اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے لئے امریکی امداد جاری رہے گی



نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے آبادی کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے ادارے ‘یو این پاپولیشن فنڈ’ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نتالیہ کانم سے اعلیٰ سطح کی ایک ملاقات میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کے لیے امریکی فنڈنگ کی بحالی کا باضابطہ اعلان کیا۔

انہوں نے روہنگیا تارکین وطن، افغانستان اور سوڈان کے معاملے پر امریکی حمایت کی بھی یقین دہانی کروائی۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کے لیے امریکی فنڈنگ کی بحالی کا اعلان صدر جو بائیڈن کے عہدہ سنبھالنے پر کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ فنڈنگ اپریل 2017 میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے روک دی گئی تھی۔

سابق صدر ٹرمپ کی حکومت اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ پر چین میں “خواتین کے جبری اسقاط حمل، نس بندی اور مانع حمل اقدامات کی حمایت” کا الزام لگاتی رہی ہے۔ جب کہ اقوام متحدہ کے آبادی کے فنڈ نے اس کی تردید کرتے ہوئے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ادارے کا چارٹر ایسے اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔

مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی سفارت کاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کو خواتین کی صحت اور ان کے تولیدی حقوق کے خلاف جنگ قرار دیا تھا۔

اس سے پہلے بش انتظامیہ بھی یہ فنڈنگ روک چکی ہے جسے بعد میں اوبامہ انتظامیہ نے پھر بحال کر دیا تھا۔

2015 کے اعداد و شمار کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی کی فنڈنگ میں امریکا تیسرا بڑا ملک رہا ہے۔

چین میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک بچے کی پالیسی لاگو تھی جو کہ 2016 میں شادی شدہ جوڑوں کے لئے دو بچوں کی اجازت میں تبدیل کر دی گئی تھی

تیزی سے گرتی شرح پیدائش کے پیش نظر پچھلے ہی ہفتے چینی حکومت نے اس فیصلے میں مزید نرمی دکھائی ہے اور اب ایک خاندان کو تین بچے پیدا کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

جنوری میں امریکہ کی صدارت سنبھالنے کے بعد سے بائیڈن انتظامیہ نے اقوام متحدہ کے آبادی کے فنڈ کو اس کے بجٹ کے لئے تقریبا اکتیس ملین ڈالر کا بجٹ دیا ہے ۔ واشنگٹن نے اداے کی انسانی امداد کی سرگرمیوں کے لئے بھی فنڈنگ دوبارہ بحال کر دی ہے۔ جس میں روہنگیا مہاجرین کی امداد کے لئے دو اعشاریہ چھ ملین ڈالر، سوڈان میں ایتھوپیا کے مہاجرین کے لئے ایک اعشاریہ دو ملین ڈالر کی امداد شامل تھی۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply