کراچی کی کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی: وہ خاندان جس نے اس حادثے میں پانچ افراد کو کھو دیا

  • محمد زبیر خان
  • صحافی

48 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہMuhammad Haidar

،تصویر کا کیپشن

حیدر، حسن اور ثاقب

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی فیکڑی میں آگ لگنے کے حادثے میں حکام کے مطابق کم از کم 17 مزدور ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان مزدوروں میں سے اکثریت پاکستان کے دوسرے شہروں سے محنت مزدوری کے لیے کراچی پہنچنے والوں کی تھی۔ جب ان مزدوروں کی جلی ہوئی لاشیں ان کے آبائی گھروں میں پہنچائی گئیں تو ان گھروں میں قیامت برپا ہو گئی۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والے کراچی کے علاقے دھوبی گھاٹ کے رہائشی ایک خاندان اپنے پانچ افراد سے محروم ہوگیا ہے جن میں تین سگے بھائی، چچا بھتیجا اور داماد شامل ہیں۔ اس خاندان کے ایک بڑے محمد حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں دن کے وقت کوئی ساڑھے گیارہ بجے اطلاع ملی کہ فیکڑی میں آگ لگ چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’یہ سنتے ہی میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا۔ اس فیکڑی میں میرے دو بہنوئی فرمان اور فرحان اور ان کا ایک اور بھائی عرفان یعنی تین سگے بھائی کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ میرا بھائی حیدر علی اور بھتیجا احسن بھی اسی فیکڑی میں کام کرتے تھے۔‘

محمد حیدر کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں پتا میں کیسے فیکڑی تک پہنچا۔ جب میں وہاں پہنچا تو یاد آیا کہ ہمارے دوست اور پڑوسی کا بیٹا شعیب بھی اسی فیکڑی میں کام کرتا تھا۔ ایک ایک کی منتیں کرتا رہا کہ کوئی ان کو بچا لو کچھ کر لو۔ ایک دو نہیں میرے خاندان کے پانچ لوگ اور میرے دوست کا بیٹا بھی شامل ہیں۔ یہ سب مزدور ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب آگ لگی ہوئی تھی تو میری دونوں بہنوں نے مجھے فون کیا، نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا فون اٹھایا اور ان کو تسلی دی کہ میں موقع پر پہنچ گیا ہوں دعا کرو سب ٹھیک ہو گا۔ میری تسلی پر میری روتی ہوئی بہنیں کچھ مطمئن ہوگئیں۔ مگر جب وہ ہسپتال پہنچیں اور اپنے خاوندوں کی لاشیں اٹھائیں تو میں ان سے نظر یں نہیں ملا رہا تھا۔‘

محمد حیدر کا کہنا تھا کہ ’میرے بھائی حیدر علی کی دو ماہ پہلے شادی ہوئی تھی۔ یہ ہم لوگوں کی پسند کی شادی تھی۔ جس کو حیدر علی اور ہماری بھابھی نے بھی نہ صرف خوش دلی سے قبول کیا تھا بلکہ ان کے درمیاں مثالی پیار و محبت تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا بھتیجا حسن ابھی اٹھارہ سال کا تھا۔ وہ تعلیم حاصل کررہا تھا۔ ان دونوں امتحان وغیرہ کے بعد وہ فارغ تھا تو خود ہی کام سے لگ گیا کہ چلو کچھ اضافی پیسے مل جائیں گے۔ وہ ہر روز تقریباً اپنے ہی ہم عمر شعیب کے ہمراہ کام پر جاتا اور واپس آتا تھا۔ دونوں کی لاشیں بھی ایک ساتھ نکلی تھیں۔‘

