گنگو بائی کاٹھیاواڑی: ’کردار میں جتنا فلیور لا سکتی ہوں، وہ لانے کی کوشش کرتی ہوں‘ عالیہ بھٹ

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہ@aliaabhatt

گنگو کو محبت ہوئی لیکن ان کے گھر والے اس رشتے سے خوش نہیں تھے اس لیے وہ بھاگ کر ممبئی آ گئیں۔ لیکن ان کے عاشق نے انھیں دھوکہ دیا اور ایک کوٹھے پر فروخت کر دیا اور پھر وہ کبھی لوٹ کر واپس اپنے گھر نہیں گئیں۔

گنگوبائی کاٹھیاواڑی 1960 کی دہائی میں ممبئی کے کماٹھی پورا علاقے میں کوٹھا چلاتی تھیں۔ گنگوبائی کا اصل نام گنگا ہرجیون داس کاٹھیاواڑی تھا۔ ان کی پیدائش اور پرورش گجرات کے علاقے کاٹھیاواڑ میں ہوئی تھی۔ ان پر بننے والی فلم ’گنگو بائی کاٹھیا واڑی دراصل ’مافیا کوینز آف ممبئی‘ نامی ایک کتاب پر مبنی ہے، جس کے مصنف حسین زیدی اور جین بورگیس ہیں۔

بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ ’گنگو بائی کاٹھیا واڑی‘ فلم میں ’گنگا ہرجیون داس‘ کا کردار نبھا رہی ہیں۔ سنجے لیلا بھنسالی کی پروڈکشن اور ڈائریکشن میں بنائی گئی یہ فلم رواں مہینے ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ نے اس فلم میں اپنے کردار کے حوالے سے بی بی سی ہندی سے بات کی ہے۔

2px presentational grey line

عالیہ بھٹ گنگو بائی کو اپنے کیرئیر کا سب سے چیلنجنگ کردار مانتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کردار میں، میں نے سب سے زیادہ محنت کی، ٹائم کے ساتھ میں زیادہ محنت ڈالتی رہی، جتنا ٹائم آپ انڈسٹری میں گزارتے ہو، اتنا ہی ضروری ہوتا ہے کہ آپ اپنی محنت دکھائیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’جب میں پہلی دفعہ سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ کام کر رہی تھی تو ان کی سب سے بنیادی توقع ہی یہی تھی کہ آپ سیٹ پر آ کر اپنا دس ہزار فیصد دیں۔‘

’کووڈ کے دوران سوچا نہیں تھا کہ چھ مہینے گھر پر بیٹھنا ہو گا‘

کووڈ کے دوران کام کے حوالے سے عالیہ بھٹ کہتی ہیں کہ ’پوری دنیا پہلی دفعہ اس چیز سے گزر رہی تھی، ہم سب بھی بیٹھے ہوئے تھے، سیکھ رہے تھے، سمجھ رہے تھے کہ کیا کرنا ہے۔ سوچا نہیں تھا کہ چھ مہینے گھر پر بیٹھنا ہو گا۔ لیکن ہو گیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ زندگی میں ہمیشہ ایسے غیر متوقع چیزیں ہوتی ہیں تو آپ صرف دو ہی کام کر سکتے ہیں، یا تو آپ شکایت کر سکے ہو یا آپ حالات کو لڑ کر اپنے لیے موافق بنا سکتے ہو۔ ’میرا یہ ماننا تھا کہ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے اور مجھے اپنی ہمت اور اپنا جذبہ بڑھا کر رکھنا ہوگا۔ بلکہ جب ہم کبھی وقفے کے بعد سیٹ پر جایا کرتے تھے تو مجھے لگتا ہے کہ ہم نے بہترین کام دکھایا ہے۔ وبا کے بعد جب فلمنگ کا دوسرا شیڈول آیا تو اس میں ہم نے زبردست شوٹنگ کی۔ کئی سنجیدہ سینز کو فلمایا، گانے وغیرہ فلمائے، اور جو کام ہم کر رہے تھے اس سب کی قدر بڑھ گئی ہماری زندگی میں کیونکہ پہلے تو ہم اتنے مہینوں سے گھر پر بیٹھے تھے۔‘عالیہ کہتی ہیں ’پھر ہم لوگ کو دوبارہ لاک ڈاؤن کرنا پڑا، مجھے کووڈ بھی ہو گیا، پھر سنجے لیلا بھنسالی کو کووڈ ہو گیا، تو ایک احساس ضرور ہوا کہ کیا سب ٹھیک سے ہو جائے گا نا؟ لوگ دیکھیں گے یا نہیں؟‘

