کنٹرول لائن غلطی سے عبور کرنے والے 14 سالہ عصمد کا گھرانہ دو ماہ بعد بھی اُن کی رہائی کا منتظر

  • ایم اے جرال
  • صحافی

3 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہFamily Photo

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ایک بزرگ خاتون نے پاکستان کی حکومت سے ان کے 14 سال کے نواسے عصمد علی کو انڈین قید سے آزاد کروانے کی اپیل کی ہے۔

خدیجہ اسلم کے نواسے عصمد علی نے گذشتہ سال 25 نومبر کو اپنے سرحدی گاؤں تیتری نوٹ میں غلطی سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کی تھی اور ان کو انڈین فوج نے حراست میں لیا تھا۔

اب وہ دو ماہ سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین حکام کی تحویل میں ہیں اور ان کے خاندان والوں کو ان کے بارے میں کوئی علم نہیں کہ ان کا بچہ کس حال میں ہے۔

تیتری نوٹ وہ مقام ہے جہاں سے ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف کے منقسم خاندان آر پار جاتے رہے اور تجارت بھی ہوتی رہی ہے۔

ٹیلی فون پر اس نمائندے سے بات کرتے ہوئے خدیجہ اسلم اپنے نواسے کو یاد کرتے ہوئے مسلسل رو رہی تھیں۔

پچپن سال کی خدیجہ اسلم کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کی حکومت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میرے نواسے کو رہا کرے اور پاکستان کی حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میرے نواسے کو انڈین قید سے رہا کروا کر گھر واپسی کا بندوبست کرے۔ ہم غریب و لاچار لوگ ہیں بچے کی رہائی کے لیے بڑے ملکوں کو اپیل کے سوا ہم کر ہی کیا سکتے ہیں۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ ان کے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں جن میں عصمد کی والدہ کی فوت ہو چکی ہیں۔ عصمد علی کے والد محمد بنارس لاہور میں سیکورٹی کمپنی میں بطور گارڈ کام کرتے ہیں جنھوں نے عصمد کی والدہ کی وفات کے بعد دوسری شادی کر لی تھی اور اب لاہور ہی میں مقیم ہیں۔

خدیجہ اسلم نے کہا کہ ’گذشتہ دو ماہ سے مجھے نہ کھانے اور نہ سونے کا (ہوش) ہے۔ وہ تین ماہ کا تھا جب اس کی ماں چل بسی، اس کے بعد میں نے اسے رب کی مدد سے بڑی محنت سے پالا، مجھے اس کی پل پل یاد آتی ہے۔‘

تیتری نوٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پونچھ کے قریب پاکستانی طرف ایک سپاہی پہرہ دے رہا ہے۔ تیتری نوٹ پونچھ سے کچھ ہی فاصلے پر ہے

خدیجہ اسلم کے مطابق 25 نومبر 2021 کو جمعرات کے روز ان کے نواسے عصمد علی نے تیتری نوٹ کے نواح میں مقیم اپنی خالہ کے گھر روانہ کرنے کے لیے مجھے ایک کیری ڈبہ پر بٹھایا اور روانگی سے قبل قریبی دوکان سے خالہ کے بچوں کے لیے ٹافیاں بھی لا کر دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد عصمد واپس لوٹ گیا اور میں اپنی بیٹی کی جانب نکل گئی اور عصر کے وقت واپس گھر لوٹی۔

خدیجہ اسلم کا کہنا ہے کہ گھر واپسی پر معلوم ہوا کہ عصمد واپس گھر نہیں آیا۔

’ہم نے مغرب تک انتظار کیا کہ شاید وہ بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے گیا ہے، واپس لوٹ آئے گا مگر جب وہ مغرب تک بھی نہ گھر لوٹا تو ہماری تشویش میں اضافہ ہوا اور اس کے نانا نے اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ مل کر عصمد کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔‘

عصمد علی کے 65 سالہ نانا محمد اسلم نے بتایا کہ اُنھوں نے گاؤں میں اپنے نواسے کو ہر ممکن جگہ تلاش کیا مگر اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔

ان کے مطابق مقامی سطح پر تعینات پاکستانی فوج کے حکام نے رات 8 بجے ان کو اطلاع دی کہ عصمد غلطی سے ایل او سی پار کر گیا ہے۔

محمد اسلم نے بتایا کہ ’انڈین فوج نے ہاٹ لائن پر پاکستانی فوج کو عصمد کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی جس بنا پر اگلے روز مقامی پولیس و فوجی حکام نے ان سے ملاقات بھی کی اور معلومات حاصل کیں۔‘

