امریکہ انسانی حقوق کے نام پر ہماری صنعتی ترقی کے خلاف ہے، چین کا الزام

چین کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے چین سے سولر پینل میں استعمال ہونے والے مواد کو درآمد کرنے پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی ہے کہ یہ اس کی ترقی پر حملہ ہے۔

چین نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کی کمپنیوں کو تحفط فراہم کرے گا تاہم اس ضمن میں اس نے ممکنہ ردعمل کی تفصیل بیان نہیں کی ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس پابندی کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے کہ چین میں یہ مال ہو سکتا ہے کہ جبری مشقتیوں سے بنوایا جا رہا ہو۔

امریکہ کے کسٹم کے ادارے نے جمعرات کو کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ہوچن سلیکون انڈسٹری کمپنی نے، سنکیانگ میں بیجنگ کی نسلی اقلیتوں کے خلاف مہم کے حصے کے طور پر مزدوروں کو زبردستی مشقت کے لیے استعمال کیا ہو۔ چین کے دیگر چھ سپلائرز پر بھی جو سولر پینلز کی تیاری میں درکار پرزے فراہم کرتے ہیں، پابندی عائد کی جائے گی۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاو لی جان نے کہا ہے کہ امریکہ، سنکیانگ میں صنعتی ترقی کو دبانے کے لیے انسانی حقوق کا نام استعمال کر رہا ہے۔

’’ امریکہ کو سنکیانگ کے لوگوں کی بالکل پرواہ نہیں ہے۔ ان کا اصل منصوبہ اور غلط سوچ سنکیانگ میں چیزیں خراب کرنا ہے تاکہ چین کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے‘‘۔

چین کے عہدیداروں نے زبردستی مشقت اور مسلمان گروپوں والے صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کے الزامات کی بھی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ جن حراستی مراکز میں 10 لاکھ کے قریب لوگوں کو رکھا گیا ہے، ان کا بنیادی مقصد روزگار کے لیے لوگوں کو تربیت فراہم کرنا اور دہشت گردی سے لڑنا ہے۔

امریکہ کا یہ اقدام صدر جو بائیڈن کی جانب سے شمسی توانائی کے ذریعے بجلی بنانے کے مقصد کی راہ میں رکاوٹ ہن سکتا ہے۔ ہوچن دنیا بھر میں پولی سلیکان کا سب سے بڑا سپلائر ہے۔ یہ ایک ایسا مواد ہے جو سولر پینل بنانے میں مدد دیتا ہے۔

صدر بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے پر زور دیا تھا (فوٹو: اے پی)

صدر بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے پر زور دیا تھا (فوٹو: اے پی)

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بیجنگ اپنی کمپنیوں کو تحفظ دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا تاہم انہوں نے ان اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

چین کے ترجمانوں نے امریکہ کی جانب سے چین کے خلاف تجارتی پابندیوں پر بھی اسی طرح کے ردعمل کا اظہار کیا تھا لیکن باضابطہ طور پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا تھا۔

امریکہ کے کسٹم کے ادارے کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ ثبوت ملا ہے کہ سنکیانگ میں پولی سلیکان انڈسٹری میں مزدوروں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور ان کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا ہے۔

امریکہ کی حکومت کے مطابق ہوچن سے گزشتہ اڑھائی برسوں میں براہ راست امپورٹس کا حجم چھ ملین ڈالر رہا ہے جب کہ اس کمپنی سے تیار مال کے لئے ایک سو پچاس ملیں ڈالر کا سودا کیا گیا ہے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply