خوبصورت پرندہ “شہباز” : وہ معلومات جو آپ نہیں جانتے

خوبصورت پرندہ “شہباز” : وہ معلومات جو آپ نہیں جانتے

خوبصورت پرندہ “شہباز” : وہ معلومات جو آپ نہیں جانتے

پاکستان کا خوبصورت پرندہ شہباز جسے شاہین بھی کہا جاتا ہے اس کو پاکستان کا قومی پرندہ کہا جاتا ہے جو جزوی طور پر درست بھی ہے کیونکہ شاہین پاکستان کا ریاستی پرندہ ہے، جسے قومی بھی کہا جائے تو کوئی ہرج  نہیں۔

شہباز یعنی “پیری گرائن فالکن” دنیا کا سب سے تیزرفتار پرندہ ہے جس کی پرواز کی رفتار 390 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوتی ہے جبکہ دیگر بازوں کی رفتار “باربیری باز” 150 کلومیٹر فی گھنٹہ “سرمئی باز” 90 کلومیٹر فی گھنٹہ “ساکر فالکن” 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی اوسط سے ہیں۔

جغرافیائی حدود :

پیری گرائن باز دنیا کے 222 ممالک میں یا تو رہائش پذیر ہے یا موسمی مہاجر ہے۔ پاکستان میں شہباز موسم سرما گزارنے کی خاطر ہجرت کرکے آتا ہے۔ شہباز سوائے انٹارک ٹیکا کے دیگر تمام براعظموں میں ملتا ہے۔

مسکن:

شہباز کے مسکن میں ساحل سمندر، میدانی علاقے، جنگل، جھاڑ، نیم جنگلی خطے، ریگستانی علاقے اور دیگر بہت سے مقامات شامل ہیں۔

جسمانی پیمائشیں:

اس کا سائز۔۔۔58 سم، وزن۔۔۔1.5 کلو تک۔ جبکہ ونگ اسپین۔۔۔120 سم تک ہوتی ہے۔

عمر:

اس پرندے کی عمر آزادی میں 15 سال جبکہ چڑیا گھر میں 25 برس تک ہوتی ہے۔

خوراک:

شہباز ایک گوشت خور شکاری پرندہ ہے۔ اس کی خوراک بنیادی طور پر دیگر پرندوں جیسے آبی پرندے، کبوتر، فاختائیں، تلیر، میگپائی، کوا، چڑیا ودیگر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خرگوش، چوہے، گلہری، چھچھوندر وغیرہ بھی کھایا کرتا ہے۔

رہن سہن و گھونسلہ:

شہباز بلند مقامات پر رہنے کا عادی ہے جو 1300 فٹ بلند چٹانوں، پہاڑوں، متروک عمارتوں کی بلندی پر رہتا ہے۔ یہ پرندہ عام طور پر گھونسلہ نہیں بنایا کرتا بلکہ مناسب سائز کے پتھروں اور کنکروں کو یکجا کرکے ان کے درمیان بیٹھ جاتا ہے یا پھر دیگر پرندوں کے متروک گھونسلوں میں رہائش اختیار کرتا ہے۔

افزائش نسل:

شہباز کی افزائش کا موسم مارچ تا مئی ہوتا ہے، ایک موسم میں مادہ شہباز 3 سے 4 انڈے دیتی ہے جنہیں 32 دن تک سینے کے بعد اس کے چوزے نکلتے ہیں۔ شہباز 3 سال کی عمر میں بالغ ہوجاتا ہے۔

انسان کے ساتھ تعلق :

شہباز 3000 سال سے انسان کا ساتھی ہے، اسے پالا اور سدھایا جاسکتا ہے اور شکار کے علاوہ دفاعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم میں اتحادی ممالک کی افواج پیری گرائن فالکن کو دشمن کے پیغام رساں کبوتروں کو کھوجنے اور مار گرانے کے لیے استعمال کرتی تھیں۔

پیری گرائن باز کو دنیا کے کئی ممالک میں ائیرپورٹس پر تعینات کیا جاتا ہے، یہ تربیت یافتہ باز ائیرپورٹس کے آس پاس پرندوں کو دور بھگانے کا کام کرتے ہیں تاکہ پرندوں کی جہازوں کے ساتھ ٹکرانے کے واقعات کو روکا جاسکے۔

بقائی کیفیت:

سال 1950کی دہائی تک جنگلات کی کٹائی قدرتی مساکن کی تباہی، فضائی و آبی آلودگی اور کیڑے مار اسپرے جیسے زہریلے موادوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کی وجہ سے شہباز کی آبادی خطرناک حد تک کم ہوگئی تھی۔ اور یہ معدومی کے بہت نزدیک تھا۔

تاہم آنے والے دہائیوں میں شہباز کی خاطر کئی ممالک نے خصوصی حفاظتی اقدامات اور اس کی بریڈنگ کے لیے ادارے قائم کیے۔ آج شہباز کی آبادی پھر سے بڑھ ہوچکی ہے اور اس کی نسل کو فی الوقت کوئی سنجیدہ خطرات لاحق نہیں۔

Leave a Reply