یوکرین روس تنازع: یوکرین کے بحران سے چین کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟

  • تیسا وانگ
  • بی بی سی نیوز

42 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یوکرین پر امریکہ اور روس کے درمیان لفظوں کی جنگ شدید ہوتی جا رہی ہے اور ایسے میں بین الاقوامی سطح پر ایک اہم کھلاڑی چین نے بھی اس بارے میں سخت گفتگو کی ہے۔

حالیہ دنوں میں بیجنگ نے دونوں فریقوں کو پر سکون رہنے اور ’سرد جنگ کی ذہنیت‘ ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ ماسکو کے خدشات کی حمایت کرتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے پر چین اپنے دیرینہ اتحادی اور سابق کمیونسٹ کامریڈ روس کا ساتھ دے گا۔

تاہم یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ چین کے اس رویے کی طویل تاریخ ہے۔

’چین اور روس دنیا کی حفاظت کریں گے‘

گذشتہ ہفتے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے روس کے سکیورٹی خدشات کو ‘جائز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘اُنھیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔‘

پیر کو اقوام متحدہ میں چین کے سفیر ژانگ جون نے مزید کہا کہ چین امریکہ کے ان دعوؤں سے بالکل متفق نہیں ہے کہ روس بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے پر بھی امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ‘میگا فون ڈپلومیسی‘ سے تشبیہ دی جو بقول ان کے مذاکرات کے لیے ‘سازگار نہیں‘ تھی۔

اس بحران میں سفارتی انداز میں بات کرتے ہوئے چین کا سرکاری مؤقف محتاط اور پیچیدہ رہا ہے اور اس نے روس کے عسکری طاقت کے حقیقی استعمال کی حمایت سے گریز کیا ہے۔

لیکن چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دو ٹوک باتیں کہیں ہیں۔ چین میں بڑھتے ہوئے مغرب مخالف جذبات کے اس دور میں یوکرین کے بحران کو مغرب کی ناکامیوں کی ایک اور مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ان کے خیال میں یہ امریکہ کی زیر قیادت نیٹو ہے جو روس اور چین جیسے دوسرے ممالک کا اپنی سرزمین کے دفاع اور خود مختاری کے حق کا احترام کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

روزنامہ گلوبل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ‘چین اور روس کے درمیان پرانے اور قریبی تعلقات عالمی نظام کی حفاظت کی آخری ڈھال ہیں‘، جبکہ سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے ملک سے توجہ ہٹانے اور ’یورپ پر اپنے اثر و رسوخ کو بحال‘ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کریگا تو اس کےخلاف پابندیاں عائد کی جائیں گی

بروکنگز انسٹیٹیوٹ کی پالیسی ڈائریکٹر جیسیکا برینڈ کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے ایسی بیان بازی کو متعدد زبانوں میں ٹوئٹر پر پوسٹ کرنے (جس پر چین میں پابندی عائد ہے) کا مقصد ہے کہ یہ دکھایا جائے کہ امریکہ اور نیٹو کو باقی دنیا کس طرح دیکھتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہاں مقصد امریکہ کی بیخ کنی کرنا، لبرل اداروں کی ساکھ کو داغدار کرنا اور میڈیا کو بدنام کرنا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ بیجنگ ’باقاعدگی سے یوکرین کے بارے میں کریملن کے بات چیت کے نکات کو اپنے مفادات کے مطابق بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔‘

مشترکہ مقاصد، مشترکہ دشمن

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چین اور روس ان دنوں سٹالن اور ماؤ کے دور سے بھی زیادہ قریب ہیں۔

سنہ 2014 میں یوکرین میں کرائمیا کے بحران نے روس کو چین کے مزید قریب کر دیا، جس نے بین الاقوامی تنہائی کے دوران ماسکو کو اقتصادی اور سفارتی مدد کی پیشکش کی۔

تب سے یہ رشتہ مزید پروان چڑھا۔ چین برسوں سے روس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے اور یہ دو طرفہ تجارت گذشتہ سال 147 ارب ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

دونوں ممالک نے مشترکہ فوجی مشقوں کو تیز کرتے ہوئے گذشتہ سال قریبی فوجی تعلقات کے لیے ایک روڈ میپ پر بھی دستخط کیے تھے۔

فوج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جمعے کو ولادیمیر پوتن شی جن پنگ کی دعوت پر سرمائی اولمپکس میں شرکت کے لیے بیجنگ جا رہے ہیں۔ پوتن گذشتہ دو سالوں میں صدر شی جی پِنگ سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے والے پہلے عالمی رہنما بن جائیں گے۔

چینی صدر نے حالیہ عرصے میں بیرون ملک سفر سے گریز کیا ہے اور کورونا وبا کے بعد سے چند ہی غیر ملکیوں سے ملاقات کی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس وقت روس اور چین دونوں ممالک کے مغرب کے ساتھ تعلقات خاصے کشیدہ ہیں۔