محمد حیدر کا کہنا تھا کہ ’میں حیدرعلی کی بیوہ کے سامنے نہیں جارہا وہ بالکل میری سگی بہن کی طرح ہے۔ اس نے مجھے فون کرکے کہا تھا کہ بھائی حیدر علی کو کچھ ہوا تو میں بھی مر جاؤں گئیں۔ میں ان سب کا سامنا نہیں کر پا رہا ہوں۔ بڑی مشکل سے حوصلہ کرکے جنازے وغیرہ کے معاملات نمٹائے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’احسن کی ماں اور بھائی کل سے بالکل چپ ہیں۔ ان کے بڑھاپے کا سہارا جوان بیٹا ان سے چھن چکا ہے۔ ہم پر جو قیامت گزری رہی ہے خدا سے دعا ہے کہ وہ کسی کو بھی ان حالات کا کبھی بھی سامنا نہ ہو۔‘

کراچی، آگ
،تصویر کا کیپشن

زاہد

ماموں مجھے محنت مزدوری کرنا ہے

اس حادثے میں ضلع شکار پور کا نوجوان زاہد بھی ہلاک ہوا ہے۔ زاہد کراچی میں اپنے ماموں امام دین کے پاس رہائش پزیر تھا۔ امام دین کہتے ہیں کہ ’زاہد کے والدین شکار پور میں کسان ہیں۔ یہ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ بچپن ہی میں ہمارے پاس آگیا تھا۔ ہمیشہ ہمارے پاس ہی رہا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چند ماہ قبل میں نے محسوس کیا کہ زاہد کے ماں باپ کو اس کی ضرورت ہے۔ میں اس کو شکار پور میں آبائی گاؤن جا کر چھوڑ آیا تھا۔ یہ ایک ہفتہ وہاں پر رہا اور پھر اس نے مجھے فون کیا کہ ماموں گاؤں میں کوئی کام نہیں ہے۔ مجھے محنت مزدوری کرنا ہے۔ مجھے واپس بلا لیں۔‘

امام دین کا کہنا تھا کہ ’میں یہ کہوں کہ زاہد جیسا بچہ میں نے کبھی نہیں دیکھا تو شاید یہ سمجھا جائے گا کہ میں ماموں ہونے کے ناطے ایسا کہہ رہا ہوں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ہمارے محلے میں جائیں چھوٹوں، بڑوں سے پوچھیں سب کہیں گے کہ زاہد جیسا بیٹا خوش نصیب ماوں کو ملتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’زاہد ایک ماہر درزی تھا۔ اس نے درزیوں کا کام بچپن میں سیکھ لیا تھا۔ فیکڑی میں ملازمت کورونا کے دونوں میں کی تھی کہ ان دونوں کام بہت ہی کم ہوگیا تھا۔ وہ فیکٹری میں کام کرنے کے علاوہ پارٹ ٹائم درزی کا کام بھی کرتا تھا۔‘

Muhammad Haidar

،تصویر کا ذریعہMuhammad Haidar

،تصویر کا کیپشن

فرحان

امام دین کہتے ہیں ’جس صبح حادثہ ہوا وہ اس صبح بھی اپنے معمول کے مطابق کام کے لیے نکلا تھا۔ میں رات کی شفٹ میں ڈیوٹی کرتا ہوں کبھی کھبار لیٹ ہوجاتا ہوں تو وہ میرے گھر آنے سے پہلے ہی چلا جاتا تھا۔ اس دن بھی میں لیٹ ہو گیا تو وہ میرا انتظار کرتا رہا تھا۔ میں نے پوچھا کیوں نہیں گے تو کہنے لگا کہ دل چاہتا کہ آپ سے مل کر جاٰؤں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ساری کی ساری تنخواہ بچا کر رکھتا تھا ’اس کا معمول تھا کہ وہ روزانہ اپنے خرچے کے تیس چالیس روپیہ اور کرایہ کے پیسے اپنی نانی یعنی میری والدہ سے لیتا تھا۔ اس دن میں ان کے پاس گیا۔ ان سے گلے ملا۔ مجھے امی نے بتایا کہ اس روز تو اس کو مجھ پر کچھ زیادہ ہی لاڈ آیا ہوا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ لڑکے کیا کررہے ہو۔‘

’جس کے بعد وہ ہمیشہ نہ آنے کے لیے چلا گیا۔ وہ اپنے ماں باپ کا جوان سہارا تھا۔ پتا نہیں ان دونوں کا کیا بنے گا۔‘

