گہرام نادل: بلوچستان میں 19 سالہ نوجوان کی حراست میں ہلاکت معمہ بن گئی

  • محمد کاظم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

4 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہNASeer Ahmed Gichki

جب بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ گوہرام نادل کچھ عرصہ پہلے اپنے گھر والوں کا معاشی سہارا بنے تو ان کی والدہ، بھائی اور بہنیں خوش تھیں کہ ان کے مشکل کے دن اب گزر جائیں گے مگر ان کی یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہی کیونکہ حراست میں لیے جانے کے دو دن بعد ان کی لاش گھر پہنچا دی گئی۔

گوہرام نادل کی خالہ زیبا بلوچ نے فون پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ گوہرام نادل کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار کوشقلات میں واقع ان کے گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے۔

زیبا بلوچ نے بتایا کہ ان کی بہن اور گوہرام نادل کی والدہ زرینہ بلوچ پہلے ہی بیمار تھی لیکن اب بیٹے کی ہلاکت کے بعد ان کی حالت غیر ہو گئی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ گوہرام نادل کے کمر پر تشدد کے نشانات تھے۔

اگرچہ مکران انتظامیہ کے ایک اہلکار نے گوہرام نادل کی ہلاکت کی تصدیق کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کی موت گرمی کی شدت اور دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ کیچ کے علاقے کوشقلات میں کسی نوجوان کی تشدد سے ہلاکت انتظامیہ کے نوٹس میں نہیں۔

گوہرام نادل کون تھے؟

گوہرام نادل مکران ڈویژن کے ضلع کیچ کے علاقے کوشقلات کے رہائشی تھے جو ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت سے اندازاً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ان کی خالہ زیبا بلوچ نے بتایا کہ گوہرام نادل کے والد چھ سات سال قبل وفات پا گئے تھے جس کے بعد ان کی والدہ نے کشیدہ کاری کر کے گوہرام، ان کی تین بہنوں اور چھوٹے بھائی کو پالا تھا۔

ان کا کہنا تھا اب چونکہ بہن کی نظر کمزور ہونے کے علاوہ وہ بیمار ہوگئی تھی جس کے باعث ان کے لیے کشیدہ کاری ممکن نہیں تھی لیکن گہرام نادل نے درزی کا کام سیکھ کر کپڑے سینے کا کام شروع کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی محنت مزدوری سے ان کے گھر میں تھوڑی بہت آمدنی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ’اس رمضان میں میں نے ان کے گھر کے لیے کچھ راشن بھیج دیا جس پر گوہرام نے مجھے کہا کہ ابھی ہمیں آپ راشن وغیرہ نہیں بھیجیں کیونکہ اب میں خود گھر کے لیے تھوڑا بہت راشن کا انتظام کرسکتا ہوں۔‘

گہرام نادل

،تصویر کا ذریعہNASeer Ahmed Gichki

ان کا کہنا تھا کہ غربت کی وجہ سے گہرام نادل پڑھ تو نہیں سکے تاہم ان کا چھوٹا بھائی تربت یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے۔ ’گوہرام نہ صرف اپنے گھر کا معاشی سہارا بن گیا تھا بلکہ وہ چاہتا تھا کہ ان کا بھائی اپنی تعلیم مکمل کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چند دن قبل رات کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار آئے اور گوہرام کو گھر سے اپنے ساتھ لے گئے اور اٹھائے جانے کے دو روز بعد گوہرام کی لاش حوالے کی گئی۔

علاقے کے عمائدین اور آل پارٹیز ضلع کیچ کے کنوینر نصیر گچکی نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے 12 جون کی شب چار بجے کوشقلات میں آپریشن کیا تھا۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن کے دوران چار نوجوانوں گوہرام ولد نادل، عبد الستار ولد الٰہی بخش، سہراب ولد رحیم بخش اور عبد اللہ ولد ماسٹر حسن کو اپنے ساتھ لے گئے جن کی عمریں 17 سے 19 سال کے درمیان تھیں۔

نصیر گچکی کے مطابق ان کو اٹھائے جانے کے دو دن بعد اُنھیں رات کو قریبی سکیورٹی فورسز کے کیمپ سے فون آیا کہ گوہرام نادل دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں اس لیے آ کر ان کی لاش لے جائیں۔

نصیر احمد نے بتایا کہ اُنھوں نے لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا جس پر لاش کو مقامی لیویز فورس کے اہلکاروں کی توسط سے لواحقین کے سپرد کیا گیا۔

گوہرام کی خالہ زیبا بلوچ نے بھی بتایا کہ گوہرام کی لاش لیویز فورس کے اہلکاروں نے ان کے حوالے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ گہرام نادل کی کمر پر تشدد کے نشانات تھے۔

زیبا نے بتایا کہ جب گہرام کی لاش گھر لائی گئی تو ان کی والدہ گھرپر نہیں تھیں بلکہ علاج کی غرض سے کراچی میں تھیں اور اب بڑے بیٹے کی موت کے بعد ان کی حالت مزید خراب ہوگئی ہے۔

زیبا بلوچ نے بتایا کہ اُن کی بہن زرینہ کا اپنے بیٹے کی موت پر کہنا ہے کہ بس وہ اللہ تعالیٰ سے انصاف چاہتی ہیں۔ ’وہ کہتی ہیں کہ اللہ تعالی ایسا کرنے والوں کو بس ہدایت دے۔‘

زیبا بلوچ کا کہنا تھا کہ لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جانا چاہیے اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہیے۔

نصیر احمد گچکی نے باقی تین نوجوانوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

در ایں اثناء بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوہرام نادل کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

گوہرام کی ہلاکت کے بارے میں ایف سی ساﺅتھ اور ضلعی انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے ایف سی ساﺅتھ کے ترجمان اور ڈپٹی کمشنر کیچ سے فون پر رابطے کے علاوہ ان کو واٹس ایپ پر پیغام بھی بھیجے گئے تاہم اُنھوں نے اس سلسلے میں نہ بات کی اور نہ واٹس ایپ پر مؤقف دیا۔

تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ کہ اُنھوں نے اس سلسلے میں مکران میں انتطامیہ کے لوگوں سے پوچھا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ انتظامیہ کے سینیئر اہلکاروں نے بتایا کہ کسی نوجوان کی تشدد سے ہلاکت ان کے نوٹس میں نہیں ہے۔

تاہم مکران انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ گوہرام نادل کی لاش کو سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے اُن کے حوالے کیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے نوجوان کی طبیعت پہلے سے ٹھیک نہیں تھی۔ ان کے بقول ان پر تشدد نہیں ہوا اورسکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کی لاش کو حوالے کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گرمی کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے نوجوان کا طبی معائنہ نہیں کروایا جاسکا کیونکہ جو لوگ ان کی لاش لینے کے لیے جمع تھے اُنھوں نے کہا کہ وہ اُن کی تدفین کریں گے۔

اس سوال پر کہ انتظامیہ نے پوسٹ مارٹم کے حوالے سے قانونی تقاضے کیوں پورے نہیں کیے تو ان کا کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ کے اہلکار پوسٹ مارٹم کے تقاضے پورے کرنے کے لیے لواحقین کے پاس گئے تھے لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں تھے۔



Source link

Leave a Reply