیں۔ تاہم ویڈیو میں یہ صاف ہے کہ جب ہجوم اسرار احمد کو پیٹ رہا تھا تو بعض پولیس اہلکار بھی وہاں موجود تھے۔

اس واقعے کا ایک دوسرے واقعے سے تعلق جوڑا جار رہا ہے جس میں تقریباً ایک ماہ قبل بررا علاقے میں رہنے والے ایک دلت خاندان کی نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر چند نوجوانوں نے چھیڑ چھاڑ کی تھی۔

اس واقعے کے بعد الزام یہ ہے کہ لڑکی کے خاندان والوں کی مخالفت اور اعتراض کے بعد ملزمان نے لڑکی کے خاندان پر تبدیلی مذہب کا دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ اس واقعے میں شامل ملزمان میں دو لڑکے مسلمان ہیں اور ایک ہندو اور جس لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی وہ دلت برادری سے تعلق رکھتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے پہلے تو اس معاملے میں رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا لیکن بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی ایم ایل اے مہیش ترویدی کی مداخلت کے بعد اور بچی کی والدہ کی تحریری درخواست پر دو سگے بھائیوں صدام، سلمان اور ان کے دوست مکل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

یہ تینوں لڑکے اور دلت لڑکی ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ محمد اسرار صدام اور سلمان کے پڑوسی اور دور کے رشتہ دار بھی ہیں۔

کانپور

،تصویر کا ذریعہSamiratmaj Mishra/BBC

،تصویر کا کیپشن

اب یہ پورا معاملہ فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرچکا ہے

لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ ’میری 14 برس کی لڑکی کو یہ تینوں ملزمان روزانہ چھیڑتے تھے۔ جب ہم لوگ شکایت کرتے تھے تو یہ مار پیٹ کی دھمکی دیتے اور مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالتے تھے۔ ہم نے اپنی شکایت میں زبردستی تبدیلی مذہب کی بات کہی تھی لیکن پولیس نے ایف آئی آر میں چھیڑ چھاڑ کی دفعات کے تحت ہی مقدمہ درج کیا۔‘

حالانکہ پولیس کا کہنا ہے کہ 12 جولائی کو ہی دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

کانپور( ساؤتھ) کی ڈپٹی پولیس کمشنر روینا تیاگی نے بتایا کہ ’12 جولائی کو لڑکی کی ماں، رانی نے ایف آئی آر درج کرائی تھی اس میں مار پیٹ کی شکایت کی گئی تھی۔ جن لوگوں کے خلاف رانی نے ایف آئی آر درج کرائی ان میں صدام، مکل اور سلمان کے خلاف لڑکی کو تنگ کرنے اور مذہب تبدیل کرنے کا دباؤ ڈالنے کی بات کہی گئی تھی۔‘

سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم بجرنگ دل کے کارکنان کا الزام ہے کہ تبدیلی مذہب کی شکایت درج کرانے کے باوجود پولیس نے کارروائی نہیں کی۔

اس کے بعد کچھ روز پہلے بجرنگ دل کے بعض کارکنان صدام اور سلمان کے گھر پہنچے اور جب اسرار احمد اور ديگر پڑوسیوں نے مداخلت کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے اسرار احمد کو گھر سے باہر گھسیٹا اور سر عام پٹائی کرنی شروع کر دی۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ اس دوران وہاں پولیس موجود تھی اور وہ خاموش تماشائی بنی رہی۔

فرقہ وارانہ کشیدگی

कानपुर

،تصویر کا ذریعہSamiratmaj Mishra/BBC

اسرار احمد کی پٹائی کرنے والوں میں مبینہ طور پر بجرنگ دل کے کارکنان کے علاوہ بی جے پی کے ایم ایل اے مہیش تریودی کے بیٹے بھی شامل تھے۔ شروع میں پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی لیکن واقعے کی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر پولیس اور انتظامیہ پر زبردست تنقید ہوئی جس کے بعد پولیس نے تین ملزمان کے نام ایف آئی آر میں شامل کیے اور جمعرات کی شام کو ان کو گرفتار بھی کر لیا۔

اس بارے میں مہیش تریویدی کے بیٹے شبھم تریودی کہتے ہیں کہ وہ جائے وقوع پر موجود ضرور تھے لیکن مار پیٹ میں شامل نہیں تھے۔

’میں علاقے کے دورے پر تھا جب مجھے اس واقعہ کی اطلاع ملی۔ میں نے پولیس کو اطلاع کی اور ان سے جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے کہا۔ میں بھی صحیح وقت پر وہاں پہنچ گیا۔ میں نے وہاں موجود ایس ایچ او سے کہا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ طریقے سے تفتیش ہونی چاہیے اور جو بھی قصوروار ہو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘

روینا تیاگي

،تصویر کا ذریعہSamiratmaj Mishra/BBC

،تصویر کا کیپشن

بجرنگ دل کا الزام ہے کہ پولیس نے اس معاملے میں یکطرفہ کارروائی کی ہے

اس دوران علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بڑھنے کے خدشے کے تحت اضافی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گيا ہے۔

بجرنگ دل کے مقامی رہنما دلیپ سنگھ بجرنگی نے پولیس پر یکطرفہ کارروائی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر پولیس انصاف نہیں کرتی ہے تو ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر اس طرح سے ظلم ہوتے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔‘

پولیس کی جانب سے مار پیٹ کرنے کے الزام میں تین افراد کی گرفتاری کے بعد بجرنگ دل کے کارکنان نے مقامی پولیس کمشنر کے دفتر کے باہر احتجاج کیا تھا۔



Source link

Leave a Reply