بھائی دس منٹ انتظار کرو آتا ہوں

اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں بائیس سالہ محمد کاشف بھی شامل تھے۔ ان کی رہائش کراچی کے مھران ٹاون میں فیکڑی کے بالکل سامنے تھی۔ محمد کاشف کے بھائی محمد زاہد کا کہنا تھا کہ ’حادثے والی صبح بھی بڑی عجیب تھی۔ اس روز میں نے اپنی اہلیہ کو لینے کے لیے اپنے آبائی ضلع نواب شاہ جانا تھا۔‘

کراچی

،تصویر کا ذریعہMughaira Ibrahim

وہ کہتے ہیں ’صبح کے وقت میں اور کاشف ساتھ ساتھ نکلے تھے۔ اس نے فیکڑی جانا تھا جبکہ میں نے گاؤں۔ میرے ساتھ میرے والد بھی تھے۔ اس نے جب ہم لوگوں کو دیکھا تو کہنے لگا کہ اگر ہم دس منٹ انتظار کریں تو وہ فیکڑی سے چھٹی لے کر آتا ہے اور ہمارے ساتھ ہی گاؤں جانا چاہتا ہے۔‘

محمد زاہد کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس سے کہا کہ چلو ٹھیک ہے ہم تمھارا انتظار کرتے ہیں۔ تم جاؤ اور واپس آؤ اچھا ہے ہم سب ساتھ جائیں گے۔ جس کے بعد وہ فیکڑی چلا گیا۔ میرا خیال تھا کہ اس کو چھٹی وغیرہ لینے میں آدھا گھنٹہ لگ جائے گا۔ مگر اس کے جانے کے کوئی پندرہ، بیس منٹ بعد شور شرابہ شروع ہو گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے باہر جا کر دیکھا تو فیکڑی کے باہر لوگ اکھٹے تھے۔ فیکڑی میں سے دھواں نکل رہا تھا۔ میرا بھائی اندر تھا۔ میں نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک کھڑکی توڑ کر فیکڑی کے دوسرے فلور پر پہنچ گیا۔ میرا خیال تھا کہ میرا بھائی فیکڑی کے تیسرے فلور پر ہوگا۔‘

’میں نے تیسرے فلور پر جانے کی کوشش کی مگر وہاں پر اتنا دھواں تھا کہ مجھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا کئی منٹ تک کوشش کرتا رہا جب محسوس ہوا کہ اب میں بے ہوش ہونے والا ہوں تو بمشکل اسی کھڑکی سے کود کر نیچے اترا تھا۔‘

کراچی، آگ

،تصویر کا ذریعہFaiz Ullah

محمد زاہد کا کہنا تھا کہ ’ہم چھ بہن بھائی ہیں۔ محمد کاشف کا نمبر تیسرا تھا۔ وہ ہم سب کا بہت لاڈلا اور ضدی بھائی تھا۔ ان دونوں اس کو جنون سوار تھا کہ اس نے دوبئی جانا ہے۔ جس کے لیے وہ کوشش کررہا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس فیکڑی میں کام کرنے کی وجہ بھی یہ ہی تھی کہ اسے فیکڑی والوں نے کہا تھا کہ وہ اسے دوبئی بھیجیں گے۔ جس وجہ سے ایک دفعہ ملازمت چھوڑنے کے باوجود اس نے دوبارہ ملازمت کرلی تھی۔

محمد زاہد کا کہنا تھا کہ ’میرا بھائی چلا گیا۔ میرے ماں باپ سکتے کی کیفیت میں ہیں۔ اگر کوئی میری بات سنے تو میں کہتا ہوں کہ اس حادثے میں کوئی خاندان تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں ’کئی ایسے خاندان ہیں جن کے گھروں میں اب چولہا بھی نہیں جلے گا۔ کئی ایسے ہیں جن کے گھروں کے دو دو اور پانچ پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں سے مزدوریاں کرنے اور رزق حلال کمانے گئے تھے۔ اب ان کے خاندانوں کا کیا بنے گا۔ کسی نے سوچا ہے؟َ‘



Source link

Leave a Reply