امریکہ میں پیٹرول کی قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے بڑھ گئی



امریکہ میں عام صارفین کے لیے پیڑول کی قیمت سن 2008 کے بعد پہلی بار 4 ڈالرفی گیلن سے بڑھ گئی ہے۔ امریکی گیلن تین اعشاریہ آٹھ لٹر کے مساوی ہوتا ہے۔

ایک امریکی ادارے ٹرپل اے موٹر کلب کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے پہلے ہفتے میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 41 سینٹ فی گیلن اضافہ ہوا ہےجو ایک ہفتے کے دوران سب سے بڑا اضافہ ہے۔

توانائی کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ایک اور گروپ” گیس بڈی” کے ایک تجزیہ کار پیٹر ڈی ہان نےاپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یوکرین پر روس کی جنگ جاری رہنے کی وجہ سے ہم ایک ایسی صورت حال کی جانب بڑھ رہے ہیں جس میں پیٹرول کی قیمتیں عمومی طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ امریکیوں کو پہلے کے مقابلے میں پیٹرول کی زیادہ قیمتیں ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

تیل کی قیمتوں پر دباؤ میں مزید اضافہ لیبیا سے آنے والی خبروں سے ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ لیبیا کی قومی آئل کمپنی کے ایک اعلان کے مطابق عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے تیل پیدا کرنے والے دو علاقوں پر دھاوا بول کر وہاں سے تیل کی پیداوار بند کروا دی ہے جس سے یومیہ پیدوار میں تین لاکھ 30 ہزار بیرل کی کمی واقع ہو گئی ہے۔

سرکاری نیشنل آئل کارپوریشن نے کہا ہے کہ مسلح افراد نے لیبیا کے تیل پیدا کرنے کے سب سے بڑے علاقے شرارہ آئل فیلڈ اور الفیل کے علاقوں میں آئل پمپ بند کروا دیے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے انہیں تین کروڑ 46 لاکھ ڈالر روزانہ سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔

لیبیا کے پاس دنیا میں تیل کے معلوم ذخائر میں سے نواں اور افریقہ کا پہلا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

خام تیل کی امریکی تھوک مارکیٹ میں الیکٹرانک ٹریڈنگ میں خام تیل کی قیمت پانچ ڈالر 21 سینٹ کے اضافے سے 120 ڈالر 89 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس سے قبل جولائی 2008 میں ایک موقع پر خام تیل کی قیمت 145 ڈالر 29 سینٹ فی بیرل کی سطح پر دیکھی گئی تھی۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ تیل کی قیمتوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر امریکی عہدے دار وینزویلا پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنے پر غور کر رہے ہیں جس سے امکانی طور پر اسے زیادہ خام تیل برآمد کرنے کی اجازت مل جائے گی جس سے تیل کی فراہمی میں کمی سے پیدا ہونے والے خدشات کم کرنے میں مدد ملے گی۔

جنگ سے متعلق خدشات سے صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں تیل اور اس کی مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور اس کے اثرات تجارت اور دیگر شعبوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل جاپان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی ضرورت کا تمام تر ایندھن درآمد کرتا ہے۔ خام تیل کی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتیں اس کے کاروباری حلقوں کی تشویش میں اضافہ کر رہی ہیں۔

دنیا بھر کی اسٹاک مارکٹس نے حال ہی میں اس خدشے کا اظہار کیا تھاکہ روس کے حملے کی وجہ سے خطے میں تیل، گندم اور دیگر اجناس کی قیمتیں بلند ہو جائیں گی، جس سے دنیا بھر میں افراط زر کو بڑھاوا ملے گا جو پہلے ہی کافی بلند ہے۔

اقتصادی ماہرین اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے وہ ممالک جو اپنی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یوکرین کے بحیرہ اسود کے ساتھ واقع گندم کے وسیع کھیتوں پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے اپنی خوراک کی سیکیورٹی میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور اس سے دیگر اجناس پر بھی دباؤ آسکتا ہے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA