یوکرین جنگ: برطانیہ کی حکومت نے روسی صدر پوتن کی سابقہ اہلیہ اور مبینہ ’گرل فرینڈ‘ پر پابندیاں عائد کر دیں

  • پیٹرک جیکسن
  • بی بی سی نیوز

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

روسی صدر ولادیمیر پوتن کی سابق اہلیہ لڈمیلا اوچیرینٹنایا اور سابق اولمپک جمناسٹ علینا کبائیوا

برطانیہ نے یوکرین جنگ کے وجہ سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی سابق اہلیہ اور ان کی مبینہ موجودہ گرل فرینڈ پر پابندیاں لگا دی ہیں۔

واضح رہے کہ اس پابندی کی وجہ سے لڈمیلا اوچیرینٹنایا، جو 2014 تک روسی صدر کی اہلیہ تھیں، اور سابق اولمپک جمناسٹ علینا کبائیوا کے اثاثے منجمند کر دیے جائیں گے اور وہ برطانیہ سفر نہیں کر سکیں گی۔

اب تک برطانیہ ایک ہزار افراد کو روس کے خلاف پابندیوں کی لسٹ میں شامل کر چکا ہے۔

سیکریٹری خارجہ لز ٹرس کا کہنا ہے کہ برطانیہ ’صدر پوتن کے قریبی حلقوں کے خلاف گھیرا تنگ کر رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ ’ان تمام افراد کے خلاف، جو پوتن کے یوکرین حملے میں مدد کر رہے ہیں، پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یوکرین جیت نہیں جاتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’روس پر عائد پابندیاں صرف اسی وقت ختم کی جائیں گی جب تمام روسی فوج یوکرین سے نکل جائے گی۔‘

روسی صدر کی سابق اہلیہ

لڈمیلا اوچیرینٹنایا روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی سابق اہلیہ ہیں۔ برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق علیحدگی کے باوجود وہ روسی ریاستی اداروں سے کاروباری تعلقات رکھے ہوئے ہیں اور ان کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

بیان کے مطابق صدر پوتن کی سابق اہلیہ اب بھی ان کی قریبی ساتھی ہیں اور اس تعلق کی وجہ سے معاشی فوائد حاصل کرتی ہیں۔

برطانیہ کی جانب سے جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں اور سابق اولمپک جمناسٹ علینا کبائیوا بھی شامل ہیں جن کے بارے میں بیان میں کہا گیا ہے کہ قیاس آرائی کے مطابق وہ روسی صدر کی موجودہ پارٹنر ہیں۔

علینا کبائیوا کے ساتھ ساتھ ان کی دادی اینا زیٹساپلینا کا نام بھی پابندیوں کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

ان پابندیوں کے مطابق کوئی بھی برطانوی شہری یا بزنس ان افراد کے ساتھ تعلق نہیں رکھ سکے گا اور نا ہی پابندی کا سامنا کرنے والے افراد برطانیہ میں داخل ہو سکیں گے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن 2001 ایک میں ایک تقریب کے دوران علینا کبائیوا کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

روسی صدر ولادیمیر پوتن 2001 ایک میں ایک تقریب کے دوران علینا کبائیوا کے ساتھ

علینا کبائیوا کون ہیں؟

علینا ایک جمناسٹ رہ چکی ہیں جنھوں نے 2004 کے ایتھنز اولمپکس میں گولڈ میڈل بھی جیتا تھا۔ انھوں نے 13 سال کی عمر میں باقاعدہ جمناسٹکس کا آغاز کیا اور 1998 میں پہلا ورلڈ ٹائٹل جیتا۔

اس کے بعد انھوں نے 2001 اور 2002 میں یورپی چیمپیئن شپس میں کئی میڈلز جیتے۔ 2003 میں بھی انھوں نے کئی ورلڈ ٹائٹل حاصل کیے۔ ان پر ایک بار ڈوپنگ کیس بھی چلا لیکن ان کو اس معاملے میں کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔

سال 2005 میں علینا نے روس کی سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور یہی وہ وقت تھا جب ان کا نام روسی صدر پوتن سے جوڑا جانے لگا۔ علینا کبائیوا کو روس کی ‘خفیہ خاتون اول’ بھی کہا جاتا ہے۔

وہ یونائیٹڈ روس پارٹی کی جانب سے روسی ڈوما، یعنی روس کی پارلیمان کے ایوان زیریں، کی منتخب رکن بھی بنیں۔ 2014 میں ان کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ ان چند کھلاڑیوں میں شامل تھیں جنھوں نے سوچی اولمپکس میں اولمپک ٹارچ اٹھائی۔

علینا کبایوا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

علینا صرف کھیل اور سیاست میں ہی ملوث نہیں بلکہ روس کی سرکاری نیشنل میڈیا گروپ کی بھی سربراہی کرتی رہی ہیں۔ ماسکو ٹائمز کے مطابق ان کا نام اس گروپ کی ویب سائٹ سے اس وقت ہٹا لیا گیا تھا جب اپریل میں یہ واضح ہوا کہ یوکرین جنگ کے معاملے پر مغربی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

ماسکو ٹائمز کی ہی خبر کے مطابق سوئٹزرلینڈ، امریکہ اور یورپی حکام نے وال سٹریٹ اخبار کو بتایا کہ 2015 میں علینا نے بچے کی پیدائش کے لیے سوئٹزرلینڈ کا سفر کیا تھا۔ سال 2019 میں علینا نے جڑواں بچوں کو ماسکو میں جنم دیا۔

صدر پوتن نے اس خبر کی کبھی تصدیق نہیں کی۔

ماسکو کے فیسٹیول میں شرکت

ماسکو ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق علینا کبائیوا گذشتہ ہفتے کو روس کے دارالحکومت میں ایک میلے میں شریک ہوئیں۔ وہ جمناسٹکس کی ایک نمائش کے لیے آئی تھیں، جو مئی میں روس کے یوم فتح کے موقع پر نشر کی جانی ہے۔

علینا کبایوا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس دوران انھوں نے کہا کہ ’ہر خاندان میں جنگ کی ایک کہانی ہوتی ہے اور ہمیں ان کہانیوں کو نہیں بھولنا چاہیے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو سنانا چاہیے۔‘

انھوں نے یوکرین پر روسی حملے پر ہونے والی تنقید اور روسی جمناسٹس، ججز اور کوچز پر بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے صرف ہماری جیت ہو گی۔‘

ڈیلی میل کی خبر کے مطابق علینا کی اس پروگرام میں شرکت کے بعد ان افواہوں نے دم توڑ دیا جن کے مطابق کہا جا رہا تھا کہ وہ سوئٹزرلینڈ یا سائبیریا کے کسی بنکر میں چھپی ہوئی ہیں۔

اس پروگرام میں سینکڑوں بچوں نے شرکت کی اور اس دوران ‘Z’ یا زی کا نشان بھی دکھایا گیا جو یوکرین پر روس کے حملے کی حمایت کی علامت بن گیا ہے۔



Source link