کووڈ 19: کسی جمبو جیٹ کو ری سائیکل کرنا کتنا مشکل اور پیچیدہ کام ہے؟

  • مائیکل ونرو
  • ٹیکنالوجی بزنس رپورٹر

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

دنیا بھر میں پانچ ہزار سے زیادہ طیارے بیکار کھڑے ہیں

کورونا کی عالمی وبا پھیلنے اور اس کے نتیجے میں ہوائی سفر میں شدید گراوٹ کی بدولت دنیا کے ایک چوتھائی مسافر بردار طیارے ایئرپورٹس پر عرصہ دراز سے بیکار کھڑے ہیں اور اب اُن طیاروں کے مالکان یہی سوچ رہے ہیں کہ اِن کے ساتھ کیا کرنا ہے۔

ان میں سے کچھ طیارے تو اب دوبارہ کبھی پرواز نہیں کر سکیں گے۔

عالمی انجن لیزنگ کمپنی ’ویلیس لیز‘ کے ڈائریکٹر جیمز کوبولڈ کہتے ہیں ’مالکان طیاروں کے لیے پارکنگ فیس اور سٹوریج فیس مزید ادا نہیں کرنا چاہتے۔‘

’انھیں ایسے طیاروں کو محوِ پرواز رکھنے کی ضرورت ہے یا پھر وہ ان کی کہانی ختم کر دیں، یعنی انھیں طیاروں کے پرزوں کی خرید و فروخت کرنے والے ایسے تاجر کے ہاتھوں فروخت کر دیں جو اِن کے پرزے علیحدہ کر کے لے جائیں۔‘

شہری ہوا بازی اور ڈیٹا اینالیٹکس کی کمپنی ’سیریئم‘ کے گلوبل ہیڈ راب مورس کا کہنا ہے کہ رواں برس جولائی میں 5467 کمرشل مسافر طیارے سٹوریج میں موجود تھے، جو کہ دستیاب طیاروں کے ایک چوتھائی کے برابر ہیں۔

اگرچہ کچھ صورتحال بہتر ہوئی ہے مگر اب بھی دنیا بھر میں ہینگروں اور ہوائی پٹیوں پر ایسے طیاروں کی نمایاں تعداد موجود ہے۔

ایئرپورٹ

،تصویر کا ذریعہGRAHAM WESEY ASIGCAM

،تصویر کا کیپشن

بیکار کھڑے طیاروں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اب دوبارہ پرواز کرنے کے قابل نہیں رہیں گے

ان طیاروں میں کچھ ابھی سالم حیثیت میں موجود ہیں جبکہ کچھ کو پہلے ہی پرزے پرزے کر دیا گیا ہے۔

ایسی ہی ایک جگہ کوٹس والڈ ایئر پورٹ ہے جو گلوسسٹر شائر میں واقع ہے۔ یہ جگہ ایئر سالویج انٹرنیشنل کمپنی کا ہوائی اڈہ ہے۔ یہ کمپنی طیاروں کے پرزے نکالنے اور انھیں ٹھکانے لگانے کا کام کرتی ہے۔

طیاروں کے پرزوں کے سپلائیر اور ایئر سالویج انٹرنیشنل گروپ آف بزنس کا حصہ سکائی لائن ایرو کے منیجنگ ڈائریکٹر بریڈلی گریگوری بتاتے ہیں کہ جب طیارے پرواز کرنا بند کر دیتے ہیں اور وہ اپنے یارڈ میں چلے جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں تین کام ہو سکتے ہیں۔

سب سے کم خراب صورت یہ ہے کہ ایسے طیاروں کو پرواز کے قابل ماحول میں رکھا جائے اور ان کی دیکھ بھال ہو تاکہ انھیں تھوڑی بہت جانچ کے بعد پھر سے پرواز کے کام لایا جا سکے۔

دوسری صورت میں طیارے کو طویل مدتی سٹوریج میں بھیج دیا جاتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے طیارے کا انجن اتار دیا جاتا ہے اور اسے پہلے کے مقابلے میں کم دیکھ بھال کے ساتھ سٹور رکھا جاتا ہے۔

تیسری اور آخری صورت یہ ہے کہ اس کے انجن کو نکال لیا جاتا ہے اور اس کے پرزے الگ کر دیے جاتے ہیں اور ان پرزوں کا استعمال دوسرے طیاروں میں کیا جاتا ہے یا پھر انھیں ری سائیکل ہونے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔

طیارے

،تصویر کا ذریعہARFA

،تصویر کا کیپشن

طیاروں سے نکالے جانے والے بیشتر پرزے دوبارہ قابلِ استعمال ہوتے ہیں

مسٹر گریگوری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’پچھلے 12 مہینوں میں آنے والے طیاروں میں سے تقریبا 75 فیصد سے 80 فیصد سٹوریج کے لیے ہیں جبکہ ان کے مالکان کی نگاہ میں ان کے لیے کوئی فوری منصوبہ بندی نہیں ہے۔‘

اس وقت ان کے پاس 29 طیارے سٹوریج میں ہیں۔ ان میں سے 14 کے پرزے الگ کیے جانے ہیں جبکہ چھ کو توڑا جا رہا ہے تاکہ انھیں ٹھکانے لگایا جا سکے۔

عالمی سطح پر سنہ 2020 میں مجموعی طور پر 449 طیاروں کو پرزے الگ کرنے کے لیے بھیجا گیا جو کہ سیریئم کے مطابق سنہ 2019 میں بھیجے جانے والے 508 طیاروں سے قدرے کم تعداد ہے۔

