امریکہ میں بچوں کے فارمولا دودھ کی قلت، بائیڈن انتظامیہ کی سپلائی بڑھانے کی کوششیں



امریکہ میں شیر خوار بچوں کے لیے دستیاب فارمولا دودھ کی قلت کے باعث والدین شدید پریشان ہیں اور حکومت نے بھی اس کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق فارمولا دودھ کی قلت کا مسئلہ کرونا وبا سے سپلائی چین متاثر ہونے اور حفاظتی طور پر فارمولا دودھ کی مارکیٹ سے واپس منگوائے جانےکے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ اس مسئلے نے کئی طرح کے اثرات مرتب کیے ہیں۔

فارمولا دودھ کی قلت سے گھبرا کر والدین نے اپنے شیر خوار بچوں کے لیے آن لائن گروپس بنالیے ہیں جن کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے فارمولے کا تبادلہ کرتے ہیں اور اسے فروخت بھی کرتے ہیں۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو ملک بھر میں فارمولا دودھ کی قلت کے بارے میں اپنی انتظامیہ کے ردِعمل میں تیزی لاتے ہوئے مختلف کمپنیوں کے رہنماؤں سے تبادلہ خیال کیا کہ فارمولا دودھ کی دستیابی کوکیسے یقینی بنایا جائے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر بائیڈن نے ‘گربر’ اور ‘ریکٹ’ نامی کمپنیوں کے سربراہان سے بات کی کہ وہ کس طرح فارمولا کی پیداوار کو بڑھا سکتے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت ان کی کس طرح مدد کر سکتی ہے۔

بائیڈن نے ‘وال مارٹ’ اور ٹارگٹ اسٹورز کی کمپنیوں کے رہنماؤں سے بھی بات کی کہ کس طرح شیلف میں فارمولا دودھ کی سپلائی کو بحال کیا جائے اور دور دراز علاقوں تک دودھ کی رسائی کو کیسے یقینی بنایا جائے۔

‘اے پی’ کے مطابق بائیڈن حکومت فارمولا دودھ کی ممکنہ قیمتوں میں اضافے کی نگرانی کرنے اور میکسیکو، چلی، آئرلینڈ اور ہالینڈ میں تجارتی شراکت داروں کے ساتھ درآمدات پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، حالاں کہ بچوں کے لیے 98 فی صد فارمولا دودھ مقامی طور پر بنایا جاتا ہے۔

خوردہ فروش اسٹورز نے گاہکوں کی خرید کو محدود کردیا ہے جب کہ ڈاکٹر اور ہیلتھ ورکرز والدین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں فوڈ بینکوں یا ڈاکٹروں کے دفاتر سے رابطہ کریں۔

اس کے علاوہ ماہرینِ صحت نے لوگوں کو فارمولا دودھ کی سپلائی بڑھانے کی خاطر پانی کے زیادہ استعمال سے اسے پتلا کرنے یا آن لائن ترکیبیں استعمال کرنے کے خلاف انتباہ بھی کیا ہے۔

خیال رہے کہ آلودگی کے خدشات کی وجہ سے فارمولا بنانے والی ایبٹ کمپنی نے فارمولا دودھ کو مارکیٹ سے ہٹا لیا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے خاندانوں پر پڑا ہے۔

فارمولا دودھ کی مارکیٹ سے واپسی نے اس برانڈز کا صفایا کر دیا جو فوڈ اسٹیمپ کے وفاقی پروگرام ‘وک’ کے تحت خواتین، شیر خوار بچوں کو سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اب ‘وک’ پروگرام برانڈ کے متبادل کی اجازت دیتا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ مذکورہ پروگرام کے تحت لوگوں کے لیے مختلف سائز کا وہ فارمولا دودھ خریدنا ممکن ہو جو فی الحال اس پروگرام میں شامل نہ ہوں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ملک بھر میں تقریباً نصف افراد ‘وک’ پروگرام کے تحت فارمولا دودھ خریدتے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ میں بنیادی اشیا کی قلت کرونا وبا کے آغاز سے ہی ایک مسئلہ رہی ہے۔ طبی سامان، کمپیوٹر چپس، گھریلو آلات، کاروں اور دیگر سامان تک رسائی بند فیکٹریوں اور وائرس کے پھیلنے اور آب و ہوا سے متعلق واقعات سے متاثر ہوئی ہے۔

‘امیزون’ اور ‘گوگل’ جیسی خوردہ فروش ویب سائٹس پر شیر خوار فارمولا دودھ تلاش کرنے والے والدین کو چھوٹے بچوں کے لیے تیار کردہ پروڈکٹس پیش کیے جا رہے ہیں۔

دریں اثنا امریکہ کے محکمہ برائے خوراک و ادویات (ایف ڈی اے) نے کہا ہے کہ وہ فارمولا دودھ بنانے والی امریکی کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہا ہے تاکہ اس کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA