گریٹ ڈین سے لے کر چیچواہواز تک: کتوں کے قد و قامت میں فرق کیوں ہوتا ہے؟

11 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

کتوں کے قد و قامت میں بہت فرق ہوتا ہے

گریٹ ڈین سے لے کر چیچواہواز تک کتے بہت زیادہ مختلف قد و قامت اور جسامت میں ملتے ہیں۔ درحقیقت ان کی جسم میں تغیر دنیا کے کسی بھی ممالیے کی نسبت سب سے زیادہ ہے۔

اگر انسانوں میں بھی اسی قسم کا تغیر ہو تو سب سے لمبا انسان شاید چھ میٹر سے بھی زیادہ اونچا ہو جائے۔

اکثر خیال کیا جاتا تھا کہ یہ فرق گذشتہ دو صدیوں سے انسانوں کی طرف سے ’سیلیکٹیو بریڈنگ‘ یا مخصوص افزائشِ نسل کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔

لیکن اب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اس میں قدرت کا بھی کافی عمل دخل ہے۔ ایک نئی تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ کتوں کے قد و قامت میں اس تبدیلی کی اہم وجہ ان بھیڑیوں کے ڈی این اے کی موجودگی ہے جو 50 ہزار سال پہلے یہاں رہ رہے تھے۔

یہ اس بہت پہلے جب انسانوں نے سرمئی بھیڑیوں کو پالنا شروع کیا تھا، جینیاتی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کتے اپنے آباؤ اجداد سے 15 ہزار سے 40 ہزار سال پہلے جدا ہو گئے تھے۔

کتوں میں نشو و نما کی ’پراسرار‘ جین

امریکہ میں قائم نیشنل ہیومن جینوم ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ماہر جینیات اور نئی تحقیق کی مرکزی مصنف ڈاکٹر ایلین اوسٹرینڈر کہتی ہیں کہ ’یہ ہم سب کے لیے بہت بڑی حیرت کی بات تھی کہ اتنے عرصہ پہلے زندہ بھیڑیوں میں ایک جینیاتی ویریئنٹ تھا جو چھوٹے قد کے ساتھ منسلک تھا۔‘

یہ نئی تحقیق 27 جنوری کو سائنسی جریدے کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہوئی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ایسا ہے جیسے قدرت نے اسے ہزاروں سالوں تک اپنی پچھلی جیب میں اس وقت تک رکھا جب تک اس کی واقعی ضرورت محسوس ہوئی۔‘

Illustration of a genome

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انسانوں کی نسبت کتوں کے قد میں تغیر چینز کی ایک چھوٹی سی تعداد کنٹرول کرتی ہے

اوسٹرینڈر اور ان کی ٹیم اس تحقیق کے پیچھے بھی تھی جس نے 2007 میں دریافت کیا تھا کہ کتوں کے درمیان سائز کے فرق کے تعین میں ایک واحد جین کا بڑا کردار ہے۔ یہ IGF-1 نامی جین ایک پروٹین کے لیے ذمہ دار ہے، جو انسانوں سمیت دیگر ممولیوں کے جسم کے سائز میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔

تاہم، جب کتوں کی بات آتی ہے تو IGF-1 کا کردار زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پروٹین بنانے والی جین کتے کے سائز کا تقریباً 15 فیصد کنٹرول کرتی ہے، جبکہ باقی حصہ دوسری 19 جینز کنٹرول کرتی ہیں۔

فرانس کی رینس یونیورسٹی کے ماہر جینیات اور اس تحقیق میں شامل مصنفین میں سے ایک ڈاکٹر جوسلین پلاسیس کہتے ہیں کہ ’یہی وجہ ہے کہ جسم کے سائز کے حوالے سے کتوں کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔ مثال کے طور پر انسانوں میں سینکڑوں جینز یہ کردار ادا کرتی ہیں۔‘

line

کتوں میں کتنا تغیر ہوتا ہے؟

A line of dogs of different sizes

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا کتا ایک گریٹ ڈین تھا جس کا نام زیوس تھا اور اس کا قد زمین سے لے کر کاندھوں تک 111 سینٹی میٹر تھا۔ اس کے مقابلے چین میں ایک چیچواہوا کتے میریکل ملی کا قد اس سے 12 گنا چھوٹا یعنی 9.65 سینٹی میٹر تھا۔

انسانوں میں یہ فرق کوئی بہت زیادہ نہیں ہے۔ امریکی شخص رابرٹ ویڈلو کا قد 272 سینٹی میٹر تھا اور یہ ان کے مخالف نیپال کے چندرا ڈانگی کے مقابلے میں پانچ گنا بڑا تھا۔ چندرا کا قد 54.6 سینٹی میٹر تھا۔

line

ماضی کا ایک سرپرائز

پلاسیس نے اس نئی تحقیق میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ سنہ 2020 میں پہلے کووڈ 19 لاک ڈاؤن کے دوران انھوں نے دریافت کیا کہ IGF-1 جین کی دو قسمیں ہیں جنھوں نے سائز تعین کرنے میں کردار ادا کرنا ہوتا ہے: ایک چھوٹے جانوروں سے وابستہ ہے اور دوسری بڑے جانوروں سے۔

محققین نے قدیم کتوں اور بھیڑیوں سے لے کر جدید کتوں، لومڑیوں، کویوٹس اور بھیڑیوں جیسی جنگلی انواع کے ایک ہزار 431 کینڈز (کتوں کی مختلف نسلوں) کے جینیاتی کوڈز کا تجزیہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

،ویڈیو کیپشن

برفانی الّو اور ہسکی کتے کی دوستی

انھوں نے دریافت کیا کہ پالتو کتوں میں 13 کلوگرام سے کم وزن والے 75 فیصد نمونوں میں ’چھوٹی‘ قسم کی دو کاپیاں تھیں اور 22 کلوگرام سے زیادہ وزن والے 75 فیصد نمونوں میں ’بڑی‘ قسم کی دو کاپیاں تھیں۔

لیکن جس چیز نے اوسٹرینڈر اور پلاسیس کو زیادہ متاثر کیا وہ وہی تھا جو انھوں 52 ہزار 500 سال پہلے زمین پر رہنے والے ایک بھیڑیے کے ڈی این اے میں دیکھا: ہر جانور (کتے) کے پاس اس جین کی ایک قسم کی ایک کاپی تھی۔

Illustration of an ancient wolf

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

محققین کو یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی جب انھوں نے 52 ہزار سال پہلے زمین پر رہنے والے بھیڑیے کے ڈی این اے میں چھوٹے سائز کا ویریئنٹ دیکھا

اوسٹرینڈر کہتی ہیں ہمیں توقع تھی کہ اس میں ’بڑی‘ قسم کی دو کاپیاں ہوں گی۔

لیکن جینیاتی ماہر کہتی ہیں کہ ویریئنٹ کی موجودگی نے ہزاروں سال پہلے کتے کی افزائش کے ابتدائی مراحل میں انسانوں کی مدد کی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ اس سے انسان، کتوں کے سائز بہت تیزی سے بڑا اور چھوٹا کرنے کے قابل ہوئے تاکہ وہ مختلف کاموں کے لیے، جن میں ریوڑ کو لے کر جانے والے محافظ کتوں سے لے کر شکار کرنے والے کتوں تک شامل تھے، کی افزائشنِ نسل کر سکیں۔‘

اوسٹرینڈر نے یہ بھی بتایا کہ کتوں کا مطالعہ انسانی مسائل کو حل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس جینیاتی لغت کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ جسم کے سائز والے جینز میں سے جب کچھ تبدیل ہوتے ہیں تو انسانوں کو بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔‘



Source link