وہ بتاتی ہیں کہ پھر ’ہم نے دو گنا محنت سے کام کرنا شروع کر دیا کہ ایسی کوئی چیز بناؤ کہ لوگ جو انتظار کر رہے ہیں، وہ تھیٹر میں آ کر دیکھیں۔ جب آپ کو معلوم ہے کہ اتنا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے، تو آپ خود بخود ہی محنت کرنے لگ جاتے ہو۔‘

@aliaabhatt

،تصویر کا ذریعہ@aliaabhatt

’گاندھی کے فلسفے پر عمل کرتی ہوں: برا مت دیکھو، برا مت سوچو، برا مت کہو‘

کووڈ کے دور میں لوگوں میں آگاہی پھیلانے کے حوالے سے عالیہ کہتی ہیں کہ ’میرا یہ ماننا ہے کہ کچھ اچھا نہیں ہے کہنے کو تو چپ رہیں۔ میں نہیں چاہتی کہ میں کچھ بپی منفی سوچوں یا بولوں۔ میں گاندھی کے فلسفے پر عمل کرتی ہوں کہ برا مت دیکھو، برا مت سوچو، برا مت کہو۔‘

’ٹریلر کے ساتھ 90 فیصد لوگوں کے شکوک دور ہو گئے‘

سوشل میڈیا پر ملنے والے ردِعمل کے حوالے سے عالیہ کہتی ہیں کہ میں سوشل میڈیا پر زیادہ نظر نہیں رکھتی۔ بس عام طور پر دیکھ رہی ہوتی ہوں کہ کیا چل رہا ہے۔

’مجھے لگا کہ لوگوں کو میرا کردار اچھی لگا ہے لیکن کچھ ہیں جن کو تھوڑے شکوک ہیں، لیکن ایسا ہمیشہ ہوتا ہے۔ میرا یہ ماننا تھا کہ بس آخر تک جس جس کو کوئی بھی شک ہو، وہ نہ رہے۔ ٹریلر کے ساتھ 90 فیصد لوگوں کے شکوک دور ہو گئے، جو باقی رہ گئے ہیں ان کا شاید فلم دیکھ کر شک دور ہو جائے۔ پھر بھی اگر کوئی دو فیصد ہیں جن کو مسئلہ ہے تو ان کا میں کچھ نہیں کر سکتی۔‘

اپنے اندر کی ہیروئن کو مطمئن کرنا چاہتی ہوں‘

عالیہ بھٹ

،تصویر کا ذریعہFilm Poster

،تصویر کا کیپشن

عالیہ بھٹ

اپنے کرئیر کے حوالے سے عالیہ کہتی ہیں کہ ’میں کچھ نظریہ نہیں سوچتی اس بارے میں کہ میں اچھا کام کر رہی ہوں یا برا کام کر رہی ہوں۔ میں بس آگے بڑھتی جاتی ہوں۔ اپنے آپ کو، اپنے اندر کے ایکٹنگ کے کیڑے کو مطمئن کرنا چاہتی ہوں، اپنے اندر کی ہیروئن کو مطمئن کرنا چاہتی ہوں، اپنے اندر کے نخرے اور ‘گریس’ کو مطمئن کرنا چاہتی ہوں، میں یہ سب خود کو مطمئن کرنے کے لیے کرتی ہوں۔‘

’ہاں، یہ درست ہے کہ میں ایکٹنگ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ سامعین کے لیے بھی کر رہی ہوں تو میں یہ ذہن میں رکھتی ہوں کہ بطور سامعین میں خود کیسے فلم دیکھنا پسند کرتی ہوں، کیا میں خود اس سے محظوظ ہوں گی، جتنا میں اس میں فلیور لا سکتی ہوں، وہ لانے کی کوشش کرتی ہوں، خود کے لیے اور لوگوں کے لیے۔‘