ٹفٹس یونیورسٹی میں بین الاقوامی تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر کرس ملر کہتے ہیں کہ ’بیجنگ اور ماسکو کا امریکہ اور یورپ کو پیچھے دھکیلنے اور بین الاقوامی سیاست میں اپنے لیے ایک بڑا کردار حاصل کرنے کا مشترکہ مفاد ہے۔‘

ماہرین کا خیال ہے کہ بڑھتے ہوئے تنازع اور کشیدگی کی صورت میں اگر روس پر مغربی پابندیاں عائد ہوتی ہیں تو چین روس کی اقتصادی مدد کے لیے اسی طرح آئے گا جیسا کہ وہ پہلے کر چکا ہے۔

اس میں متبادل ادائیگی کے نظام کی فراہمی، روسی بینکوں اور فرموں کے لیے قرضے، روسی تیل کی مزید خریداری، یا امریکی برآمدی کنٹرول کو یکسر مسترد کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

مغرب نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو اس پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

فوج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چین واقعی جنگ نہیں چاہتا؟

تاہم اس حمایت کی چین کو ایک اہم مالی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اسی لیے ماہرین کا ماننا ہے کہ فی الحال بیجنگ کی جانب سے ماسکو کی حمایت صرف بیان بازی تک ہی محدود رہے گی جو ایک سستا سودا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یوکرین میں فوجی تنازعے کے نتیجے میں امریکہ کی مشکل بڑھے گی جو بلاشبہ چین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا تاہم بہت سے مبصرین بیجنگ کے اس بیان کو سچ سمجھتے ہیں کہ وہ جنگ نہیں چاہتا۔

جرمن مارشل فنڈ میں ایشیا پروگرام کے ڈائریکٹر بونی گلیزر کا کہنا ہے کہ چین ابھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر بیجنگ ماسکو کو مضبوط حمایت دیتا ہے، تو یہ امریکہ کے ساتھ مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے، جس میں واضح جمہوریت بمقابلہ آمریت کا فرق شامل ہے۔

سیاسی سائنس دان منکسین پی نے ایک حالیہ مضمون میں کہا ہے کہ بیجنگ ممکنہ طور پر بحران میں ’اپنے داؤ سے پرہیز کر رہا ہے کیونکہ وہ ماسکو کے حقیقی ارادوں سے چوکنا ہے۔ اسکے علاوہ روس کو بڑی حمایت دینے سے چین کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی ساتھی یورپی یونین اس کا مخالف ہو سکتا ہے، جو ‘یورپی ردعمل‘ کو متحرک کر سکتا ہے۔‘

پروفیسر پی کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر تائیوان کی حمایت جیسا ہو سکتا ہے، ایک ایسی تشویش جو یوکرین کے بحران کے موقع پر پیدا ہوئی ہے۔

‘تائیوان یوکرین نہیں ہے‘

امریکہ اور دنیا بھر میں چینی کمیونٹیز میں سے کچھ، یوکرین کے تنازع کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کی وفاداری کے ممکنہ امتحان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

بہت سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو کیا امریکہ فوجی مداخلت کرے گا، اور اگر چین ایک دن تائیوان پر دوبارہ دعویٰ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کیا امریکہ تب بھی ایسا ہی کرے گا۔

تائیوان ایک ایسا جزیرہ ہے جو خود کو ایک آزاد ملک کے طور پر دیکھتا ہے اور جو امریکہ کو اپنا سب سے بڑا اتحادی مانتا ہے۔

ماسکو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ سوال کہ آیا امریکہ تائیوان پر چین کے ساتھ جنگ کرے گا، ایشیا میں ایک جائز تشویش ہے، کیونکہ امریکہ اور چین کی دشمنی بڑھ رہی ہے اور تائیوان اپنے خود ساختہ فضائی دفاعی زون میں اکثر چینی جنگی طیاروں کی دراندازی کی اطلاع دیتا ہے۔

امریکہ جان بوجھ کر اس بارے میں مبہم رہا ہے کہ اس طرح کے حملے کی صورت میں وہ اصل میں کیا کرے گا۔ ایک قانون ہے جس کے تحت امریکہ کو تائیوان کو اس کے دفاع میں مدد کرنی پڑے گی۔

لیکن ساتھ ہی واشنگٹن سفارتی طور پر بیجنگ کی طرف سے وضع کردہ ون چائنا پالیسی کو تسلیم کرتا ہے، یہ مؤقف کہ وہاں صرف ایک چینی حکومت ہے۔

تاہم ماہرین نے اس طرح کی مماثلتوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق تائیوان اور یوکرین میں جغرافیائی اور سیاسی حالات باکل مختلف ہیں۔

اُنھوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ کے تائیوان کے ساتھ بہت گہرے تاریخی تعلقات ہیں اور وہ اسے ایشیا کے لیے امریکہ کی نظریاتی، سفارتی اور فوجی حکمت عملی کے ایک اہم حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔

گلیزر کہتی ہیں ‘چین روس نہیں ہے، اور تائیوان یوکرین نہیں ہے۔ یوکرین کے مقابلے تائیوان پر امریکہ کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔‘



Source link