کیچ: چیک پوسٹ پر حملے میں 10 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق، تین شدت پسند گرفتار

  • محمد کاظم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
27 جنوری 2022، 19:22 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 35 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

فائل فوٹو

پاکستانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ بلوچستان کے علاقے کیچ میں 25 اور 26 کی درمیانی شب شدت پسندوں کے حملے میں 10 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب اس حملے کے بعد اس سے متعلق خبریں گردش کرنے لگی تھیں لیکن پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر نے جمعرات کو اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے آئی ایس پی آر نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ شدت پسندوں نے کیچ میں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا اور فوج کی جوابی کارروائی میں ایک شدت پسند ہلاک اور کئی زخمی ہوئے جبکہ پاکستان فوج کے 10 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے مطابق اس حملے کے بعد کیے گئے آپریشن میں تین شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔

اس سے پہلے جمعرات کی صبح ہی اس حملے میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکار محبوب علی لاشاری کی تدفین ڈیرہ مراد جمالی میں ان کے آبائی قبرستان لالا شاہ میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ کی گئی جس میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ علاقے کے عمائدین اور لوگوں نے شرکت کی۔

نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے محبوب علی لاشاری کے بھائی شاہ ولی نے فون پر بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے بھائی ضلع کیچ میں ہونے والے حملے میں مارے گئے ہیں۔

یہ حملہ کہاں کیا گیا؟

محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق یہ حملہ ضلع کیچ میں دشت کے علاقے سبدان میں کیا گیا۔

ان کے مطابق ’نامعلوم حملہ آوروں نے یہ حملہ 25 جنوری کی شام کو کیا، جس میں بھاری اسلحے کا استعمال بھی کیا گیا‘۔

اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے دو اہلکاروں کا تعلق بلوچستان کے اضلاع لسبیلہ اور نصیر آباد جبکہ باقی اہلکاروں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کی فائرنگ کے تبادلے میں تنظیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مارا گیا ہے۔

کیچ کہاں واقع ہے؟

کیچ بلوچستان کا ایران سے متصل ضلع ہے۔ یہ علاقہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً آٹھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ رواں سال کے دوران کیچ میں سکیورٹی فورسز پر یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا حملہ ہے۔

بلوچستان میں 2005 کے بعد حالات زیادہ خراب ہونے کے بعد سے کیچ میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیچ انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔ بلوچستان کے دیگر دو اضلاع گوادر اور پنجگور بھی انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہیں۔ مکران ڈویژن کے تمام اضلاع کی آبادی بلوچوں پر مشتمل ہے۔

کیچ کے علاوہ اس ڈویژن کے دیگر دو اضلاع میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کاروائیوں کے نتیجے میں ماضی کے مقابلے میں مکران ڈویژن میں صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

سکیورٹی فورسز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فائل فوٹو

ایک ہفتے کے دوران دوسرا واقعہ

ایک ہفتے کے دوران بلوچستان کے کسی علاقے میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے مارے جانے کے حوالے سے رپورٹ ہونے والا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل کوئٹہ کے جنوب مشرق میں ضلع سبی کے علاقے میں فائرنگ کے تبادلے میں فرنٹیئر کور کا ایک صوبیدار میجر ہلاک ہوا تھا۔

فائرنگ کا تبادلہ ایک کالعدم تنظیم کے کمانڈر پرویز ڈومکی کی سبی کے علاقے لونی میں موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز کی ان کے خلاف کارروائی کے دوران ہوا تھا۔ اس کاروائی میں پرویز ڈومکی مارا گیا تھا جبکہ اس دوران ایک خاتون کی بھی ہلاکت ہوئی تھی جو کہ اس کمانڈر کی والدہ بتائی جاتی ہیں۔

جھڑپ میں فرنٹیئر کور کے ایک افسر سمیت دواہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔

گذشتہ سال مکران اور بولان سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سکیورٹی فورسز پر حملوں اور سکیورٹی فورسز کی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے۔ تاہم سکیورٹی فورسز پر سب سے زیادہ حملے دشوار گزار پہاڑی علاقے بولان اور اس سے متصل علاقوں کے علاوہ مکران اور آواران سے رپورٹ ہوئے۔

ان حملوں میں سکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ 60 کے قریب شدت پسندوں کی بھی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ اس طرح کی کارروائی میں کاﺅنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بھی حصہ لیتا رہا ہے۔ تاہم سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں ہونے والے بعض افراد کے مقابلوں میں مارے جانے کی دعوؤں کو ان افراد کے رشتہ داروں کے علاوہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے مسترد کیا جاتا رہا ہے۔



Source link