عالیہ کی والدہ سونیا راجدان نے گنگو بائی کاٹھیاواڑی سے ملتی جلتی ایک فلم منڈی میں کام کیا ہے۔ عالیہ کہتی ہیں کہ انھوں نے منڈی دیکھی ہے لیکن یہ فلم مختلف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس کردار کو نبھاتے ہوئے سیکس ورکز کی زندگی کے بارے میں کیا محسوس کیا؟ عالیہ کہتی ہیں کہ ’اداکاری کرنا اور بات ہے اور سیکس ورکز کی زندگی جینا اور بات ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’خدا سے شکایت تو ہوتی ہے کہ مجھے اس حالات میں کیوں پیدا کیا، وہ چیز گنگو بائی کی آنکھوں میں بھی نظر آتی ہے لیکن وہ اسے خود کو نیچے نہیں لانے دیتی۔‘ عالیہ کہتی ہیں کہ ’میں اس زندگی کا تصور تو کر سکتی ہوں مگر وہ تصور اس حقیقت کے قریب بھی نہیں جس سے وہ روز گزرتے ہیں۔‘

’گنگو بائی کے کردار کا کنٹراسٹ، وہ بہت پسند آیا‘ یا ’کووڈ نے سکھایا کہ کوئی چیز منصوبہ بندی کے مطابق نہیں ہوتی‘

گنگو بائی کے کردار کے حوالے سے کیا چیز ان کے دل کو بھائی؟ عالیہ کہتی ہیں کہ ’اس میں جو بچپنا ہے کہ وہ کچھ بھی بول دیتی ہے، سوچتی نہیں ہے۔ لیکن دوسری جانب وہ بہت سوچتی بھی ہے اور بہت منصوبے بناتی ہے۔ مزاحیہ بھی ہے مگر غصہ بھی بہت آتا ہے اسے۔ تو یہ کنٹراسٹ ہے، یہ مجھے بہت پسند آیا۔‘

عالیہ کہتی ہیں کہ وہ عام زندگی میں بھی بہت منصوبے بناتی ہیں۔ پھر جب چیزیں ان کے پلان کے مطابق نہیں ہوتیں تو انھیں بہت غصہ بھی آتا ہے ’لیکن کووڈ نے مجھے سکھایا کہ کوئی چیز منصوبہ بندی کے مطابق نہیں ہوتی۔ مگر ہاں یہ سچ ہے کہ میرے میں پلاننگ کا کیڑا ہے، میں نے اپنے اگلے دو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے‘۔

وہ کہتی ہیں کہ ’غصہ تو ہر انسان کے اندر ہوتا ہے، لیکن ہم اسے دبا کر رکھتے ہیں۔۔۔اس کردار کے ذریعے میں آزادی سے کھل کر جئی ہوں۔‘

عالیہ بتاتی ہیں کہ گجراتی زبان کے لیے انھوں نے ایک استاد کی خدمات لیں تھیں ’باقی ایکسپریشن پتا نہیں کیسے خود ہی آ گئے۔‘

aliaabhatt

،تصویر کا ذریعہ@aliaabhatt

سکرپٹ کا انتخاب کیسے کرتی ہیں؟

عالیہ کہتی ہیں ’میں جو کردار پسند کر لیتی ہوں پھر اس کے بعد خود کو سمجھا لیتی ہوں کہ میرا یہ فیصلہ غلط بھی ہو سکتا ہے، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہر حالات کے لیے خود کو تیار کرتی ہوں۔‘

سکرپٹ کا انتخاب کرتے ہوئے ’جو بھی سکرپٹ پسند کرتی ہوں اپنی خوشی کے لیے کرتی ہوں کہ ہاں اس میں مزا آئے گا۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ جتنا میں کم سوچوں اور دل سے فیصلہ لوں تو وہ بہتر رہے گا۔‘

اجے دیوگن جیسے ساتھی کرداروں کے حوالے سے عالیہ کہتی ہیں کہ ’گنگو کے سفر میں ان کرداروں کا بہت اہم حصہ ہے۔‘

سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ کام کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ سنجے سر نے مجھے کہا ’میں نے تمھاری آنکھوں میں کچھ دیکھا ہے اور میں یہی اپنی گنگو بائی سے چاہتا ہوں‘ اور شوٹنگ کے دوران بھی انھوں نے کہا کہ ’مجھے باقی کسی اداکار کے ساتھ ایسا تجربہ نہیں ہوا‘ اور میں اس بات کا بہت مان رکھتی ہوں۔‘



Source link