مسافر طیارے کی زندگی کے اس آخری مرحلے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے کیونکہ شہری ہوا بازی کی صنعت گلوبل وارمنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے پیش نظر زیادہ پائیدار اور ماحول دوست بننے کی کوشش کرتی ہے۔

مسٹر گریگوری کا کہنا ہے کہ ’یہ طیارے کی قسم اور اس کے ماڈل پر منحصر ہے کہ اس کے بہت سے پرزے دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔‘

’اس میں کم مطلوبہ پرزوں والے پرانے ماڈل سے لے کر جس میں سے تقریبا 200 یا اس سے کچھ زیادہ پرزے نکالے جاتے ہیں، نئے ماڈلز کے طیارے شامل ہیں جن میں سے 1200 پرزے اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ پرزے نکالے جاتے ہیں۔‘

انجن کے علاوہ دیگر کار آمد پرزوں میں لینڈنگ گیئر، بریک، کاک پٹ میں لگے پرواز کے آلات اور یہاں تک کہ پہیے بھی شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’ایک طیارے کے سینکڑوں پرزے مرمت کے لیے کارخانے جاتے ہیں اور جب تک ان کی دوبارہ تصدیق کی ضرورت نہ ہو اور وہ ناقابل مرمت نہ ہو جائیں تب تک وہ دوسرے طیاروں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔‘

ایئر کرافٹ فلیٹ ری سائیکلنگ ایسوسی ایشن (اے ایف آر اے) بھی اس میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

ایسوسی ایشن کی طرف سے شہری ہوا بازی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ اس کے پرزے الگ کرنے والی کمپنیوں کے آڈٹ کیے جاتے ہیں۔ ان کی سخت نگرانی کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ بہترین انتظامی طریقوں پر عمل پیرا ہیں۔

طیارے کا اندرونی حصہ

،تصویر کا ذریعہARFA

،تصویر کا کیپشن

طیارے کے اندرونی حصے دوبارہ قابل استعمال نہیں ہوتے اور انھیں ملبے میں پھینک دیا جاتا ہے

اگرچہ طیاروں میں ری سائیکل یا دوبارہ استعمال ہونے والے پرزوں کی تعداد زیادہ ہے تاہم اس کے حوالے سے چیلنجز بھی موجود ہیں۔

مسٹر کوبولڈ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’وہ پرزے جنھیں ری سائیکل نہیں کیا جا سکتا وہ صرف کیبن کے اندرونی حصے ہیں کیونکہ یہ مخلوط پلاسٹک سے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’اس طرح اگر ہمیں فیوزلیج (بیٹھنے اور سامنے رکھنے والی چیزیں) یا اس کے حصوں کو ہٹانا ہو اور کیبن کے اندرونی حصے کی ضرورت نہ ہو، یہ وہ واحد مادہ ہے جو صرف ملبہ ہوتا ہے۔‘

طیاروں کو ٹھکانے لگانے کا کام کرنے والی ایک دوسری کمپنی ای کیوب سولیوشنز کے مائیک کورنی کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں طیاروں کی ری سائیکلنگ زیادہ چیلنجنگ ہونے کا امکان ہے کیونکہ نئے طیارے مخلوط مادے کا استعمال کرتے ہیں جنھیں پراسیس کرنا مشکل ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’فی الحال کاربن فائبر کی ری سائیکلنگ کا کوئی کم خرچ مؤثر طریقہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس طرح کے مواد کو ری سائیکل کرنے کے طریقے ڈھونڈنے میں بہت زیادہ رقم لگائی جا رہی ہے اور شاید مستقبل میں کاربن فائبر کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکے گا۔

طیارہ

،تصویر کا ذریعہGRAHAM WESEY ASIGCAM

سیریئم کے مسٹر مورس نے پیش گوئی کی ہے کہ ذخیرہ شدہ تجارتی جیٹ طیاروں کی تعداد جولائی میں پانچ ہزار 467 سے بڑھ کر سال کے آخر تک چھ ہزار 120 ہو جائے گی۔

سکائی لائن ایرو کے مسٹر گریگوری کو حال ہی میں تین طیاروں کو ختم کرنے کے احکامات موصول ہوئے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طیاروں کی مانگ اب بھی کم ہے۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’مانگ میں اضافہ ہونا شروع ہو چکا ہے لیکن یہ یقینی طور پر اتنا زیادہ نہیں جتنا میرا خیال تھا یا جتنا بہت سے لوگوں نے امید کی ہو گی۔‘

اگر مزید طیاروں کو ان کے پرزے پرزے الگ کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے تو اس کے لیے ری سائیکلنگ انڈسٹری تیار رہے گی۔

مسٹر کوبولڈ کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ہم ہوائی جہاز کے 92 سے 99 فیصد کے درمیان حصے کو ری سائیکل کر سکتے ہیں، چاہے قدرتی ری سائیکلنگ کے عمل کے ذریعے ہو یا پھر سرکولر اکانومی کے ذریعے۔‘

’مجھے نہیں لگتا کہ ہوا بازی کی دنیا یا اس کی صنعت سے باہر کے لوگ جانتے ہیں کہ یہ کتنی بڑی بات ہے اور ہوا بازی کی صنعت میں (طیارے کا) آخری وقت کا شعبہ کتنا تخلیقی ہے۔‘



Source link

Leave a Reply