القاعدہ اور داعش افغانستان میں اپنا حلقہ وسیع کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں، رپورٹ



واشنگٹن میں بعض عہدیداروں کے ذہن میں موجود خدشات کے باوجود کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن سکتا ہے، امریکہ کے دفاعی اور انٹیلی جنس کے حالیہ جائزے بتاتے ہیں کہ کم از کم اس وقت داعش اور القاعدہ جیسے گروپ افغانستان کو مغربی ممالک کے خلاف استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ، ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی اور دیگر اداروں کی جانب سے تیارکردہ تجزیہ محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی جانب سے حال ہی میں جاری کیا گیا ہے۔ اس میں چھ ماہ قبل امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

یہ تجزیہ پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کی طرف سے اکتوبرمیں بیان کیے گئے ان خدشات کے برعکس ہےجن کے مطابق داعش خراسان چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں مغرب اور امریکہ پر حملہ کرسکتا ہے۔ اس وقت حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ القاعدہ حملے کرنے کی صلاحیت ایک سال تک دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ کولن کاہل، محکمہ دفاع کے انڈر سیکرٹری برائے پالیسی، نے اس وقت سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا تھا کہ
القاعدہ اورداعش دونوں ہی گروپ بیرونی کارروائیاں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

البتہ نئے تجزیوں میں اس بات سے اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں دہشت گرد گروپ حملوں کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے رہنماؤں کی ترجیحات مختلف ہیں۔مثال کے طور پر داعش خراساں اس وقت کافی طویل فاصلے پر موجود دشمن کے اہداف پر حملوں کے بجائے افغانستان میں اپنی حمایت میں اضافہ کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں داعش خراساں نے کابل کے ایک فوجی ہسپتال میں اور طالبان کی چیک پوسٹوں پر کئی حملے کیے جن میں 25 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق داعش کی جانب سے اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ طالبان بنیادی سلامتی یقینی نہیں بنا سکے۔ داعش خراساں نے مقامی آبادی کے ساتھ مل کر طالبان کو غیرقانونی ثابت کرنے کا کام کیا ہے۔

ڈیفینس انٹیلی جنس کے تجزیے کا حوالا دیتے ہوئے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش نے طالبان مخالف جذبات اور حکومتی عملداری میں خامیوں اور حکومت کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی بھرتیا ں کی ہیں۔

رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ یہ گروپ “وسطی اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے جنگجوؤں کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہوئے ہے، جو ممکنہ طور پر اس گروپ کو ان ممالک میں امریکی مفادات کے لیے خطرہ بنا رہا ہے۔”

اس ماہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیاہے کہ امریکی انخلا کے بعد سے اب تک داعش نے اپنی تعداد دوگنی کردی ہے، اور اب ان کی تعداد چار ہزار ہے۔ جنگجوؤں کا یہ گروپ افغانستان کے مشرق میں محدود علاقے پر کنٹرول بھی رکھتا ہے۔

طالبان نے داعش خراسان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے متعدد کوششیں کی ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں نے توجہ دلائی ہے کہ طالبان کو مختلف کارروائیوں میں محدود کامیابی ملی ہے۔

القاعدہ کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروپ کی افغانستان میں ایک طویل تاریخ ہے اور امریکی انخلا کے بعد اسے نمیاں فروغ ملا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان گروپ میں القاعدہ کے کچھ حامی طالبان حکومت میں اہم عہدوں پرفائز ہیں۔

دوسری طرف انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی ایجنسیوں کا خیال ہے کہ طالبان اب بھی القاعدہ کے اہلکاروں کو کسی حد تک الگ تھلگ رکھے ہوئے ہیں۔

سینٹ کام اور ڈی آئی اے کے حوالے دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے القاعدہ کے ارکان کو اپنی نام نہاد عبوری حکومت میں اہم کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی اور طالبان ممکنہ طور پر القاعدہ کو امریکہ پر حملے کرنے سے روکیں گے کیوںکہ وہ اپنی حکومت کے لیے بین الااقوامی توثیق چاہتے ہیں۔

لیکن امریکی حکام کا یہ بھی اندازہ ہے کہ دوحہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر واشنگٹن کو ان کی یقین دہانیوں کے باوجود طالبان رہنما دہشت گرد گروپ کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کی جلدی میں نہیں ہیں۔

انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق طالبان ممکنہ طور پر افغانستان میں القاعدہ کے عناصر کو ملک کے اندر ایک کم پروفائل برقرار رکھنے کی اجازت دیں گے، تاکہ ان کے دیرینہ تعلقات برقرار رہیں۔ مزید یہ کہ طالبان کسی ایسے اقدم سے اپنے اندر موجود انتہائی عسکریت پسند اسلامی عناصر کوناراض کرنے سے گریز کریں گے۔”

اقوام متحدہ کے حکام کاخیال ہے کہ القاعدہ کی اندرونی سرکل کے کئی درجن اہلکار افغانستان میں مقیم ہیں، جن میں گروپ کے سربراہ ایمن الظواہری بھی شامل ہیں۔

برصغیر میں فعال القاعدہ، جو کہ دہشت گرد تنظیم کا اہم حصہ ہے ، کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے افغانستان میں 400 تک جنگجو ہیں۔ ان میں سے کچھ طالبان کی اکائیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔



Source link

کیٹاگری میں : USA