عصمد

،تصویر کا ذریعہFamily Photo

ضلع راولاکوٹ کے اسسٹنٹ سپرنٹینڈینٹ پولیس خاور علی شوکت نے بتایا کہ ’14 برس کے عصمد کی گمشدگی ایف آئی آر درج کر رکھی ہے جو غلطی سے ایل او سی پار کر گیا تھا۔

اُنھوں نے بتایا کہ 25 نومبر کو اطلاع ملتے ہی متعلقہ حکام کو آگاہ کیا گیا تھا جنھوں نے اس بارے میں انڈین حکام سے ہاٹ لائن پر رابطہ کر کے بچے کی گرفتاری کی تصدیق کی اور ان سے واپسی کے لیے گزارش کی تھی مگر متعدد بار رابطے کے باوجود انڈین حکام نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘

محمد اسلم نے بتایا کہ ’عصمد کا روزانہ کا معمول تھا کہ وہ بچوں کے ہمراہ قریبی گراؤنڈ میں کھیلتا تھا جو دریائے پونچھ کے کنارے واقع ہے اور انڈین فوج کی چوکی سے سو گز کے فاصلے پر موجود ہے۔‘

محمد اسلم نے بتایا کہ اس علاقے میں تیتر سمیت دیگر جنگلی پرندے بہت ہوتے ہیں جبکہ عصمد کو تیتر، کبوتر، مرغوں اور دیگر پرندوں کو گھر پر رکھنے کا بہت شوق تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسے لگتا ہے عصمد تیتر یا کسی دوسرے پرندے کو پکڑنے کی غرض سے ایل او سی غلطی سے پار کر گیا اور وہاں موجود انڈین آرمی نے اسے گرفتار کر لیا۔

’اس مقام پر انڈین پوسٹ اتنی قریب ہے کہ اگر ایل او سی کے قریب ویرانے میں کوئی جائے تو واپسی ممکن نہیں ہوتی۔‘

اُنھوں نے انڈین حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا نواسہ ’معصوم ہے جو نویں جماعت کا ایک لائق، محنتی طالب علم تھا، اس بنا پر اس کا تعلیمی سال ضائع ہو جائے گا جبکہ اس کی نانی و دیگر گھر کے افراد اس کی یاد میں پاگل ہو جائیں گے، اس لیے مہربانی کر کے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر عصمد کو رہا کر دیں۔‘

محمد اسلم کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق جس گاؤں سے ہے، اس حلقہ انتخاب سے اس خطے کے وزیرِ اعظم سردار عبدالقیوم نیازی منتخب ہوئے ہیں اس بنا پر وہ اس خطے کے وزیرِ اعظم سمیت پولیس اور فوجی حکام سے اپنے نواسے کی واپسی کے حوالے سے ایک سے زائد مرتبہ رابطہ کر چکے ہیں۔

تیتری نوٹ

اُنھوں نے کہا کہ ’آغاز میں مقامی پولیس اور فوجی حکام نے ہم سے رابطہ کیا اور معلومات اکٹھی کیں اور ہمیں عصمد کی واپسی کا پورا یقین دلوایا مگر دو ماہ گزرنے کو ہیں میرا عصمد واپس نہیں لوٹا۔‘

اس خطے کے وزیرِ اعظم سردار عبدالقیوم نیازی کا کہنا ہے کہ وہ عصمد سمیت ایل او سی غلطی سے پار کرنے والے تمام دیگر افراد کے حوالے سے وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان سمیت متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ان کی رہائی کے حوالے سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اُدھر تیتری نوٹ میں خدیجہ اسلم کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ممالک سے اپیل ہی کر سکتی ہیں۔

’خدیجہ اسلم نے کہا کہ ’شروع میں سب افسر مجھے تسلیاں دیتے رہے، اب تو نہ ہمیں کوئی ملنے آتا ہے، نہ یہ بتاتا ہے کہ اب تک کیا ہوا۔‘

’ہم غریب اور لاچار لوگ ہیں، ہمارے گھر میں کوئی بابو یا افسر نہیں، اگر ایسا ہوتا تو ہم اپنے عصمد کو کب کا واپس لے آتے، ہمیں تو کسی سے درست طریقے سے بات کرنی بھی نہیں آتی۔‘

Presentational grey line

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

،ویڈیو کیپشن

بنکر میں زندگی کیسی ہوتی ہے؟



Source link